آج کا کالم

70 ویں یوم آزادی: تمہاری شہرتوں کی دھوم بے نام و نشاں ہوگی  

ڈاکٹر سلیم خان

یوم آزادی سے قبل وزیراعظم نے اپنے خطاب سے متعلق  عوام سے مشورے طلب کئے۔ سنا ہے اس کے جواب میں ہزاروں لوگوں نے اپنی اپنی رائے پیش کی۔ ان میں سے ایک مشورہ ذرائع ابلاغ میں سب سے زیادہ مقبول عام ہوا۔ ارون تریویدی  نام کے ایک شخص نے یہ تجویز بھیجی کہ  آپ اپنی تقریر 30 منٹ میں سمیٹ دیں۔ یہ مشورہ عوامی بیزاری کی علامت اور تیزی سے بدلتے  رحجان کا ترجمان ہے۔ اس کے اندر یہ درد پوشیدہ ہے کہ مودی جی ہم آپ کی طول طویل تقاریر سے اوب چکے ہیں۔ اب  بولئے کم اور کچھ کرکے دکھائیے۔ جہاں تک اس حکومت کی کارکردگی کا سوال ہے وہ بھی ریواولمپک میں جانے  والے ہندوستانی جتھے کی طرح ہے۔ جس کے ساتھ بڑے بڑے نام ہیں۔ جس کی تشہیر پر بے شمار دولت خرچ ہوئی ہے لیکن نتیجہ ایک کانسے کا تمغہ اور چاندی کے تمغہ کا یقین یا طلائی تمغہ کی امید  ہے بس۔

لال قلعہ جاتے ہوئے مودی جی نے آخری سوال یہی کیا ہوگا کہ اولمپک میں کچھ ملا کیا؟ اگر مل گیا ہوتا تو وہ حساب لگا کر بتاتے کہ کتنے سالوں میں پہلی بار فلاں کھیل میں میری قیادت کے اندریہ تمغہ حاصل ہوا ہے۔ اس بابت  جب مایوسی ہوئی تو انہوں نےسوچا کیوں نہ میں خود ہی  کوئی ریکارڈ قائم کردوں۔ اب وہ بیچارے طول طویل تقریر  کے علاوہ کر بھی سکتےہیں کہ ان   کا سینہ صرف 56 انچ کا ضرور ہے مگر زبان 56 میل کی ہے۔ مودی جی  نے یہ معلوم کیا  کہ  آج تک لال قلعہ سے کی جانے والی سب سے لمبی تقریر کس کی ہے؟ انہیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ یہ ریکارڈ  تو خود انہیں کےنام ہے۔ گذشتہ سال پنڈت نہرو کا ریکارڈ انہوں نے  ہی توڑاتھا۔ اوراس سے پریشان ہوکر تریویدی جی کو30 منٹ کا مشورہ دینا پڑا۔ لیکن مودی جی کسی  کی کب سنتے ہیں ؟ انہوں نے اپنے سابقہ  ریکارڈ میں 8  منٹ کا اضافہ کرکے 94 منٹ تک خطاب کیا۔ امید ہے آئندہ سال  15 اگست تک اگر وہ وزیراعظم رہے تو کسی طرح  مرتے پڑتے اپنی سنچری مکمل کرلیں گے۔ مودی جی  کی موہ مایا پر مصحف اقبال توصیفی کا یہ شعر صادق آتا ہے کہ ؎

انہیں دنیا کا ایسا موہ سوچو تو ہنسی آئے                 وہ سترّ سال کے ہوں گے مگر بچے لگے ہم کو

مودی جی نے اپنے بھاشن میں جنگ آزادی کو یاد کرتے ہوئے تین رہنماوں کے نام لئےاتفاق سے وہ تینوں گاندھی جی، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور پنڈت نہرو کانگریسی تھے۔ یہ سنگھ پریوار کی بدقسمتی ہے اس کے کسی رہنما نے ملک کی آزادی میں کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دیا۔ اس صورتحال  کا دفاع کرتے ہوئے مودی جی نے فرمایا کہ ہوسکتا ہے ہر کسی کو قربانی دینے کی یا جیل جانے کی سعادت نہیں ملی ہو لیکن ہر ہندوستانی کا ایک خواب تھا جس کے سبب  یہ آزادی ملی۔ افسوس کےآزادی کے 70 سال بعد خواب دیکھنے والے مسند حکومت پر براجمان ہیں اور جعلی دیش بھکتی میں مدہوش آزادی کی جنگ میں اپنا خون پسینہ بہانے والوں کو غدارِ وطن ٹھہرا رہے ہیں۔

