آج کا کالمسیاست

کانگریس بھی اکھلیش کو بوجھ لگنے لگی

حفیظ نعمانی
اترپردیش میں بہار کے طرز پر متحدہ محاذ کی بات سال بھر سے چل رہی تھی۔ یہ تو ممکن ہی نہیں تھا کہ اکھلیش یادو کے ساتھ مایاوتی اتحاد کرلیں اور اگر وہ پیش کش کرتیں بھی تو اب کانگریس کے علاوہ کون تھا جو ان پر بھروسہ کرتا؟ کانگریس نے پرشانت کشور کے ذریعہ چاہا تھا کہ سماج وادی پارٹی اور کانگریس مل کر الیکشن لڑیں۔ اس سلسلہ میں ملائم سنگھ اور اکھلیش یادو سے گفتگو ہوئی تھی۔ چودھری اجیت سنگھ بھی چاہتے تھے کہ وہ بھی اس محاذ کا حصہ بن جائیں اور اکھلیش یادو نے بھی کئی بار کہا تھا کہ اگر ہم اور کانگریس مل کر لڑیںگے تو ۳۰۰ سیٹیں جیت کر آئیںگے۔ یہ سب باتیں ابتدائی دور کی تھیں۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کس کو کتنا؟ کا مرحلہ آتا ہے۔ اور اس مرحلہ پر اجیت سنگھ الگ ہوگئے۔
ہم نے لکھا تو نہیں تھا لیکن ہم شروع سے یہ لکھنا چاہتے تھے کہ اجیت سنگھ اپنی سیاسی زندگی میں سب سے زیادہ بدنام ہیں وہ اگر شامل رہتے تو پھر وزارت کائونسل اور راجیہ سبھا ہر موقع پر سر کا درد بنتے۔ انھوں نے بار بار کانگریس کو دھوکہ دیا ہے اور جتنی مرتبہ انھوں نے وفاداریاں اور سیاسی رشتہ توڑا ہے اتنے داغ کسی پر نہیں ہیں۔ ا ور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جاٹوں کے لیڈران کے باپ چودھری چرن سنگھ تھے وہ کبھی نہ کسان رہے نہ جاٹ۔ وہ تو امریکہ میں نوکری کررہے تھے اور یہ سمجھ کر ہندوستان میں رُک گئے کہ شاید چودھری کا بیٹا چودھری اور لیڈر کا بیٹاایسے ہی ہوتا ہوگا جیسے راجہ کا بیٹا راجہ اور نواب کا بیٹا نواب۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے اس بات پر روتے تھے کہ صبح اندھیرے میں گائوں گائوں کا دورہ کرنے کے بجائے وہ باتھ روم میں ہیں، شیو کررہے ہیں۔ برک فاسٹ لے رہے ہیں اور کپڑے بدل رہے ہیں کی آوازیں آتی تھیں اور ۸؍ بجے بمشکل باہر نکلتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ لوگ الگ ہوتے گئے اور اب نہ وہ اس وقت سامنے آئے جب مظفر نگر میں ذرا سی بات پر جاٹ بے قابو ہوگئے اور نہ اس وقت کہیں نظر آئے جب جاٹوں نے ہریانہ میں ریزرویشن کے لیے غیر جاٹوں کے کروڑوں روپے کے کاروبار جلاکر راکھ کردئے اور پورے ہریانہ کو ریل سے کاٹ دیا اور کل ملا کر ۵۰ ہزار کروڑ سے زیادہ کا نقصان کردیا۔
اکھلیش نے اچھا کیا کہ یہ ان کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔یہ کانگریس کا مسئلہ بھی ہے کہ وہ بی جے پی کا اس لیے نشانہ ہے کہ اس نے کانگریس سے حکومت لی ہے۔ اور اگر ۲۰۱۴ء کے نتیجے دیکھے جائیں تو سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو چھوڑ کر پورے اترپردیش میں دوسرے نمبر پر ووٹوں کے اعتبار سے سماج وادی ہے اس کے بعد بی ایس پی ہے اور بہت نیچے کانگریس ہے۔ ۲۰۱۲ء میں بھی وہ چوتھے نمبر پر ہے۔ کانگریس نے ایسا کیا کردیا کہ جو عوام ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان سے ناراض ہوگئے تھے وہ راضی ہوگئے ہوں؟ اگر وزیر اعظم کے خلاف تقریریں کرنا کوئی کارنامہ ہے تو وہ تو ہر لیڈر کررہا ہے اور مایاوتی ان سے زیادہ کررہی ہیں۔ ہم نے چند دن پہلے لکھا تھا کہ ہم مسلمانوں نے بھی ابھی کانگریس کو معاف نہیںکیا ہے۔ اس کی تفصیل تو ۱۰ کالم میں بھی نہ آئے لیکن جو سامنے ہے کہ 1993ء میں ممبئی میں جو ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا۔ اس میں سب سے بڑی بے ایمانی تو یہ ہوئی تھی اور ابھی تک ہورہی ہے کہ مسلمانوں کے قاتلوں اور انہیں برباد کرنے والوں کی تحقیق تو جسٹس بی این کرشنا کے سپرد کردی اور اسے روکنے کے لیے جو مسلمان لڑکوں نے بم دھماکے کیے جس میں260ہندو مرگئے اس کی تحقیق سی بی آئی کے سپرد کردی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ جج صاحب آج بھی کہہ رہے ہیں کہ:


