آج کا کالم

جاٹ بھارت کی سیاست کی بے چین روح!

"ہم بہک گئے تھے. خون سوار ہو گیا تھا. اب ہم سمجھ رہے ہیں کہ 2013 میں جو کچھ بھی ہوا، اچھا نہیں ہوا. فساد نہیں ہونا چاہئے. بٹوارے کی سیاست نے ہم کو کمزور کر دیا ہے.” بڑھانا اسمبلی کے كھرڑ گاؤں میں قومی لوک دل کے لیڈر اجیت سنگھ کے گھر میں آئے جاٹ برادری کے نوجوان سے لے کر بزرگ سب کی زبان پر یہی بات تھی. مللك جاٹ کا اہم گاؤں ہیں كھرڑ. کیمرے اور مائیک کے چاروں طرف لگے لوگ اس طرح کفارہ کی زبان میں بول رہے تھے، جیسے ہم سردی کے دنوں میں ہلکی آنچ کے چاروں طرف بیٹھے ہوں اور آدمی ہلکی تپش کے اثر میں آہستہ آہستہ اپنے اونی کپڑے اتار رہا ہو.

آر ایل ڈی کے ایک کارکن نے کہا کہ 2013 کے مظفر نگر فسادات کا ایسا جنون جاری تھا کہ ہم نے اپنے لیڈر کو چھوڑ دیا. دن بھر دیوانہ کی طرح مسلمانوں کے خلاف آگ اگلتا تھا. وہیں کھڑے ایک مسلم نوجوان نے کہا کہ ہم بھی خواہشات میں بہ گئے تھے. ہم لوگ بھی آگ اگل رہے تھے. بہت وقت کی ہماری صحبت رہی ہے لیکن ہم نے منٹوں میں ختم کر دیا. اب نہیں کریں گے.

مغربی اترپردیش میں آگ لگانے کی کوشش آج بھی جاری ہے، لیکن کسی بھی سماجی علوم کے ماہر کے لئے کیا یہ خوشگوار اشارہ نہیں ہے کہ فسادات کے ڈھائی سال کے اندر اندر لوگ مان رہے ہیں کہ ان سے غلطی ہو گئی. ایک عمر جاٹ جے پال سنگھ نے تو کہا کہ رويش جی، ہم پاگل ہو گئے تھے، پاگل. اب نہ ہوں گے. میں نے کہا کہ پھر کوئی افواہ پھیلايےگا کہ کسی لڑکی کو کسی نے چھیڑ دیا ہے تو بھڑكےگے نہیں. جے پال سنگھ نے کہا کہ ایک کروڑ بھی دے گا تو بھی فساد نہیں کریں گے. وہیں شہزاد نے مانا کہ ہم نہیں بهكیں گے.

فرقہ واریت کو خوراک کی کمی نہیں ہوتی ہے. پڑوس میں نہیں ملتی ہے، تو بنگال سے چنگاری آ جائے گی. بنگال سے نہیں ملے گی تو کشمیر سے چنگاری آجائے گی. کب کون سی چنگاری آگ میں بدل جائے، کہہ نہیں سکتے. لیکن اپنے گاؤں برادری کے درمیان کھڑے ہو کر ایسی باتیں کہہ دینا کوئی عام بات نہیں ہے. مجھے تو یہی لگا کہ میں کسی سیاسی اجتماع میں نہیں، کفارہ اجتماع میں آیا ہوں.

میں مسلسل مختلف گروپوں میں اسی سوال کو لے کر بات کر رہا تھا. ہر کسی نے بلا جھجھک کہا کہ ہم بہک گئے تھے. اگر یہ احساس مغرب کے گاؤں برادری میں ہے تو آگے آکر استقبال کرنا چاہئے. ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی سے لپٹ کر بار بار رونا چاہتے ہوں۔ لیکن کوئی انہیں سمجھ نہیں رہا ہے. سب کی زبان پر ایک ہی بات آئی. ہندو یا مسلمان دونوں کے بچے جیل میں ہیں. ان کے ماں باپ کیس لڑتے لڑتے تھک گئے ہیں. جب بھی کوئی جاٹ کسان یہ بات کہتا، بھیڑ سے کسی مسلمان نوجوان کو اپنے قریب کھینچ لاتا تھا. جب بھی کوئی مسلمان اپنی غلطی مان رہا تھا، کسی جاٹ کے کندھے کی طرف جھک جا رہا تھا. میرے لئے یہ جذباتی کر دینا والا منظر تھا.

