آج کا کالم

BMW کار دلتوں کو نہیں كچلتی ہے وزیر اعظم جی!

رویش کمار

یہ تشویش کا موضوع ہے۔ ملک کی یکجہتی کو بڑھانے والی چیزوں پر زور کس طرح دیں۔ میں مثال دیتا ہوں۔ میں غلط ہوں تو یہاں کافی لوگ بیٹھے ہیں۔ ابھی تو نہیں کریں گے، مہینے کے بعد کریں گے۔ پہلے ایكسیڈینٹ ہوتا تھا تو خبر آتی تھی کہ فلانے گاؤں میں ایكسیڈینٹ ہوا، ایک ٹرک اور سائیکل والا زخمی ہوا اور ایکسپائر ہو گیا۔ آہستہ آہستہ تبدیلی آئی، تبدیلی یہ آئی کہ فلانے گاؤں میں دن میں ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے شراب پی رکھے ڈرائیورنے معصوم آدمی کو کچل دیا۔ آہستہ آہستہ رپورٹنگ بدلی۔ بي ایم ڈبلیو کار نے ایک دلت کو کچل دی۔ سر مجھے معاف کر دینا، اس بی ایم ڈبلیو کار والے کو معلوم نہیں تھا کہ وہ دلت ہے جی لیکن ہم آگ لگا دیتے ہیں۔ ایكسیڈینٹ کی رپورٹنگ ہونی چاہئے۔ سرخی بنانے لائق ہو تو سرخی بننی چاہئے۔

 یہ بات انڈین ایکسپریس کے رام ناتھ گوئنکا ایوارڈ دیئے جانے کے موقع پر وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کہی ہے۔ ظاہر ہے، ان کی تشویش اس بات کو لے کر رہی ہوگی کہ میڈیا ان دنوں کسی خبر کو زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کر رتا ہے اور دیگر موضوعات کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ لیکن اس بہانے انہوں نے گاؤں، بی ایم ڈبلیو اور دلت کی جو مثال دی، اس کا صحافتی اور سیاسی جائزہ لیا جانا چاہئے۔ کیا واقعی میڈیا بی ایم ڈبلیو کار سے مارے گئے لوگوں کی ذات لکھتا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اس طرح کی تیز رفتار کاروں سے حادثہ کی خبریں مشہور ہو جاتی ہیں۔ ہم نے گوگل کیا کہ بی ایم ڈبلیو اور اس زمرے میں آنے والی کاروں سے حادثے کی کئی دردناک خبریں پڑھنے کو ملیں ہیں۔ دعوی تو نہیں کر سکتا لیکن جتنا تلاش کیا اس میں مجھے گاؤں میں بی ایم ڈبلیو کار سے کسی کے مرنے کی کوئی خبر نہیں ملی ہے۔ میں نے کوئی بیس بائیس خبریں دیکھی ہوں گی، ان میں سے کسی بھی خبر میں مرنے والے کی ذات نہیں لکھی گئی تھی۔ مرنے والا کون تھا، کیا کرتا تھا، پھل فروخت کرتا تھا یا فٹ پاتھ پر سوتا تھا، یہ ضرور لکھا ہے۔

1 – 3 killed after BMW crashes into heavy vehicle on Yamuna e-way( 31.08.2015, New Delhi, Anup Verma)

2 – 24 yeard old killed after BMW crashes into flyover (4 sept, New Delhi  The Hindu)

3 – Noida BMW hit and run case: Family of 20 yr old killed protest with body on road. (18, april 2016, Indian Express)

4 – MLA’s BMW rams into an auto-rickshaw in Jaipur, 3 killed ( July2, 2016, NewsX Bureau)

5 – High speed crash kills business scion : Lamborghini accident puts focus on youthful impulse of supercar drivers (Hakeen Irfan, 20 feb, 2012, Millennium post)

