آج کا کالم

زخمی الیکشن

اتر پردیش کامعرکہ بتدریج کفر و اسلام کی جنگ بنتا جارہا ہے اور یہ کام مسلمان نہیں بی جے پی کررہی ہے۔ اس یرقانی جماعت کا اصل مسئلہ مسلمان نہیں ہندو ہیں۔  جب تک وہ اس کے ساتھ ہوتے ہیں یہ لوگ  ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘کا نعرہ لگاتے ہیں  مگر جب ہندو  عوام ان سے مایوس  ہوکر دور جانے لگتے ہیں  تو انہیں کبھی پاکستان کے پٹاخے یاد آتے ہیں  یا کبھی گائے کی یاد ستاتی ہے جیسا کہ بہار میں ہوا تھا۔  اتر پردیش میں اچانک رام مندر اور تین طلاق پر زور اس بات کی علامت ہے کہ  پھر سے ہندووں نےبی جے پی کو تین طلاق دینے کا ارادہ کرلیا ہے ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ کل تک اترپردیش میں قانون شکنی  کی دہائی دینے والی پارٹی کے وزیر قانون   روی شنکر پرشاد یہ سوال کرنے پر مجبور ہوتےکہ تین طلاق کے معاملے  میں  دیگر  سیاسی جماعتیں خاموش کیوں ہیں ؟ تین طلاق کیا کوئی سیاسی  یا انتخابی مسئلہ ہے؟ وزیرقانون کو تو یہ سوال کرنا چاہئے کہ آخر تین طلاق کے مسئلہ پر سیاسی جماعتیں کیوں بول رہی ہیں ؟ لیکن  اندھی نگری میں ایساوزیر قانون  نہ ہو تو وہ   چوپٹ راج  کیونکر کہلائے؟اس طرح  کے اوٹ پٹانگ بیانات کو سن کر عوام ایک دوسرے کو شاعرانہ مشورہ دیتے ہیں ؎

تم اپنےووٹ کوسوچےبناخیرات مت کرنا

پہن کرقیمتی کھدر،بهکاری آنےوالےہیں.

تین طلاق کے  بعدرام مندر کا نعرہ بھی بلا واسطہ اعترافِ شکست ہے۔  ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بی جے پی والے کہتے ہم نے پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک کرکے دہشت گردی کا خاتمہ کردیا اور اس لئے اترپردیش سے غنڈہ راج ختم کرنے کےلئے ہمیں ووٹ دو لیکن اب تو وزیر دفاع نے بھی گوا  کی انتخابی مہم میں   سرجیکل اسٹرائیک کو یاد نہیں کیا اور وزیرداخلہ بھی دعویٰ نہیں کرسکتے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہوگیا ہے۔اخبارات میں آئے دن  شائع ہونے والی خبریں ان خوش فہمیوں کی تردید کرتی ہیں۔  جب سارے حربے ناکام ہوگئے تو ونئے کٹیار کو  کہنا پڑرہا ہے کہ جیسے بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا ویسے ہی رام مندر بھی تعمیر کریں گے۔ بابری مسجد کا معاملہ سپریم کورٹ میں  ہےدہلی میں  پونے تین سال سے بی جے پی قابض ہے لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی  اباتر پردیش میں سرکار بنا کر  کیا کرلیں گے؟ گری راج سنگھ پوچھتے ہیں کہ اگر رام مندر ایودھیا میں نہیں تو کیا پاکستان میں بنے گا؟  سوال یہ ہے کہ جب ان کے اپنے  بہار میں انتخاب ہورہا تھا اس وقت رام مندر کی یاد کیوں نہیں آئی؟

