آج کا کالم

ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا حسین خواب اور اس کی بھیانک تعبیر

ڈاکٹر سلیم خان

وزیراعظم نریندر مودی اپنے من کی بات تو ہر ماہ کرتے ہیں لیکن کسی اور کی نہیں سنتے۔ ویسے 130 کروڈ لوگوں کی اگر وہ سننے لگیں تو ساری عمر سننے سنانے میں گزر جائے لیکن کچھ فرصت نکال کر انہیں مرکزی  کابینہ کے وزیرِ  سماجی انصاف اور بااختیاری  تھاور چند گہلوت  کے دل کی بات  سن لینی چاہیے۔ وزیر موصوف نے ناگدہ  کے ایک جلسۂ عام میں اپنا دل کھول   کررکھ دیا۔ گہلوت کا تعارف کراتے ہوئے مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور اور شہری ترقی وینکیا نائیڈو نے کہا تھا پارٹی کے لوگ انہیں بیچ بیچ میں بھاجپ کا امبیڈکر بھی کہہ دیتے ہیں ۔ جب بھی پارٹی میں دستور سوال  ہوتا ہے   تو متعلقہ فرد کو گہلوت کے پاس بھیج دیا جاتا ہے۔  پسماندہ ذات کے  69 سالہ تھاور چند 4 مرتبہ شاجاپور ایوان زیریں کےلیے منتخب ہوچکے ہیں اور پارٹی کے سکریٹری جنرل ہیں ۔  1980سے صوبے کی اسمبلی   کےرکن رہے ہیں اور مختلف اہم ذمہ داریاں ادا کرچکے ہیں ۔  اس تفصیلی تعارف کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ میڈیا تو دن رات یوگی اور مودی کی تعریف و توصیف میں جٹا رہتا ہے ۔اس لیے کسی اور کے بارے میں لوگ  کم ہی جانتے ہیں ۔

 زعفرانی امبیڈکر   کے نام سے پہچانے جانے والے گہلوت نے  مقامی سرکاری کالج میں ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر کی خدمات پر منعقدہ قومی سیمنار میں اظہار خیال کرتے ہوئے نام نہاد اونچی ذات کے ہندووں کو مخاطب کرکے  کہا کنواں  کھدوانا ہوتا ہے تو ہم سے کھدوالیتے ہو۔ کنواں جب آپ کا ہوجاتا ہے تو پانی پینے سے روکتے ہو۔ تالاب بنانا ہو تو مزدوری ہم سے کرواتے ہو ۔ اس وقت ہم اس میں پسینہ بھی گراتے ہیں ، تھوکتے ہیں اور پیشاب کیلئے دور جانے کے بجائے وہیں فارغ ہوجاتے ہیں  لیکن جب اس کا پانی استعمال کرنے کا موقع آتا ہے تو پھر کہتے ہوآلودہ یا   ناپاک ہوجائیگا۔ وزیر موصوف کا بیان کو ئی خیالی داستان نہیں ہے بلکہ اس طرح کے واقعات آئے دن منظر عام پر آتے رہتے ہیں ۔ اڑیسہ میں  گنجم ضلع  کے پنچا بھوتی گاوں تین تالاب ہیں ۔ پانی کے استعمال کے لیے اعلیٰ ذات اور پسماندہ ذاتوں کے لیے الگ الگ  جگہ مختص ہے۔ پسماندہ لوگوں کا حص چونکہ  حکومت کی عدم توجہی کا شکار ہے اس لیے وہاں پانی ختم ہوجاتا ہے اور دوسرے حصے کی دیکھ ریکھ کے سبب اس میں  پانی  رہتا ہے۔ اس نا انصافی کے خلاف دلتوں نے احتجاج کیا توان پر 2012 میں حملہ ہو گیا اور انہیں  اپنا گھر اور زمین چھوڑ کرگاوں سے نکل جانے  پر مجبور   کردیا گیا ۔ صوبائی حکومت کے  تحفظ کا وعدہ پر  اعتمادکرکے جو 50 خاندان واپس آئے تو گزشتہ سال انہیں پھر بھگا دیا گیا۔ اپنے کھیتوں محروم   وہ بے خانماں لوگ اب دوسروں کے کھیتوں  مزدور ی کرکے پیٹ پال رہے ہیں ۔

