آج کا کالم

وزیر اعظم صاحب! گجرات کے وہ 50 لاکھ گھر کہاں ہیں؟

5 سال گزر چکے ہیں. اسی طرح نریندر مودی وزیر اعلیٰ سے وزیر اعظم بن گئے ہیں. 2012 کے مینڈیٹ کے ایک حصے میں یعنی 2012-14 کے درمیان وزیر اعلی اور 2014 کی سے 2017 کے درمیان وزیر اعظم، یعنی وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ دہلی کی سلطنت نے غریبوں کی رہائش کے لئے پیسے نہیں دیے. اگر وہ چاہتے ہیں تو، وہ دو منٹ میں بتا سکتے ہیں،کہ کن لوگوں کو 50 لاکھ گھر ملے ہیں اور وہ گھر کہاں ہیں۔ 30 مارچ، 2017 میں، اکنومکس ٹائمز  میں کولکتہ سے ایک خبر شائع ہویی ہے. اس و قت شہری ترقی وزیر وینکیا نایڈو تھے. اس خبر کے مطابق 2015 میں لانچ ہوئی وزیر اعظم کی رہائشی منصوبہ کے تحت گجرات میں سب سے زیادہ 873 25،  گھر بنائے ہیں. یہ ملک میں سب سے زیادہ ہے. آپ سوچئے، 2015 سے 2017 کے درمیان 873 25، گھر بنتے ہیں تو اس شرح سے کیا 2012 سے 2017 کے درمیان 50 لاکھ گھر بنے ہوں گے؟ پچاس لاکھ چھوڑیے، پانچ لاکھ بھی گھر بنے ہیں؟

مزید پڑھیں >>

قلب اور کیفیاتِ قلب

جو لوگ دل و دماغ سے کام نہیں لیتے، دیکھنے میں تو جانوروں سے وہ مختلف نظر آتے ہیں۔ ان کا قد سیدھا ہے، چار پیر کی جگہ دو پیر سے چلتے ہیں، ہاتھوں سے چیزوں کو پکڑتے اور استعمال کرتے ہیں۔ بے زبان نہیں، منہ میں زبان رکھتے ہیں، لیکن ذہن و مزاج اور رویہ کے لحاظ سے جانور ہی ہیں۔ جانور کو زندہ رہنے، کھانے پینے اور جنسی خواہش کی تکمیل اور نسل کَشی سے آگے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ یہ بھی ان ہی امور کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا: بل ہم اضل، (بلکہ وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں )۔ اس لیے کہ جانور کوعقل نہیں ہے، لیکن یہ باعقل و باخرد جانور ہیں۔ جانور سے قیامت میں باز پرس نہ ہوگی کہ اس نے کیا دیکھا، کیا نہیں دیکھا، قلب و دماغ سے کام لیا یا نہیں لیا، لیکن انسان کو ان سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس وجہ سے کہا گیا کہ یہ غفلت کی زندگی گزار رہے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اونٹ پہاڑ کے نیچے!

مودی جی پر یہ برا وقت کیوں  آیا اس کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ جو طلباء سال بھر محنت کرتے ہیں ان کو امتحان کے وقت کچھ خاص نہیں کرنا پڑتا بس تھوڑا بہت اعادہ کیا اور امتحان گاہ میں جوش و خروش کے ساتھ داخل ہوگئے مگر  جو طالب علم سال بھر کلاس میں جانے کے بجائے  باغوں میں گلچھرے اڑاتے پھرتے ہیں یعنی دنیا بھر کی سیاحت پر سرکاری خزانہ لٹاتے ہیں امتحان کی قربت ان کے ہاتھ پیر پھلانے لگتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کسی طور امتحانی تاریخ ملتوی ہوجائے۔ تیاری کے  لیےدوچار دن اضافی مل جائیں اور مزید پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیں۔ کہیں سے پیپر لیک ہوجائے  یعنی دشمن کے کیمپ سے دوچار اہم رہنماوں کو خرید کر اپنے ساتھ کرلیا جائے یا نقل مارنے کی یعنی ووٹنگ مشین  کے ساتھ کھلواڑ کا موقع نکل آئے۔ بی جے پی کو گجرات میں 22 سال کا موقع ملا لیکن ان لوگوں نے ڈرامہ بازی کے سوا کچھ نہیں کیا۔ مودی جی نے مرکز کی کانگریسی حکومت کو کوس کوس کر اپنا الو سیدھا کیا لیکن اب مرکز میں الو بول رہا ہے اس لیے مشکل کھڑی ہوگئی ہے۔ ادھو ٹھا کرے یہی طنز کیا ہے کہ اگر گجرات نے ایسی ترقی کرلی ہے تو الیکشن سے قبل یہ پتھر پہ پتھر رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟

مزید پڑھیں >>

سوشل میڈیا: غور و فکر کے چند پہلو

ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک مثبت اور دوسرا منفی، سوشل میڈیا بھی اس کلیہ سے مستثنی نہیں ہے۔ سوشل میڈیا ذرائع ابلاغ کی دنیا میں ایک انقلاب ہے، آج دنیا  کی رائے عامہ بنانے میں اسکا انتہائی اہم کردار ہوتا ہے، یہاں تک کہ حکومتوں کو بنانے اور بگاڑنے، مظلوموں کو انصاف دلانے اور حکومتی اداروں کو جوابدہ بنانے میں بہت موثر  ثابت ہورہی ہے، سوشل میڈیا کی خبریں اب مین اسٹریم میڈیا کی بھی زینت بنتی ہیں بلکہ بعض میڈیا ہاؤسز تو سوشل میڈیا کو اپنی معلومات کا ذریعہ بناتے ہیں اور اس کی بنیاد پر رپورٹیں تیار کرتے ہیں ، اب کوئی بڑا افسر ہو یا رہنما، وہ اس بات سے خوف زدہ رہتا ہے کہ کب اسکی بدعنوانی کا پردہ فاش ہوجائے اوراسکے منصب اور شہرت کی بینڈ بج جائے، سماجی وسیاسی مسائل سے لیکر تجارت و معیشت ٹک  ہر جگہ سوشل میڈیا کی جلوہ گری ہے، مختلف علمی وفکری، ادبی وتحقیقی، سیاسی وسماجی اور معاشی وتجارتی ادارے سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنے پروڈکٹس اور افکار ونظریات کی نشر و اشاعت کرتے ہیں اور اپنے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

پاکستان کا تاریخی اور سیاسی منظر نامہ

  پاکستان کے بارے میں 2009ء میں ڈاکٹر اسرار احمد نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں ایسا لگتا ہے کہ اسلام سے بے وفائی کی وجہ سے جو پورے ملک میں شریعت شکنی، بے حیائی، بے پردگی اور بدعنوانی کا راج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عذاب الٰہی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سیاستداں ، عوام و خواص سب ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں جو عذاب الٰہی کی ایک علامت ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کی امت پر عذاب کا فیصلہ کرلیا تھا مگر عذاب کو ٹال دیا۔ پاکستان میں اگر اللہ کے عذاب کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اسے اللہ اپنی رحمت بے پایاں سے ٹال بھی سکتا ہے۔ پاکستان کلمہ حق پر حاصل کیا تھا مگر کلمہ باطل کا مظہر ہے۔ جو بے حیائی، بے شرمی، درندگی اور بدعنوانی ہے۔ اس سے تو ڈاکٹر صاحب کی باتوں میں صداقت معلوم ہوتی ہے۔ پاکستان کی عدلیہ گزشتہ کئی سال سے مشرف کے وقت سے جس طرح Active اور عدل و انصاف کا مظاہرہ کر رہی ہے اس سے پاکستانی کچھ پر امید ہوئے ہیں ۔ دیکھنا ہے کہ پاکستانیوں کی امید بر آتی ہے یا نہیں؟

