آج کا کالم

کانگریس کا ایک ہی مقصد: مودی ہٹاؤ

کانگریس کا خیال ہے کہ 2014 میں بی جے پی نے 282 سیٹیں جیت کر اپنی اب تک جو سب سے بہترین کارکردگی کی، وہ اس سے بہتر ابھی نہیں کر سکتی ہے. یعنی بی جے پی کی لوک سبھا میں نشستیں کم ہونا طے ہے. کانگریسی لیڈروں کو لگتا ہے کہ کچھ ایسی ریاستیں ہیں جہاں بی جے پی کو زیادہ سے زیادہ کامیابی ملی اور اسے دہرایا نہیں جا سکے گا. وہ کہتے ہیں کہ گجرات جو بی جے پی کے لئے سب سے مضبوط گڑھ ہے، جب پارٹی کو وہاں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے تو پھر ان ریاستوں میں اسے کڑی ٹکر کیوں نہیں دی جا سکتی جہاں کانگریس روایتی طور پر مضبوط رہی ہے یا جہاں بی جے پی اور کانگریس کی سیدھی ٹکر ہے.

مزید پڑھیں >>

ایک رفال کی قیمت تم کیا جانو رمیش بابو

آپ اپنا دماغ لگائیں. سارا دماغ پکوڑے تلنے میں لگے گا تو لوگ خزانہ لوٹ کر چمپت ہو جائیں گے. دفاعی سودوں کو لے کر اٹھنے والے سوالات کبھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے ہیں. آج تک ہم بوفورس کی جانچ میں وقت ضائع کر رہے ہیں اور دنیا کو ورغلا رہے ہیں. دو ہفتے پرانی کمپنی کو ہزاروں کروڑ کی ڈفینس ڈیل مل جائے یہ صرف اور صرف اسی دور میں ہو سکتا ہے جب ملک ہندو مسلم میں ڈوبا ہوا ہو، ورنہ عوام کو الو بنانے کا کوئی چانس ہی نہیں تھا.

مزید پڑھیں >>

ریلوے امتحان کی عمر 30 سال سے کم کرکے 28 سال کیوں؟

لاکھوں کی تعداد میں ریلوے کے امتحان دینے والے نوجوانوں کا ہفتہ اور اتوار کا دن اس انتظار میں گزرا کہ کب پیر آئے گا اور کب پرائم ٹائم کی نوکریوں پر چل رہی سیریز میں عمر کا مسئلہ اٹھے گا. طالب علموں کا کہنا ہے کہ اتنے سال کے بعد ریلوے کی ویكینسي آئی اور عمر کی حد 30 سے گھٹا کر 28 کر دی گئی. اس سے تین سے چار سال سے تیاری کر رہے طالب علموں کی نیند اڑ گئی ہے. وہ بہت پریشان ہیں. ان کی تعداد ہزاروں میں ہے. یہ تمام امتحان نہیں دے پائیں گے. ریلوے کے وزیر ان سے ایک بار مل لیں تو پتہ چل جائے گا کہ ان نوجوانوں کا درد کتنا گہرا ہے. 3 فروری 2018 کو سینٹرلائزڈ امپلائيمینٹ نوٹیفکیشن نکلا کیا ہے. اسسٹنٹ لوکو پائلٹ اور اور ٹیکنیشین كیٹگري کے لئے.502 26، عہدوں کی ویكینسي آئی ہے. اس بار فارم بھرنے کی عمر کی حد 30 سے گھٹا کر 28 کر دی گئی ہے. 2014 میں اسی عہدے کے لئے جب بھرتی نکلی تھی تب زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 30 سال تھی.

مزید پڑھیں >>

کشمیری پتھربازوں کو معافی، نیوز اینكروں کو ملے گی صافی!