گہلوت آگے بولے مورتی ہم بناتے ہیں  آپ مندر میں جاکر منتر پڑھ کر اس سے عقیدت کا اظہار کرتے ہو۔ اس کے بعد وہ دروازے ہمارے لیے بند ہوجاتے ہیں ۔ آخر کون ٹھیک کرے گا اس کو؟ مورتی ہم نے بنائی ، محنت ہم نے کی ۔ بھلے ہی آپ نے محنتانہ دیا ہوگا پر جس مورتی کو ہم نے بنایا اس کے درشن تو ہمیں کرنے دو۔ ہاتھ تو لگا لینے دو ۔ایک زمانے تک سنگھ کی مخالفت کرنے والے دلت رہنما اُدت راج  نے 2005 میں کہا تھا کہ دلت ڈاکٹر امبیڈکر کے بتائے ہوئے راستے سے بھٹک گئے ہیں اور خود انکا طرز عمل ایسا ہے کہ لوگ ان کا بہ آسانی  استحصال کرتے ہیں ۔ دلت خود آپس میں ایک دوسرے سے تفریق کرتے ہیں ۔ وہ مندر میں جاتے ہیں ، وہاں انکی بے عزتی کی جاتی تو وہاں جانے کی ضرورت کیا ہے؟ ڈاکٹر امبیڈکر نے مندر میں جانے سے منع کیا تھا۔انہیں بدھ مذہب کے جھنڈے تلےاتحاد کی دعوت دی جاتی ہے تووہ توجہ نہیں  دیتے ۔ اپنی زبوں حالی کے لیے دلت خود  ذمہ دار ہیں ۔ اپنی  قوم کو طعنہ دینے والے اُدت راج آج کل بی جے پی رکن پارلیمان ہیں ۔

باہر سے نہایت چمکدار نظر آنے والے ہندو سماج کی اس تاریکی کو سنگھ کے اندر 40 سال سے زیادہ عرصے تک رہنے والا نہایت بارسوخ رہنما محسوس کرتا ہے اور برملا بیان بھی کرتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے باوجودیہ لوگ  ایسےظالموں کا آلۂ کار کیوں بنے  ہوئے ہیں  جو اسے جانور سے بھی زیادہ حقیر سمجھتے ہیں ؟ دشمن کی  حکمت عملی کو جانے بغیر محض  اس کی کامیابی کا ماتم کرنے سے اپنا مقدر نہیں بدلتا ۔  سنگھ پریوار کی قوت کا سرچشمہ دیگر پسماندہ لوگوں کو اپنے ساتھ کرلینے میں ہے جو اس سے نفرت کرتاتھا ۔ جب تک کہ امت مسلمہ  ان کو اپنے ساتھ کرنے میں کامیاب نہیں ہوجاتی  ان دونوں میں سے کسی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔ گہلوت نے اسٹیج پر بیٹھے کتھا سنانے والے سمن بھائی کی جانب اشارہ کرکے کہاچھوت چھات کو ختم کرنے کیلئے ایک عزم کرکے آپ کو گاوں گاوں گلی گلی گھومنے کی ضرورت ہے۔  آپ مونی بابا کے آشرم میں بیٹھ رہو  اور ہم آپ کے تخت کو چھو کر چلے جائیں اس سے کام نہیں ہوگا۔  سوال یہ ہے کہ پسماندہ طبقات کو جو توقع ہندو سماج کے مذہبی رہنماوں سے ہے وہ ہمارے علماء  سے کیوں نہیں ہے؟ جس دن اس سوال کا تشفی بخش جواب مسلمانانِ ہند کو مل جائیگا اس ملک سے مظالم کے  خاتمہ کا آغاز ہوجائیگا۔