پچاس سال کی عمر رہی ہوگی. ان کے چہرے پر بیڑی کے دھوئیں نے جھرریاں بنا دی تھی. میرا سوال تھا کہ ایک بار پھر جاٹ شناخت چاہتے ہیں آپ؟ جواب ملتا ہے کہ نہیں جی. ہم جاٹ شناخت یا ہندو شناخت نہیں چاہتے. ہم کسان شناخت چاہتے ہیں. کسان شناخت میں سب آتے ہیں. جاٹ، مسلمان اور بہوجن سب. فسادات نے ہمیں صرف جاٹ بنا دیا ہے. ہمارا بھلا کسان ہونے میں ہے. کسانوں کا بحران گنے کی قیمت میں ہے. گندم کے دام میں ہے. یہ جواب کسی سےمناري کے نہیں ہیں لیکن زبان پر اچانک آئے غزلیں ہیں.

یہ احساس چودھری اجیت سنگھ کو کتنی طاقت دے گا، نہیں معلوم. اجیت سنگھ نے بھی اس مساوات کو بچانے اور بنانے میں تاخیر کر دی. زمانے سے مغرب یوپی کی سیاست میں کسان کی شناخت بكھرتي جا رہی تھی لیکن وہ اس کو بچانے کے لئے سوشل ہم آہنگی کی طرف نہیں دیکھ سکے. آپ عوامی مقبولیت کو نہیں سمجھایا کہ بی ایس پی سے جنگ اس ووٹر سے لڑ کر نہیں لڑی جا سکتی ہے۔ بلکہ اس کے ووٹر کے حساب سے خود کو بدل کر اور اس کی طرف جھک کر لڑی جا سکتی ہے. برسوں سے مغرب کی سیاست میں یہ چلتا رہا ہے کہ جاٹ اور دلت ایک ساتھ نہیں جا سکتے. كھرڑ گاؤں کے گھر میں آر ایل ڈی کے پلیٹ فارم پر چودھری چرن سنگھ کے برابر ڈاکٹر امبیڈکر کی تصویر بتا رہی ہے کہ دیر سے ہی صحیح جاٹ قیادت کو سمجھ آ رہا ہے. اجتماع میں آئے لوگ کہتے بھی رہے کہ ہم نے پہلی بار ڈاکٹر امبیڈکر کی تصویر لگائی ہے. وہ کہتے رہے کہ ہم سب کے ساتھ اٹھتے-بیٹھتے ہیں لیکن ہریانہ کے مرچپر سے آنے والی خبروں سے اتنی جلدی بھروسہ نہیں بنے گا. ویسے ابھی تصویر ہی لگی ہے. پلیٹ فارم سے دیے گئے تقریروں میں ڈاکٹر امبیڈکر اور دلت کمیونٹی کے بارے میں ذکر نہیں آیا.

اجیت سنگھ کو اس بات کا کریڈٹ دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی اسمبلی میں کھل کر بول رہے ہیں کہ ہندو مسلم تقسیم ہوا تو یہ علاقہ برباد ہو جائے گا. آپس میں نہیں لڑنا ہے. پھر ایک ہونا ہے. وہ کیرانہ کا ذکر کرتے ہیں کہ روزگار اور تجارتی مواقع کے لئے ہونے والے فرار کو فرقہ وارانہ رنگ دینا غلط ہے. اجیت سنگھ ہی نہیں قومی لوک دل کے پلیٹ فارم سے چھوٹے لیڈر بھی اپنی تقریروں میں کفارہ کرتے رہے. سمجھاتے رہے کہ اب ہندو مسلم جھگڑا مت کرنا. اس سے ہمارا بہت نقصان ہوا ہے.

