آج کا کالم

کس کازور، کس کی ہوا؟

یوپی کے ووٹرس حیران ہیں  کہ کسے ووٹ دیا جائے جبکہ میڈیا ہر روز نئی نئی پیشین گوئیاں  کررہا ہے۔ کبھی بی جے پی اکثریت سے حکومت بناتی نظر آتی ہے کبھی میڈیا اپنے سروے میں  بی ایس پی کو کامیاب کرتا نظر آتا ہے۔ کبھی ایس پی کی حکومت کا بننا طے پایا جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں  ہے کہ میڈیا اس کنفیوژن کے ذریعہ کیا پیغام دینا چاہتی ہے اور اس کی پیشین گوئیوں  اور سروے کی بنیاد کیا ہے—؟ قیاس ہے کہ میڈیا وہی کررہا ہے، جو اسے کہا گیا ہے۔ میڈیا اترپردیش کے عوام کو الجھا کر رکھنا چاہتی ہے۔ اس کنفیوژن اور الجھن کا سیدھا فائدہ بی جے پی کو ہوسکتا ہے۔ بی جے پی کی مشکل ہے کہ مودی اور امت شاہ کے جلسوں  سے بھیڑ غائب ہوگئی۔ سبز باغ اور وعدوں  کی پٹاری کھولی گئی تو عوام کو امت شاہ کی بات یاد آگئی کہ انتخابات کے وقت ایسے جملے بولے جاتے ہیں ۔ اس لیے جب اترپردیش میں  اصلی گھی پچیس روپے کیلو دینے کا وعدہ کیا گیا تو عوام نے پوچھا کہ جہاں  جہاں  بی جے پی کی حکومت ہے، وہاں  مہنگائی کیوں  ہے؟

ہوا یہ کہ پچھلے تین برسوں  میں  بی جے پی نے اتنے جملے چلائے اور اتنی ہوائی فائرنگ کی کہ اب اس کے جملے عوام اس کے منہ پر ہی پھینکنے لگے ہے۔ بی جے پی نے رام مندر کو مینی فیسٹو کا حصہ بنایا تو امید تھی کہ عوام کی دلچسپی اس ایشو میں  ابھی بھی ہوگی۔ مگر عوام رام مندر کی حقیقت بھی سمجھ بیٹھے ہیں ۔ یہ جان چکے ہیں  کہ یہ بی جے پی کا پٹا، پٹایا مہرہ ہے، جسے ہر انتخاب میں  جادو کی چھڑی سے باہر نکال لیا جاتاہے۔ گوا اور پنجاب میں  بی جے پی پر خطرہ منڈرا رہا ہے۔ رہی سہی امید اتراکھنڈ سے ہے لیکن یہاں  کانگریس کا زور ابھی بھی کم نہیں  ہوا۔ کانگریس لیڈر این ڈی تیواری نے مجبوری میں  بی جے پی کا ہاتھ تھاما تو اسے بھی بد شگونی قرار دیاگیا۔ اترپردیش کا راستہ بھی کانٹوں  بھرا ہے اور بی جے پی جانتی ہے کہ یہ راستہ پار کرلیا تو 2019 میں  کوئی مشکل نہیں  آئے گی۔ یہ راستہ ناکام ہوا تو 2019 کی مشکلوں  میں  اضافہ ہوسکتا ہے۔