سرجیکل اسٹرائیک کے علاوہ اس حکومت کا دوسرا بڑا  نام نہاد کارنامہ نوٹ بندی کے ذریعہ کالے دھن کا خاتمہ تھا  لیکن وزیراعظم  اپنے انتخابی جلسوں  میں اس کا ذکر تک نہیں  کرتے اس لئے کہ اگر کالا دھن واقعی ختم ہوگیا ہوتا تو اتر پردیش میں اس قدر دھوم دھام سے انتخابی مہم نہیں چل رہی ہوتی۔  نوٹ بندی پر عوامی جلسوں میں وزیرخزانہ منہ نہیں کھولتے اس لئے کریڈٹ لینے کے چکر میں وزیراعظم نے ان سے مشورہ تک نہیں کیا لیکن امیت شاہ نے بغیر سوچے ایک جملہ کہہ کر مودی جی کا کباڑہ کردیا۔  انہوں نے کہا جو اپنا پریوار نہیں چلا سکتےوہ دیش کیا چلائیں گے۔ملائم کےخلاف یہ طنز کا تیر مودی جی کو گھائل کرگیا۔  ملائم  تواکھلیش کے ساتھ ہولئے جبکہ مودی جی اب بھی جسودھا بین سے دور ہیں۔  اگر جسودھا بین ساتھ ہوتیں اور مودی جی نوٹ بندی کی بابت ان سے مشورہ کرتے تو وہ کہتیں اس سے ساری خواتین خلاف ہوجائیں گی اس لئے کہ ایسی کون سی بیوی ہے جو اپنے شوہر سے چھپا کر پیسے جمع نہیں کرتی اور چھپانے کیلئے تو بڑی نوٹ لازمی ہے۔

نوٹ بندی پر مودی جی کی چونچ عوام میں بند ہے اس لئے ایوان پارلیمان کے اندر اپنا بخار اتار تے ہوئے انہوں نے منموہن سنگھ پر فقرہ کسا کہ حمام میں رین کوٹ پہن کر نہانے کا فن ان سے سیکھنا چاہئے۔  مودی جی یہ بتائیں کہ  شادی کرنے کے بعد  بھی اپنی دھرم پتنی کو تین طلاق دیئے بغیر دور رہنا کیا حمام میں چھاتا اوڑھ کر نہانا ہے؟ چونکہ اس سوال کا جواب ان کے پاس نہیں ہے اس لئے وہ  عوام کو اسکیم کا مطلب سمجھاتے پھر رہے ہیں کہ اس کا مطلب ہے سماجوادی، کانگریس، اکھلیش اور مایاوتی۔  وہ اتر پردیش کو اسکیم مکت کرنے کا وعدہ کررہے ہیں جبکہ  اکھلیش نے اسکیم کا نیا مطلب بتا دیا۔  سیو کنٹری فرام شاہ اینڈ مودی  (SAVE COUNTRY FROM MODI AND SHAH)۔ اس زناّٹے دار جواب کو سن کر مودی جی کو تارے نظر آگئے اور انہوں نے پینترابدل  کر کہا   کہ ہم سے خوفزدہ ہوکر سماجوادی پارٹی نے کانگریس کے ساتھ ہاتھ ملالیا .۔ اس  فقرےکا ترکی بہ ترکی جواب راہل سے  نے دے دیا  کہ ہمارے اتحاد نے وزیر اعظم کے چہرے سے ہنسی چھین لیہے۔

 سچ تو یہ ہے کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران  ملائم اور اکھلیش کی نورا کشتی ذرائع ابلاغ پراس طرح  چھائی رہی کہ  بی جے پی کہیں نظرہی نہیں آئی۔  شاہ جی یہ سوچ کر خوش ہوتے رہے کہ یہ آپس میں لڑ مریں گے اور پھر ہم ہی ہم ہوں گے لیکن باپ بیٹے گلے مل گئے اور اکھلیش نے راہل کے ساتھ ہاتھ ملا کر اترپردیش میں لہر چلا دی۔پارلیمانی الیکشن میں صوبے کے جو  نوجوان مودی جی کے فریب میں آگئے تھے وہ اب راہل اور اکھلیش کی جوڑی پر فدا ہیں نیزکمل کی پنکھڑیاں ہوا میں بکھر  رہی ہیں۔    ویسے راہل گاندھی کا بیان غلط ہے۔   وہ زمانے لد گئے  جب مودی اور شاہ کی جوڑی کے ہونٹوں پر شرارت آمیز قہقہہ اور چہرے پر حماقت خیز مسکراہٹ کھیلتی تھی۔نوٹ بندی کے بعدسے کسی نے وزیراعظم کوہنستےہوئے دیکھا ہی نہیں تو  ہنسی کے چھن جانے کا سوال کہاں پیدا ہوتا ہے؟ اس حماقت کے بعد تو ا مودی جی کا گاندھی جی کے علاوہ کوئی غمخوار و دمساز  بھی نہیں بچا اور یہ حال ہوگیا  کہ بقول علامہ سیماب اکبر آبادی  ؎

