آج کا کالمخصوصیملی مسائلنقطہ نظر

ٹی وی چینلوں کے مباحثوں کا بائیکاٹ: کیا یہی مسئلے کا حل ہے؟

تحریر: انس فلاحی سنبھلی، اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ

دارالعلوم دیوبند نے مسلم نمائندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلم مسائل پر ہونے والے مباحثوں میں شریک نہ ہوں۔ یہ اپیل بڑی حد تک مناسب ہے۔اس کا کیا اثر ہوگا، یہ قبل از وقت کہنا مناسب نہیں کیونکہ بعض لوگوں کا خرچ ان مباحثوں سے وصول ہونے والی آمدنی سے ہی چل رہا ہے۔

میں گزشتہ دو مہینے سے تقریباً ہر روز دو سے تین گھنٹے انڈین نیوز چینلوں پر ہونے والے مباحثے دیکھ رہا ہوں۔ حالیہ دنوں میں نیوز چینلوں پر ہونے والے مباحثوں کے عناوین کچھ اس طرح رہے ہیں: طلاق ثلاثہ، حلالہ، خواتین کے حقوق اور آزادی، دہشت گردی اور اسلام، اسلاموفوبیا،بابری مسجد کا قضیہ، مسلم پرسنل لاء اور شریعت، شریعت یا ہندوستانی قانون۔ ان مباحثوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والوں میں مولانا عبد الحمید نعمانی، مولانا انصار رضا، مولانا اطہر حسین دہلوی، مولانا ساجد رشیدی، مولانا عارف قاسمی، مولانا مفتی ارشد قاسمی، مولانا مسعود الحسن کاظمی اور اسد الدین اویسی صاحبان شامل رہے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی چند نام نہاد مسلم دانشوروں کو اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑانے کے لیے اسٹیج کی زینت بنادیا جاتا ہے۔ جن میں ڈاکٹر آمنہ شیروانی، ثمینہ شفیق،شاہنواز حسین (بی جے پی)، شاذیہ علمی، ناہید حسن، عنبر زیدی اور شبنم خان قابل ذکر ہیں۔ اور ہندو برادری کی طرف سے سمبت پاترا (بی جے پی) بڑا نام ہے۔ اسی کے ساتھ چند دھرم گرو اور ان کے علاوہ بھی کچھ لوگ وقتاً فوقتاً شامل کیے جاتے ہیں۔ ان سے کچھ غرض نہیں، اس لیے کچھ عرض کرنا بھی مناسب نہیں ہے۔

یہ مباحثے جن نیوز چینلوں پر ہورہے ہیں ان میں زی نیوز، آج تک، انڈیا ٹی وی، این ڈی ٹی وی، آئی بی این ۷، سدرشن ٹی وی سر فہرست ہیں۔ ان مباحثوں کے اینکروں کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی گویا سپاری لے رکھی ہے۔ ان میں سدھیر چوہدری، روہت سردانا، راہل کنول، امیش دیوگن اور انجنا اوم کشیپ شامل ہیں۔

ان مباحثوں میں اسلام اور مسلمانوں کی جس طرح تضحیک وتذلیل کی جاتی ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ ایسے ایشوز کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے جو مسلمانوں کے پرسنل اور عائلی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ حالانکہ ان سے زیادہ بڑے واقعات روزانہ سماج میں ہورہے ہیں۔ گئو رکشا کے نام پر مسلمانوں کو مارنے پیٹنے اور ہراساں کرنے کی خبریں روز کا معمول بنتی جارہی ہیں۔انسانوں سے زیادہ جانوروں کو اہمیت دی جارہی ہے۔ اسی طرح گزشتہ مہینے معمولی سے واقعہ، 16سالہ لڑکی ناہید آفرین کے گانا گانے اور اس پر مبینہ فتوے کی خبر کو میڈیا نے خوب اچھالا گیا ،  46 چھٹیوں کو فتوی قرار دے کر اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی کہ اسلام انسان کی فطری صلاحیتوں اور جذبات کی مخالفت کرتا ہے۔ اس وقت طلاق ثلاثہ کے مسئلے کو میڈیا نے حل کرنے کا ذمہ لے رکھا ہے حالانکہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔

مباحثوں میں مسلم نمائندوں کو ضرور شریک کیا جاتا ہے۔ لیکن توجہ اور وقت اسلام مخالف چہروں کو ہی دیا جاتا ہے۔ جب بھی کوئی نمائندہ صحیح بات پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی بات کاٹ کر دوسرے پینلسٹ سے سوال وجواب شروع کردیتے ہیں یا پھر بریک لے کر بات کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی کے ساتھ اشتعال انگیز سوالات کرکے انہیں مشتعل کیا جاتا ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے نمائندے بہت جلد مشتعل بھی ہوجاتے ہیں جب کہ حریف پرسکون رہتے ہیں۔ جس سے سامعین اور ناظرین بہت محظوظ ہوتے ہیں۔ اور انہیں طعنے کسنے کا موقع میسر آجاتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ چند ایک کو چھوڑ کر ان مباحثوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والوں کی علمی استعداد اتنی نہیں ہوتی ہے کہ وہ مسلم مسائل پر اپنی بات صحیح طریقے سے پیش کرسکیں۔ بس وہ مباحثوں کے لیے مشہور ہو گئے ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی مسئلہ ہو میڈیا بھی انہیں بلاتا ہے اور وہ خود بھی اس کی خواہش رکھتے ہیں کہ انہیں میڈیا میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والا سمجھا اور مانا جائے۔ لیکن جو ان مباحثوں میں علمی جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہیں نہ میڈیا بلاتا ہے اور نہ ہی وہ خود وہاں جانے کی رغبت رکھتے ہیں اور نہ ہی ضرورت سمجھتے ہیں۔ ان کی دانست میں یہ سب ضیاعِ وقت کا سامان ہے۔

اس تناظر میں دارالعلوم دیوبند کی یہ اپیل کہ مسلم مسائل پر ہونے والے مباحثوں میں مسلمان شریک نہ ہوں، بڑی حد تک درست اور وقت تقاضا ہے۔ اس سے مسلم مسائل پر ہونے والے مباحثوں کی شرح میں کسی حد تک کمی ضرور آئے گی۔

لیکن کیا یہی مسئلے کا حل ہے؟

مسئلے کا ہرگز یہ حل نہیں ہے، کیونکہ مسائل تو علی حالہ باقی رہیں گے۔ اس سے چینل بند تو نہیں ہوجائیں گے اور نہ ہی نام نہاد مسلم نمائندے ان مباحثوں میں شریک ہونے سے باز آئیں گے۔

المیہ یہ ہے کہ جن چیزوں کی ضرورت کا ادراک دوسری قومیں پچاس برس قبل کر لیتی ہیں،مسلم قوم ان چیزوں کی ضرورت کے وقت پر بھی جائز و ناجائز کے فتوے میں الجھ جاتی ہے، لیکن جب پانی سر سے گزر رہا ہو تو پھر غوطے لگاتی  ہے۔

میڈیا ایک بڑی طاقت کا نام ہے۔ کسی بھی مسئلے پر عوامی رائے بنانے اور تبدیل کرنے میں اس کا بڑا اہم کردار ہے۔ میڈیا کے ذریعے ہر بات منٹوں سیکنڈوں میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ اس لیے صرف اس کا بائیکاٹ کرنے سے کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا، جب تک کہ اس کا متبادل قائم نہ کیا جائے۔

