آج کا کالم

2 جی کا جھوٹ گھوٹالہ کتنا بڑا

سدھیر جین

پانچ سال تک 2 جی گھوٹالے کی تشہیر کرکے سیاست ہوتی رہی. تو کیا اس جھوٹ کے بے نقاب ہونے کے بعد ٹو جی کے جھوٹ گھوٹالے پر ہی ہمیں ویسا ہی اثر دیکھنے کو ملے گا؟ یہ سوال بھی کھڑا ہوگا کہ جھوٹے الزام لگانے والوں نے اس جھوٹے الزام سے کیا کیا کمایا. یہ سوال بھی کہ جھوٹ کے ذریعے حاصل وہ بے جا کمائی کیا ان سے وصولی جائے گی؟ جن پر یہ جھوٹے الزام لگے تھے انہیں اس جھوٹ کی وجہ سے کتنا نقصان ہوا؟ کیا اس بے جا نقصان کی تلافی ممکن ہے؟ اور آخری سوال یہ کہ مستقبل میں جھوٹے الزامات سے بچاؤ کا کیا بندوبست ہو سکتا ہے؟

ٹو جی کیس کے نام دینے کا سوال

اسے بدعنوانی کا معاملہ بتا کر اس کا نام گھوٹالہ بتایا گیا تھا. اس جھوٹے الزام میں بدعنوانی کا سائز تاریخی طور پر سب سے بڑا بنایا گیا تھا یعنی ایک لاکھ 76 ہزار کروڑ. اس کے پہلے ملک کے عوام نے صرف چار چھ ہزار کروڑ کے ہی الزام سنے تھے. عام طور پر ان گھوٹالوں کے الزام بھی بس بڑے کاروباریوں پر ہی لگتے تھے. لیکن پچھلی یو پی اے حکومت کو تباہ کرنے کے لئے ایک لاکھ 76 ہزار کروڑ کے گھوٹالے کے الزام بنائے گئے تھے. اور واقعی الزام لگانے والوں کی تب کی حکومت کی تصویر کو بالکلیہ ’بدعنوان حکومت‘ بنانے میں کامیابی بھی مل گئی تھی. میڈیا میں جس طرح سے ان الزامات کی تفتیش کی، پہلے ہی سب سے بڑا کرپشن ثابت کرکے دکھایا گیا تھا  اور اس کا اثر ہوئے بغیر رہ بھی نہیں سکتا تھا. آخر 2014 کے انتخابات میں یو پی اے حکومت کو عوام نے بے دخل کر دیا تھا. یہ ثابت کرنے کے لئے کسی بحث کی ضرورت نہیں کہ گزشتہ انتخابات میں یو پی اے حکومت کی شکست کی وجوہات میں اس 2 جی الاٹمنٹ میں خرابی کے جھوٹے الزامات کا کتنا بڑا کردار تھا. معاملہ یہ کہتے شروع کیا گیا تھا کہ حکومت کی پالیسیوں سے حکومت کے خزانے کو ایک لاکھ 76 کروڑ کا نقصان ہوا اور جلد ہی اسے رشوت خوری اور مہا گھوٹالے کے نام سے مشہور کر دیا گیا تھا.

تب کا ٹو جی گھوٹالہ اب کیا بن گیا؟

عدالت سے سب کے سب ملزم بری ہو گئے. رشوت کے لین دین کا کوئی ثبوت پیدا نہیں کیا جا سکا. یہ الزام بھی نہیں لگ سکتا کہ حکومت نے خود کو بچانے کے لئے سی بی آئی کا استعمال کر لیا. کیونکہ تحقیقات کے کام ہوتے وقت حکومت اس وقت سیاسی پارٹی کی بن گئی تھی جس نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے الزام لگائے تھے. اس میں کیا کوئی شک ہو سکتا ہے کہ موجودہ حکومت نے ایڑی چوٹی کا دم لگایا ہوگا کہ کسی طرح یہ گھوٹالہ ثابت ہو جائے. اسے یہ بھی احساس ہوگا کہ یہ معاملہ اگر گھوٹالہ ثابت نہ ہوا تو اسے لینے کے دینے پڑ جائیں گے. اور وہی لینے کے دینے پڑ گئے. موجودہ حکومت پر یہ غیر عدالتی مقدمہ شروع ہو گیا ہے کہ اس نے جھوٹے الزام لگا کر پچھلی حکومت کو ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا. یعنی ایک طرح سے اب موجودہ حکومت پر جھوٹے الزام کا مها گھوٹالا کرنے کا غیر عدالتی مقدمہ شروع ہو گیا ہے.

الزامات کی بنیاد پہلے ہی کھسکی ہوئی تھی

سب جانتے ہیں کہ 2 جی کا معاملہ طبقے كومپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل ونود رائے کے ذریعے بنوایا گیا تھا. انہوں نے ہی ایک لاکھ کروڑ کی بھاری بھرکم رقم کی ناقابل یقین فیگر نكال كر رپورٹ میں درج کی تھی. بعد میں یہ 2 جی مختص منسوخ کرکے دوبارہ مختص کرکے بھی دیکھ لیا گیا تھا کہ حکومت کے خزانے میں اتنی بڑی رقم آ ہی نہیں سکتی تھی. سو الزامات کی بنیاد پہلے ہی کھسک گئی تھی. لیکن سیاسی نفع نقصان کے چکر میں معاملہ چلتا رہا اور امید لگائی جاتی رہی کہ جب تک یہ الزام عدالت میں چلتے رہیں گے اس وقت تک پرانی حکومت کی گردن پکڑے رہنے میں آسانی رہے گی. لیکن موجودہ حکومت کے چار سال ہونے کو آ رہے تھے. عدالت میں یہ اور لمبا ٹکائے رکھنے کی ساری حد پار ہو چکی تھی. سو عدالتی فیصلہ کرنا ہی پڑا اور اس میں تمام بری ہو گئے.