تجھےکرلیتےہیں یوں اپنی مصیبت میں شریک

  تیری تصویرپہ کچھ اشک گرالیتےہیں

مودی جی نے کھادی بھنڈار کے کیلنڈر پر بنی گاندھی جی  کی تصویراس قدر گھڑیالی آنسو  گرائے کہ باپو جی وہاں سے نکل  بھاگے۔ وزیراعظم نے موقع غنیمت جانا اور فیس بک سے اپنی تصویر نکال کر وہاں چسپاں کردی۔   حزب اختلاف نےگاندھی جی کی اس توہین پر  ذرائع ابلاغ میں آگ لگا دی اور اس پر تیل ڈالنے کا کام ہریانہ کے وزیر انیل وج نے کیا۔ وہ بولے گاندھی سے اچھےایمبیسیڈر( سفارتکار ) مودی ہیں۔  اس احمقانہ بیان میں بیک وقت گاندھی اور مودی دونوں کی توہین ہے اس لئے کہ مہاتما گاندھی تو بابائے قوم ہیں اور نریندر مودی جیسے بھی ہیں فی الحال اس ملک کے وزیر اعظم ہیں لیکن اب انل وِج کو کیسے سمجھایا جائے وزیر اعظم کادستوری مقام ومرتبہسفارتکار سے بلند تر ہے۔ ویسے مودی جی  نے اپنےاوچھے بیانات سے اس عہدے کے وقار کی ایسی مٹی پلید کی ہے کہ  اب ملائم  تو دوریشپال    بھی اس پر فائز ہونا نہیں چاہتے۔

انل وج کے مطابق عالمی منڈی میں  روپئے کی قیمت کے گرنے وجہ اس پر گاندھی جی  کی تصویر ہے۔ انل وج کا مشورہ مان کر اگرخدانہ خواستہ ہندوستانی نوٹ پرمودی جی کی تصویر لگا دی جائے تووزیر اعظم کے کیش لیس معیشت کا سپنا ازخودساکار ہوجائیگا۔  مودی کی تصویر والی منحوس نوٹ کون اپنے پاس رکھنے کی حماقت کرے گا؟ عوام  جس طرح مودی جی پر   اعتبار نہیں کرتے اسی طرح کرنسی پر بھی نہیں کریں گے۔اور اور جہاں تک اس کی قدروقیمت کا سوال ہے وہ اتر پردیش انتخاب بعد ہونے والی مودی کی حالت سے بھی خراب ہوجائیگی۔ایوان ِ پارلیمان میں فی الحال  بجٹ اجلاس جاری ہے  لیکن وزیراعظم اترپردیش میں  پرچار کرتے پھر رہے ہیں۔ وزیرخزانہ ارون جیٹلی  اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ  اتراکھنڈ کی  خاک چھان رہے ہیں۔  کسی کو بجٹ کی پڑی  نہیں ہے۔  ایسا لگتا ہے ملک میں پارلیمانی حکومت کا دور ختم ہوگیا اب صرف انتخاب جیت کر من مانی کرنے کا زمانہ آگیا ہے۔ بجٹ پیش کرنے سے قبل حزب اختلاف نے عدالت سے گہار لگائی تھی کہ انتخاب سے قبل اس کی  پیشکش کو روکا جائے لیکن عدالت نے منع کردیا شایداسے پتہ تھا اس پہاڑ کو کھودنے پر چوہا بھی نہیں نکلے گا۔ اپوزیشن والے بلاوجہ اسے شیر سمجھ کر گھبرا رہے ہیں۔   جیٹلی کے حالیہ  بجٹ کو دیکھ کر سید محمد جعفری کی نظم وزیر کا خواب یاد آتی ہے ؎