مزید پڑھیں >>

فتنۂ ارتداد: ایک لمحۂ فکریہ

 مسلم معاشرہ میں ارتداد کی ایک صورت وہ ہے جو بین المذاہب شادیوں کی شکل میں عام ہے، مسلم لڑکیوں کے غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادی رچانے کے معاملات بھی آئے دن بڑھتے جارہے ہیں ، کالجوں کا مخلوط ماحول، فحاشی وبے حیائی کا طوفان، موبائل کا آزادانہ استعمال اور دینی واخلاقی شعور کی کمی اس قسم کی صورت حال پیدا کررہی ہے، اس حوالے سے بعض فرقہ پرست تنظیمیں بھی کافی سرگرم ہیں، مسلم لڑکیوں کو دام محبت میں پھانسنے کے لیے غیر مسلم لڑکوں کو باقاعدہ ٹرینڈ کیا جارہا ہے، کالجوں میں زیر تعلیم تربیت یافتہ غیر مسلم لڑکے مذہبی مہم کے طور پر اس کام کو انجام دے رہے ہیں، اسی طرح لوجہاد کا ہوا کھڑا کرنے کے لیے غیر مسلم لڑکیوں کو بھی استعمال کیا جارہا ہے، تربیت یافتہ غیر مسلم لڑکیاں مسلم لڑکوں سے فون پر ربط کرکے انہیں کسی مقام پر ملاقات کے لیے مدعو کرتی ہیں ، جہاں قریب ہی اس کے کچھ غیر مسلم ساتھی روپوش رہتے ہیں ، مسلم لڑکا جونہی ملاقات کے لیے پہونچتا ہے اس پر ہلہ بولاجاتا ہے، اور شور مچایا جاتا ہے کہ یہ لڑکا غیر مسلم لڑکی کے ساتھ تعلقات بنارہا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اس قسم کی سازشوں سے چوکنا رکھیں، اور مخلوط ماحول کی تباہ کاریوں سے انہیں بچائیں۔

مزید پڑھیں >>

ترقی کے ماتھے پرداغ

ہمارے ملک ہندوستان کاشمارترقی کی راہ پرگامزن ممالک میں ہوتاہے؛ لیکن زمینی حقائق کی روشنی میں اس کی ترقی کامدارہتھیاروں کے تجربے، سٹلائٹس کی اڑان، بری وبحری افواج کی تعداد،میٹروٹرینوں کی رفتارپرہے اوراب حالیہ ایام میں پلٹ ٹرین کے معاہدوں، نوٹ بندی اورجی ایس ٹی کے تانہ شاہی فرمان پرہے؛ لیکن کیاکسی ملک کی ترقی صرف انہی چیزوں کے گردگھومتی ہے؟ یا کچھ اوربھی امورایسے ہیں، جن کی رعایت ملکی ترقی کے لئے ضروری ہوتی ہے؟ اگرآپ غورکریں تومعلوم ہوگا کہ مذکورہ ساری چیزوں کی سوئی مادیت کے اردگردگھومتی نظرآتی ہے، اس لحاظ سے دیکھاجائے توبجا طور پرکہا جاسکتا ہے کہ ہمارے ملک کی توجہ (اگر ان کوترقی کہہ لیاجائے تو) صرف اورصرف ایک پہلوپرہے؛ حالاں کہ ترقی کے ایک سے زائد پہلوہوتے ہیں اورجب تک ان تمام پہلوؤں میں خاطرخواہ ترقی نہ ہو، ملک کے اندرترقی ہوہی نہیں سکتی، خواہ لاکھ ترقی کاہم ڈھنڈھوراپیٹ لیں، آیئے! ہم بھی ایک نظر ترقی کے ان پہلوؤں پرڈالیں، ہوسکتاہے کہ ہم ملکی ترقی کے ماتھے پرلگے کلنگ کودھوکر حقیقی ترقی کی راہ پراسے لاکھڑاکرسکیں۔

مزید پڑھیں >>

موجودہ حالات میں اسلام کی رہ نمائی

 اس ملک میں ہم بیس کروڑ کے قریب ہیں۔ جب اس کا ذکر آتا ہے تو سننے والے حیرت کے ساتھ سنتے ہیں۔ تمام عرب ممالک کی آبادی اس کی ایک چوتھائی نہیں ہے۔ لیکن یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ ہم بیس ٹکڑیوں میں، بلکہ سیکڑوں ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ تمارا وزن اتحاد میں ہے۔ اگر تمہارا اتحاد باقی نہیں رہے گا تو تم ختم ہو جاؤ گے۔ جن مسائل پر ہم لڑ رہے ہیں، نہ دین میں ان کی بڑی اہمیت ہے اور نہ وہ دنیا ہی میں ہماری فلاح و ترقی کا ذریعہ ہیں۔ ہم سب کا اتفاق ہے کہ پانچ وقت کی نماز فرض ہے، بیش تر تفصیلات میں بھی اتفاق ہے۔ نماز کے ادا کرنے کے طریقے ہی میں کسی قدر اختلاف ہے۔ نماز اس طرح نہیں اس طرح ادا کی جائے۔ کیا کوئی عالم یافقیہ کہتا ہے کہ میں نے جس طرح نماز  پڑھی ہے، اس سے نماز ادا نہیں ہوئی، اس نماز کو دہرانا چاہیے۔ کوئی بھی ہر گز ایسا نہیں کہے گا۔ پھر بھی ہم لڑ رہے ہیں۔ اسی نوع کے اور بھی مسائل ہیں۔ قرآن کی ہدایت ہے کہ اتحاد کی بنیاد صرف اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہونی چا ہئیے۔ اللہ کا حکم آگیا،سر اطاعت خم کر دیا۔ اللہ کے رسول کی بات آگئی، اپنے اختیار سے دست بردار ہو گئے۔