پسماندہ طبقات کے اندر پائی جانے والی شدید  بے چینی نے  گہلوت کوخبردار کرنے پر مجبور کردیا کہ ’’ یہ نہیں کروگے آدمی کتنے دنوں تک برداشت کرے گا ۔ آج بھی یہ (دلت) ساری ناانصافیاں برداشت کرنےکےباوجود مذہب کی پیروی کرنے والا ہے۔ آپ بھلے ہی مندر میں نہ جانے دو لیکن دروازے کے آس پاس سوراخ رکھتے ہیں اور اس سے درشن کرتے ہیں ۔  ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ محض پسماندہ ذاتوں کے رہنماوں سے سیاسی مفاہمت کرنے  پر اکتفاء کرنےکے بجائےبراہِ راست عوام سے رابطہ کرکے ان کو اس دین حنیف کی دعوت دی جائے جو صحیح معنیٰ میں عدل و مساوات کا علمبردار ہے۔ ہندوستان میں بادشاہوں نے تو یہ کیا ہندو شدت پسندوں کو اپنے تلوار کے زور سے قابو میں رکھا لیکن اصل کام  بزرگان ِ دین  نے کیا ۔ انہوں نے اسلام کا پیغام عام لوگوں تک پہنچایا اور اس کے نتیجہ میں  یہ دین محلوں اور فوجی چھاونیوں سے نکل کر  گاوں گاو ں قریہ قریہ پہنچ گیا۔ جب ہم نے یہ کام بند کردیا تو ہندو احیاء پرستوں نے اس خلاء  کو پرُ  کردیا  اور ہمیں حاشیہ پر ڈھکیل دیا۔

سنگھ پریوار بظاہر ذات پات میں یقین نہیں رکھتا لیکن اپنے قیام کے 90 سال بعد بھی اس محاذ پر پوری طرح ناکام ہے۔ گجرات کے اندر اونا میں جب گائے کی کھال اتارنے والے دلتوں کو  زدو کوب کیا گیا تو سنگھ پریوار میں بھونچال آگیا اور سرسنگھ چالک  موہن بھاگوت کو  یہ تسلیم کرنا پڑا کہ خودان کے داخلی جائزے کے مطابق وسطیہندوستانکے9000گاوں میں سے30  فیصدمقامات پرنسلی امتیازہوتاہے۔ پینے کے پانی سےلےکرمندروں اورشمسان بھومی تک میں چھوت چھات رائج ہے۔ تھاور چند گہلوت اسی مدھیہ پردیش  سے تعلق رکھتے ہیں جہاں پچھلے 15 سالوں سے بی جے پی برسرِ اقتدار ہے۔ بھاگوتنےاپنےسویمسیوکوں کوہدایتدیہےکہانطورطریقوں کاخاتمہکریں لیکن منو سمرتی کے ماننے والوں سے یہ توقع کیسے کی  جائے کہ وہ ورن آشرم کو ختم کرکے مساوات کا نظام قائم کریں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ  پسماندہ سماج کے لوگ جب  دیکھتے ہیں کہ  ان کی رہنما مایا وتی اقتدار کی خاطر بی جے پی مفاہمت کرلیتی ہیں۔ پاسوان ، اٹھاولے اور گہلوت وزارت کےزعفرانی  قلمدان سنبھال کر   دشمنوں کے ساتھ سودے بازی کرتے ہیں تو  وہ بھی  اپنے رہنماوں کو چھوڑ کر سہولیات کے چکر میں دشمن سرکار کے شرن میں چلا جاتا ہے لیکن زمینی حقائق میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی واقع  نہیں ہوتی۔

