آج کا کالم

اقتصادی سروے: جو کہا ہے اس کی تو بحث ہی نہیں ہے!

اقتصادی سروے کو صرف اسی نظر سے مت دیکھیں جیسا کہ اخباروں کی ہیڈلان دکھاتی ہیں. اس میں آپ شہریوں کے لئے پڑھنے اور سمجھنے کے لئے بہت کچھ ہے. دکھ ہوتا ہے کہ ہندوستان جیسے ملک میں اعداد و شمار کی قابل رحم حالت ہے. یہ اس وجہ سے ہے تاکہ لیڈر کو جھوٹ بولنے میں سہولت رہے. کہیں آنكڑے سولہ سال کے اوسط سے پیش کئے گئے ہیں تو کہیں آگے پيچھ کا کچھ پتہ ہی نہیں ہے. آپ نہیں جان پاتے کہ کب سے کب تک ہے. اہم اقتصادی مشیر نے مانا کہ بھارت میں روزگار کو لے کر کوئی قابل اعتماد اعداد و شمار نہیں ہیں. پھر بھی جھوٹ بولنے والے لیڈر کبھی پانچ کروڑ، کبھی سات کروڑ روزگار دینے کا دعوی کر دیتے ہیں.

مزید پڑھیں >>

جب کروڑوں کسانوں نے مجھ سے پوچھا…!

آج دیر تک سویا. خواب میں کروڑوں کسان مجھے ٹویٹ کر رہے تھے. پوچھ رہے تھے کہ میں کسانوں کے مسائل پر کیوں خاموش ہوں. ادھر کچھ لوگ گالی دے رہے تھے کہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے مسئلہ پر کیوں خاموش ہوں. ادھر کچھ لوگ ٹرول کر رہے تھے کہ آپ بنگال کی نوکری کا مسئلہ نہیں دکھا رہے، بہار جھارکھنڈ کا دکھا رہے ہیں. مودی جی کو بدنام کر رہے ہیں.کسانوں سے کہنا چاہا کہ آپ ہندوستان کے اب تک کے سب ناکام وزیر زراعت سے کیوں نہیں پوچھتے ہیں زراعت کے بارے میں. رويش کمار کو کیوں تلخی بھرا میسیج بھیجتے ہیں. نوجوانوں سے کہنا چاہا کہ آپ ہندوستان کے وزیر اعظم سے کیوں نہیں پوچھتے ہیں، اپنے ریاستوں کے وزرائے اعلی سے آپ کیوں نہیں پوچھتے ہیں کہ انتخاب کمیشن کے ذریعہ انہیں کیوں بے وقوف بنایا جا رہا ہے؟ تناؤ والے ٹرول سے کہنا چاہا کہ آپ اپنی ریاست کے وزیر اعلی سے پوچھئے کہ کیا ہو رہا ہے. کیوں ہو رہا ہے. کیوں کبھی اِس شہر کبھی اُس شہر فساد پھیل رہے ہیں.

مزید پڑھیں >>

کیا پراسرار پہیلی بن کر آنے والا ہے عام بجٹ؟

بجٹ پیش ہونے میں کچھ ہی وقت بچا ہے. اس بار عام بجٹ کے پہلے اس سے امیدوں پر زیادہ بحث نہیں ہو پائی. ورنہ مہینے بھر پہلے مختلف علاقوں سے ان کی امیدوں کا اظہار شروع ہو جاتا تھا. بہرحال بجٹ پیش ہونے کے پہلے ہمارے پاس جتنا وقت بچا ہے اس میں کم از کم بجٹ کا جائزہ لینے کے لئے کچھ اہم باتیں پہلے سے سوچ کر رکھ سکتے ہیں. مثلا اس بار کا بجٹ اس حکومت کے دور کا آخری مکمل بجٹ ہوگا. یعنی موجودہ حکومت کے دور کے کام کاج کے جائزہ کا آخری موقع ملے گا. ظاہر ہے کہ حکومت چار سال کی اپنی کامیابیوں کو دکھانے کے لئے آنكڑے بازي کے سارے ہنر لگا دے گی. اسی لیے بجٹ کے جائزہ کا کام ہمیشہ سے زیادہ مشکل اور چیلنج سے بھرا ہوگا.کچھ بھی ہو لیکن یہ طے ہے کہ اس بار کا بجٹ اتنا زیادہ پیچیدہ نظر آسکتا ہے کہ اسی روز اس کا جائزہ لینا مشکل ہو جائے. اسی لیے بجٹ کا جائزہ لینے کے لئے پہلے سے ہی، اور کچھ زیادہ محنت سے ہوم ورک کرکے رکھنے کی ضرورت ہے. بالکل اس طرح جیسے پہیلیوں کو بوجھنے کے لئے پہلے سے مشق کی جاتی ہے.

