آج کا کالم

تاجروں کے لئے سبق: ووٹر بنے رہیں کوئی نہیں لوٹے گا

جن لوگوں نے جی ایس ٹی کی تکلیفوں کو لے کر آواز اٹھایی کی وہ صحیح ثابت ہوئے. تاجروں نے ڈر ڈر کر اپنی بات کہی. ان کے خوف کو ہم جیسے کچھ لوگوں نے آسان کر دیا. اس کے بارے میں لکھا اور بولا کہ جی ایس ٹی بزنس کو برباد کر رہی ہے. لوگوں سے کام چھن رہے ہے. جواب ملتا رہا کہ یہ تاجر ہی چور ہیں. چوری کی عادت پڑی ہے، لہذا جی ایس ٹی نہیں دینا چاہتے. کیا سانحہ رہا تاجروں کا، جو لٹ رہا تھا، وہی چور کہا جا رہا تھا. اپوزیشن بھی چپ رہا. بعد میں راہل گاندھی نے اسے زوردار انداز سے اٹھایا تو پھر مذاق اڑا کہ راہل کو جی ایس ٹی کی سمجھ نہیں ہے. وہ امیروں اور چوروں کا ساتھ دے رہے ہیں. آخر میں حکومت کو وہی کرنا پڑا جو پہلے کر دینا چاہئے تھا مگر گھمنڈ کے چلتے وہ طویل عرصے تک ان سنی کرتی رہی. سوچئے اگر ایک ہی بار میں لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات ہو گئے ہوتے تو کیا تاجروں کی آواز سنی جاتی؟

مزید پڑھیں >>

وجئے روپانی نے’بدعنوان جنتا پارٹی عرف بی جے پی‘ کا نام روشن کردیا

جمہوریت میں عام آدمی اچھے دنوں کی امید میں جیتا ہے لیکن اچھے دن انتخاب جیتنے والوں کے آتے ہیں ۔ انتخاب ہارنے والوں کوعوام کی طرح  برے دنوں کا مزہ چکھنا پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ راہل یا لالو  جیسےحزب اختلاف کے رہنما عوام کے درمیان نظر آتے ہیں۔ بدعنوانی میں سیاستداں  وہ دن رات ملوث رہتے ہیں لیکن کبھی کبھار پکڑے جاتے ہیں  اس طرح ان کے بھی  برے دن آجاتے ہیں۔ مودی  جی کے ابتدائی زمانے  میں کوئی بڑا گھپلا سامنے نہیں آیا اور وہ بار بار دعویٰ کرتے تھے کہ یہ کرپشن فری سرکار ہے لیکن گجرات کے انتخابات جیسے قریب آنے لگا یکے بعد دیگرے بدعنوانیوں کی جھڑی لگ گئی۔ ابتداء جئے شاہ سے ہوئی۔  اس کے بعد  شوریہ ڈوبھال کئی وزراء کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ یہ معاملہ سنبھلا نہ تھا کہ پیراڈائز پیپرس کے اندر  بی جے پی کے وزیر اور راجیہ سبھا کے کا نام آگیا اور اس کے بعد  وجئے روپانی پر سیبی نے جرمانہ لگادیا۔ اتنے کم عرصے میں اتنے سارے گھپلے تو کانگریس بھی نہیں کرسکی تھی اس لیے ماننا پڑے گا کہ بی جے پینے  کم ازکم نے بدعنوانی کے  معاملے میں کانگریس کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