مودی جی لال قلعہ سے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ 69  سال قبل حاصل شدہ خودمختاری بمعنیٰ  سوراج کو سوُ راج یعنی اچھی حکومت (فلاحی ریاست) میں تبدیل کرنا سو کروڈ عوام کا عزم ہے۔ انہوں نے یاددلایا کہ  فلاحی ریاست کیلئے پنچایت سے پارلیمان تک، گرام پردھان سے پردھان منتری تک سب کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ اس موقع پر مودی جی کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہئے کہ ایوان پارلیمان میں جس ذمہ داری کو ادا کرنے کیلئے انہیں وزیراعظم بنایا گیا ہے کیا وہ اسے ادا کررہے ہیں ؟ یا ہر اہم بحث کے وقت اسی طرح راہِ فرار اختیار کرلیتے ہیں جیسے کہ ایمرجنسی کے دوران اپنے آپ کو گرفتاری سے بچانے کیلئے کیا تھا۔ سنگھ پریوار کے رہنماوں نے آزادی کی جنگ میں کنی کاٹ کر اپنی ذات کو انگریزوں مظالم سے  محفوظ کرلیا لیکن اندرا جی کے عتاب خود کو نہیں بچاسکے اور انہیں جیل جانا پڑا۔ مودی جی نےوہ موقع بھی گنوا دیا  اور بھیس بدل کر سادھو بن گئے۔ ان کے شاگرد خاص امیت شاہ کو جیل جانے کی سعادت تو حاصل ہوئی لیکن وہ بھی قتل کے الزام میں جس سے اقتدار کے بل بوتے جان چھڑائی گئی۔

مودی جی کو چونکہ 90 منٹ تک حکومت کی کارکردگی بیان کرنی تھی اس لئے انہیں بہت زیادہ دروغ گوئی کا سہارا لینا پڑا۔ ان کی نگاہ چونکہ اتر پردیش کے آئندہ انتخاب پر ہے اس لئے انہوں نے دہلی سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ناگلا فتیلا نامی گاوں کا ذکر کیا کہ وہاں جانے میں ویسے تو صرف 3 گھنٹے لگتے ہیں لیکن بجلی کووہاں پہونچنے میں 70 سال لگے۔ ہندوستان کے اندر کس سڑک پر 300 کلومیٹر کا سفر 3 گھنٹے کے اندرطے ہوتا ہے یہ تو صرف مودی جی جانتے ہیں جو ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر سے نیچے قدم نہیں رکھتے اور اگر سڑک پر چلنا ہو تو ٹرافک ہٹا دیا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ  دین دیا ل گرام جیوتی یوجنا کے تحت گاوں میں بجلی کے کھمبے اور تار  لگ گئے ہیں یعنی ٹھیکیداروں نے اپنے وارے نیارے کرلئے ہیں لیکن عوام کو بجلی نہیں ملی۔ یہی مودی سرکار کی خصوصیت  یہ ہے کہ اس میں دکھاوے کے کام خوب ہوتے ہیں۔ سرمایہ داروں کی تجوریاں بھی بھرتی ہیں لیکن عوام کے ہاتھ انتخاب سے قبل جھوٹے وعدوں اورانتخاب کے بعد کھوٹے دعوں کے سوا کچھ نہیں آتا۔ اس کی وجہ ہمارے سیاستدانوں کی بدکرداری کا یہ عالم ہےکہ؎

ہم نے کردار کو کپڑوں کی طرح پہنا ہے                 ہم نے کپڑوں ہی کو کردار سمجھ رکھا ہے