سچر کمیٹی امت کی حالت زار بیان کرتی ہے اس لیے وہ ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے لیکن جب تک ہندوستان کے سارے محروم طبقات ایک دوسرے کا تعاون نہیں کریں گے ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے اس لیے ہمیں دیگر لوگوں کی حالت کا پتہ لگا کر ان کی مدد کیلئے آگے آنا ہوگا۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق  ہر 18 منٹ میں دلتوں کے خلاف ایک جرم درج کیا جاتا ہے۔ ہر روز اوسطاً تین دلت خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے, دو دلتوں کا قتل اور دو بے گھر کئے جاتے ہیں ۔ 37 فیصد دلت غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارتے ہیں ، 54 فیصد ناکافی غذائیت کا شکار ہیں ۔ دلت سماج کے83ء۰ فیصد بچے ایک سال کے اندر فوت ہوجاتے ہیں اور پانچ سال تک 12 فیصد کی موت ہوجاتی ہے۔ 45 فیصد ناخواندہ ہیں ۔ 39 فیصد سرکاری اسکولوں میں دلت طلباء کو الگ بٹھایا جاتا ہے ۔ راجستھان کے ایک گاوں میں 2 دلت طلباء نے استاد کے برتن سے پانی پی لیا تو مارپیٹ  کے بعد 11 کو اسکول سے نکال دیا گیا۔ 48 فیصد گاوں میں انہیں آبی ذخائر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ 24 فیصد گاوں میں ان تک ڈاک نہیں پہنچائی جاتی۔

تمام تر دستوری تحفظات کے باوجود سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ  28 فیصد گاوں میں انہیں پولس تھانے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔قومی جرائم کے بیورو کے مطابق ان کے خلاف ہونے والے سنگین جرائم جیسے قتل تشدد اور آبروریزی وغیرہ میں 2012 سے لے 2014کے درمیان 29 فیصد اضافہ ہوا۔  ان میں راجستھان سر فہرست جہاں اپریل 2015 سے مارچ 2014 کے درمیان ۶۱۷ شکایات درج کی گئیں  جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کل تعداد کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔  راجستھان میں کل جرائم کے 45  فیصد کےمظلوم دلت ہوتا ہے جبکہ ان کی آبادی صرف 17 فیصد ہے۔ اتر پردیش کی حالت بھی اچھی نہیں ہے وہاں دلتوں کی آبادی 20  فیصد ہے ان کے خلاف ہونے والے جرائم 17  فیصد۔ بہار جہاں نتیش کمار کی حکومت ہے دلتوں کی آبادی کا تناسب 16 فیصد ہے جبکہ ان کے خلاف جرائم کا فیصد بھی تقریباً وہی ہے۔

 گجرات کو ذرائع ابلاغ ایک مثالی صوبے  کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ وہاں  مودی جی کی حکومت کے دوران دلتوں کے خلاف جرائم میں  163 فیصد اضافہ ہوا۔  یوگی جی اگر اترپردیش کو بھی گجرات بنائیں گے تو دلتوں کا کیا حشر ہوگا یہ  پتہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ پولس تھانے میں درج ہونے والی  شکایات کی حالت راجستھان کی مثال سے دیکھیں توعصمت دری کے  صرف 20 فیصد ملزمین کو  مجرم ٹھہرایا جاتا ہے اور ۴فیصد کوسزا ملتی ۔ قومی سطح پر دلتوں کے خلاف مظالم میں 28  فیصد لوگ سزا پاتے ہیں مگر راجستھان میں 93  فیصد چھوٹ جاتے ہیں ۔  اس سنگین صورتحال میں  رام ولاس پاسوان  ،گہلوت اور اٹھاولے جیسے لوگ وزیربن کراپنے دشمنوں  کے ایجنٹ بن  جاتے ہیں اور اپنے ہی سماج کے استحصال میں ہاتھ بٹاتے  ہیں ۔ ایسے لوگوں کے لئے مشورہ ہے

