آج کا کالم

ٹی وی چینلوں کے مباحثوں کا بائیکاٹ: کیا یہی مسئلے کا حل ہے؟

اس تناظر میں دارالعلوم دیوبند کی یہ اپیل کہ مسلم مسائل پر ہونے والے مباحثوں میں مسلمان شریک نہ ہوں، بڑی حد تک درست اور وقت تقاضا ہے۔ اس سے مسلم مسائل پر ہونے والے مباحثوں کی شرح میں کسی حد تک کمی ضرور آئے گی۔ لیکن کیا یہی مسئلے کا حل ہے؟ مسئلے کا ہرگز یہ حل نہیں ہے، کیونکہ مسائل تو علی حالہ باقی رہیں گے۔ اس سے چینل بند تو نہیں ہوجائیں گے اور نہ ہی نام نہاد مسلم نمائندے ان مباحثوں میں شریک ہونے سے باز آئیں گے۔

مزید پڑھیں >>

جعلی گؤ ركشكو کے بہکاوے میں آنے سے پہلے!

جودھ پور کے باڑ میر روڈ پر بجواڑ گاؤں میں یہ گوشالا ہے. 2004 سے چل رہی اس گوشالا کو مولانا آزاد اسکول کے آپریٹر چلاتے ہیں. آس پاس کے دیہات میں جب گایے بیمار ہو جاتی ہیں، لاچار ہو جاتی ہیں اور دودھ دے سکنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی تو لوگ چھوڑ دیتے ہیں. اس لیے نہیں کہ اس وقت انہیں گایوں سے محبت نہیں رہ جاتی، اس لئے بھی گائے پالنے والے بیمار اور بوڑھی گائے خرچہ نہیں اٹھا سکتے ہیں. لہذا ویکسین لگا کر چھوڑ دیتے ہیں. کچھ لوگ تو قصایی کو فروخت کرتے ہیں، مگر بہت سے لوگ گائے کو فروخت کرنے کی ہمت نہیں جٹا پاتے ہیں. لہذا ایسی گایوں کو عتیق محمد صاحب اپنی گوشالا میں لے آتے ہیں. یہاں 200 سے زائد گائیں ہیں. سب کی سب بیمار اور لاچار. ان کے علاج کے لئے ڈاکٹر ہیں اور دور دراز کے گاؤں میں جاکر علاج بھی کروا دیتے ہیں. عتیق محمد نے بتایا کہ وہ اسکول بھی چلاتے ہیں، جہاں تمام کمیونٹی کے بچے پڑھتے ہیں. یہی نہیں، عتیق احمد کی گوشالا میں بیمار گائے کا نام بھی رکھا جاتا ہے. گنگا، جمنا، خیال، آنندی، انجلی، اجوڑي، گیتا، موڈكي، كالكي، انوپڑي، دھولكي، كچوڑي، سیتا، لکشمی. عتیق کی گوشالا میں گایوں کے یہ نام ہیں. ایک گائے کا نام سلطان اور ممتاز بھی ہے. عتیق محمد نے کہا کہ وہ احسان نہیں کر رہے بلکہ اپنا فرض ادا کر رہے ہیں. ان گوشالا گیٹ بند نہیں ہوتا اور گائیں باندھی نہیں جاتی. کیونکہ ڈیم دینے سے گائے کیچڑ میں دیر تک رہتی ہے اس سے اس کے کھر یعنی پاؤں خراب ہو جاتے ہیں اور کھڑی نہیں رہ پاتی ہے.

مزید پڑھیں >>

الور: وہی قتل بھی کرے ہے، وہی لے ثواب الٹا

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے یوم تاسیس پر رام نومی کے دن پارٹی کے رہنماوں اور کارکنوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’فخر‘ کی بات ہے کہ ملک کے تمام طبقوں نے پارٹی پر اعتماد کیا ہے۔ان کےدیگر دعووں کی طرح یہ بھی ایک کھوکھلادعویٰ ہے لیکن اگر درست مان لیا جائے تو انہیں بتانا ہوگا کہ بی جے پی نے ملک کے تمام طبقات خصوصاً مسلمانوں سے اعتماد شکنی کیوں کی؟ جس وقت یہ بیان نشر ہورہا تھا ذرائع ابلاغ پر راجستھان کے الور میں گئو رکشک غنڈوں کے ذریعہ میوات کے پندرہ لوگوں کے زدوکوب کیے جانے کی خبر نشر ہورہی تھی جن میں سے55 سالہ پہلو خان اسپتال میں دم توڑچکے تھے۔سوشیل میڈیا کی ویڈیومیں 5 لوگ دوافراد کو زدوکوب کرتے نظر آتےتھے ۔ خونخوار بھیڑیوں کی کھلے عام سفاکی سے بے نیاز بے حس عوام شرپسندوں کی حامی تھی ۔ سبزی خور حیوانوں کی یہ حرکت گوشت خوری کے خلاف سارے پروپگنڈے کو جھٹلا رہی تھی۔

