آج کا کالم

مسلمان محض کنسولی ڈیٹڈ ووٹر نہیں  ہیں!


آخر اکھلیش یادو کی سماج وادی پارٹی اور راہل گاندھی کی کانگریس پارٹی کے درمیان اترپردیش اسمبلی انتخابات کے لیے اتحاد کس دلیل کی بنا پر ہوا؟ اگر بہار کے پچھلے اسمبلی انتخابات پر نظر ڈالیں  تو وہاں  یہ انہونی سی بات ہوئی کہ نتیش کمار کی پارٹی اور لالو پرساد یادو کی پارٹی میں  انتخابی تال میل ہو گیا اور اس میں  کانگریس بھی شامل ہو گئی۔  اس کے پیچھے سب سے اہم دلیل یہ تھی کہ ان تمام پارٹیوں  کے مل جانے سے بی جے پی کی شکست یقینی ہوگی کیونکہ ووٹوں  کا کنسولی ڈیشن  ہو جائے گا، دوسرے الفاظ میں  کہیں   تو ووٹوں  کی تقسیم کی نوبت کم ہو جائےگی۔ لیکن اس میں  تمام پارٹیوں  کے ووٹوں  کا کنسولی ڈیشن اہم نہیں  ہے، کیونکہ تمام پارٹیوں  میں  جو انتخابی سمجھوتا ہوتا ہے، اس میں  ان کا اپنا ووٹ بینک ہے اور اس ووٹ بینک میں  ایک دوسرے کے امیدوار کے درمیان لین دین ہو جاتا ہے۔ کنسولی ڈیشن کی بات صرف ایک مذہبی کمیونٹی کو لے کر ہی ہوتی ہے۔ وہ مسلمان ہیں  جنہیں  اقلیت کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

 بہار میں  اسی ووٹ کو کنسولی ڈیٹ کرنے کا مقصد کامیاب ہوا۔ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں  کہ بی جے پی جو یہ پرچار کرتی ہے کہ مسلم ووٹروں  کے درمیان مذہبی اتحاد ہوتا ہے، اس بات کی یہاں  تردید ہوتی ہے۔ مسلم ووٹروں  کے درمیان ایک رائے یہ ہو سکتی ہے کہ وہ بی جے پی کے خلاف ہوں  کیونکہ وہ ہندوتوا کی سیاست کرتی ہے اور اس کے لیے وہ مسلم مخالف مہم پر زیادہ انحصار کرتی ہے، نہ کہ ہندوتوا  کی کسی اچھی بات کو لے کر سیاست میں  کامیاب ہونے کو لے کر پر یقین رہتی ہے۔  اتر پردیش میں  بھی مسلم ووٹوں  کا کنسولی ڈیشن اکھلیش اور راہل کے درمیان معاہدے کا سبب بنا ہے۔ بات تو مغربی اتر پردیش کی نشستوں  کے لیے اجیت سنگھ سے بھی ہو رہی تھی، لیکن وہاں  کنسولی ڈیشن کے لیے بات اسی لیے نہیں  بنی کیونکہ اجیت سنگھ کو جتنی سیٹیں  چاہیے تھیں،  وہ اکھلیش اور راہل نہیں  دے رہے تھے۔

بہر حال ہمیں  صرف ایک پہلو پر یہاں  غور کرنا ہے وہ یہ ہے کہ مسلم ووٹوں  کا کنسولی ڈیشن اس طور تو پر ہو سکتا ہے کہ بی جے پی کے خلاف وہ جسے طاقتور محسوس کریں،   اس کے حق میں  ووٹ کا جھکاؤ ہو جائے۔ تاہم اس کنسولی ڈیشن کے دو پہلو ہوتے ہیں۔  ایک پہلو تو یہ ہے کہ دونوں  ایک ہو گئے اور یہ پیغام دے دیا کہ وہ بی جے پی کے خلاف متحد ہو کر انتخابی میدان میں  اترے ہیں۔  اسے گو مگو کی کیفیت ختم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔  دوسرا پہلو بہوجن سماج پارٹی کا ہے۔ اس نے پہلے سے ہی مسلم ووٹروں  کے درمیان یہ پیغام دے دیا کہ وہ بی جے پی کو ہرا سکتی ہے، بشرطیکہ انہیں  ان کا ساتھ ملیں۔