اس حوالے سے ہماری مسلم جماعتوں اور تنظیموں کا رویہ اور کارکردگی افسوس ناک ہے۔ کروڑوں روپوں کا سالانہ بجٹ ہونے کے باوجود یہ تنظیمیں ابھی تک اپنا کوئی چینل قائم نہیں کرسکی ہیں۔ صرف سالانہ اجلاس، سیمنار، ماہنامے، رسالے، ماہانہ اور سہ ماہی مشاورتی اجلاس اور پریس کانفرنسیں کرنے تک محدود ہیں۔ ان میں بالخصوص جماعت اسلامی ہند کا معاملہ اس حوالے سے زیادہ قابل غور ہے۔ جس کے ذمہ داران، ارکان وکارکنان ہندوستان میں سب سے زیادہ باعلم اور باخبر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی بھی اس حوالے سے اب تک کوئی کوشش منظر عام پر نہیں آئی ہے۔ کیا ان کی نظر میں صرف سہ روزہ دعوت، ماہانہ اور ہفت روزہ میگزین کی اشاعت اور مہینے کے آخر میں پریس کانفرنس اور خاص مواقع پر مہم کا انعقاد ہی مسلم مسائل کے تصفیہ کے لیے کافی ہے؟

ہمارے رسائل و جرائد بالعموم اردو زبان میں شائع ہوتے ہیں، اور اردو داں طبقہ محدود سے محدود تر ہوتا جارہا ہے۔ جن تک بات پہنچانی چاہیے نہ ان کی زبان استعمال کی جاتی ہے اور اور نہ ہی کوئی ایسا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے جس کے ذریعے ان تک بات پہنچ سکے۔

دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ صحافت میں سرگرم ہیں مسلم قوم کی طرف سے ان کی خاطر خواہ حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ہے۔ یہی وجہ رہی ہے کہ عزیز برنی کا اخبار ’عزیز الهند‘ تاریخ کی فائلوں کا حصہ بن گیا۔ ہمارے یہاں مدارس ومساجد کے نام رقوم تو بنا طلب کیے بھی لوگ دے دیتے ہیں۔عزیز برنی صاحب نے اپنے اخبار کے تعاون کے لیے متعدد مرتبہ اپیل کی لیکن متعدد مرتبہ اشتہار دینے کے باوجود بھی لوگوں نے ایک آنہ دینا بھی گوارا نہ کیا ۔

یہ اکیسویں صدی ہے اس کے تقاضے، مطالبے اور حالات جدا ہیں۔ ہمیں اس صدی کے حساب سے چلنا ہوگا ۔اب وقت صرف اس کا نہیں ہے کہ اردو میں مضمون لکھ کر اردو میگزین اور اخبارات میں شائع کراکے من ہی من خوش ہولیں اور یہ گمان کرنے لگیں کہ ہم نے اپنا حق ادا کردیا ہے۔ یا زیادہ سے زیادہ یہ کر لیا کہ کانفرنسوں میں شرکت کر لی اور سیمنار منعقد کر لیے۔ دنیا اب بہت آگے جاچکی ہے۔ یہ صدی علمی اور جدید ٹیکنالوجی کے دھماکے کی صدی ہے۔ اس لیے جن محاذوں پر اور جس انداز سے اسلام پر اعتراض ہورہے ہیں انہیں محاذوں پر اسلام کا دفاع کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ نہیں کہ اعتراض تو الیکٹرانک میڈیا پر ہو رہا ہے اور آپ جواب اردو اخبارات میں شائع کرائیں۔ اس لیے اپنی بات کو پہنچانے کے لیے ذرائع ابلاغ کے جدید وسائل کو استعمال میں لانے کی ضرورت ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم جماعتیں اور تنظیمیں حالات کی نزاکت کو سمجھیں ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے حال کے لیے ایسا لائحہ عمل تیار کریں جس سے مسلمانوں کا مستقبل روشن ہو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والوں کی علمی استعداد اتنی نہیں ہوتی ہے کہ وہ مسلم مسائل پر اپنی بات صحیح طریقے سے پیش کرسکیں

    بس یہی سچ ہے اور اسکو مان لینے سے ہی اصلاح ممکن ہے لیکن ہمیں تو کج بحثی کے پیسے کھانے کی بیماری ہے

متعلقہ

Back to top button
Close