مزید پڑھیں >>

گؤ رَکشا تو ہو جائے گی لیکن ہماری رَکشا کون کرے گا؟

انسان صدیوں سے مذہب کے نام پر مر مٹنے کو تیار رہا ہے. کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ مذہب آخر ہے کیا. مذہب ایک وقت میں ترقی پذیر تہذیبوں کے ذریعے بنائے گئے کچھ شرائط ہی تو ہوں گے، تو انہیں ایک سماجی ڈھانچے میں، یکساں اور محفوظ طریقے سے رہنے کا سہارا دیتے ہوں گے. ہر تہذیب، ہر بستی نے اپنے لئے کچھ شرائط برقرار ہوں گے. پر وقت کے ساتھ ساتھ وہ مذہب میں تبدیل ہوئے ہوں گے. ہو سکتا ہے کہ میری سوچ غلط ہو، لیکن ذرا سوچئے معاشرے کے ان قوانین کا کیا فائدہ جو سماج کی بنیاد انسان کو، اس کی انسانیت کو ہی تباہ کر دیں. کچھ دقیانوسی تصورات، رواج، مذاہب کے پیچھے ہم یہ کیوں بھولیں کہ مذہب انسان کے لئے ہے، انسان مذہب کے لئے نہیں.

مزید پڑھیں >>

کیا گائے کے نام پر الور کا واقعہ  آخری ہوگا؟

پہلو خان ​​کو جس گاڑی سے اتار کر دوڑایا گیا اسے ارجن نام کا ڈرائیور چلا رہا تھا. کہا جا رہا ہے کہ ہجوم نے اس کا نام پوچھ کر چھوڑ دیا. اب اگر گائے کی اسمگلنگ جرم ہے تو کیا ارجن کے لئے نہیں ہے. کیا ارجن کو گائے کی اسمگلنگ کی چھوٹ ہے؟ کم سے کم ارجن سے پوچھ گچھ تو ہونی ہی چاہئے. ٹھیک ہے کہ اسے پہلو خان ​​نے کرائے سے لیا تھا لیکن جے پور سے جب وہ چھوٹا ٹرک لے کر چلا تھا تب تو گائے نظر آئی ہی ہو گی. پہلو خان ​​کے ساتھ اس کے دو بیٹے ارشاد اور عارف بھی گئے تھے. ٹی وی پر کس طرح کہا جائے پر گائے مسلمان بھی پالتے ہیں. مسلمان بھی گائے کے دودھ بیچ کر گزارا کرتے ہیں. اس طرح شک کی بنیاد پر کسی کو دوڑا کر مار دیا جائے تو کیا پتہ کسی دن آپ کو کسی گائے کے آگے چل رہے ہوں، کچھ کھانا کھلانے رہے ہوں اور بھیڑ آکر مار دے، کچھ بھی کہہ دے، کہہ دے گی کہ گائے کو کہیں اور لے جا رہے تھا، کچھ مشتبہ چیز پلا رہا تھا.

مزید پڑھیں >>

یوگی کا کسانوں کی قرض معافی کا وعدہ پورا!

یوپی کے کسانوں کے لئے بڑی خبر ہے. یوگی کابینہ کی پہلی کابینہ میں کسانوں کی قرض معافی کر دی گئی ہے. انتخابات کے دوران وزیر اعظم نے وعدہ کیا تھا کہ بی جے پی حکومت کے کابینہ کی پہلی میٹنگ میں قرض معاف کر دیا جائے گا. یوگی حکومت نے یہ وعدہ پورا کر دیا ہے. وعدہ مختصر اور معمولی کسانوں کے بارے میں ہی تھا. وزیر صحت سددھارتھ ناتھ سنگھ نے بتایا کہ یوپی میں دو کروڑ 15 لاکھ چھوٹے اور معمولی کسان ہیں. ان کسانوں کا 729 30 کروڑ روپے کا قرض معاف کر دیا گیا ہے. ان کسانوں کا ایک لاکھ روپے تک کا کراپ قرض معاف کیا جائے گا. جن لوگوں نے ایک لاکھ تک کراپ قرض لیا ہے ان کے اکاؤنٹ سے اتنی رقم معاف کر دی جائے گی. اس کے علاوہ سات لاکھ کسانوں کا این پی اے بھی معاف کیا جایے گا. یعنی جو لون کسان دینے کی حالت میں نہیں ہیں وہ بھی معاف کر دیا گیا. سات لاکھ کسانوں کا این پی اے اےماٹ 5630 کروڑ معاف کر دیا گیا ہے. مجموعی طور پر یوگی حکومت نے ، 359 36 ہزار کروڑ کسانوں کا قرض معاف کر دیا ہے.

مزید پڑھیں >>

سری رام نوامی کا تہوار!