جو بھی آئے اس سے وعدہ کچھ نہ کچھ کرتا ہوں میں

سر پر آ پہنچا الیکشن اس لیے ڈرتا ہوں میں

اس میں شک نہیں کہ اقلیت میں ہونے کے باوجود اتر پردیش کے انتخاب میں مسلمان سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔  بی جے پی اور آرایس ایس  بھی مسلم سیوک سنگھ اور صوفیاء کانفرنس کا ناکام تجربہ کرچکے ہیں۔  ۔ بی جے پی کے علاوہ ہر کوئی ان کو پچکار رہا ہے  لیکن یہ ساری سیاسی جماعتیں متحد نہیں ہیں۔ غلام نبی آزاد نے حال میں اس صورتحال پر  افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا  کہ اگر مایاوتی بھی اتحاد میں شامل ہوجاتیں تو اترپردیش سے بی جے پی کا صفایہ ہوجاتا۔ اس میں شک نہیں کہ بہار جیسی صورتحال بن جاتی اور بی جے پی کی ہوا اکھڑ جاتی لیکن اس کا ایک اور پہلو  بھی ہے۔ بہار کے اندر بی جے پی کے ساتھ  بھی خشواہا، پاسوان اور مانجھی  تھے نیز کمیونسٹ اور سماجوادی الگ سے لڑ رہے تھے۔ اترپردیش میں اگر  سارے بی جے پی کے مخالف یکجا ہوجاتے تو وہ ہندووں کو ورغلاتی دیکھو سارے مسلمانوں کے حامی متحد ہوگئےہیں اس لئے تم بھی یکمشت  ہمیں ووٹ دو۔ قطبی انتشار ہمیشہ ہی بی جے پی کیلئے فائدہ بخش ر ہا ہے۔ اس کے علاوہ اکھلیش کے خلاف سارے ووٹ  بی جے پی کی جھولی میں چلے  جاتے۔ اب حکومت سے ناراض ووٹر بی جے پی، اجیت سنگھ اور مایاوتی کے درمیان تقسیم ہوگا۔  اس لئے اتحاد کے نہ ہونے میں بی جے پی کا بظاہر نقصان ہے۔  اس لئے کوئی بعید نہیں کہ بہارکا کلنک مٹانے کے چکر میں مارے مارے پھرنے والے مودی اور شاہ انتخابی نتائج کے بعد یہ شعر گنگناتے نظر آئیں ؎

میں نے چاہا تھا زخم بھر جائیں

زخم ہی زخم بھر گئے مجھ میں

مسلمانوں کے عوام و خواص اس بات پر متفق ہیں کہ ان کا ووٹ تقسیم نہ ہو لیکن عام لوگوں اور دانشوروں  کے درمیان  اس بات پر اتفاق نہیں ہے کہ کس کو ووٹ دیا جائے۔   اس فرق کی دو بنیادی وجو ہات ہیں اول تو دونوں طبقات مختلف سطح پر  متحدہ ووٹنگ چاہتے ہیں اور دوسرے ان دونوں کی انتخابی نتائج  کےحوالے سے  توقعات مختلف ہیں۔    دانشور حضرات کیلئے پورا اتر پردیش ایک اکائی ہے۔ وہ دیکھتے ہیں اترپردیش میں مسلمان 15 فیصد ہیں اور دیگر طبقات یعنی دلت یا یادو  کی آبادی اتنی اتنی ہے۔ اس لئےمسلمانوں کس کے ساتھ الحاق کرکے اقتدار کا  حصہ دار بن جانا چاہئے؟ عام آدمی اس تجزیہ کو مانتا اس لئے کہ وہ  جانتا ہے مسلمان پورے صوبے میں یکساں طور پر پھیلے ہوئے نہیں ہیں اور دوسرے طبقات کا بھی یہ حال ہے کہ ان کی آبادی کسی ایک علاقہ میں بہت زیادہ تو کسی اور میں بہت کم ہے۔

