آج کا کالم

2019 کے لحاظ سے گجرات کے مینڈیٹ کا پیغام

سدھیر جین

عوام کے فیصلے کو بھی کسی عدالتی فیصلے کی طرح ہی لیا جاتا ہے. کئی بار عدالتی فیصلے کی وضاحت کرنے میں بھی دقت آتی ہیں. فیصلہ عام طور پر ایک دو جملوں میں ہوتا ہے، لیکن فیصلے کے ساتھ کچھ انتظامات بھی جوڑے جاتی ہیں. انگریزی میں انہیں ‘فائنڈنگس’ کہتے ہیں. فیصلے کو مکمل طور پر سمجھنے کے لئے ان ‘ فائنڈنگس’ یا فیصلوں کو بھی اتنے ہی غور سے پڑھنا ہوتا ہے. ایک جملہ کے اس اہم فیصلے سے کوئی نہیں انکار سکتا کہ گجرات کا مینڈیٹ BJP کے حق میں آیا ہے، لیکن اس کے ساتھ منسلک دوسرے بہت سے جنادیش دیکھنا ہو، تو عوام کی دیے بہت انتظامات کو پڑھا جانا بھی ضروری ہے. یہ قواعد اس لئے بھی ضروری ہے، کیونکہ گجرات کا اسمبلی انتخابات سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات کو نظر میں رکھ کر لڑا جا رہا تھا.

جیت کے علاوہ اور کیا مقصد تھے گجرات انتخابات میں؟

اگر جیت کا مقصد صرف گجرات تک محدود ہوتا تو اس انتخاب کو لے کر پورے ملک میں طوفان سا نہ اٹھا ہوتا. وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کے تقریبا سارے وزیر وہاں رات دن ڈیرہ نہ ڈالے ہوتے. ظاہر ہے، گجرات کے نتائج سے جانچا جانا تھا کہ مرکز میں قابض BJP حکومت کی مقبولیت کتنی کم یا زیادہ ہوئی ہے. خاص طور پر نریندر مودی حکومت کے اب تک کے کام کاج پر عبوری تجزیہ بھی ہونا تھا. مثلا نوٹ بندي، GST اور ملک میں مجموعی ترقی کے کام کاج پر ایک پردیش میں تجزیہ کا موقع تھا. اسے ہم انتخابی مہم کے مسائل اور پروپیگنڈے میں لگے مرکزی رہنماؤں کے قد اور سائز کو دیکھ کر بھی سمجھ سکتے ہیں. اس بات سے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ 2019 کے پیش نظر ہی حکمران BJP کی مخالفت میں کانگریس کا اعلی قیادت بھی وہاں اتری تھی. اس حد تک کہ کانگریس نے گجرات پر ہی توجہ لگانے کے لئے ہماچل پردیش کو نظر انداز کر دیا.

یعنی کوئی بھی سمجھ سکتا ہے یا اسے ماننا پڑے گا کہ ملک کی آبادی کے صرف ساڑھے چار فیصد آبادی والے صوبہ میں اتنی زبردست، اس قسم کی رسہ کشی صرف اسمبلی انتخابات تک محدود نہیں ہو سکتی. اسی لیے کہا جانے لگا تھا کہ گجرات کے انتخابات 2019 کے لوک سبھا انتخابات کا ماحول بنائیں گے. گجرات کے نتائج سے یہ پتہ چلنا تھا کہ مرکز میں قابض حکومت کی تصویر کا انڈیکس کیا ہے. اس کا اندازہ اس بنیاد پر ہونا تھا کہ 2014 کے مقابلے میں گجرات میں BJP اور کانگریس کیا کھوتی ہیں اور کیا پاتی ہیں. تجزیہ سے پہلے یہ سامنے رکھ لینا ہوگا کہ گجرات کا الیکشن کیا وہاں حکومت بنانے کے لئے کم از کم سیٹیں حاصل کر لینے کے لئے تھا؟ کیا وہاں کا الیکشن وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت کو ثابت کرنے کے لئے تھا؟