مزید پڑھیں >>

اچھا شہری بننا ہی آئین کا احترام ہے

26 جنوری مبارک. جمہوریت آباد رہے. لوک بھی آباد رہے، صرف تنتر ہی تنتر نہ رہے. یہ آزادی اس لئے بھی ہے کہ ہمارے پاس ایک خوبصورت آئین ہے. اس کتاب کے ذریعہ ہم نے ایک جھٹکے میں سینکڑوں سال سے روایات کے نام پر موجود بہت سے کباڑ اپنے آپ سے الگ کر لیا ہے. ہم برابری، مساوات اور آزادی اظہار رائے  کے خواب کی راہ پر چل نکلے ہیں. بہت کچھ حاصل نہیں ہو سکا ہے مگر اتنا بھی کم حاصل نہیں ہے کہ ہم جشن نہ منا سکیں.یہ جشن اس لئے بھی مناتے رہنا ہے تاکہ ہم سب کو آئین کے قواعد یاد رہیں. آج پھر سے ہم کمزور ہونے لگے ہیں. خاموش رہنے لگے ہیں. افسوس اس وقت بھارت میں تھرڈ کلاس لیڈر وزیر اعلی بن گئے ہیں. یقیناً تھرڈ کلاس ہیں. اگر ان کے چہرے پر ذات اور مذہب کا پاکھنڈ نہ لیپا گیا ہوتا تو یہ اپنا دستخط کرنے کے بھی قابل نہیں ہیں. آپ ان کی تقاریر میں موجود حماقتوں کو پہچان لیتے اور ان کے جلسوں سے اٹھ کر چلے جاتے.

مزید پڑھیں >>

آخر غیر ملکی میڈیا نے کیوں نظر انداز کر دی مودی کی تقریر؟

 سويذرلینڈ کے داووس میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی افتتاہی تقریر کو ہندوستانی میڈیا نے نمایاں طور دکھایا ہے. یہ اور بات ہے کہ کسی نے ان کی تقریر کے تضادات کو چھونے کی ہمت نہیں کی. اگر بھارت کے لئے داووس میں بولنا اتنا اہم تھا تو کیا آپ نہیں جاننا چاہیں گے کہ دنیا کے اخبارات نے اس تقریب کو کیسے دیکھا ہے. آخر بھارت میں جشن اسی بات کا تو من رہا ہے کہ دنیا میں بھارت کا ڈنکا بج گیا.کیا بھارتی میڈیا کی طرح غیر ملکی میڈیا بھی وزیر اعظم مودی کی تقریر سے گدگد تھی؟ آپ ان کی ویب سائٹ پر جائیں گے تو مایوسی ہاتھ لگے گی. اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ غیر ملکی میڈیا بھارتی میڈیا کی طرح صرف اپنے وزیر اعظم کی تقریر تک ہی گدگد ہے. ان کی ویب سائٹ پر دوسرے وزرائے اعظم کی تقریر کی بھی بحث ہے. اس حساب سے ہندوستان کے وزیر اعظم کی تقریر کا ذکر کم ہے. ہے بھی تو سطحی انداز سے.

