آج کا کالم

بے گناہ

( 23 سال جیل کی تاریک کوٹھری میں ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹنے کے بعد نثار الدین کو سپریم کورٹ نے تمام الزامات سے باعزت بری کردیا۔ اس سے قبل اسی طرح ابرار احمد اور جلیس انصاری کو بھی 23 سال کے بعد بے قصور ثابت ہونے پر رہائی ملی تھی۔ ان رہاییوں پر ایک تاثراتی تحریر۔ میں ایسی تحریریں لکھنے کا عادی نہیں، لیکن اسے جذبات سے مغلوب ہو کر لکھا گیا ہے۔)

رہائی پاکر میں جیل سے باہر آیا تو بڑے بھائی میرا انتظار کر رہے تھے۔ انھوں نے بڑے پیار سے مجھے گلے لگایا اور گاڑی میں بٹھایا۔ گاڑی روانہ ہوئی اور میں ماضی کی یادوں میں کھو گیا۔
گاؤں میں تعلیم کا بالکل ماحول نہ تھا۔ بچے کم عمری ہی میں کمانے کے لئے گھر سے نکل جاتے تھے۔ ابا کو تعلیم دلانے کا بہت شوق تھا ۔ انھوں نے ہم دونوں بھائیوں کا داخلہ قریب کے قصبہ میں قائم اسکول میں کرادیا تھا ۔وہاں سے میں نے آٹھواں پاس کیا تو ابا نے میرا داخلہ شہر کے ایک اچھے اسکول میں کرادیا۔ انٹر کے بعد، بھائی کو انھوں نے اپنے ساتھ کام میں لگا لیا،لیکن میری تعلیم جاری رہی۔
میں نے بی اے کر لیا تو اماں کو میری شادی کی فکر ہوئی۔ میں مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ابا بھی اسی کے حق میں تھے۔لیکن اماں کا اصرار غالب آیا اور رقیہ میری زندگی میں بہار بن کر آگئی۔ گھر کے سب لوگ اس سے بہت خوش تھے۔ ایک سال بعد اللہ نے ایک چاند سا بیٹا عطا کیا۔
میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے دہلی آگیا اور ایک مسلم محلے میں کرایہ پر ایک کمرہ لے کر رہنے لگا ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بابری مسجد کے انہدام کو ایک سال ہو گئے تھے۔ایک رات اچانک دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔دروازہ کھولا تو پولیس والے بندوق تانے کھڑے تھے۔انھوں نے مجھے اس طرح اچک لیا جیسے چیل جھپٹا مار کر مرغی کے چوزے کو اچک لیتی ہے۔
مجھے بابری مسجد کے انہدام کی پہلی برسی کے موقع پر بم دھماکوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ میں نے لاکھ انکار کیا، لیکن میری کچھ نہیں سنی گئی۔ کچھ تھیلوں پر میرے فنگر پرنٹس لیے گئے اور چارج شیٹ میں دکھا دیا گیا کہ مجھے بھاری مقدار میں آر ڈی ایکس کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے۔مجھے شدید جسمانی اذیتیں دی گئیں اور جب تک میں نے اقبالیہ بیان پر دستخط نہیں کر دیے، مجھے ان سے چھٹکارا نہیں ملا ۔
ابا کو پتہ چلا تو انھوں نے مقدمہ لڑنے کا ارادہ کیا۔ اوسط آمدنی کے ساتھ وہ وکیلوں کی بھاری فیس کیسے ادا کرتے؟ انھوں نے 5 بھیگے زمین فروخت کردی۔ مجھ پر ٹاڈا کیس لگایا گیا تھا، جس میں اقبالیہ بیان کو ثبوت سمجھا گیا ہے۔ عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی ۔ اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ ہائی کورٹ نے سزا بحال رکھی تو اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔
ابا کے ہاتھ اب خالی ہوگئے تھے۔ رشتے داروں نے بھی کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ 12 سال بیت گئے تھے۔ ایک دن خبر ملی کہ ابا غم کی تاب نہ لا کر چل بسے۔ اس دن میں خوب رویا تھا۔ رہائی کی رہی سہی امید معدوم ہو گئی تھی۔ مجھ کو یقین ہوگیا تھا کہ میں اب کبھی باہر کی کھلی ہوا میں سانس نہ لے سکوں گا۔پھر تو میں نے آنکھیں موند لیں اور پتہ ہی نہ چلا کہ مزید 11 سال کیسے بیت گئے؟ مجھے کچھ پتہ نہیں کہ پھر کیا ہوا؟ حالات نے کیسے پلٹا کھایا؟ کس نے میرے مقدمے کی پیروی کی؟ اور میرے اقبالیہ بیان کے باوجود کیسے عدالت پر میری بے گناہی واضح ہوگئی؟ ایک دن اچانک مجھے جیل کے ساتھیوں نے بتایا کہ کل مجھے رہا کردیا جائے گا ۔