ہندوستان کے سیاسی نظام میں کسی جماعت یا طبقہ کو تناسب کی بنیاد پر نمائندگی نہیں ملتی بلکہ ہر حلقۂ انتخاب سے امیدوار منتخب ہوکر جاتا ہے۔  اس لئےعام ووٹر ریاستی  سطح پر ووٹ کی تقسیم پر توجہ دینے  کے بجائے حلقۂ انتخاب میں  متحد ہوکر وہاں اس پارٹی کا ساتھ دیتا ہے جو فسطائیوں کو شکست دینے  کی طاقت  رکھتی ہے۔ اس طرح ریاستی سطح پر ووٹ کی تقسیم کے باوجود مسلم ووٹ متحد رہتا ہے۔ یہ موقف زیادہ حقیقت پسندانہ لگتا ہے۔ پوری ریاست میں کسی ایک جماعت کا حاشیہ بردار بن کراپنا ووٹ ضائع کرنے کے بجائے ہر حلقۂ انتخاب میں منفرد حکمت عملی وضع کرکے دشمن کو زیر کرنامناسب تر طرز عمل ہے۔ علی گڈھ میں تالے کے صنعتکار نعیم اختر کا کہنا ہے کہ ’’آپ یہ سمجھیں کہ مسلمان اس بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں کہ کون سی جماعت سب سے کم نقصان دہ ہے۔ موجودہ حالات میں وہ سماجوادی کانگریس اتحاد ہے۔ ہم اس اتحاد کو اس لئے ووٹ دیں گے کہ اس کے بی جے پی کو شکست دینے کے قوی امکانات ہیں اور ہم کسی کو بھی ووٹ دیں گے جو بی جے پی کو ہرا سکے‘‘

دانشور حضرات اپنی دوراندیشی کے سبب عالمی یا کم ازکم قومی سطح پر سوچتے ہیں اس لئے ان کی نگاہ 2019  کے اندر ہونے والے پارلیمانی انتخاب پر  جمی ہوئی ہے۔  ان کے خیال میں  اتر پردیش کے انتخابات اس کو بری طرح متاثر کریں گے۔  اس کے برعکس عام آدمی یہ سوچتا ہے کہ  اس سے قبل 2009کے اندر ہونے والے پارلیمانی انتخاب میں بی جے پی چوتھے نمبر پر تھی  اس کے بعد ۲۰۱۲؁ میں سب سے زیادہ تعداد میں مسلمان اسمبلی میں منتخب ہوئے تھے اس کے باوجود وہ دونوں باتیں 2014  کے پارلیمانی انتخابابت پر اثر انداز نہیں ہوسکیں اس لئے یہ خیال کرناکہ 2019 کے انتخابات کا یہ ریہرسل ہے ایک خام خیالی  ہے۔ کون جانے اس وقت کون سے ہوا چلے اور کیا ہوجائے ؟ اس لئے عام رائے دہندگان کے نزدیک  بہت دور کی کوڑی لانے کے بجائے آج کے حالات میں فیصلہ کرنا دانشمندی ہے۔

مفکر حضرات کی توقعات بھی  عام لوگوں سے بہت مختلف ہیں مثلاً ان میں سے کچھ لوگ اس خام خیالی کا شکار ہیں موجودہ صورتحال میں انتخاب کے ذریعہ اعلیٰ اخلاق و کردار کے لوگوں کو اقتدار سونپا جاسکتا ہے جو ملک و قوم کی فلاح و بہبود کو اپنے ذاتی مفادات پر ترجیح دیں گے۔ عام ووٹر کو اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا اس لئے وہ بہتر امیدوار کی تلاش ہی نہیں کرتا۔  اس کے حساب سے  فی الحال کوئی شریف انسان اگر انتخابی اکھاڑے میں کود بھی جائے تو وہ کامیاب نہیں ہوسکتا اور اگر بفرضِ محال کامیاب بھی ہوگیا توزیادہ دنوں تک اپنی شرافت محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ عام  مسلمان بی جے پی کی دینی وملی تضحیک و تمسخر کا انتقام لینے کیلئے الیکشن کو ایک ذریعہ بناتا ہے۔ کبھی اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا ہے اور کبھی ناکام ہوجاتا ہے۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ کسی بھی کاروبار میں  نہ ہمیشہ فائدہ  ہاتھ لگتا  ہے اور نہ مستقل  خسارہ اٹھانا پڑتا  ہے۔ اس لئے وہ بازار کی تیزی یا مندی سے نہ وہ پھولا سماتا  ہے اور نہ مایوسی کا شکار ہوتا ہے۔ وہ نیک اور بد کے چکر میں پڑنے کے بجائے دیکھتا ہے کہ کون کمل کا محل تباہ کرسکتا ہے اب وہ جو بھی ہو چور اچکا یا بدمعاش اس کی حمایت کردیتا ہے  بقول شاعر۔