فرقہ وارانہ جنوں کمیونٹیز کو تبدیل کر دیتا ہے. ضدی بنا دیتا ہے. کوئی بھی طرف آسانی سے اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹتا ہے. مغربی اترپردیش کے جاٹوں کا یہ بھولاپن مجھے بہت پسند آیا کہ وہ اپنے غصے کی بات کو قبول کر رہے ہیں. بغیر کسی شرط کے اعتراف کر رہے ہیں. اس بات کے بغیر بھی کہ پہلے مسلمان غلطی مانیں گے پھر ہم مانیں گے. مجھے لگتا ہے کہ جاٹوں کی اس خوبی کا احترام ہونا چاہیے. استقبال ہونا چاہئے.

ہندوستان کی سیاست میں جاٹ بے چین روح ہیں. چودھری چرن سنگھ اور چودھری دیوی لال کے بعد ان کا اپنا لیڈر نہیں ہے. چودھری اجیت سنگھ نے فوری فائدہ کے لئے جاٹوں کی اس بے چینی کو نہیں سمجھا. چوٹالہ خاندان جیل میں ہے. بی جے پی کے پلیٹ فارم سے جو نئے لیڈر ابھرے ہیں وہ کچھ زیادہ ہی شہری اور افسر قسم کے جاٹ ہیں. دہاتی جاٹ نہیں لگتے. چودھری چرن سنگھ اور دیوی لال کسان لیڈر تھے اور ملک کے بڑے حصے میں پسماندہ سیاست کی قیادت کرتے تھے. لیکن منڈل کمیشن نے جاٹوں سے وہ دعویداری بھی چھین لی. دیوی لال کے غیر جاٹ شاگرد لیڈر بن گئے. دیوی لال اور مرحلے سنگھ کے بیٹوں میں جدوجہد کا وہ برداشت نہیں تھا. وہ کبھی بی جے پی تو کبھی کانگریس کے کام آنے لگے. آج جاٹ کے پاس نہ قیادت ہے اور نہ کسی حکومت میں اس کا دبدبہ. یہ ایک نہایت ہی سیاسی کمیونٹی ہے. اس کی روح بے چین ہو گئی ہے.

دوسری طرف، شہریکرن کے ایجنٹوں کی نظر جاٹوں کی زرخیز زمینوں پر ہے. ہندو مسلم کے نام پر تقسیم کر ہی جاٹوں کو کمزور کیا جا سکتا ہے تاکہ ان کے سبز كھےتو میں بھوری اینٹوں کی فصل بوئی جا سکے. جاٹ کمزور ہوں گے تبھی آسانی سے زمین سے بے دخل ہوں گے. بلڈر راج کریں گے. دہلی اور اس کے ارد گرد شہریکرن اور جدیدیت کا جارحانہ پھیلاؤ ہو رہا ہے. جاٹ اتنے ضدی ہیں کہ وہ ہر حال میں اپنی سماجی شناخت کو بچائے رکھنا چاہتے ہیں. اسپورٹس کار خریدنے کے بعد بھی حقے کو نہیں چھوڑنا چاہتے. عورتوں کو لے کر اس معاشرے میں بہت کچھ تبدیل کرنا ہے. ہریانہ سے عضو تناسل تناسب کے بہتر ہونے کی خبریں آ رہی ہیں.

باہمی اعتماد اور بھائی چارے کو توڑنے والی پرتشدد واقعات تو کبھی بھی ہو سکتی ہے لیکن وهشيپن کے راستے سے کوئی لوٹ رہا ہو تو اسے گلے لگا لینا چاہئے. یہ بات جاٹ ہی بول سکتے ہیں کہ ان سے غلطی ہو گئی تھی. کسی نے بہکا دیا تھا. میرا دل کہتا ہے کہ پہلے سے کچھ اچھا ہو گا. کچھ تشدد کم ہوگی. کچھ اكرمكتا گھٹےگي. کچھ نہ کچھ اچھا ہو گا. لوٹتے وقت ایک لڑکے نے کہا کہ سر جی جاٹ لوگ بھولے ہوتے ہیں. میں نے کہا کہ اتنے بھی بھولے نہیں ہوتے پر اچھے ہوتے ہیں. اس بات پر سب نے قہقہے لگائے. مجھے قہقہے پسند ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close