گاڑی جھٹکے سے رکی تو میرے خیالات کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ 5گھنٹے کیسے بیت گئے، مجھے پتہ ہی نہ چلا۔ بھائی نے کہا :اترو، گھر آگیا۔ مجھے لگا، یہ نہ میرا گاؤں ہے، نہ میرا گھر۔میرے سامنے اجنبی چہرے تھے۔میں تو ان میں سے کسی کو نہیں پہچانتا تھا۔مجھے ایک چھوٹے سے کھپریل کے گھر میں لے جایا گیا۔میرا گھر تو بہت کشادہ تھا۔ اس سے ملا ہوا ایک باغ تھا۔ اس کے سامنے ایک وسیع میدان تھا۔ بھائی نے بتایا کہ ابا بہت مقروض ہوگئے تھے، بہن کی شادی بھی کرنی تھی، اس لیے انھوں نے باغ اور میدان بیچ دیا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد مزید تنگی آئی تو آدھا گھر بھی بیچنا پڑا تھا۔
میں گھر میں داخل ہوا تو دیکھا، پورا گھر بھرا ہوا ہے۔ سب کے چہرے خوشی و مسرت سے کھلے ہوئے ہیں، لیکن میرا چہرہ کسی قسم کے تاثر سے خالی تھا۔ ایک بوڑھی خاتون آکر مجھ سے لپٹ گئیں۔ بھائی نے بتایا: یہ اماں ہیں۔مجھے یقین نہ آیا۔ 23 سال میں تو میں ان کی صورت بھول چکا تھا۔
مجھے ایک کرسی پر بٹھا دیا گیا۔ بھائی سب لوگوں کا تعارف کرانے لگے :
یہ لبنی ہے، چھوٹی بہن، اس کی شادی ابو نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں کردی تھی، یہ برابر میں اس کی بیٹی کھڑی ہے، جو 12 سال کی ہوگئی ہے۔
یہ بھتیجی صالحہ ہے، تمھارے جیل جانے کے وقت ایک سال کی تھی، دو سال قبل اس کی شادی ہوگئی ہے۔
یہ پھوپھی زاد بہن طیبہ ہے۔ تم سے دو سال چھوٹی تھی، پچھلے سال یہ دادی بن چکی ہے۔
یہ تمھارا بیٹا ہے، عبدل، اس کی تعلیم بالکل نہیں ہو سکی، اس لیے کہ ہم سب مصارف برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔
پیچھے سے اماں ایک عورت کا ہاتھ پکڑے ہوئے لائیں اور میرے آگے کردیا۔ یہ تمھاری بیوی رقیہ ہے۔
جی میں آیا کہ میں زور زور سے چیخ کر بتاؤں کہ نہیں، یہ رقیہ نہیں ہو سکتی، میں رقیہ کو اچھی طرح پہچانتا ہوں، اس کا چاند سا چہرہ اب بھی میری نگاہوں میں گھوم رہا ہے۔ اس نے 23 سال قبل میرے دہلی کے لیے رخصت ہوتے وقت آنکھوں میں آنسو بھر کر پوچھا تھا : کب تک آئیں گے؟ اور میں نے جواب دیا تھا :3مہینےکی تو بات ہے، عید میں تمھارے ہی ساتھ کروں گا۔
میں نے کچھ بولنا چاہا، لیکن میری زبان گنگ ہوگئی۔ سب خوشی کا اظہار کر رہے تھے، لیکن میرے اوپر سکتہ طاری تھا، کسی قسم کے تاثر سے عاری۔ پورا گھر بھرا ہوا تھا، لیکن میں ارد گرد سے بے خبر تھا۔ لوگ مجھ سے کچھ پوچھ رہے تھے، لیکن مجھے ان کی آوازیں بہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں اور کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں؟
میرا وجود ایک زندہ لاش بن چکا تھا اور بھلا لاش کہیں بولتی ہے، کہیں بات چیت کرتی ہے، کہیں سوالات کے جواب دیتی ہے۔
میں خود کو مجرم سمجھنے لگا۔اپنے ابا کا، جنھیں میں آرام کیا پہنچاتا، وہ مجھے رہائی دلانے کی فکر میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اپنی اماں کا، جو میرے غم میں ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئی تھیں ۔ اپنے بچے کا، جو اپنے باپ کے زندہ رہتے ہوئے بھی یتیم رہا۔میں نے سوچا تھا کہ جس طرح میرے ابا نے مجھے تعلیم دلائی ہے، اسی طرح میں بھی اسے اعلی تعلیم دلاوں گا،لیکن وہ جاہل رہ گیا ۔اپنی بیوی کا، جس نے سہاگن رہتے ہوئے بیوہ بن کر زندگی گزاری۔
میں نے سوچا :کاش میری بے گناہی ثابت نہ ہوئی ہوتی۔ میں نے جیل کی چہاردیواری کے اندر ہی پوری عمر گزار دی ہوتی اور وہیں میری موت آجاتی۔ نہ میں اپنے ان عزیزوں کو دیکھتا، نہ یہ مجھے دیکھ پاتے۔یوں بھی میں ان کے لیے مر چکا تھا۔ اب ان کے درمیان زندہ لاش بن کر جینے کا کیا فائدہ۔
عدالت نے مجھے بےگناہ قرار دے کر جیل سے رہائی دلائی ہے ، لیکن میں اقبالیہ مجرم ہوں، میں گناہ گار ہوں اپنے ان عزیزوں کا ۔کاش کوئی اس کی سزا میں مجھے پھر جیل کے اندر کروادے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close