نہیں پروا کہ لیڈر کون اچھا کون گندہ ہے

سیاست میری روزی ہے الیکشن میرا دھندہ ہے

اتر پردیش میں آج کل مایاوتی کی ایک دس سالہ پرانی ویڈیو بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اس 31 سیکنڈ کے بصری فیتے میں مایا وتی کو ایک پریس کانفرنس کے اندر یہ کہتے دیکھا جاسکتا ہے کہ مسلمان انتہا پسندوں کو پسند کرتے ہیں اس لئے میرٹھ میں  ایک انتہاپسند امیدوار کی ناکامی کو یقینی بنانے کیلئے   میری ہدایت پر دلتوں،  دیگرپسماندہ ذاتوں  اور اعلیٰ ذاتوں کے ووٹ بی جے پی کو منتقل کردیئے گئے حالانکہ مسلمانوں نے پھر بھی انتہا پسند امیدوار کو ہی اپنا ووٹ دیا۔  مایا وتی نے گوکہ یہ بیان میرٹھ  کے بلدیاتی  انتخاب میں اپنے امیدوار کی ضمانت ضبط ہوجانے پر ناکامی کی پردہ پوشی کیلئے دیا تھا اس کے باوجودمسلمانوں کی بابت یہ   دعویٰ  درست ہے۔  مسلمان اس لئے انتہاپسند امیدوار کو پسند کرتا ہے کیونکہ اس کا مقابلہ ایس پی، کانگریس یا بی ایس پی سے نہیں ہے۔ وہ اپنے چنندہ امیدوار کا موازنہ بی جے پی سے کرتا ہے جو انتہائی درجہ کی انتہا پسند جماعت ہے۔  جس میں مہنت اویدیہ ناتھ اور ساکشی مہاراج جیسے لوگ بھرے پڑے ہیں  اور وہ جانتا ہے کہ لوہا ہی لوہے کو کاٹتا ہے۔

مایاوتی کے اس بیان پر طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہورہی ہیں۔  کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے بی جے پی اسے پھیلارہی ہے تاکہ ہندو رائے دہندگان یہ سوچیں اگر مایا وتی بھی اپنے ووٹ ٹرانسفر کراتی رہی ہیں تو ہم خود کیوں نہ ٹرانسفر ہوجائیں۔  دوسری رائے یہ ہے کہ مایاوتی سے مسلمانوں کو برگشتہ کرنے کیلئے اس ویڈیو کو پھیلایا جارہا ہے تاکہ مایاوتی کے اوپر سےمسلمانوں کااعتماد اٹھ جائے۔ لوگ شاید نہیں جانتے کہ مسلم عوام سیاسی رہنماوں کے بیانات کو  ویسے بھی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔  وہ جانتے ہیں   کہ مایاوتی نے جس خاتون امیدوار کو انتہا پسند کہاتھا اس کے شوہر یعقوب قریشی کو آگے چل کر اپنی پارٹی میں شامل کرلیا۔  بی ایس پی میں آنے کے باوجود یعقوب قریشی کی  انتہاپسندی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی بلکہ نبی کریم ؐ کے اہانت آمیز کارٹون کو مارنے والے کیلئے انعام کا اعلان انہوں نے ہی کیا۔