انتخابی سنسنی سے اب تک بچا کس طرح ہے گجرات؟

گجرات انتخابی سنسنی پھیلانے میں شروع سے مشہور رہا ہے. ایک وقت تھا جب گجرات کو فرقہ وارانہ خیالات کے نفاذ کی لیبارٹری کہا جاتا تھا. گجرات ہی ہے جہاں مذہب کی بنیاد پر مسائل کو ڈھونڈنے اور ڈھوڈھ كر پنپانے کے لئے ایک سے ایک ہتھکنڈے استعمال ہمیں دیکھنے کو ملے. لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انتخابی سیاست میں ایک رستا نہیں چل پاتی. اسی لیے ہر بارانتظار رہتا ہے کہ کیا نئی بات کی جائے گی. اس بار بھی گجرات میں اب تک یہی انتظار ہے. لگ رہا تھا کہ وہاں حکمران بی جے پی آپ کی ضرورت کے پیش نظر اس وقت ترقی کا مسئلہ لے کر آئے گی، لیکن اس بار پردیش کے لیڈر کے طور پر وہاں نریندر مودی نہیں ہیں. وزیر اعظم بن جانے کے بعد وہاں ان کے لئے انتخابی جادوگری دکھانے کے موقع بھی کم ہو گئے ہیں. بہرحال دو رائے نہیں کہ وہاں بی جے پی کو ایڑی چوٹی کا دم لگانا پڑ رہا ہے. ملک پہلی بار دیکھ رہا ہے کہ ایک چھوٹی سی ریاست کے لئے مرکز کے درجنوں وزراء کو اپنا سارا کام دھام چھوڑ کر وہاں ڈیرہ ڈال پڑ رہا ہے.

مزید پڑھیں >>

یہ پبلک ہیلتھ ایمرجنسی نہیں تو کیا ہے؟

وجہ سب کو پتہ ہے مگر حل کرنے میں کسی کو دلچسپی نہیں ہے. سب کو لگتا ہے کہ یہ نومبر کی بات ہے، اس کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا. دہلی کی ہوا آپ کی جیب اور ہیلتھ پر اثر ڈالنے دوبارہ آ گئی ہے. کب تک دہلی بات بات میں اسکول بند کرتی رہے گی، وہ یہ کیوں نہیں کہتی کہ شہر میں ڈیزل، گاڑیوں کی رجسٹریشن بند ہو، کاروں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ بند ہو، پبلک ٹرانسپورٹ کی ثقافت کو بڑھانے کے لئے کاریں بند کرنے کی بات نہیں ہوتی، کب تک بڑوں کے پھیلائے اس آلودگی کا حل ہم بچوں کے اسکول کو بند کر کے کریں گے. ہر عمر کے لوگوں کا پھیپھڑا خراب ہو رہا ہے، ہمارے لیڈر بھیجا خراب کر دینے والے مسلسل پریس کانفرنس کر رہے ہیں مگر ان میں ہوا کو لے کر کوئی فکر نہیں ہے. ایک دن اٹھیں گے اور لوگوں کو اخلاقی تعلیم دے دیں گے کہ آپ باغبانی کریں، پیپل کے درخت لگائیں تو آلودگی رکے گی. دراصل مسئلہ کے تہہ تک کوئی نہیں جانا چاہتا، کیونکہ وہاں سب کے مفاد پھنسے ہیں.

مزید پڑھیں >>

کیا نوٹ بندی اپنے مقصد میں ناکام رہی؟

بھارتی ریزرو بینک کو 8 ماہ لگ گئے یہ بتانے میں  نوٹ بندي کے بعد اس کے خزانے میں 99 فیصد نوٹ واپس آ گئے ہیں. جبکہ 8 نومبر کو نوٹ بندي کا اعلان ہوا اور 28 نومبر کو ہی ریزرو بینک نے پروویذنل یعنی عارضی طور پر بتا دیا تھا کہ 8 لاکھ 45 لاکھ کروڑ واپس آ گئے ہیں. قریب 55 فیصد نوٹ بغیر نوٹ گننے کی نئی مشینوں کے ہی گن لئے گئے. جب پارلیمانی کمیٹی بار بار پوچھتی رہی کہ آپ مکمل اعداد و شمار کیوں نہیں دے رہے. تب جون میں ریزرو بینک نے کہا تھا کہ اس کے پاس نوٹ گننے کی کافی مشین نہیں ہے، ابھی ٹینڈر نکلنا ہے. اسی 17 جولائی کو یہ خبر چھپی تھی. کسی کو دیہان نہیں رہا کہ بینک جب نوٹ دیتے ہوں گے تو گن کر ہی دیتے ہوں گے تو پھر ریزرو بینک کو بتانے میں تاخیر کیوں ہو رہی تھی. یہی نہیں 14 دسمبر 2016 کو ریزرو بینک نے ہی بیان دیا کہ 80 فیصد نوٹ واپس آ گئے ہیں یعنی 12 لاکھ 44 ہزار کروڑ قیمت کے پانچ سو اور ہزار کے نوٹ واپس آ گئے ہیں.