اودےپرچم کے کہیں رنگ بھُلا مت دینا

 زرد شعلوں سے جو كھيلو گے تو جل جاؤ گے

سنگھ پریوار کے دانشوروں کے دل میں  ملک کے مختلف طبقات کے خلاف کس قدر تضحیک و منافرت  کے جذبات پائے جاتے ہیں اس کا اندازہ  آرایس ایس کے ہندی ترجمان پانجنیہ کے مدیر اور سابق رکن پارلیمان ترون وجئے کے بیان سے لگایا جاسکتا ہے۔ یہ وہی ترون وجئےجس پر گزشتہ سال اترکھنڈ کے ایک مندر میں دلتوں کے ساتھ داخل ہونے کا ناٹک کرنے کے سبب دو ہزار لوگوں نے لاٹھیوں سے حملہ کردیا تھا ۔ زخمی حالت میں ترون وجئے کو دواخانہ منتقل کرنا پڑا  تھا مگر نوئیڈا میں نائیجیریائی طلباء پر حملے کی بابت جب ملک میں نسل پرستی کے حوالے سے الجزیرہ نے سوال کیا تو اپنی صفائی میں اس نے کہہ دیا ہم کیونکر نسل پرست ہوسکتے ہیں جبکہ ہم جنوبی ہندوستان کے کالوں کے ساتھ رہتے ہیں ۔اس طرح  معاملہ ذات پات کے حدود سے نکل  کر رنگ و نسل یعنی آریہ اور دراوڈ کی تفریق  تک پہنچ گیا  اوراس کے قلب و ذہن میں بھرا ہوا  زہر اچانک باہر آگیا۔

ترون وجئے کے اس بیان پریہ سوالات  یہ پیدا ہوتے ہیں  کہ اس میں ہم کون ہے اور وہ کون ہے ؟  کالا کون ہے اور گورا کون ہے؟ یہی وجہ ہے ایوان پارلیمان میں کانگریس کے رہنما ملک ارجن کھرگے نے ترون وجئے کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کھرگے کی دلیل ہے وجئے چونکہ ملک کو تقسیم کرنے کی بات کررہا ہے اس لیے اس پرقوم دشمنی کی دفع  کا اطلاق ہوتا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما نے یاد دلایا کہ 1949 کے اندر ڈاکٹر امبیڈکر نے کہا تھا اگر اس طرح کی باتیں ہوتی رہیں تو ایک دن ہم اپنی آزادی گنوا بیٹھیں گے اور پھر سے غلام بن جائیں گے ۔ موجودہ حکومت اسی جانب پیش قدمی کررہی ہے۔ انہوں نے اس وقت تک  ایوان کے اندر اور باہر احتجاج کرنے کی دھمکی دی جب تک کہ سرکار یہ واضح نہیں کرتی کہ وہ کیا اقدام کرنے جارہی ہے۔ کھرگے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اس معاملے میں صرف معافی تلافی سے کام نہیں چلے گا۔   اب دیکھنا ہے کہ  وہ  اونٹ  جو پہاڑ کے نیچے آچکا  ہے اب کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔

ڈاکٹر بابا صاحب  امبیڈکرنے دلتوں کو غلامی سے نجات دلانے کے لیے 14 اکتوبر 1956  کو اپنے ہمنواوں کے ساتھ ناگپور میں   بدھ مذہب قبول کیا ۔ اسلام یا عیسائیت پر بدھ مت کو ترجیح دینے کی گاندھی جی کو یہ وجہ بتائی گئی کہ  ”ہمارا اختلاف اپنی جگہ مگر جو بھی قدم اٹھانا ہوگا، اس بات کی پوری کوشش کی جائے گی کہ ملک کو کم سے کم نقصان پہنچے، اسی لیے وہ بدھ مذہب اختیار کرکے اس ملک کے مفاد کی حفاظت کررہے ہیں ۔“  حقیقت تو یہ ہے کہ ملکی مفاد کے چکر میں انہوں نے اپنی قوم کا نقصان کردیا۔ بدھ مت کے اندر یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ ہندو احیاء پرستی کا مقابلہ کرسکے. یہی وجہ ہے کہ سمراٹ اشوک کے بعد اس کے ماننے والوں کو بزور قوت ملک بدر کر دیا گیا اور وہ  سری لنکا، برما، جاپان اور چین کی طرف نکل جانے پر مجبور کردیئے گئے۔ جو لوگ  عدم تشدد کو اس کا  جواز بناتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دوسری جنگ عظیم میں جاپان ایک اہم ملک تھا اور اس کی فوجوں نے مشرق بعید کے ممالک نے شرمناک مظالم کیے جس پر جاپانی خود نادم ہیں ۔ اسی کے ساتھ میامنار میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کرکے یہ بھی ظاہر کردیا کہ جب اس کے ماننے والوں کو موقع ملتا ہے تو وہ بھی  کمزوروں پر جبر و ستم  کرنے  سے باز نہیں آتے۔