مزید پڑھیں >>

پدماوت تنازعہ: ملک میں صرف ایک ہی سینا ہے، ہندوستانی سینا

احمد آباد اور گُروگِرام کی تصاویر دل دہلا دینے والی ہیں. سنجے لیلا بھنسالی کی متنازعہ فلم 'پدماوت' کی مخالفت میں سڑکوں پر اترے مٹھی بھر غنڈوں نے آتش زنی کرکے پورے ملک کی تصویر کو شرمسار کر دیا ہے. مال میں حملہ، گاڑیوں کو جلانا اور بسیں پھونک دینا، آخر احتجاج کا یہ کون سا طریقہ ہے؟ یہ کیسی مخالفت ہے اور کس بات کی مخالفت ہے؟ بغیر فلم دیکھے پدماوت کے بارے میں یہ تاثر بنا دیا گیا ہے کہ اس میں راجپوتوں کے عزت، جرأت اور قربانی کو کم کرکے دکھایا گیا ہے. رانی پدماوتي کے تاریخی کردار کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا بھی الزام لگایا گیا. لیکن ابھی تک جتنے لوگوں نے یہ فلم دیکھی ہے ان تمام لوگوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے. فلم دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ لوگوں کی رائے کے برعکس پدماوت میں راجپوتوں کی عزت، فخر، جرأت اور قربانی کی ستائش کی گئی ہے. ایسا کہنے والوں میں صحافی، فلسفی اور سماجی شعبے میں سرگرم اہم لوگ شامل ہیں. اس کے باوجود نہ صرف مخالفت جاری ہے بلکہ یہ مخالفت تشدد کی شکل اختیار کرتی جا رہا ہے.

مزید پڑھیں >>

یوم جمہوریہ اور جمہوریت کا بدلتا منظر نامہ

حکومت نے بہت چالاکی سے پہلے جمہوریت کے بہت اہم ستوں رابطہ عامّہ کو اپنا ہمنوا بنانے کے لئے ملک کے میڈیا کو دولت کے انبار پر بٹھا کر اس صحافتی گویائی اور سچائی کے اظہار کو سلب کر لیا۔ ان کی دولت کے آگے میڈیا، اپنے فرائض بھول ہی چکا اور یہ بھی بھول گیا کہ صحافت، تجارت نہیں ہوتی بلکہ عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ عدلیہ کو جس طرح یرغمال بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، اس کے متعلق دبی دبی زبان میں لوگ اظہار کر رہے تھے، لیکن سپریم کورٹ کے چار معزز ججوں نے عوام کے سامنے آ کر جس طرح کی باتیں، بہت ہی دکھی من کے ساتھ رکھی ہیں، ان باتوں نے تو ایک طوفان ہی لا دیا ہے۔ یعنی اب یہی کہا جا سکتا ہے کہ اپنے عزم، ارادے، ایجنڈہ اور خواب کو پورا کرنے کے لئے سنگھ کے لوگ کسی حد تک جا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ملک کے اندر جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ بہر حال ملک کی     سا  لمیت کے لئے کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں ہے۔ جس طرح معصوم لوگوں کے ذہن کو پراگندہ کیا جا رہا ہے، وہ ملک کے مستقبل کے راستے میں کانٹے بو رہے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

روزگار کے اعداد و شمار کا جشن

ہر کوئی جھوٹ پر ناچ رہا ہے اور ہمارا نوجوان بھی، جس کے دماغ میں نظریے کے نام پر کچرا بھرا جا رہا ہے. جب نوجوان وزیر سے ٹوئٹر پر جواننگ کے بارے میں پوچھتے ہیں تو انہیں بلاک کر دیا جاتا ہے. آپ سمپل سوال کرو. پوچھو کہ وزیر جی! اپنے محکمہ کے آنکڑے ٹویٹ کیجیے نا. دوسرے کی اسٹڈی پر جشن منانا بند کیجیے. تمام حکومتوں کے منتخب کمیشن نوجوانوں کو الو بنا رہے ہیں. جنہیں میڈیا ہندو مسلم ٹاپک دکھا کر دن میں بھی جگائے رکھتا ہے.ہر جگہ روزگار نکال کر کئی سالوں تک بھرتی کے عمل کو پورا نہیں کیا جا رہا ہے. یہ ہماری سیاست کا ایک کام یاب فارمولا بن گیا ہے. بے روزگار کو روزگار مت دو، روزگار کا خواب دو. آپ نوجوانوں کو الو بنائیں، نوجوان الو بنیں گے. بھارت کے نوجوانوں کا اگر یہی معیار ہے تو پھر آپ سیاست میں جائیے، ان کے دماغ میں زہر بھریے، کام کا جھوٹا خواب دکھائیے اور جھوٹے اعداد و شمار پر ڈانس کیجیے. جو بے روزگار ہے، وہ بھی تالی بجائے گا.