کس کس نے بھگتا جھوٹے الزامات کا نقصان

سب سے زیادہ اے راجا نے، اس سے تھوڑا کم كنی موئي نے، اس سے تھوڑار کم سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے. راجا اور كنی موئي تو جیل میں بند تک رہیں. یہ سب عوامی نمائندے تھے. سو اس عوام نے بھی دکھ اور ضلالت اٹھائی جس نے انہیں منتخب کر کے حکومت میں بھیجا تھا. ویسے شرمندگی سے غصائی عوام نے اپنی ضلالت کم کرنے کے لئے بعد میں اپنے عزیز لیڈروں سے بدلہ لے لیا. عوام نے یو پی اے کو بے دخل کر دیا. ویسے ایک طرح سے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ الزام لگانے والوں نے عوام کے ذریعے یو پی اے کو بے دخل کروا دیا. لیکن آج دیکھیں تو عوام کو ہی سب سے زیادہ نقصان بھگتنا پڑا. کم سے یہ نقصان تو عوام کو ہوا ہی کہ وہ جرم میں آ گئی ہے.

الزام لگانے والوں کی حالت

الزام لگانے والے لوگ اب بھی خسارے میں نہیں ہیں. وہ زیادہ تر لوگ اقتدار میں ہیں. ان الزامات کا زیادہ سے زیادہ فائدہ وہ گزشتہ انتخابات میں لے چکے ہیں. اگرچہ اس معاملے میں تمام ملزمان کے بری ہونے کے بعد بھی جھوٹے الزام لگانے والے لوگ خاموش نہیں بیٹھیں گے. وہ ضرور چاہیں گے کہ ایک کے بعد ایک اعلی عدالتوں میں یہ معاملہ کسی نہ کسی طرح چلتا رہے. اس بات کے کہنے کی بنیاد یہ ہے کہ موجودہ حکومت کی طرف سے اس کے وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ کانگریس اس معاملے میں تمام ملزمان کے بری ہونے کے لیے بے قصور ہونے کا سرٹیفکیٹ نہ مانے. اگرچہ وہ خود ایک بڑے وکیل ہیں اور وہ ہی کہہ رہے ہوں کہ عدالت سے بری ہونا سرٹیفکیٹ نہیں ہے تو یہ بات اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت معاملے کو اوپری عدالت میں چلواتي رہے گی.اس طرح سے وہ طویل وقت تک اپنے اوپر لگنے والے اس الزام سے بچتی رہے گی کہ اس نے جھوٹ بولنے کا مهاگھوٹالا کیا ہے. عدالت سے ملزمان کے بری ہونے کے بعد بھی وہ یہ کہتی رہے گی کہ معاملہ اوپری عدالت میں زیر غور ہے. یہ بات قانونی معاملے میں تو کارگر ہو سکتی ہے لیکن عوام کے درمیان جھوٹ کا جو پیغام چلا گیا ہے، اسے مٹانے کی کوئی جگاڑ آسان نہیں ہے. ادھر 2019 کا الیکشن سر پر ہیں.

2 جی جھوٹ کیا کوئی سبق بنے گا!

لگتا ہے بالکل نہیں بن پائے گا. سیاست تو ٹکی ہی پرچار پرسار پر ہے. حکومت کوئی بھی ہو، وہ تو اپنی جھوٹی کامیابیوں کو بھی پرچار کے رتھ پر سوار کر دیتی ہے. کتنی بار یقین دہانیوں کے جھوٹ کو بے نقاب ہوتے عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے. لیکن وعدوں پر یقین کرنے کے علاوہ اس کے پاس دوسرا چارہ کیا ہے. اگرچہ غور سے دیکھیں تو جھوٹ اور سچ کے درمیان فرق کے لئے اس آزماكر دیکھنا اتنا ضروری بھی نہیں ہے. ایک آپشن یہ بھی ہے کہ اس کا تصفیہ عقل لگا کر، سوچ، بات چیت کے ذریعے، مشاورت کے ذریعے حال کے حال بھی کیا جا سکتا ہے. مثلا 2 جی معاملے میں جتنی ناقابل یقین سائز کی رقم کے گھوٹالے کا الزام لگایا جا رہا تھا ان کے جھوٹ کو کیا پہلی نظر میں ہی صاف صاف نہیں دیکھا جا سکتا تھا. جو علم اور تجربہ کار لوگ حقیقت دیکھ کر بتا رہے تھے ان پر بدعنوان لوگوں کے پارٹنر کا الزام لگا کر خاموش کرایا جا رہا تھا. یعنی جب ہم چو طرفا جھوٹ سے گھرے ہوں تو 2 جی کے جھوٹ کے نقاب کا آخری اعلان ہونے میں بھی رکاوٹ ہی ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سدھیر جین

سدھیر جین معروف سینیئر صحافی ہیں اور انڈین ایکسپریس گروپ- جن ستا کے چیف سب ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

Close