مزید پڑھیں >>

گجرات: الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

گجرات تو وزیر اعظم کا گڑھ ہے اس لئے اسمبلی انتخابات کی پوری مہم کا ذمہ عملا ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ان ہی کے سرہے۔ شاید یہ ملک کے پہلے وزیر اعظم ہوں گے جو وزارت عظمیٰ کی انتخابی مہم،  اس میں کامیابی اور پھر وزیر اعظم بننے کے بعد سےتسلسل کے ساتھ یکے بعد دیگرے اب تک انتخابی مہم کی ہی حالت میں ہوں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جائے گا۔ گجرات میں ان کے تعلق سے تن، من، دھن سے لگنے کی اصطلاح پورے طور پر صحیح ثابت ہورہی ہے۔ اس وجہ سے کہ ایک عرصہ سے اس پر ان کی پوری توجہ مرکوز ہے۔ لیکن تمام تر توجہ اور پوری کوشش کے باوجود  جس طرح کی خبریں آرہی ہیں انہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بار انتخابی حالات بی جے پی کے لئے سازگار نہیں ہیں ۔ اس کا اندازہ  اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ دنوں ایک خبر یہ آئی تھی کہ اس پارٹی نے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ کو،  جو اپنی زبان اور بیان کی وجہ سے ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں ، ان کی پارٹی 'اگریسیو ہندتو' کو ہوا دینے اور اس سے کم از کم حالیہ اسمبلی انتخابات میں فائدہ اٹھانے  اور آئندہ پارلیمانی انتخابات  کے لئے بھی ماحول تیار کرنے کے لئے استعمال کرے گی۔ عملا کوشش بھی کی گئی۔

مزید پڑھیں >>

سماجی و سیاسی اصلاح کی دینی اساس

ہمارے ملک کا معاشرہ متعدد اخلاقی کمزوریوں کا شکار ہے۔ خیانت و بددیانتی، اباحیت پسندی اور بے راہ روی، اوہام پرستی و تنگ نظری، حرص و ہوس اور مادہ پرستی جیسے سنگین امراض کے علاوہ کمزور افراد و طبقات پر ظلم و ستم اور اُن کا استحصال آج کے سماج کی عام روش ہے۔ سماج سے ہٹ کر سیاسی نظام پر نظر ڈالی جائے تب بھی اطمینان کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ سیاسی نظام میں ایسی بنیادی خرابیاں موجود ہیں، جنھوں نے اس کو خیروفلاح کے بجائے شر اور فساد کا خادم بنادیا ہے۔ غیر منصفانہ قوانین، غیر معتدل پالیسیاں، قانون کے نفاذ میں جانب داری، طاقتور عناصر کی قانون کی گرفت سے آزادی، حقوقِ انسانی کی پامالی اور جرائم پیشہ وسرمایہ دار طبقے کی مطلق العنانی موجودہ سیاسی نظام کی چند نمایاں خصوصیات ہیں۔ اس صورتحال میں امتِ مسلمہ کے اُس جز کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، جس کا وطن ہندوستان ہے۔ امتِ مسلمہ کی مجموعی حیثیت یہ ہے کہ اُس کو پورے انسانی معاشرے کی عام اصلاح کے لیے برپا کیا گیا ہے۔ چنانچہ امت کا کوئی حصہ جو دنیا کے کسی خاص خطے میں رہتا ہو، اُس کو بالخصوص اُس خطے کے اندر اپنی اصلاحی کوششیں انجام دینی ہوں گی۔ یہ اُس کا فطری دائرہ کار ہے۔

مزید پڑھیں >>