آزادی کے بعد بھی یہ تبدیلی مذہب کا یہ  سلسلہ جاری رہا ۔ مذکورہ تقریب کے 50  سال بعد شہر ممبئی میں ذات پات کےنظام سے تنگ آکرہزارو‎ں پسماندہ ہندوؤں نے بدھ مذہب قبول کیا  ۔اس کی وجہ  راہل بودھی  نے دلتوں اورقبائلیوں کےساتھ ذات پات کی بنیادپرتفریق کو ختم کرکے سماجی مساوات اورعزت کا حصول بتایا ۔ اس موقع پر دلتوں کےرہنماادتراجنےاعلان کیا کہ ڈاکٹر بھیم راؤامبیڈکرنے بدھ مذہب اپنا کریہ ثابت کردیا تھا کہ ملک میں دلتوں اورقبائلیوں سےذات کی بنیاد پرامتیازی سلوک کیاجاتاہےاوراسکاحل بدھ مذہب ہے۔ آج بھی ملک میں دلتوں کوکمزورسمجھاجاتاہے۔ بدھ مذہب اپناکردلتوں کواعلیٰ ذات کےلوگوں کی غلامی سےچھٹکاراملےگا, لیکن افسوس کہ  اپنے سماج کو غلامی سے نجات دلانے کا اعلان کرنے  والے اُدت راج نے خود یرقانی غلامی کا طوق اپنے گلے میں سجا لیا ہےاور ایسے بدلے کہ کرکٹ میں  ریزرویشن کا احمقانہ مطالبہ کرنے لگے  بقول شاعر؎

اب توچہروں کےخدوخال بھی پہلےسے نہیں

 کس کومعلوم تھا تم اتنےبدل جاؤگے؟

ہرسال 14 اپریل کو ملک بھر میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر  کی جینتی دھوم دھام سے منائی جاتی ہے ۔اس موقع پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے  وزیر اعظم نریندر مودی نے دوسال قبل کہا تھا کہ بابا صاحب یگ پروش تھے، جو کروڈوں ہندوستانیوں کے قلب و ذہن میں بستے ہیں ۔ دستور سازی میں ان کی خدمات کون بھول سکتا ہے؟ انہوں نے قوم کی انتھک اوربے لوث خدمت کی۔  اس کے آگے مودی جی  نے قوم  کو اس ہندوستان کی تعمیر میں وقف کرنے کا عہد کرنے کی تلقین کی  جس کا خواب بابا صاحب نے دیکھا تھا۔ ایک ایسا ہندوستان جس پر وہ فخر کریں۔  اس اعلان کو دو سال کا وقفہ گزر چکا ہے، لیکن اس بیچ ڈاکٹر امبیڈ کر کے خوابوں  کا ہندوستان نہ جانے کہاں کھوگیا ؟ حکومت کی جانب سے اس خواب کی تعبیر  بھیم نامی ایک ایپ کی صورت میں نوٹ بندی کے بعد قوم کے سامنے آئی۔ وہ ایپ بھی بھارت انٹرفیس فور منی کا مخفف تھا جس کو ڈاکٹربھیم راو امبیڈکر کا نام دے کر دلت سماج کو  بہلایا گیا  تھا۔ ان تین سالوں میں اگر بی جے پی واقعی دلتوں کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی ٹھوس کام کرتی تو مرکزی وزیر تھاور چند گہلوت کو ناگدہ میں اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کی ضرورت نہیں پیش آتی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close