وزیر اعظم کی ریسرچ ٹیم سے کوئی بھی گوگل کرے گا تو ایسی بہت سی سرخیاں ملیں گی۔ ایسی مہنگی کاروں کے حادثے کی وجوہات میں صرف رفتار ہی ایک پہلو نہیں ہے، امیری کے غرور کا رول ہوتا ہے۔ وزیر اعظم بھی ایسے لوگوں کو قریب سے جانتے ہوں گے۔ سلمان خان کا معاملہ بھی ایسا ہی کچھ تھا لیکن میں یہ ضرور سوچنا چاہتا ہوں کہ وزیر اعظم نے گاؤں میں بی ایم ڈبلیو کار سے دلت کے مارے جانے کو کیوں شامل کیا۔ لوکیشن، کار اور شکار تبدیل کرنے کے پیچھے ان کا ارادہ کیا رہا ہوگا؟ کیا انہوں نے تین مختلف واقعات اور کرداروں کو ملا کر کوئی چوتھی بات کہنے کی کوشش کی ہے؟

 حالیہ دنوں میں روہت ویمولا اور گجرات کے اونا کے واقعات کا تعلق براہ راست دلتوں سے ہے۔ اونا میں جو لوگ چمڑے اتارنے کا کام کر رہے تھے، وہ دلت ہی تھے جنہیں ننگا کر بربریت سے مارا گیا۔ مارنے والوں کے ظلم اور مار کھانے والوں کی بے بسی میں وزیر اعظم کو ہندوستانی سماج کا تاریخی سماجی طرزعمل نظر آئے گا۔ جب دلتوں نے یہ کہہ کر مری ہوئی گائے پھینک دی کہ تمہاری ماں ہے، تم سنبھالو تو اس کا تعلق ذات فریم ورک کے خلاف طرز عمل سے بھی ہے۔ آزاد ہندوستان یا شاید اس سے پہلے بھی ذات پات کے نظام کے خلاف ایسا نایاب مظاہرہ نہیں ہوا تھا۔ ذات کے مسلط کردہ کاموں کو ٹھکرانےکی یہ تحریک ؟خود ہی اپنے آپ میں تعجب خیز ہے اس لئے اس سیاق میں دلت ہی لکھا جائے گا اور دلت ہی لکھا جانا چاہئے۔

اونا کے دلتوں کو بی ایم ڈبلیو کار نے نہیں مارا تھا، بلکہ سومو گاڑی میں آئے گئو رکشکوں نے مارا تھا جس کا تعلق ان کے ذات کے غرور اور ہندوتوا کی سیاست سے ہے، جنہیں آپ نے بعد میں فرضی گئو محافظ کہا تھا۔ کار کسی دلت کو نہیں مارتی ہے لیکن اس وقت مارتی ہے جب کوئی اونچی ذات کسی دلت دولہا کو گھوڑے پر بیٹھا دیکھتا ہے تو پتھر برسانے لگتا ہے۔ وزیر اعظم اس کی اطلاع مدھیہ پردیش اور راجستھان کے وزرائے اعلی سے لے سکتے ہیں۔ بہار اور یوپی سے بھی ایسے بہت قصے ملیں گے کہ کس طرح دلتوں کے ٹولے میں اعلی ذات کی ٹولی نے آگ لگا دی۔ دلتوں کے ساتھ ان کی ذات کی وجہ سے عصمت دری سے لے کر قتل کے واردات ہوتے ہیں۔ کوئی اس حقیقت کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہے۔ کیا وزیر اعظم مودی یہ بات دلتوں کے گھر میں بول سکتے ہیں کہ آپ کے ساتھ نا انصافی آپ کے دلت ہونے کی وجہ سے نہیں ہوتی ہے۔ میڈیا غلط لکھتا ہے۔

