آج کا کالم

NPA گھوٹالہ: منموہن کی رہبری تو پی ایم مودی کی غیر جانبداری پر سوال!

وراگ گپتا

فکّی کی 90 ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے بینکوں کی طرف سے دیئے گئے قرضوں پر تلخ تبصرہ کرتے ہوئے این پی اے کو 2۔جی اور کول بلاک جیسا گھوٹالہ قرار دیا. سوال یہ ہے کہ یو پی اے کے این پی اے اسکینڈل کے خلاف بی جے پی حکومت نے گزشتہ 3.5 سالوں میں کارروائی کیوں نہیں کی؟

بھارتی معیشت میں این پی اے کا بڑھتا کینسر

ملک میں بینکوں کا 10 لاکھ کروڑ مجموعی نان پرفارمنگ اثاثہ (این پی اے) ہے جو سری لنکا کی جی ڈی پی کی دوگنی رقم ہے. ریزرو بینک کی فانینشیل اسٹیبلٹي رپورٹ کے مطابق سی ڈی آر کے تحت رسٹركچرگ والے لون کو ملا این پی اے بینکوں کے کل قرضے کے 12 فیصد ہے جبکہ امریکہ میں یہ 1.1 فیصد اور چین میں 1.7 فیصد ہے. بینکوں کا پیسہ صنعت کاروں کی طرف سے ہضم کرنے سے بھارت کی معیشت میں سست روی ہے، جس کے خلاف سخت کاروائی کے بجائے از آف ڈوینگ بزنس میں بہتری کا ڈھنڈھورا کیوں پیٹا جا رہا ہے؟

این پی اے کے گھوٹالے بازوں کا انکشاف کیوں نہیں؟

ریزرو بینک کی رپورٹ کے مطابق تمام بینک کے قرض کا 56 فیصد حصہ بڑی کمپنیوں کی وجہ سے ہے لیکن این پی اے میں ان کمپنیوں کی 86.5 فیصد حصہ داری ہے. بینک ملازمین کی قومی تنظیم این پی اے کی جوابدہ کمپنیوں اور پرموٹرس کی آیات کے لئے طویل عرصے سے مطالبہ کر رہا ہے. اس بارے میں سپریم کورٹ میں پی آئی ایل بھی دائر ہوئی جہاں ریزرو بینک اور حکومت نے این پی اے کی آیتوں پر اعتراض ظاہر کیا. نیم اینڈ شیم کے تحت چند ہزار روپے کے ڈفالٹروں کی تصویر اخبار میں شائع کرنے والی حکومت، بینكوں کے قرضوں کا انکشاف کرکے این پی اے گھوٹالے کا پردہ فاش کیوں نہیں کرتی؟

انسالوینسي قانون سے پرموٹروں کی بے جا مدد کیوں؟

گھوٹالے باز کمپنیوں سے پیسے وصولی کی بجائے مودی حکومت نے انہیں انسالوینسي اور دیوالیہ قانون کی ڈھال دے دی. جن پرموٹروں کے پاس بینکوں کا لون ادا کرنے کے لئے پیسہ نہیں تھا، انہوں نے پچھلے دروازے سے اپنی ہی بیمار کمپنیوں کو خریدنے کی پہل کر ڈالی. شور شرابہ ہونے پر مودی حکومت کو دیوالیہ قانون میں آرڈیننس کے ذریعے بڑی تبدیلی کرنے پر مجبور ہونا پڑا. پرموٹرس کی جانب سے بینکو میں پیسوں کی لوٹ کا سب سے بڑا چہرہ وجے مالیا ہیں جو اب لندن سے بھارتی عدالتوں اور سی بی آئی پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہے ہیں. این پی اے کی لوٹ کے لئے ذمہ دار پرموٹرس کو کانگریس کے ساتھ کیا بی جے پی لیڈروں کی حمایت نہیں ملی اور ان رشتوں کی آزادانہ جانچ کس طرح ہوگی؟

یوپی میں بلڈرز کی طرز پر این پی اے کے فورینزک آڈٹ کیوں نہیں؟

یوپی میں یوگی حکومت نے فورینزک آڈٹ کے ساتھ بلڈرز کے خلاف پولیس ایف آئی آر کی ٹھوس پہل کی ہے. عوام کے پیسے کو بچانے کے لئے اگر بلڈرز کی گرفتاری ہو سکتی ہے تو پھر بینکوں میں سرکاری پیسے کی لوٹ مچانے والے گھوٹالے بازوں کے خلاف مکمل معلومات کے باوجود مودی حکومت خاموش کیوں ہے؟ کانگریس اتحاد کی یو پی اے حکومت کے کرپشن اور لوٹ مار سے پریشان عوام نے اچھے دن لانے کے لئے مودی کو تاریخی مینڈیٹ دیا تھا. بیرونی ممالک میں جمع کالا دھن تو واپس آیا نہیں پر ہندوستان کے بینکو سے لوٹا پیسہ بھی رہنماؤں اور صنعت کاروں کی سیاست کے دلدل میں گم ہو گیا.

منموہن کی خاموشی پر اٹھائے گئے تھے سوال

مودی نے بینکوں کا قافلہ لٹنے پر سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ سمیت سابق وزراء خزانہ کی رہبری پر سوال اٹھائے ہیں. گجرات کے انتخابی مہابھارت میں بی جے پی کے صدر امت شاہ نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی خاموشی پر سوال کھڑے کئے ہیں. این پی اے کی لوٹ پر منموہن حکومت کی رہبری کے ساتھ مودی حکومت کی غیر جانبداری میں کون بڑا مجرم ہے، اس کا فیصلہ تو 2019 کے موسم گرما میں ہی ہو گا!

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

وراگ گپتا

وراگ گپتا سپریم کورٹ ایڈووکیٹ اور آئینی امور کے ماہر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close