اس پوری سیاست کی اصل جڑ مسلمان ہیں ۔ اور حیرانی اسی بات پر ہے کہ مسلمان موجودہ سیاسی صورت حال میں  ابھی بھی صحیح سمت کا انتخاب کیوں  نہیں  کر پائے ہیں ۔مسلمانوں  کو یہ نہیں  بھولنا چاہیے کہ اس بار ان کی طرف سے اٹھایا گیا غلط قدم ان کے مستقبل کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ وقت کسی بھی طرح کی الجھن، دبائو یا کشمکش میں  مبتلا رہنے کا نہیں  ہے۔ انہیں  یہ سمجھ لینا چاہیے کہ دشمنوں  کی طرف سے اب حملہ صرف مسلمانوں  کی ذات پر نہیں  بلکہ سیرت نبوی اور اسلام پر بھی ہونے لگا ہے۔ مسلمان جس طرح کے ماحول سے آج دو چار ہیں  یہ ماحول پہلے نہیں  تھا۔ پہلے حملہ صرف مسلمانوں  کی ذات تک محدود تھا اب یہ حملے شدید رخ اختیار کرچکے ہیں ۔ اگرمسلمان اترپردیش کی تقدیر کو بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں  تو اس کا مجموعی اثر آنے والے انتخابات اور مسلمانوں  کے مستقبل پر بھی پڑے گا۔ وہ طاقتیں  جو اب اپنے منشور میں  بھی کھلے عام طلاق ثلاثہ کے مسئلے کو اٹھا رہی ہیں ، وہ مسلمانوں  کے اتحاد اور طاقت کے آگے خود کو کمزور محسوس کریں  گی۔ مرکزی حکومت طلاق ثلاثہ کے بعد بھی خاموش رہنے والوں  میں  نہیں  ہے۔ سیاست وہاں  آگئی ہے کہ چاروں  طرف سے مسلمانوں  کی ذات کو ہدف بنایا جارہاہے۔ ووٹ کی تقسیم کے لیے کچھ چھوٹی علاقائی پارٹیاں  بھی میدان میں  ہیں ۔ اترپردیش کے مسلمانوں  کو سوجھ بوجھ اور ہوشیاری کے ساتھ صحیح سمت کا اندازہ کرنا ہوگا۔

موجودہ سیاست میں  جس طرح مسلمان لیڈران کے ذریعہ بیان بازیاں  ہورہی ہیں ، اس نے بھی مسلم ووٹرس کو کشمکش میں  ڈال دیا ہے۔ اب علماء کونسل کا بیان بھی آگیا۔ مسلم جماعتیں  اب تک متحد نہیں  ہوئیں ۔ اگر یہ متحد ہوکر کسی ایک پارٹی کے لیے بیان جاری کرتیں  تو یقینا مسلمانوں  کا عام رجحان کسی ایک پارٹی کی طرف ہوسکتا تھا۔ ایس پی اتحاد اور بی ایس پی کی بھول بھلیوں  میں  مسلمانوں  کے لیے ابھی تک فیصلہ کرنا دشوار ہوگیا ہے کہ وہ کس کا ساتھ دیں  اور کس کا نہیں ۔ یہاں  ایک سوال مسلم جماعتوں  سے بھی ہے۔ ملک کہاں  جارہاہے، یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ اترپردیش کی جیت کے کیا معنی ہیں ، یہ بھی مسلم جماعتوں  سے پوشیدہ نہیں ۔ یہ حقیقت عام طور پر مسلم جماعتیں  بھی تسلیم کرتی ہیں  کہ بی جے پی کی بڑھتی ہوئی طاقت سے کس حد تک مستقبل میں  مسلمانوں  کو نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔

آر ایس ایس سربراہ کے حالیہ بیانات کو دیکھیں  تو اشارہ صاف ہے کہ مستقبل میں  مسلمانوں  کو ہندوتو کی طرف جھکانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ یہ رجحان سوشل ویب سائٹ پر نظر آنے لگا ہے۔۔  کل ہند صوفی کانفرنس میں  بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ لگانے والوں  کی کی نہیں  تھی اور اس پروگرام کے بارے میں  یہ بھی کہا گیا کہ یہ حکومت کے ذریعہ اسپانسرڈ پروگرام تھا۔ مسلمانوں  میں  بڑھتے انتشار، ہندوتو کے دبائو اور تحفظات مستقبل کے پیش نظر مسلم جماعتیں  اور علماء کرام کیا ابھی بھی اس خوش فہمی میں  مبتلا ہیں  کہ مسلمان ووٹرس متحد ہوکر انتخابات میں  اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں  گے؟ اس میں  شک نہیں  کہ ہر مسلم جماعت کے پاس مسلمانوں  کا ایک بڑا ووٹ بینک ہے۔ سیاسی پارٹیاں  سیکولرزم کے نام پر اسی کا فائدہ اٹھاتی ہیں ۔ کیا سیاسی ماحول کے پیش نظر یہ سمجھا جائے کہ اگر ان جماعتوں  میں  کسی ایک پارٹی کے نام پر اتحاد یا بھروسہ نہیں  ہے تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ سیاسی پارٹیاں  مختلف جماعتوں  پر پیسوں  کی بارش کررہی ہیں ۔؟ اگر ایسا نہں  ہے تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ کوئی ایک خیمہ بی ایس پی کے لیے آواز لگارہا ہے تو دوسرا خیمہ ایس پی اتحاد کے لیے۔؟ اور یہاں  وہ جماعتیں  بھی ہیں  جو آر ایس ایس اسپانسرڈ پروگرام میں  شرکت کرتی ہیں ۔