ویسے مودی جی کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ اس گاوں میں 70 سال بعد ان کی قیادت میں بجلی پہنچی ہے۔ حقیقت یہ ہے ٹیوب ویل چلانے کیلئے اس گاوں میں بجلی ؁1985 ہی میں پہنچ چکی ہے۔ ناگلا فتیلا میں جملہ 600 مکانات ہیں جن میں سے 150 گھر جو ٹیوپ ویل کیلئے لگائے جانے والے ٹرانسفر سے حاصل شدہ بجلی سے روشن ہیں۔ اس کے عوض ہردوماہ میں 395 روپئے ادا کئے جاتے ہیں۔ باقی لوگ غربت کے سبب کے اس سہولت سے فیضیاب نہیں ہوپاتے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گاوں میں لگے تاروں اور کھمبوں سے بجلی پہونچے گی تواسے کون خرید ےگا۔ نئے کنکشن سے ملنے والی بجلی اگر لوگوں کو مہنگی پڑے گی تو اس کی جانب کیوں کر آئیں گے؟  اب جھوٹ پرجھوٹ یہ کہ وزیراعظم کے دفتر سے تصاویر اس دعویٰ کے ساتھ  نشر ہوگئیں کہ ناگلا کے لوگ وزیراعظم  کی تقریر سن رہے ہیں۔ ناگلا فتیلا کے سابق پردھان دیویندر سنگھ نے ان کے متعلق  بتایا کہ  ان میں سے غباروں والی تصویر ناگلا سیندھی کی  ہو سکتی ہے اس طرح وزیراعظم کے غبارے کی ہوا خود ان کے دفتر والوں نے نکال دی۔

وزیراعظم نے لال قلعہ سے فرمایا کہ ان کی کوششوں سے 350 روپئے والا ایل ای ڈی بلب 50 روپئے میں بکنے لگا ہے۔ آج تک  چینل کے صحافی جب اس دعویٰ کی تصدیق کیلئے بازار میں پہنچے تو بہت سوں نے اس کے وجود سے انکار کردیا، کچھ دوکانداروں نے بتایا وہ چین کا تھرڈ کلاس بلب ہے جو دوچار دن بعد بجھ جاتا ہے۔ اس تبصرے کو سنتے یہ کنفیوژن ہوررہا تھا کہ وہ بلب کے بارے میں ہے یاموجودہ سرکار پر ہے۔ اس بلب کے معاملے میں ایک نہایت خوبصورت کارٹوں سوشیل میڈیا کے اندر نظروں سے گزرا جس میں ایک عورت جب دوکاندار سے پچاس روپئے والا بلب طلب کرتی ہےتو جواب میں دوکاندار مسکرا کرکہتا ہے بہن جی آپ کس  کی باتوں میں آگئیں۔ ویسے یہ ذومعنیٰ  جملہ بلب اور سرکار دونوں پر صادق آتا تھا۔

یوم آزادی کی تقریر میں تیسرا بڑا جھوٹ  گنا کسانوں سے متعلق تھا۔ کہا گیا ایک زمانے میں اترپردیش کے اخبارات کسانوں کے بھگتان کا رونا روتے تھے لیکن مرکزی  کی حکومت نے 95 فیصد کسانوں کو اپنی فصل کی رقم دلوادی ہے۔ اس دعویٰ کی تفتیش میں پتہ چلا کہ اتر پردیش کے اندراب بھی چینی ملوں پر کسانوں کا 2700 کروڈ کی رقم  بقایا ہے جبکہ پورے ملک میں اس کا تخمینہ 10000ہزار کروڈ ہے۔ اس طرح کسانوں کی بقایا رقم کے بجائے ان کے زخموں پر نمک پاشی ہوگئی۔ اس دروغ گوئی  سے معمارِ لال قلعہ شاہجہاں کی روح  کو کس قدر صدمہ ہوا ہوگا۔ مغلیہ شہنشاہ کواگر  علم ہوتا کہ لال قلعہ  کے چبوترے سے آگے چل جمہوری رہنما  ایسے سفید جھوٹ بولیں گے تو شاید وہ قلعہ تعمیر ہی نہ  کرتے یا اس کو کالے پتھر سےبنواکر نام سفید قلعہ رکھ دیتے۔ کذب بیانی کے بل بوتے پر جھوٹی شہرت حاصل کرنے والوں کا انجام بشیر بدر کے اس شعر میں ملاحظہ فرمائیں ؎

ہماری شہرتوں کی موت بے نام نشاں ہوگی              نہ کوئی تذکرہ ہوگا نہ کوئی داستاں ہوگی

بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے وزیراعظم نےیوم آزادی کی تقریر میں مقبوضہ کشمیر اور بلوچستان کا ذکر کرکے ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا جو ملک کی برسوں سے قائم شدہ خارجی پالیسی سےانحراف  تھا۔ کشمیر کے معاملے میں پاکستان اور ہندوستان کے موقف میں ایک واضح فرق ہے۔ پاکستان اسے بین الاقوامی مسئلہ قرار دیتا ہے اور جب بھی اس کو اقوام متحدہ میں اٹھاتا ہے تو  ہندوستان شملہ معاہدے کی رو ُ سے اس کو باہمی تنازعہ کے زمرے میں دال کر مسترد کردیتا ہے۔ پاکستان جب آپسی بات چیت کی پیشکش کرتا ہے جیسا  کہ اس نے ابھی  کی ہے تو ہندوستان اس کو داخلی معاملہ کہہ کر خارجازبحث  کردیتا ہے۔

 وزیراعظم نےاب  اپنے طے شدہ موقف  پر کلہاڑی چلاتے ہوئے  مقبوضہ کشمیر کے ساتھ بلوچستان کے لوگوں کا شکریہ ادا کردیا اور سنا ہے جلاوطن بلوچستان کے رہنماوں سے بات چیت  بھی زیر غور ہے۔ اگر یہ ہوجائے تو ہمارا پرانا موقف کمزور ہوجائیگا اور پاکستان کو وادیٔ کشمیر میں مداخلت کا جواز مل جائیگا۔ بلوچی رہنماوں سے ملنے کے بعد حریت کانفرنس کے لوگوں کو پاکستان جانے سے روکنے کا یا صلاح الدین کو واپس مانگنے کی بنیاد ہی متزلز ل ہو جائیگی۔ یہ وہی صورتحال ہے جو پوکھرن دھماکوں کے بعد رونماہوئی تھی۔ پہل چونکہ ہماری جانب سے ہوئی تھی اس کی آڑ میں پاکستانی دھماکے اپنے آپ جائز ہو گئے۔ اس ایک بیان سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری میں دوسالہ  پیش رفت پر پانی پھر گیا۔ پاکستان نے نہ صرف کشمیر کے مسئلہ پر اقوام متحدہ کو خط لکھ دیا بلکہ ہندوستان کو بھی باہم گفت و شنید کی تحریری پیشکش کردی۔ اسی کے ساتھ حافظ سعید جیسے سخت گیر لوگوں کے اوپر سے پابندی ختم کردی۔ اب وہ  کھلے عام ہمارے خلاف ذرائع ابلاغ میں زہر افشانی کرنے لگے ہیں۔ مودی جی نے اس ایک بیان سے خود اپنے ہی  کئے کرائے پر پانی پھیر دیا۔

ہندپاک تعلقات فی الحال بے حد کشیدہ ہوگئے ہیں۔ راجناتھ سنگھ کا پاکستانی دورہ  بری طرح ناکام رہا۔ وزارت داخلہ کی سارک کانفرنس میں کسی سکریٹری کو روانہ کرکے کام چلایا جاسکتا تھا لیکن پاکستان کے اندر اس کوڈانٹ پلانے کا جوش مہنگا پڑا۔ پاکستانی انتظامیہ نے انتہائی  محفوظ علاقہ میں صلاح الدین کی موجودگی  میں مظاہرہ کرواکراپنے ارادے واضح کردئیے یہاں تک کہ راجناتھ سنگھ کو درمیان سے عشائیہ منسوخ کرکے واپس آنا پڑا۔ اس کے بعدارون جیٹلی نے عبرت پکڑ تے ہوئے پاکستان جانے سے انکار کردیا ہے۔ وزیردفاع  منوہر پاریکر نے پاکستان جانے کو جہنم میں جانے سے مشابہ قرار دے دیا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چند ماہ قبل  وزیراعظم روس سے واپسی میں بن بلائے اس جہنم میں کیوں چلے گئے تھے؟ اور اگر اس وقت وہ جنت نشان  تھاتو اسے جہنم  میں کس نے تبدیل دیا؟