کشمیر میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی حکومت ہے. اس حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 2008-2017 کے درمیان730 9، پتھربازو سے مقدمے واپس لئے جائیں گے. حکومت ان 4000 لوگوں کو معافی دینے جا رہی ہے جو گزشتہ دو سالوں سے پتھر بازی میں ملوث ہیں. محبوبہ مفتی نے اسمبلی میں یہ جانکاری دی ہے اور دینک ہندوستان نے چھاپا ہے. آپ اس اخبار کا پرانا ورژن دیکھ سکتے ہیں کہ جب پتھر بازی ہو رہی تھی تب کس طرح خبریں شائع ہو رہی تھیں.ابھی اینكروں کو بھی فوج کی توہین کی باتوں کو واپس لے لینا چاہئے. بیچارے یہ اینکرز کہیں کے نہیں رہے. انہیں صافی پینی چاہئے. بچپن میں یہ کڑوی دوا میں نے بھی پی ہے. کہتے ہیں خون صاف ہوتا ہے.لیکن کئی ماہ تک ان تصاویر کو چینل پر چلا کر، چیخ  چیخ کر، حکومت کا کام کر دیا. آج جب پتھربازوں کو معافی دی جا رہی ہے تو آپ دوبارہ ان اینكرز اور چینلز کی طرف دیکھئے، پوچھئے کہ کیا ہو رہا ہے. کس طرح خبریں کچھ وقت کے بعد مرتی ہیں مگر پہلے آپ  کومار جاتی ہیں.

مزید پڑھیں >>

سرکاری نوکریاں آخر ہیں کہاں؟ (پارٹ 8)

ان نوجوانوں کو اس لیے کمتر نگاہ سے نہیں دیکھا جانا چاہئے، کہ کوئی سرکاری نوکری مانگ رہا ہے. اگر سرکاری نوکری کی چاہ اتنی ہی بری ہے تو پھر حکومت چلانے کے لئے رہنماؤں کو ووٹ بھی نہیں مانگنا چاہئے. مختلف ریاستوں کے طالب علم واقعی بہت پریشان ہیں. اب دیکھئے کھادی دیہی صنعت کمیشن نے 22 اکتوبر 2017 کو بھرتی نکالی. 14 نومبر کو اطلاع آتی ہے کہ امتحان عارضی طور پر منسوخ کر دیا جاتا ہے. اس کی وجہ 24 دسمبر 2017 کو امتحان نہیں ہوتا ہے، یہ کون سی عارضی وجہ ہے جو ڈھائی ماہ کے بعد بھی دور نہیں ہو سکی ہے، 341 عہدوں کے لئے قریب000 40، طلبا نے فارم بھرے تھے. 1200 روپے لگے تھے فارم بھرنے میں. فارم بھرنے کے بعد بھی کیا ان نوجوانوں کو جاننے کا حق نہیں ہے کہ امتحان کب ہوں گے. آپ ریکارڈ دیکھئے. کوئی بھی امتحان صحیح طریقے سے نہیں ہوتا ہے. سال بھر طالب علم اسی بات سے ڈرے رہتے ہیں کہ کب امتحان منسوخ ہو جائے گا اور ان کی ساری محنت ضائع ہو جائے گی.

مزید پڑھیں >>

شیئر بازار کو بھی پورا دن لگا بجٹ سمجھنے میں!

ہرچند کوشش ہوئی کہ شیئر بازار میں تباہی کا بجٹ سے تعلق نہ بن پائے. لیکن اس علاقے کی صحافت کو کوئی بھی دوسری وجہ نہیں مل پائی. دوسرے ایشیائی بازاروں کے اثر کو دکھانے کی بھی کوشش ہوئی. لیکن اس کے سائز اور مختلف وقت کی وجہ سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکا کہ شیئر بازار  پر بجٹ کے علاوہ کوئی بیرونی یا اوپری اثر پڑ گیا. آخر شیئر بازار کا کام کاج بند ہونے کے بعد کاروباری نیوز ٹی وی چینلز کو آخر یہ بحث کرنی ہی پڑی کہ اس بجٹ نے صنعتی تجارت کی مشکلیں بڑھا دی ہیں اور یہ بھی کہ اس صنعت کے کاروبار کے لئے سب سے زیادہ ضروری شرط یعنی صارفین کی جیب میں کسی طرح پیسہ ڈالنے کا بھی کام نہیں ہوا. سرمایہ کاروں میں مایوسی بڑھنے کے لئے یہ بہت بڑی وجہ تھی.