’’دسمبر 1992ء تا جنوری 1993ء کے دوران میرے لیے ممبئی کے وہ تجربات خاصے تکلیف دہ رہے جو مجھے فسادات اور پرتشدد واقعات کی تفتیش کے لیے مقرر کردہ انکوائری کمیشن کے ذریعہ ملے۔ میں نے پایا کہ فسادات کے متاثرین کے تئیں واضح بے حسی برتی گئی تھی، اس احساس کے بعد اب لگتا ہے کہ یہی مناسب وقت ہے کہ ریاستی مشینری اور آئینی عہدہ دار اس قسم کے فسادات کی تحقیقات میںگہری سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور مناسب اقدامات کیے جائیں۔ تاکہ دوبارہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔‘‘
جسٹس کرشنا نے بی جے پی، شیو سینا، وی ایچ پی، بجرنگ دل اور مسلح پولیس سب کو مجرم بنایا تھا لیکن ان کے پاس نہ پولیس تھی نہ خصوصی جج کون انہیں سزا دیتا۔ اور سی بی آئی کے پاس سب کچھ تھا اس لیے مسلمانوں کو پھانسی بھی عمر قید بھی اور دوسری سزائیں بھی۔سب کچھ ہوا اور دوسرا زخم جو ہر مسلمان کے کلیجے میں ہے وہ میرٹھ کا ہے جس کے ذمہ دار راجیو گاندھی تھے۔
سماج وادی پارٹی سے بات کرنے کے لیے کانگریس نے نمائندہ بھیجا تھا ملائم سنگھ نے تو اعلان کردیا تھا کہ ہم کسی سے سمجھوتہ نہیںکریںگے۔ اس کے بعد کانگریس کا یہ کہنا کہ ہم اتنی نہیں اتنی لیںگے، مناسب نہیں ہے۔ وہ ۲۰۱۲ء کو دیکھ رہی ہے اسے تو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ بی جے پی کو ہرانا ہے اس لیے کہ کانگریس نیشنل پارٹی ہے اور آگے چل کر بی جے پی کا اصل مقابلہ اس سے ہوگا۔ اس کے علاوہ اہم بات یہ ہے کہ کم از کم اس الیکشن کو تو نوٹ بندی پر لڑنا ہوگا۔ مسلمان کو کیا شکایت ہے اور ہندو کو کیا سب بھول کر صرف دو خیمے بن جانا چاہئیں کہ جو نوٹ بندی کی تکلیف سے خوش ہے وہ بی جے پی کو ووٹ دے ا ور جو دکھی ہے وہ اسے ووٹ دے جو بی جے پی کو بری طرح ہرا سکے۔
پانچ مہینے سے باپ بیٹے اور چچا بھتیجے کا تنازعہ چھڑا ہوا تھا۔ خدا خدا کرکے ۱۶؍جنوری کی شام کو الیکشن کمیشن نے اس کا فیصلہ کردیا اور اب اکھلیش نے باپ اور چچا دونوں کو خوش کردیا ہے۔ اب وہ کانگریس سے مل کر لڑیں یا اپنے بل پر امید یہ ہے کہ نوٹ بندی کے زخمی ان کے ساتھ آجائیںگے۔ اس وقت اس کے علاوہ دوسرے مسائل اٹھانا اس لیے غلط ہے کہ اگر نوٹ بندی والے جیت گئے تو شریفوں کا جینا محال کردیںگے اور ٹیکس کے لیے ہر آدمی کے گھر میںگھس کر دیکھیںگے کہ بستر کیسے ہیں اور کھانا کیا کھاتا ہے اور کتنا ٹیکس دے سکتا ہے؟اگر اپنی عزت بچانا ہے تو مودی کو صرف 7سیٹیںدی جائیں جتنی انھوں نے ۲۰۱۴ء میں کانگریس اور ملائم سنگھ کو دی تھیں۔سب لوگ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ وہ پرشانت کشور جنھوں نے کانگریس کو جتانے کا ٹھیکہ لیا تھا وہ منظر سے غائب ہیں اور کانگریس کو جس پرینکا گاندھی سے امید تھی کہ وہ حکومت بنوادیںگی انھوں نے ایک جلسہ میں بھی تقریر نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کانگریس نے خود ہی ہتھیار ڈال دئے تو اب اکھلیش کیا کریں؟
موبائل نمبر:9984247500

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close