مزید پڑھیں >>

نیوٹن اور ڈارون کے بعد اب باری ایڈیسن کی

راجستھان کے وزیر تعلیم واسودیو دیوناني نے کہا ہے کہ کشش ثقل کے اصول تو نیوٹن سے ہزاروں سال پہلے برهمہ گپت دوم نے دے دیے تھے. انہی وزیر نے کسی ریسرچ کو اٹھا کر کہہ دیا کہ گائے ہی وہ واحد جانور ہے جو سانس چھوڑتی ہے تو آکسیجن چھوڑتی ہے. باقی سارے لوگ کاربن ڈائی آكسائڈ چھوڑتے ہیں. وزیر جی اگر تین چار لاکھ گائیں لے کر دہلی آجائیں، ان سے آکسیجن چھڑوا دیں تو یہاں کی آلودگی دور ہو جائے گی.امید ہے کہ اسرو کے سائنٹسٹ، نیوٹن کی دی ہوئی تھیوری، کشش ثقل کو چھوڑ کر برهمہ گپت کے فارمولے کے مطابق بھی کبھی راکٹ لانچ کریں گے. اسرو کو بھی کچھ کہنا چاہیے تھا. برهمہ گپت دوم کے بارے میں میں بھی پڑھنا چاہوں گا. کیا کوئی فارمولا دیا تھا، 9.8 بتایا تھا، یا صرف کہا تھا کہ کشش ہے. جاننے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اتنی بڑی کھوج ہمارے وزیر نے کر دی ہے اور انہیں بال بہادروں کے ساتھ بہادری کا ایوارڈ نہیں دیا جا رہا ہے، میں اس کی مخالفت کرتا ہوں.

مزید پڑھیں >>

کیا AAP کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے؟

فائدہ کے عہدے کے پیچھے ماڈل تصور یہ تھا کہ ممبر اسمبلی دوسرے کام نہ کریں کیونکہ اس کا کام ایوان میں ہونا اور عوام کی آواز اٹھانا ہے. وہ حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہونا چاہئے. ورنہ وہ عوام کی آواز نہیں اٹھا پائے گا. پر کیا یہ عملی طور پر بھی لاگو ہوتا ہے. اول تو اسمبلیوں کے اجلاس بھی بہت کم دنوں کے ہوتے ہیں. کیا یہ اخلاقی جرم نہیں ہے. یہی نہیں، ایم ایل اے ایوان میں وهيپ کی بنیاد پر اپنی پارٹی کے لئے ووٹ کرتا ہے. وہ عوام کا نمائندہ کاغذ پر ہوتا ہے مگر ووٹ پارٹی کے وهيپ کے حساب سے ہوتا ہے. پھر آفس آف پروفٹ کا تصور کا کیا مطلب رہ جاتا ہے. آپ خود بھی سوچئے. ایک بار پانڈی چیري کے میئر کے عہدے پر ممبر اسمبلی کی تقرری ہو گئی. اسے الیکشن کمیشن نے آفس آف پروفٹ سمجھا کیونکہ کئی طرح کے بھتے ملتے تھے. مگر اسے آفس آف پروفٹ نہیں مانا گیا کیونکہ میئر کا عہدہ حکومت کے کنٹرول میں نہیں آتا تھا. مجموعی طور پر آفس آف پروفٹ کی کوئی ایک درست تشریح نہیں ملتی ہے.2006 میں شیلا دکشت نے کانگریس کے 19 ممبران اسمبلی کو کئی قسم کے عہدے دیے. پارلیمانی سیکرٹری سے لے کر ٹرانس جمنا ایریا ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیئرمین، وائس چیئرمین کے طور پر. تقرری کے بعد الیکشن کمیشن نے 19 ممبران اسمبلی کو آفس آف پروفٹ کا نوٹس بھیج دیا. شیلا دکشت اپنی حکومت بچانے کے لئے ایک بل لے آئیں. 14 دفاتر کو آفس آف پروفٹ کے دائرے سے باہر کر دیا.

مزید پڑھیں >>