مزید پڑھیں >>

عام بجٹ: کیا کھویا کیا پایا؟

بھارت کے کسانوں نے آج ہندی کے اخبار کھولے ہوں گے تو دھوکہ ملا ہو گا. جن اخبارات کے لئے وہ محنت کی کمائی کا ڈیڑھ سو روپیہ ہر ماہ دیتے ہیں، ان میں سے کم ہی نے بتانے کی ہمت کی ہوگی کہ کم از کم امدادی قیمت پر ان سے جھوٹ بولا گیا ہے. وزیر خزانہ نے کہا کہ ربیع کی فصل کے دام لاگت کا ڈیڑھ گنا کیا جا چکا ہے. خريف کا بھی ڈیڑھ گنا دیا جائے گا. شاید ہی کسی اخبار نے کسانوں کو بتایا ہوگا کہ اس کے لئے حکومت نے الگ سے کوئی پیسہ نہیں رکھا ہے. ایکسپریس نے لکھا ہے کہ 200 کروڑ کا انتظام کیا ہے. 200 کروڑ میں آپ لاگت سے ڈیڑھ گنا زیادہ امدادی قیمت نہیں دے سکتے ہیں. اس رقم سے اشتہارات بنا کر کسانوں کو ٹھگ ضرور سکتے ہیں.کسانوں کو تو یہ پتہ ہے کہ ان کی معلومات اور مرضی کے بغیر انشورنس کا پریمیم کٹ جاتا ہے. یہ نہیں پتہ ہوگا کہ ان کی پیٹھ پر سوار انشورنس کمپنیوں نے000 10، کروڑ روپے کما لیے ہیں. انشورنس کمپنیوں نے حکومت اور کسانوں سے پریمیم کے طور پر004 22، کروڑ روپے لئے ہیں. انشورنس ملا ہے صرف020 12، کروڑ. یعنی انشورنس کمپنیوں نے کسانوں سے ہی پیسے لے کر000 10، کروڑ کما لیے. ایکسپریس کے ہریش دامودرن لکھتے ہیں کہ دعوی کیا گیا تھا کہ سمارٹ فون، GPS، ڈرون، ریموٹ سینسنگ سے دعوے کی تلفی کریں گے جبکہ ایسا کچھ نہیں ہوتا ہے.

مزید پڑھیں >>

بجٹ 2018: مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے!

بجٹ اجلاس کے افتتاح سے قبل صدر مملکت اور وزیراعظم نے اس دوران تین طلاق کے بل کی منظوری پر زور دیا۔ بڑے بڑے ماہرین چکرا گئے کہ آخر معیشت کا تین طلاق سے کیا تعلق ؟لیکن سیاسی مبصرین کو یہ گتھی سلجھانے میں چنداں دقت محسوس  نہیں ہوئی۔ اس مسئلہ  سےبی جے پی کی پانچوں انگلیاں گھی  اور سرکڑاھائی میں ہے۔ اس میں اگر کانگریس گرم جوشی  دکھاتی  ہے تو بی جے پی ہندو رائے دہندگان کو یقین دلاتی ہے کہ دیکھو کانگریس مسلم نواز ہونے کے سبب تمہاری دشمن ہے اس لیے ہمیں ووٹ دو۔ کانگریس اگر سردمہری کا مظاہرہ کرے تو دیگر مسلم رہنما کانگریس کو مسلم دشمن قرار دیتے  ہیں جس میں بی جے پی کا بلاواسطہ فائدہ ہے۔ کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدھارمیہ بی جے پی اور ایم آئی ایم کے تال میل پر فکرمندی ظاہر  کرچکے ہیں۔ تین طلاق کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اگر اس غیر اہم موضوع  پر بحث میں اجلاس کا زیادہ تر وقت رف ہوجائے تو بی جے پی بجٹ بغیر کسی تنقید و مخالفت کے بہ آسانی پاس ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں >>