مزید پڑھیں >>

نوٹ بندی کی سالگرہ کا تحفہ ہیں مکل رائے

آٹھ نومبر کو نوٹبدي کی پہلی سالگرہ ہے. اس موقع پر مکل رائے سے اچھا نیشنل گفٹ کیا ہو سکتا ہے. بغیر وجہ کالے دھن کے ملزم دوسری پارٹیوں میں گھومتے نظر آئے، یہ نوٹبدي کی کامیابی کے آپٹکس کے لئے بھی اچھا نہیں ہے. لہذا بی جے پی انہیں اپنے گھر لے آئی.  ابھی تقریر ہی تو دینا ہے تو دو گھنٹے کی تقریر کو تین گھنٹے کر دیا جائے گا. کہا جائے گا کہ ماں شاردا کی بڑی کرپا ہوئی کہ شاردا اسکیم کے ملزم بھی آ گئے. اب تو عدالت کا بھی کام کم ہو گیا. کالا دھن ترنمول والوں کے یہاں سے کم ہو گیا. تالیاں بجانے والے بھی ہوں گے. بھارت کی عوام کا سفید دھن پھونک کر کالا دھن پر فتح کرنے کا جشن منایا جایے گا. جس میں شامل ہونے کے لئے دوسرے جماعتوں سے کالے دھن کے ملزم آ جائیں تو چار چاند لگ جائیں گے. بلکہ بی جے پی کو ان لیڈروں کی علیحدہ پریڈ نکالنی چاہئے جن پر اس نے اسکیم کا الزام لگایا اور پھر اپنے میں ملا  کر وزیر بنا دیا.

مزید پڑھیں >>

نوٹ بندی کا ایک سال: کس کافائدہ کس کانقصان؟

مودی جی کوایک ریکارڈ اپنے نام قائم کرناتھا سو حاصل ہوگیا۔ بدنام نہ ہوں گے تو کیانام نہ ہوگا کی مصداق حکومت نوٹ بندی کے بعد مسلسل دفاعی پوزیشن میں کھڑی رہی ہے اوراپنے فیصلے کوعوام کے مفاد میں بتلارہی ہے حالانکہ حقیقت سامنے آچکی ہے۔ لوگ باگ حکومت کی چالبازی پر نظر رکھے ہوئے ہیں، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟کے تحت جی ایس ٹی کوفوائد گنوائے جارہے ہیں۔ جس میں کہیں ناکہیں غریب، مزدور اور متوسط طبقہ پریشان ہورہاہے۔ نوٹ بندی سے جتنی دشواریاں غریب اور مزدور طبقہ بشمول سیکڑوں اموات کے کسی کو نہیں ہوئی، امیراوردھناسیٹھ لوگ اپنے اثرورسوخ کا بھرپور فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہے چکی کے پاٹ میں پسے تو بے چارے غریب۔ تقریباً اُس وقت چلن میں موجودتمام بڑے نوٹ بینکوں میں جمع ہوگئے اورکالادھن کہاں گیا کسی کو اندازہ تک نہیں !!

