آج کا کالم

اکثریت پسندی اور اس کے خطرے

جہاں جدید معاشروں میں مستقل جمہوریت کو فروغ مل رہا ہے اسی کے متوازی ان معاشروں میں ایک ایسا طبقہ بھی ہمیشہ فعال رہتا ہے جو نسل، مذہب اور ذات پات پر مبنی اکثریت کی بالادستی کو قائم رکھ جانے کافرسودہ تصوررکھتا ہے۔ اکثریت کے بل پر حکومت اور تہذیب پر اپنی بالادستی قائم رکھنے اور اسے فطری ثابت کرنے کی کوششوں کا دوسرا نام ہی اکثریت پسندی (majoritarianism) ہے۔

اکثریت پسندی کی ذہنیت تمام اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری ٹھہراتی ہے اور ان سے یہ غیر انسانی توقعات وابستہ رکھتی ہے کہ وہ اکثریت کے طرزِ حیات کے مطابق خود کو ڈھالیں۔ ظاہر ہے اس غیر معقول توقع کا نتیجہ بسا اوقات تشدد اور عدم رواداری کی شکل میں ظاہرہوتا ہے۔

ہندوستان جیسے ملک میں محدود قدرتی وسائل پر آبادی کے مسلسل بڑھتے ہوئے دباؤسے نہ صرف روزگار کے مواقع سکڑ رہے ہیں بلکہ روزمرہ  زندگی کی جدوجہد بھی دشوارتر ہوتی جارہی ہے۔ نظام کی بدعنوانی نے گزران کے اس بحران کو مزید گہرا کردیا ہے۔ ایسے ہی رنجیدہ اوراشتعال پذیر معاشروں میں اکثریت پسندی کی سیاست اپنی جگہ بنالیتی ہے۔ ان حالات میں، مسائل کے فوری حل کے طور پر معاشرے کے اقلیتی لیکن اچھی خاصی آبادی والے طبقے کو ہدف پر رکھا جاتا ہے۔ معاشرے کا اکثریتی طبقہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ وسائل سے اگر کچھ دباؤ کم کیا جاسکے تو شاید ان کی زندگی سہل ہو جائے۔ ہندوستان کا جو تاریخی پس منظر ہے اور قومیت پرستوں کے ذریعے اس کی جو تشریح کی جاتی ہےاس سے اکثریت کے ایک بڑے طبقے کی نفسیات میں غیر ضروری طور پر ستائے جانے کا احساس گھر کر گیا ہے۔ حکومت کے ذریعے اقلیتوں کو قابو میں رکھنے کی کوئی بھی علامتی کوشش یا زیادتی ان کی انا کو تسکین پہنچاتی ہے۔ اس نفسیات میں اقلیتوں کے مفاد اور انسانیت کے حق میں اٹھنے والی ہر آواز انہیں معاندانہ لگتی ہے۔ پچھلے کچھ ماہ میں ہندوستان میں اکثریت پسندی کے غیر متوقع فروغ کو اسی معاشی اور نفسیاتی سیاق میں دیکھا جانا چاہیے۔

وکی پیڈیا کے مطابق اکثریت پسندی وہ عقیدہ ہے جس کی رو سے آبادی کے اکثریتی طبقے کو معاشرے میں افضلیت اور برتری حاصل  ہوتی ہے اور اسے معاشرے پر اثرانداز ہونے والا ہر فیصلہ لینے کا حق حاصل ہوتاہے۔

Majoritarianism is a belief that the majority of the population is entitled to primacy in society, and has the right to make any decision that affects the society.
—Wikipedia