 ایک سیاست دان کے طور پر وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ دلتوں کے ساتھ ہونے والے تشدد میں محض اچانک اور مجرمانہ ارادوں کا ہاتھ نہیں ہوتا ہے۔ روہت ویمولا معاملے میں اس کی ذات کا اہم رول ہے۔ قارئین چاہیں تو روہت کے سوسائڈ نوٹ کو پڑھ سکتے ہیں، جس میں اس نے ذات کے نظام میں پیدا ہونے کی تقدیر پر سوال اٹھایا تھا۔ بہت سے دلت نوجوانوں کو روہت کی بات ان کی بات اس لئے لگی تھی کہ وہ ایک ذات میں پیدا ہونے کا دکھ آج بھی جھیل رہے ہیں۔ روہت نے کیا لکھا تھا، صرف ایک لائن یاد دلاتا ہوں ‘my birth is a fatal accident.’ وزیر اعظم سر، روہت نے یہ نہیں لکھا تھا کہ I have met with an accident by a BMW car .. روہت کی ذات کے جواب میں ذات ڈھونڈنے کی سیاست کو آپ سمجھ سکتے ہیں۔ روہت کی خود کشی کے سیاسی حالات اور انفرادی ذہنیت کی تعمیر میں ذات کا بھی رول تو تھا ہی۔ روہت ویمولا کی یہ شناخت اس کے پیدا ہونے سے لے کر مر جانے تک اور اس کے بعد کی پہچان ہے۔ وہ اگر روہت دوبے ہوتا یا دياشكر سنگھ ہوتا تو اس کے خاندان کے بہت سے لوگوں کو بی جے پی میں جگہ مل گئی ہوتی۔

مجھے وزیر اعظم کے اس مثال سے حیرانی بھی ہوئی ہے۔ دکھ بھی پہنچا ہے۔ یہ مثال بلاوجہ نہیں دیا گیا ہے۔ میں وزیر اعظم کی باتوں کی سیاست اور آپ کی سیاست کی باتوں کو بے حد سنجیدگی سے لیتا ہوں۔ پڑھنے، تحقیق کرنے اور سمجھنے کی سادہ گنجائش کسی اور سیاست دان کی باتوں میں مجھے نہیں ملتی ہے۔ وزیر اعظم کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ نچلی ذات اور قبیلے کی ترقی کے لئے الگ سے منصوبے بنائے۔ یہ کسی سیاست داں کی خواہش پر مبنی نہیں ہے لہذا یہ ذمہ داری طے ہے کیونکہ دلتوں کے ساتھ سیاسی سماجی اور اقتصادی ناانصافی ان کی نسل کی بنیاد پر ہی ہوئی ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مینڈیٹ میں لکھا ہوا ہے۔

‘Article 46 of the constitution of India expressly provides that the State shall promote the educational and economic upliftment of the weaker sections of the society، in particular of SCs & STs with special care and shall protect them from injustice and all forms of exploitation.’

یہی نہیں NCRB کے اسی صفحے پر مزید دو ایکٹ کی بات کی گئی ہے۔  1955  The Protection of Civil Rights Actاور The Scheduled Caste / Scheduled Tribe (Prevention of Atrocities) Act 1989. ان ایکٹس کے تحت دلت اور قبائلوں کے اوپر جتنے بھی استحصال یا جرم ہوتے ہیں، ان کے اعداد و شمار لئے جاتے ہیں۔ دلت کے ساتھ اگر ذات کے سیاق میں تشدد ہوتی ہے تو ذات درج کرنا یہ ایک آئینی ذمہ داری ہے۔ صحافت یا انتظامیہ کو پریشان کرنا  نہیں ہے اور نہ ہی ملک کے اتحاد کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش ہے۔ اگلا پیرا بھی NCRB کی سرکاری ویب سائٹ سے ہی لیا گیا ہےجس سے صاف ہوتا ہے کہ نچلی ذات اور قبیلے کے اعداد و شمار جمع کرنا ہے کیونکہ اس کی ضرورت تمامHolders   Stakeکو پڑتی ہے۔ ایکStake Holder  تو وزیر اعظم کے ماتحت کام کرنے والی سماجی فلاح و بہبود کی وزارت ہی ہے۔

 وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ میری بات کی تنقید ایک ماہ بعد ہوگی۔ میں آج ہی کر دے رہا ہوں کیونکہ اس سے غلط میسج جا سکتا ہے. میڈیا کی برائیوں کی طرف اشارہ کرنے کی ان کی نیت ٹھیک ہو سکتی ہے لیکن یہ مثال خطرناک ہے۔ ہندوستان میں جب کوئی دلت دولہا ہیلمیٹ پہن کر نکلے تو کون نہیں پوچھے گا کہ یہ ہیلمیٹ پہن کر شادی کرنے کیوں جا رہا ہے، کیا سامنے سے کوئی بی ایم ڈبلیو کار آنے والی ہے؟ دلت دولهوں کو مارے جانے والے پتھروں کا نیا نام بی ایم ڈبلیو تو نہیں ہے! کیا اعلیٰ ذات کے بچے بھی ہیلمیٹ پہن کر شادی کرنے جاتے ہیں۔ اس دنیا کے کس حصے میں دولہا ہیلمیٹ پہن کر جاتا ہے۔ جب کوئی طاقتور کسی دلت کی بیٹی کو اٹھا کر لے جائے گا اور لے گیا ہے تو اس کیس کی رپورٹنگ میں صحافی اگر ذات نہیں لکھے گا تو نہ تو اسے صحافت کی سمجھ ہے، اور نہ ہی سماجی سیاسی حقیقت کی۔ اگر آپ متفق نہیں ہیں تو یہ بات کہئے کہ نچلی ذات کے ساتھ کبھی بھی نسل کی بنیاد پر ظلم نہیں ہوا۔

آپ سیاسی جماعت میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ کونبھ میں امت شاہ نے دلت سادھوؤں کے ساتھ غسل کیا۔ کیوں کسی مختلف گھاٹ پر جاکر یہ سب کیا گیا؟ اسے لے کر کافی تنازعہ ہوا تھا۔ بی جے پی سے لے کر تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈران دلتوں کے گھر کھانا کھانے کیوں جاتے ہیں؟ کیا تب بھی ہمارے سیاست دان چاہیں گے کہ صرف نام لکھا جائے، ذات نہیں لکھی جائے۔ اگر ایسا ہے تو تمام سیاسی جماعتیں نچلی ذات کے امیدواروں کو جنرل سیٹ سے ٹکٹ دینا شروع کر دیں۔ ٹھیک ہے کہ بی ایس پی جیسی پارٹی بھی یہی کرتی ہے لیکن کیا بی جے پی اس روایت کو تبدیل کر سکتی ہے۔ دلت لکھنے سے اتنی پریشانی کیوں ہو رہی ہے؟ جب کسی دلت کو زمین سے بے دخل کیا جائے گا، عصمت دری کا واقعہ ہو گا، قتل کیا جائے گا، تفریق ہوگی تو دلت ہی لکھیں گے۔ کچھ اور نہیں لکھیں گے۔ یہی لکھا جانا بھی چاہئے۔

 حالیہ دنوں میں جب سیاسی تنازعہ گرمایا اور اس سے پریشانی ہوئی تو یہ سوال پہلے سوشل میڈیا کے ذریعہ اٹھایا گیا کہ کچھ پریس ذات پرست ہیں۔ متاثرین کی ذات ضرور لکھتے ہیں۔ حیرت انگیز ہے۔ ساری سیاست ذات کی بنیاد پر۔ خود کو پسماندہ کہتے وقت کیا انہوں نے ذات کا اعلان نہیں کیا تھا۔ دلت والی بات صرف اس لئے ہے کہ ذات نہ لکھی جائے تاکہ دنیا کو پتہ ہی نہ چلے کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ دنیا کو نہیں بلکہ دلتوں کو ہی پتہ نہ چلے کہ ان کے درمیان کے لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اس لئےنوٹس بھیجے جانے کے اس دور میں آپ تیار رہیں۔ ایک دن خبروں سے دلت غائب کر دئے جائیں گے۔ ویسے بھی خبروں میں وہ انہیں حادثات کی وجہ سے آتے ہیں۔ خود کشی سے لے کر عصمت دری کا شکار ہونے میں۔ ملک کے اتحاد کو خطرہ اگر کسی بات سے ہے تو وہ خبروں کے دبائے جانے کے نوٹس سے ہے. مثال سے ہے۔ نصیحت سے ہے۔ جے ہند۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close