ہند وستان کی جانب سے بلوچستان کا ذکر پہلی بار شرم الشیخ میں سابق وزرائے اعظم منموہن سنگھ اور یوسف رضا گیلانی کے مشترکہ اعلامیہ میں ہوا تھا۔ اس وقت بی جے پی نے پہلے تو ایوان کے باہر آسمان سر پر اٹھا لیا اور پھر اس کے بعد پارلیمان کے اندر اس کے تمام ہی بڑے رہنماوں نے اس کی جم کرتنقید کی۔ اڈوانی جی  اور سشما سواروج نے اسے ایوان زیریں میں قابل شرم بتایا۔ ارون جیٹلی اور سابق وزیرخارجہ یشونت سنہا نے ایوانِ بالا میں اس کی بھرپور مخالفت کی۔ یشونت سنہا نے تو یہاں تک کہ کہہ دیا کہ اس کلنک کو دھونے کیلئے سات سمندروں کا پانی بھی ناکافی ہے۔ مودی جی تو خیر ان دنوں گجرات کے اندر فرضی انکاونٹر میں مصروف تھے اس لئے انہیں کچھ پتہ ہی  نہیں چلا ہوگا لیکن اب کی بار اگر وہ اپنی تقریر رٹنے سے قبل اسے کسی پڑھے لکھے ساتھی کو دکھا دیتے تو ممکن ہے اصلاح ہو جاتی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مودی جی کو بلوچستان اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی فکر تو ہے لیکن خود اپنے کشمیر میں ہلاک ہونے والے 60 نوجوان، 8000 سے زیادہ زخمیوں اور 40 دنوں سے طویل کرفیو سے پریشانی نہیں ہے۔ اس بے حسی اور ہٹ دھرمی کے سبب حزب اختلاف کو صدر مملکت سے ملاقات کیلئے مجبور ہونا پڑا ہے۔

لال قلعہ سے یہ مودی جی کی یہ تیسرا خطاب  تھا۔ ان کی تینوں تقریروں ایک بات مشترک تھی کہ پہلے والی سرکاریں آکشیپوں (اعتراضات) میں گھری رہتی تھیں اب یہ حکومت اپیکشوں (توقعات ) سے گھری ہوئی ہے۔ یہ جملہ  کانوں کو  بہت بھلا لگتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ مودی سرکار سے لوگ کس قسم کی توقعات وابستہ کررہے ہیں۔ کیا انہیں امید ہے کہ کالا دھن واپس آئیگا؟ خواتین کا احترام اور تحفظ بڑھے گا؟  بیروزگاروں کو روزگار ملے گا؟ دلتوں اور پسماندہ طبقات کی ترقی ہوگی؟اقلیتوں کو انصاف ملے گا؟  مہنگائی میں کمی آئیگی؟کشمیر میں امن وا مان ہوگا؟ سب کا ساتھ اور سب وکاس ہوگا؟ جی نہیں دوسال قبل جن دھن یوجنا کا اعلان ہوا۔ کروڈوں کھاتے کھلوائے گئے جن میں دھن تو نہیں ہےہاں انہیں جاری رکھنے کیلئے قومی معیشت کے کروڈوں روپئے خرچ ہورہے ہیں۔

دوسرے سال  اسٹینڈاینڈ اسٹارٹ اپ  انڈیا(اٹھو اور دوڑو) کا نعرہ لگایا گیانتیجہ یہ ہوا کہ ان کے بھکت جعلی گئو رکشک بن کر عام شہریوں کے پیچھے بھاگنے لگے۔ پہلےشمالی ہند کے مسلمان   پھر گجرات اور آندھرا کے دلت اور اب کرناٹک میں خود بی جے پی کے کارکنان  کو ان لوگوں نے مارڈالا۔ یہ  عجیب گئو بھکت ہیں کہ جو اپنی ماں کا دودھ پینے کے بجائے اس کے نام پر بلا تفریق مذہب ملت انسانوں کے خون سے اپنی پیاس بجھانے  لگے ہیں۔ زیڈ پلس سیکیورٹی سے گھرے ان  کےچہیتے  وزیراعظم اپنا 56انچ کا سینہ کھول کراپنی چھاتی پر گولی مارنے کی دعوت دے  رہےہیں۔ کاش کہ یہ سرخ اعلان  بھی 15 اگست کو لال قلعہ سے دوہرایا جاتا تاکہ یہ یادگار تقریر ماحول سے ہم رنگ ہوجاتی  اور راجستھان کے گئو بھکت وزیراعظم  کی تصویرکو گئو موتر سے پوتر کرنے کے ارادہ ترک کردیتے۔ گئو رکشا کے چکرویوہ میں چھٹپٹاتے وزیراعظم کی حالت زار پر یہ ترمیم شدہ شعر صادق آتا ہے کہ  ؎

ووٹ تھے گائے کے پیالے میں                   اور پیالہ الٹ گیا مجھ سے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close