’’رام نوامی‘‘والے دن کاآغاز میں سورج نکلنے کے ساتھ ہی مندروں میں خاص قسم کے گیت گائے جانے لگتے ہیں تآنکہ دوپہر کے وقت جو ’’رام‘‘کاوقت پیدائش ہے ان گیتوں میں اور پوجامیں بہت شدت و حدت عود کر آتی ہے اور یہ سلسلہ دن ڈھلنے تک باقی رہتاہے اور ایک داستان گواپنے سامنے موجود ہندو یاتریوں کو ’’سری رام‘‘کی کہانیاں بھی سناتارہتاہے۔بعض ہندو پنڈت و پروہت اور شدیدمذہبی جذبات رکھنے والے اس دن روزے کابھی اہتمام کرتے ہیں اور صبح سے شام تک اپنی مذہبی تعلیمات کے مطابق بھوکے پیاسے رہتے ہیں کیونکہ ان کے ہاں یہ تصور موجود ہے کہ جو اس دن روزہ رکھتاہے ’’رام‘‘نامی خدا اس پر اپنی خوشی نچھاور کرتاہے اور خوش بختی کو اس کے ہم رکاب کرتاہے۔بعض شہروں میں اس تہوار کی مناسبت سے ایک بیل گاڑی بھی سجائی جاتی ہے جس کی سجاوٹ پر بے پناہ وسائل و اخراجات اٹھائے جاتے ہیں ،اس بیل گاڑی پر چارافراد سوار ہوتے ہیں ،ایک ’’رام‘‘ بناہوتاہے،دوسرا ’’لکشمانا‘‘بناہوتاہے جو ’’رام ‘‘ کابھائی تھا، تیسرا ’’سیتا‘‘ بناہوتاہے جو ’’رام ‘‘کی بیوی تھی اور چوتھا ’’ہنومان‘‘ بناہوتاہے جوجنگ میں ’’رام ‘‘کادست راست تھا۔ ان چاروں نے ان چاروں جیسالباس زیب تن کیاہوتاہے اور اس بیل گاڑی کو پورے شہر میں دکھایاجاتاہے اور اس پر خوب دولت بھی نچھاور کی جاتی ہے جو بلآخر ہندؤوں کے خاص طبقے کے حصے میں ہی آتی ہے اور بقیہ انسان اس سے محروم رہتے ہیں

مزید پڑھیں >>

انٹر پول: بین الاقوامی پولیس

انٹرپول پوری دنیا کی پولیس ہونے کا دعوی کرتا ہے لیکن اس کی دفتری زبانوں میں صرف عربی ایک ایسی زبان ہے جو غیریورپی علاقے سے تعلق رکھتی ہے اور اسکی وجہ بھی بآسانی سمجھ آ سکتی ہے کہ عرب حکمرانوں سے رقم اینٹھنے کے لیے اورامت مسلمہ کے خلاف انہیں اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے خوش کرنا مقصود ہے۔اپنی اقوام کے لیے یہ ادارہ کل وسائل واختیارات بروئے عمل لاتا ہے. لیکن افریقہ اور ایشیا سمیت یورپ کے علاوہ پوری دنیامیں دو ٹانگوں پر چلنے والے انہیں انسان نظر نہیں آتے بلکہ وہ انہیں ایسا جانور گردانتے ہیں جن کے حقوق ان کے کتوں اور بلیوں سے بھی کہیں کم ہیں ۔کل انسانیت کے لیے انٹرپول کاکیاکردارہے؟؟یہ سوالیہ نشان یورپ کے ماتھے پر ہمیشہ کلنک کاداغ بنارہے گا۔

مزید پڑھیں >>

یوگی راج: کسانوں کا روگ قصابوں کا سوگ!

یوگی ادیتہ ناتھ نے حلف برداری کے بعد بڑے طمطراق کے ساتھ یہ خوش آئند اعلان کیا کہ ’’جہاں کہیں کچھ غلط نظر آئے مجھے میسیج کریں پھر دیکھنا میں کیا کرتا ہوں ‘‘۔ اس کے بعد وہ اپنے حلقۂ انتخاب گورکھپور میں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے پہلی بارآئے تو ضلع بلیّا سے راجکمار بھارتی نامی کسان ان سے ملنے پہنچ گیا۔ اس غریب کیلئے موبائل خرید کر اس سے میسیج کرنا مشکل تھا اس لیے خود بذاتِ خود چلا آیا۔ اس پر ڈھائی لاکھ کا قرض ہے اور وہ بیمار بھی ہے۔ وزیراعظم اور امیت شاہ نے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ کسانوں کا قرض معاف کردیا جائیگا لیکن وزیراعلیٰ کسانوں کو بھول کر مکاملے بازی میں لگ گئے۔ اس کو ملاقات تک کا موقع نہیں ملا تو اس نے خودسوزی کی کوشش کی اس لیے جیل بھجوا دیا گیا۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ بی جے پی کے مینی فیسٹو میں پہلا نکتہ میں کسانوں کا سارا قرض معاف کرنے کے علاوہ انہیں بغیر سود کے قرض دینے کے سبز باغ بھی دکھلائے گئے تھے۔ آئندہ ۵ سالوں میں زراعت پر 150 کروڈ خرچ کا وعدہ بھی تھا۔ بیچارے راجکمار نے ان پر یقین کرکے بڑے ارمان سے بی جے پی کو ووٹ دیا لیکن جب اپنے خوابوں کی تعبیر کیلئے وزیراعلیٰ سے ملاقات تک نہیں کرسکا تو خودکشی کے الزام میں جیل پہنچادیا گیا۔

مزید پڑھیں >>