بی ایس پی  ابھی تک 100 مسلمانوں کو ٹکٹ دے چکی ہے اور سماجوادی سے راندۂ درگاہ ٹھہرنے کے بعد مختارانصاری بھی ہاتھی پر سوار ہوچکے ہیں اس کے باوجود نہ تو ہر جگہ مسلمان بی ایس پی کو ووٹ دیں گے اور نہ اس ویڈیو  کو دیکھ کر ہر مقام سے ہاتھی کا ساتھ چھوڑیں گے۔ جن علاقوں میں بی ایس پی کا امیدوار اس قابل ہوگا کہ وہ بی جے پی کو ہراسکے  وہ مسلمانوں کے نظر التفات کا مستحق ٹھہرے گا اور جہاں وہ ایسی حالت میں نہیں ہوگا مسلمان اس کا متبادل تلاش کرلیں گے۔ سچ تو یہ ہے اس فیصلے کی خاطرعام مسلمان  کسی عالم دین یا دانشور کی رہنمائی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اپنے علاقہ کے حالات دوسروں سے بہتر جانتا ہے۔

 پارلیمانی حلقۂ انتخاب تو خیر وسیع و عریض ہوتا اس لئے غلطی کا امکان زیادہ رہتا ہے لیکن اسمبلی  کے محدود حلقہ میں عام طور  پر لوگ بہ آسانی  درست فیصلہ کرلیتے ہیں۔ عام مسلمان اس خوش فہمی کا شکار نہیں ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں کوئی عظیم انقلاب برپاہوجائیگا۔  الیکشن کی حیثیت اس کے نزدیک بھوک مٹانے والی روٹی کی سی نہیں بلکہ بعد از طعام  کھائے جانے والے پان کی سی ہے۔ پان لوگ مختلف وجوہات سے کھاتے ہیں مثلاً کوئی مروّت  میں کھا لیتا ہے تو کوئی نمائش کیلئے پان کھاتا ہے۔ کسی کو ہونٹ لال کرنے کی خواہش پان کھلواتی ہے تو کوئی دیوار خراب کرنے کیلئے پان چباتا ہے لیکن پیٹ بھرنے کیلئے کوئی پان نہیں کھاتا۔ مسلمان بھی محدود مقاصد کے تحت الیکشن میں حصہ لیتے ہیں جس کا کہ وہ متحمل ہوسکتا ہے۔ ان کے نزدیک انتخابی تماشے کی اہمیت مداری کے کھیل سے زیادہ نہیں ہےبقول شاعر ؎

نئےوعدوں کاکرتب پانچ برسوں بعد د کھلانے

  تمہاری بستیوں میں پھرمداری آنےوالےہیں

یہ اتفاق ہے کہ اترپردیش میں یہ تیسرا انتخاب ہے جس میں لہر کی سی کیفیت ہے۔ 2012  میں راہل گاندھی کے تیور سماجوادی کے خلاف تھے۔ انہوں نے ایک الیکشن ریلی میں اپنے ہی امیدواروں کی فہرست کےیہ کہہ کر پرزے پرزے کردیا تھا کہ سماجوادی پارٹی کا مینی فیسٹو ہے لیکن اکھلیش اپنی نرم خوئی پر قائم رہے۔  انہیں خوف تھا  کہ انتخاب کے بعد حکومت سازی کیلئے کانگریس کے دروازے پر دستک دینی ہوگی اور اس وقت لوگ مذاق اڑائیں گے لیکن پھر اکھلیش کے حق میں ایسی ہوا چلی کہ انہیں اکثریت حاصل ہوگئی اور وہ کانگریس سے بے نیاز ہوگئے۔ اس کے بعد پارلیمانی انتخاب میں مودی جی کے حق میں لہر چلی اور بی جے پی کو 80 میں سے 72 یعنی 90 فیصد سیٹیں مل گئیں۔   اس بار پھر سے اکھلیش اور راہل کے یکجا ہوجانے سے ’یوپی کے لڑکے۰۰۰۰۰  کرن اور ارجن ‘ عوام کو پسند آرہے ہیں۔  یہ لہر کیا گل کھلاتی ہے اس کا پتہ انتخابی نتائج کے بعد ہی چلے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close