 لیکن بہوجن سماج پارٹی کی اس امید کی بنیاد بالکل مختلف ہے۔ اس کے لیے وہ پارٹیوں  کے بجائے ووٹروں  کے درمیان ایک اتحاد کی بات کر رہی ہے۔ یعنی دلت اور مسلم ووٹوں  کے درمیان ایک معاہدہ ہو تو بی جے پی کو شکست دی جا سکتی ہے۔ جب ووٹروں  کے درمیان معاہدے کی بات ہوتی ہے، تو پارٹیوں  کے درمیان معاہدے سے وہ مختلف ہو جاتی ہے۔ یہاں  اس طور پر کہ ووٹر دوسری پارٹیوں  کے درمیان اپنے اپنے ووٹ بینک کا لین دین کرنے والے ووٹروں  کی طرح نظر آتے ہیں۔  بہوجن سماج پارٹی نے ووٹوں  کو کنسولی ڈیٹ کرنے کے لیے ان کے درمیان امیدواروں  کی مخصوص تعداد مقرر کردی۔

پارلیمانی سیاست میں  عام طور پر یہ ہونے لگا ہے کہ پارٹیاں  کسی کمیونٹی اور گروپ کے ایک نمائندہ چہرے کو پیش کر کے اس کمیونٹی اور گروپ کا ووٹ لینے کی کوشش کرتی ہیں۔ خاص طور سے یہ مسلمانوں  یا ان جیسے حالات میں  رہنے والے گروپ کے ووٹروں  کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ پارلیمانی سیاست میں  جب سے ہندوتوا کی سیاست کا دباؤ مذہب مطلق پارٹیوں  میں  گولہ باری کی ہے، اس کے بعد سے تو یہ خاص طور سے ہونے لگا کہ مسلم امیدواروں  کی تعداد ویسی پارٹیوں  میں  کم ہوتی چلی گئی ہے۔ ایسی پارٹیاں  بی جے پی کے خلاف ووٹوں  کو کنسولی ڈیٹ کرنے کے نام پر تو متحد  ہو جاتی ہیں،  لیکن امیدواروں  کی کافی تعداد کو یقینی نہیں  بناتی ہیں۔

اتر پردیش کی سیاست میں  دو طرح کے رجحانات دکھائی دیتے ہیں ۔ ایک طرف تو اکثریت کے درمیان انتشار پیدا کرکے اپنی اقلیت کو انتخابی فتح میں  تبدیل کر دیا جائے۔ بی جے پی اسی رجحان پر انحصار کرتی ہے۔ دوسری طرف الیکشن جیتنے لائق ووٹوں  کو کنسولی ڈیٹ کرنے کا ہے۔ لیکن یہ کنسولی ڈیٹ دو سطحوں  پر ہو رہا ہے۔ ایک ایس پی کانگریس کی سٹائل ہے اور دوسری طرف بہوجن سماج پارٹی کے عمل ہے۔ دراصل بی جے پی کے خلاف یعنی فرقہ وارانہ سیاست کو جواب دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انتخابات میں  کافی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ مسلم ووٹوں  کومذہبی رنگ دینے کا تو رجحان ہو سکتا ہے، لیکن فرقہ واریت سے وہ عدم تحفظ محسوس کرتے ہیں ۔ فرقہ واریت سے عدم تحفظ کے لیے کنسولی ڈیشن کی بنیاد نہیں  بنایا جانا چاہیے۔ بلکہ ان کی مذہبی آزادی کو یقینی بنانے والی سیاست کی زمین ہموار کرنی چاہیے۔

اتر پردیش کا الیکشن پارلیمانی سیاست کے ساتھ مسلم ووٹوں  کے تعلقات کا مستقبل طے کرنے کا بھی انتخابات ہیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close