مزید پڑھیں >>

ہمیں گواہ بنایا ہے وقت نے اپنا  کہ آؤ سچ بولیں

سرزمینِ ہندوپاک پرعدلیہ اور مقننہ کے درمیان سرد جنگ جاری ہے۔ پاکستان کے بارے میں یہ عام خیال پایا جاتا ہے کہ وہ ایک ناکام ریاست ہے۔ اس کے اندر جمہوری اقدار پائیدار نہیں ہیں اس لیے کئی بار فوجی سربراہوں نے سیاسی رہنماوں کو گھر ٹھکانے لگادیا جبکہ ہندوستان میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کا انکار ممکن نہیں ہے لیکن  سیاسی استحکام کو جانچنے کی ایک کسوٹی قانون کی بالادستی بھی ہے۔ اس لحاظ  سے دیکھیں تو پاکستان کے اندر عدالتوں کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے پرویز مشرف جیسے فوجی آمر کو  اقتدار سے بے دخل کرکے ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ فی زمانہ دونوں مقامات پر سیاسی حکومتیں ہیں اور عدالتیں ان سے برسرِ پیکار ہیں اس لیے حالات کا موازنہ  ضروری معلوم ہوتاہے۔

مزید پڑھیں >>

سیاست کی دہشت گردی یا دہشت گردی کی سیاست؟

دہشت گردی اور اس کی منصوبہ بندی کے الزام میں مسلمانوں کی گرفتاریاں اب کوئی نئی بات نہیں رہی ، پولس اس طرح کے کیسس میں مسلمانوں کو گرفتار کرتی ہے میڈیا انہیں خطر ناک دہشت گرد اور دل میں آئے وہ کہہ کر پورے ملک اور بیرون ملک میں بد نام کرتا ہے مسلمان رو پیٹ کر اور اخبارات خاص طور سے اردو خبارات کے صفحات کالے کر کے اور کبھی کبھار احتجاج کر کے خاموش ہو جاتے ہیںاور جمیعت علماء ہند پوری تندہی سے ان لوگوں کے مقدمات لڑ تی ہے اور اس کی وجہ سے کئی سال بعد معلوم ہوتا ہے کہ پکڑے گئے مسلمان بے قصور ہیں،پولس ان کے خلاف الزامات ثابت نہیں کر پائی اور میڈیا نے ان کے خلاف جو کچھ کہا وہ جھوٹ تھا۔

مزید پڑھیں >>

ترقی کیلئے تعلیم بنے سماج کا ایجنڈا

بھارت میں عام لوگوں کیلئے سب سے پہلے سکندر لودی نے مدرسے بنائے تھے۔ اس سے پہلے عام لوگ تعلیم حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ پڑھائی لکھائی صرف اعلیٰ ذات کے لوگوں کیلئے مخصوص تھی۔ اب تعلیم سب کیلئے ہے۔ اس لئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو علم سے جوڑنے کیلئے مقامی سطح پر تعلیمی کارواں نکالنے کا فیصلہ ہوا۔ یہ بھی طے پایا کہ اس کے ذریعہ لیڈر شپ ابھارنے، معاشی حالت بہتر بنانے،انتظامیہ میں شمولیت اور پروفیشنل کورسیز میں داخلہ لینے کیلئے بچوں کی ہمت افزائی کی جائے گی۔ آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ کے صدر امان اللہ خاں نے بتایا کہ تعلیمی ترقی کیلئے سید حامد فائونڈیشن معاون کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ اگلے سال سے صوبائی سطح پر کارواں نکالے جائیں گے تاکہ صوبائی یونٹ بعد میں فالواپ کرسکے۔ نئے اداروں کے قیام پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شمالی ریاستوں میں اکیڈمک آئی سیو (Remedial Class) شروع کیا جائے گا۔ اس میں ان بچوں کو دو تین ماہ رکھا جائے گا جو میتھ، سائنس یا انگریزی میں کمزور ہونے کی وجہ سے تعلیم میں دلچسپی نہیں لے رہے۔ یہی بچے اسکول چھوڑنے والے بن جاتے ہیں۔ بچوں کو ڈراپ آئوٹ ہونے سے بچانے کیلئے یہ قدم انتہائی ضروری ہے۔

مزید پڑھیں >>