اکثریت پسندی کی یہی رجعت پسندانہ لہر بسا اوقات پارلیمانی انتخابات کی جیت اور شکست کو بھی بسہولت اپنے حق میں یا برخلاف کرنے میں جٹ جاتی ہے۔ ہندوستان جیسے پیچیدہ ملک کے پارلیمانی انتخابات میں ہار یا جیت کے بے شمار اسباب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے جمہوریت کی کثرت رائے سے اکثریت پسندی کی توجیہہ کرنے کی کوشش کو زیادہ سے زیادہ ایک فریب قرار دیا جاسکتا ہے۔ نظریاتی طور پر، جمہوری نظام کی بنیاد ہی اختلاف رائے کے احترام اور مباحثہ پر مبنی ردوقبول پر ہے۔ اکثریت کی کٹر تجاوز پسندی اور اقلیت کوخائف رکھناتاناشاہی کی خصوصیات ہیں۔ عوامی مسائل کے معنی خیز اور دوررس حل کے لیے سر کھپانے کی بجائے عوام کو اسی عددی وہم میں مبتلا رکھنااور اکثریت کی ترجیحات کو ایک حصول یابی کی طرح پیش کرنا ہمیشہ سیاسی قیادت کے لیے زیادہ آسان رہا ہے۔ ہندوستان ہی میں نہیں، دنیا کے دیگر حصوں میں بھی تاریخ مماثل حالات میں غلبۂ اکثریت کے احیا کے عظیم سانحہ کی گواہ ہے۔

یہاں غور طلب نکتہ یہ ہے کہ جس اکثریت پسندی کو اکثریت کے مفادمیں پیش کیا جاتا ہے، کیا وہ واقعی ایسی ہی ہے؟ کسی مخصوص طبقے کو ترجیح دینے والا کوئی بھی نظام، خواہ وہ اکثریتی طبقہ ہی کیوں نہ ہو، اپنی بنیادی نوعیت میں امتیاز ی سلوک روا رکھنے والا (discriminatory) ہوتا ہے  اور اس لیے آئین اور عدل عامّہ کے اس دور میں چوری چھپے اور غیر شفاف انداز میں آپریٹ کرنا اس کی مجبوری ہوتی ہے۔ غیر شفاف نظام میں نظام کی عوام کے تئیں جواب دہی تو ڈھیلی پڑتی ہی ہے، اس میں صلاحیتوں اور لیاقتوں سے بھی عام نظر اندازی برتی جاتی ہے۔ اکثریت پسندی کا علم اٹھاکر عوام کے اعتماد اور ووٹ بٹورنےوالا یہ نظام انجام کار چنیدہ، بارسوخ، طاقت ور اور  جاگیردار افراد کے ہاتھوں  کا کھلونا بن کر رہ جاتا ہے اور اکثریتی آبادی کو منظم انداز میں فریب دیا جاتا ہے۔ انسانی تہذیب کی ترقی و نشوونما کا ضروری قدم ‘قوت’ سے وابستہ جواب دہی اور اس کے معقول استعمال کی اہمیت کو سمجھنا ہے۔ وہیں اکثریت پسندی ‘قوت’ کے بے لگام تسلط اور اس کی بالا دستی کو قائم کرنا ہے۔ مگر ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اقتدار پر قابض رجحانات انجام کار معاشرے کی شریانوں میں اترتے ہیں۔ اقلیتی معاشرے کے خلاف استعمال کی گئی اکثریتی قوت بلا استثنا اکثریتی معاشروں کے تمام اندرونی ڈھانچوں کو بالآخر قوت پر مبنی بنا ڈالتی ہے۔ اس صورت حال میں معاشرے کے سبھی کم زور طبقات مثلاً اقلیتیں، دلت، پس ماندہ، غریب، ناخواندہ،  محنت کش، اور خواتین کو بتدریج وسائل سے محروم کیا جاتا ہے، مخالفین کو غدار اور ملک مخالف قرار دیا جاتا ہے، آزادیٔ اظہار کے منہ میں کپڑے ٹھونسے جانے لگتے ہیں اور اس عام حق تلفی کی پردہ پوشی کے لیے ایک مستقل انتشار کا ماحول گرم رکھا جاتا ہے۔