انتخابات کا دن آپہنچا ہے۔ نوٹ بندی سے پیدا ہونے والے مسائل کے باوجود بڑا اکثریتی طبقہ ہندوتو کے نام پر بی جے پی کے ساتھ ہے۔ ان تین برسوں  میں  سیکولر ہندو کردار کو بھی ہندوتو کی حمایت میں  سامنے آنا پڑا ہے۔ میڈیا ہندوتو کے جشن میں  مرکزی کردار ادا کررہا ہے۔ موہن بھاگوت کہہ چکے ہیں  کہ مسلمان پہلے ہندوتھے اور اب آہستہ آہستہ انہیں  ہندوتو کی طرف لایا جائے گا۔ ایس پی اتحاد کے خلاف امام بخاری کا بیان بھی آچکاہے۔ اترپردیش کے مسلمانوں  سے گزارش ہے کہ جب وہ ووٹ دینے جائیں  تو کچھ باتوں  کا خیال ضرور رکھیں ۔ وہ یہ ضرور خیال رکھیں  کہ آنے والے برس صرف مسلمان نہیں  بلکہ اسلام کے پیش نظر بھی ہندوستان میں  اچھے نہیں  ہیں ۔ اب بانی اسلام حضرت محمد ؐ کی شان میں  گستاخی کرنے والوں  کی ایک بڑی جماعت موجود ہے اور ان کا حوصلہ بڑھ چکا ہے۔ وہ یہ بھی غور کریں  کہ ان تین برسوں  میں  مسلمانوں  کو نقصان پہنچانے والے، فرضی انکائونٹر کرنے والوں  کو رہائی مل چکی ہے۔ وہ یہ بھی دیکھیں  کہ بم دھماکوں  کی ذمہ دار پرگیہ ٹھاکر کو بھی بے گناہ ثابت کرنے کے لیے ان آئی اے اور انصاف اپنا مہرہ چل چکا ہے۔ وہ یہ ضرور غور کریں  کہ ایک بڑی مسلم آبادی اس وقت جیل میں  ہے اور آنے والے برسوں  میں  یہ تعداد کم نہیں  ہوگی بلکہ بڑھتی جائے گی۔ اترپردیش کے مسلم ووٹرس اس بات پر بھی غور کریں  کہ اویسی کی پارٹی اور دیگر مسلم پارٹیوں  کوووٹ دینے سے ان کے ووٹ کا جائز استعمال ہوگا یا یہ تقسیم بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے گی۔؟ کوئی بھی مسلم پارٹی جیت کا دعویٰ نہیں  کرسکتی۔ اگر یہ پارٹیاں  پانچ ہزار سے دس ہزار ووٹ بھی کاٹتی ہیں  تو یہ نقصان مسلمانوں  کا نقصان ہوگا۔ مسلمان اپنے ووٹ پر بھروسہ اور صحیح سمت کا اندازہ کریں  تو آئندہ پریشانیوں  سے نجات مل سکتی ہے۔

تازہ صورتحال یہ ہے کہ مسلم لیڈران کے فتووں  کے بعد اتر پردیش کے مسلمان دو حصوں  میں  تقسیم نظر آتے ہیں ۔بی ایس پی اور ایس پی دونوں  اب آمنے سامنے ہیں ۔بی جے پی کی اسٹریٹجی کامیاب ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو تاریخ کی کتابوں  میں  یہ صفحہ ضرور درج ہوگا کہ مسلم لیڈران اور مسلم جماعتوں  کے تعصبات اور ذاتی فوائد نے مسلمانوں  کو ایسے حاشیہ پر ڈال دیا ،جہاں  سے وہ کبھی باہر نہیں  نکل سکے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close