2014 کے مقابلے میں کس نے کیا پایا، کیا کھویا؟

تجزیہ سے حساب لگتا ہے کہ گجرات کے انتخابات میں BJP نے جتنی سیٹیں اور ووٹ کھوئے، وہ 12 لوک سبھا سیٹیں کھونے کے برابر ہیں. گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے مقابلے میں BJP کو ایک لوک سبھا سیٹ کے برابر نقصان ہماچل میں ہوا. یعنی دو ریاستوں کے ان اسمبلی انتخابات میں عوام نے کل 13 لوک سبھا سیٹوں جتنی حمایت BJP سے واپس لے کر کانگریس کو دے دی. جیسا مانا جا رہا تھا کہ گجرات کا یہ انتخابات 2019 کے لئے عوام کے موڈ کو بتائے گا، اس حساب سے مینڈیٹ کے طریقوں کو سمجھنا مشکل نہیں ہے. اور اگر مینڈیٹ کو سیاسی جماعتوں کی خوشی یا غم سے بھانپنا ہو، تو یہ حیرت کی بات ہے کہ ووٹوں کی گنتی کے دن، یعنی پیر کو کانگریس ہیڈکوارٹر میں پہلی بار دیکھا گیا کہ گجرات میں ہارنے کے بعد بھی دیر شام تک جشن کا ماحول تھا. یعنی کانگریس کو بھی لگ گیا ہے کہ ماحول میں تبدیلی کا آغاز ہو گیا ہے؟

کچھ اور بھی بتاتا ہے یہ مینڈیٹ !

کچھ انتخابی تجزیہ کاروں نے قریب سے تجزیہ کیا ہے. ان کے مطابق گجرات میں گاؤں کے رجحانات سے پتہ چل رہا ہے کہ دیہی ووٹر کا رخ تبدیل ہوا ہے. گجرات میں حکمران BJP کی فتح شہری ووٹروں کے سہارے ہوئی ہے. یہی موقف اترپردیش کے مقامی بلدیاتی انتخابات میں دکھا تھا. اسی درمیان، پنجاب میں بھی یہی ماحول ہے. اس کے علاوہ ووٹر کی سماجی گروپوں کے رجحانات کو دیکھیں تو مختلف سماجی گروپوں کے تین لڑکوں نے اپنے سیاسی اثر کا اندازہ لگا لیا ہے. کسی بھی زاویہ سے جانچ لیں، یہ بات تو پتہ چلتی ہی ہے کہ کانگریس کی کارکردگی میں ان تینوں لڑکوں کے کردار BJP کے خلاف ماحول بنانے میں تو رہے ہی ہیں. 2019 ء کے لوک سبھا انتخابات کے لحاظ سے دیکھیں، تو کانگریس کو بھی لگ گیا ہے کہ وہ ’70 کی دہائی تک رہے اپنے روایتی عوامی حمایت کو دوبارہ متحد کرنے میں کامیابی حاصل کر رہی ہے.

گجرات کے انتخابات کے آگے- پیچھے

پیچھا دیکھیں تو BJP گجرات میں بہت کچھ اتار پر ہے. آپ ترقی کے دنوں میں بھی یہ اتار اس کے لئے تشویش کی بات ہونا چاہئے. اور اگر 2019 کے لحاظ سے سوچیں، تو گجرات اور ہماچل میں BJP کی جیت اس پر ایک ذمہ داری کا بوجھ بھی اضافہ ہے. وہ اس طرح سے کہ 2019 کے انتخابات میں اب ڈیڑھ سال باقی ہے. اس دوران BJP کو پورے ملک میں حکمران ہونے کے ناطے جس قدرتی اقتدار مخالف عدم اطمینان سے نمٹنا تھا، اس میں ہماچل الگ سے جڑ گیا ہے. گجرات میں ترقی کو بڑھتا دکھانے کی فکر ابھی مسلسل بنی رہے گی. یعنی گجرات اور ہماچل کو وہیں تک محدود رکھتے ہوئے یہ مینڈیٹ اگرچہ BJP کے لئے کامیاب لگتا ہو، لیکن 2019 کے لحاظ سے اس کی تشویش بڑھ گئی ہیں.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سدھیر جین

سدھیر جین معروف سینیئر صحافی ہیں اور انڈین ایکسپریس گروپ- جن ستا کے چیف سب ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close