روزگار، نوجوان اور انقلاب فلم کا وہ گیت

ایسی خبریں آرہی ہیں کہ حکومت پانچ سال سے خالی پڑے عہدے ختم کرنے جا رہی ہیں. یہ صاف نہیں ہے کہ مسلسل پانچ سال سے خالی پڑے عہدوں کی تعداد کتنی ہے. اول تو ان پر بھرتی کرنا چاہئے تھا مگر جب نوجوان ہندو مسلم ڈبیٹ میں حصہ لے ہی رہے ہیں تو پھر فکر کی کیا بات. یہ بھروسہ ہی ہے کہ جس وقت روزگار بحث کا مدعا بنا ہوا ہے اس وقت یہ خبر آئی ہے.وزارت خزانہ نے 16 جنوری کو مختلف وزارتوں اور محکموں کو ایسی ہدایات بھیج دی ہیں. محکمہ سربراہان سے کہا گیا ہے کہ ایسے عہدوں کی شناخت کریں اور جتنی جلدی ممکن ہو رپورٹ سونپیں.اس خبر نے نوکری کی تیاری کر رہے نوجوانوں کا دل دھڑكا دیا ہے. اب یہ نوجوان کیا کریں گے، کوئی ان کی کیوں نہیں سنتا، ان نوجوانوں نے آخر کیا غلطی کر دی؟ بہت سے امتحانات ہو چکے ہیں مگر جواننگ نہیں ہو رہی ہے. 30 جنوری کو یوپی میں تین تین بھرتیاں منسوخ ہو گئیں. لڑکے اداس اور بیتاب ہیں. رو رہے ہیں. ان کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے.

مزید پڑھیں >>

سرکاری نوکریاں آخر ہیں کہاں؟ (پارٹ: 7)

بھارت میں بے روزگاری کا دھماکہ ہو گیا ہے. جہاں کہیں بھرتی نکلتی ہے، بے روزگاروں کی بھیڑ ٹوٹ پڑتی ہے. یہ بھیڑ بتا رہی ہے کہ بے روزگاری کے سوال کو اب اور نہیں ٹالا نہیں جا سکتا ہے. یہ تمام حکومتوں کے لئے انتباہ ہے چاہے کسی بھی پارٹی کی حکومت ہو، نوجوانوں کے درمیان نوکری کا سوال آگ کی طرح پھیل رہا ہے. مدھیہ پردیش کے مرینا ضلع عدالت میں چوتھی قسم کی نوکری کے لئے بھرتی نکلی ہے. مرینا سے ہمارے ساتھی اوپیندر گوتم نے بتایا ہے کہ صرف 22 عہدوں کے لئے 5300 بے روزگاروں نے درخواست دی تھی. 28 جنوری کو انٹرویو ہونا تھا، باہر اتنی بھیڑ آ گئی کہ پولیس کو مورچہ سنبھالنا پڑا. پولیس کو اس بھیڑ کو ہینڈل کرنے کے لیے ڈنڈے نکالنے پڑے. 200 سے زیادہ پولیس اہلکار لگانے پڑے. دینک بھاسکر نے لکھا ہے کہ سرکاری نوکری کی چاہ میں انجینئر تک چپراسی کے عہدے کے لئے انٹرویو دینے آئے. مرینا، امباه، سبھل گڑھ جورا کی عدالت میں پانی پلانے والی بھرتي، چوکیدار اور ڈرائیور کے 22 عہدوں کے لئے 5500 بے روزگاروں کی اسکریننگ کی گئی. اس عہدے کے لئے تنخواہ صرف 12000 ہے.

مزید پڑھیں >>