اس حقیقت کو سمجھا جانا چاہیے کہ اکثریت آبادی کے محروم طبقے کے مفادات سیدھے طور پر اقلیتوں کے مفاد سے وابستہ ہیں۔ حکومت اور اقتدار پر قابض متوسط طبقے کے لیے دونوں برابر اچھوت ہیں اور پالیسی کی تشکیل میں اپنے رسوخ کا استعمال وہ حتی الامکان انہیں کو حاشیے پر رکھنے کے لیے کرتا ہے۔ دراصل یہ متوسط طبقے کی عیاری ہی ہے جو حکومتوں کو کبھی معاشی لبرلزم تو کبھی اکثریت پسندی کے چولے میں تخت پر براجمان کراتی ہے۔ جدید سیاق میں طبقاتی کشمکش کے اس  زیرک لیکن انتہائی فعال نظریے کی محتاط پہچان کے بغیراکثریت پسندی جیسے تفریق ڈالنے والےرجحان سے نبرد آزما نہیں ہوا جاسکتا۔ سیاست سے قطع نظر، نجی معاشرتی زندگی اور  کام کرنے کی جگہوں کی کم سے کم جہات پر بھی ہم اکثریت پر مبنی جابرانہ قوتوں کو شناخت کر سکتے ہیں کہ اکثریت پسندی کتنی پست فکر ہے۔ زندگی میں ہم کبھی نہ کبھی شہ زور طاقتوں کے آگے خود کو کم زور اور غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ کسی گروہ کی کوتاہ اندیشی اور جارحیت کا ہدف بننے سے پیدا خوف زدگی کا استعمال اکثریتی انتشار  کے ماحول میں اقلیتوں کے درد کو محسوس کرنے کے لیے کیا جانا چاہیے۔

کسی مخصوص گروہ کو چندواقعات کی بنیاد پر دہشت گردی اور جارحیت سے جوڑ کر دیکھنا ایسا ہی  بے تکاتعصب ہے جیسے کسی مخصوص علاقے یا ریاست کے لوگوں کو حقیر تصورکرنا۔ زیادہ تر سیاسی قیادت اور اہم دھارے کے ذرائع ابلاغ اس قسم کی اسٹیریوٹائپ فکر کو اس لیے فروغ دیتے ہیں تاکہ انہیں اپنی ترقی وبلندی کے لیے زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ مگر ان کے دام میں آنے کا مطلب ہے بے جانے بوجھے ظلم کے نظام میں شریک ہونا۔ گروہوں کے بارے میں رائے قائم کرنے میں ہم ابھی کتنے ناپختہ اور بے مُروت ہیں یہ ایک سادہ سے تقابل سے واضح ہوجاتا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں ہونے والے کھیل مقابلوں میں کسی بھی شخص کو کسی بھی ملک کا جھنڈا لہرانے یا اپنے ملک کے علاوہ کسی بھی ملک کی حمایت کرنےکے لیے اپنی حب الوطنی کی سند نہیں دینی پڑتی۔ لیکن ہمارے یہاں کھیل میں کسی دوسرے ملک کی حمایت کرناغداری کی پختہ شہادت سمجھ لی جاتی ہے۔ اس رواداری اور ادراک کی توقع نہ تو ہم سے ہوتی ہے اور اور نہ ہماری قیادت سے کہ ہم اسے محض کھیل سے لگاؤکی صورت میں دیکھیں۔

آج سیاست کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اکثریت پسندی کا یہ عدیم النظیر فروغ سنجیدہ غوروفکرکا متقاضی ہے۔ ارباب دانش کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں اِس سوچ کے عَلَم بردار بنیں کہ طاقت ور کے ذریعے کم زور کو ڈرا دھمکا کر رکھنے کی یہ اکثریت پسندی کی ذہنیت جنگلی معاشروں کا وصف ہے۔ ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی اصل شناخت اس میں رہنے والی اقلیتوں کی حالت سے کی جا سکتی ہے۔ کم زور کو ملنے والی انسانی تکریم اور اہم دھارے میں اس کامقام مہذب معاشرے کا آئینہ دارہوتا ہے۔

(ہندی سے ترجمہ: مضامین ڈیسک)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سوربھ شیکھر

سوربھ شیکھر نوجوان شاعر اور دانش ور ہیں۔ آپ ہندی اور اردو میں شاعری کرتے ہیں۔ راجیہ سبھا میں بحیثیت ترجمان اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں۔

متعلقہ

Close