آج کا کالم

سرکاری نوکریاں کہاں گئیں؟

گزشتہ چند گھنٹوں میں میں نے خود سینکڑوں میسج پڑھے اور بہت سے طالب علموں سے بات کی. میں حیران ہوں کہ ان امن پسند اور اچھے نوجوانوں کی تکلیف سمجھنے والا کوئی نہیں ہے. ان کا ایک ایک دن پریشانی میں گزر رہا ہے، وہ فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں کہ دوسرے امتحان کے لئے تیاری میں لگ جائیں یا پھر جس میں پاس ہو چکے ہیں اس کا جواننگ  لیٹر آئے گا. آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے. ایک تو 2015 سے اگست 2017 آ گیا۔ امتحان کے عمل کو مکمل ہونے میں اور اس کے بعد بھی پانچ ماہ سے انہیں جواننگ لیٹر نہیں ملا ہے جبکہ یہ امتحان میں پاس ہو چکے ہیں. کیا آپ چاہیں گے کہ ان امیدواروں اور طالب علموں کے ساتھ اس طرح کا سلوک ہو. کیا ان کی داستان فوری طور پر نہیں سنی جانی چاہئے. آخر ان بچوں نے کیا گناہ کیا ہے. ایک لڑکی نے فون کیا کہ اس کا انتخاب، انفارمیشن ٹرانسمیشن وزارت میں پریس انفورمیشن بیورو میں ہوا ہے، لیکن ابھی تک جواننگ نہیں آئی ہے. فون کرنے پر جواب ملتا ہے کہ چھ ماہ اور لگیں گے، کئی بار تو جواب کی جگہ کسی اور انداز میں ان نوجوانوں سے بات کی جا رہی ہے.

مزید پڑھیں >>

نوکریوں پر نئی رپورٹ: 2017 میں 55 لاکھ نوکریاں ملیں؟

بھارت میں گزشتہ پچاس سالوں میں آبادی کی شرح کم ہوئی ہے. اس کے اور گھٹنے کا امکان ہے. ہر سال ڈھائی کروڑ بچے پیدا ہوتے ہیں اور ڈیڑھ کروڑ لیبر مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں. ان میں سے 88 لاکھ گریجویٹ ہوتے ہیں مگر گریجویٹ لیبر مارکیٹ میں نہیں آتے. تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ ان میں سے 66 لاکھ كوالیفائڈ افرادی قوت ہیں.EPFO میں 190 سے زائد اقسام ویسے صنعت ہیں،  جہاں 20 یا اس سے زیادہ لوگ کام کرتے ہیں. اس کے ساڑھے پانچ کروڑ سبسکرائبر ہیں. ایک دوسرا ہے ESIC، یہاں دس یا دس سے زیادہ کام کرنے والے ٹھکانوں کے عملے کا حصہ جمع ہوتا ہے. اس کے تحت 60 سے زائد صنعتوں کے 1 کروڑ 20 لاکھ سبسکرائبر ہیں. اس کے علاوہ نیشنل پنشن فنڈ کے 50 لاکھ لوگ ہیں. جی پی ایس سے 2 کروڑ لوگ جڑے ہیں. خود دیکھئے باضابطہ طور پر ہندوستان جیسے وسیع ملک میں پے رول پر کتنے کم لوگ ہیں. دس کروڑ سے بھی کم جبکہ امریکہ میں 16 کروڑ اور چین میں 78 کروڑ ہیں.

مزید پڑھیں >>

حج سبسڈی کا کھیل ختم، باقی بھی ختم ہو!

حج سبسڈی کا کھیل سمجھنا بہت ضروری ہے. اس سال000 175،لوگ بھارت سے حج کرنے کے لئے سعودی عرب جائیں گے. انہیں صرف ایئر انڈیا لے جا سکتی ہے . اس کے لئے حاجیوں سے تقریباً 8 مہینے قبل پیسے جمع کرا لیے جاتے ہیں. اگر اس کا گلوبل ٹینڈر ہو اور ایئر لائنز کو پونے دو لاکھ مسافر دینے کی ضمانت ہو تو  دنیا کی تمام ایئر لائنز ایئر انڈیا سے کافی کم رقم پر  حج پر لے جائیں گی. اگر کسی بین الاقوامی ٹور آپریٹر کو پونے دو لاکھ مسافر دیے جائیں تو اس کا پیکج بہت سستا ہوگا. لیکن ہندوستان میں مسلمان حکومت کے ذریعہ بہت مہنگا حج کرتے ہیں اور پھر  بھی سبسڈی کے احسان تلے دبے رہتے ہیں.

مزید پڑھیں >>

 جج بی ایچ لویا کی پراسرار موت پر ’گودی میڈیا‘ کا کردار

21 نومبر کو كیروان (Carvan) میگزین نے جج بی ایچ لويا کی موت پر سوال اٹھانے والی رپورٹ شائع کی تھی. اس کے بعد سے 14 جنوری تک اس میگزین نے کل دس رپورٹ شائع کی ہیں. ہر رپورٹ میں حوالے ، دستاویز اور بیان ہیں. جب پہلی بار جج لويا کی قریبی بہن نے سوال اٹھایا تھا اور ویڈیوز بیان جاری کیا تھا تب حکومت کی طرف سے بہادر بننے والے گودی میڈیا خاموش رہ گئی. جج لويا کے دوست اسے منصوبہ بند قتل مان رہے ہیں. انوج لويا نے جب 2015 میں جانچ کی مانگ کی تھی اور جان کو خطرہ بتایا تھا تب گودی میڈیا کے اینکرز سوال پوچھنا یا چیخنا-چلانا بھول گئے. وہ جانتے تھے کہ اس کہانی کو ہاتھ لگاتے تو حضور پلیٹ سے روٹی ہٹا لیتے. آپ ایک ناظر اور قاری کے طور پر میڈیا کے خوف اور جرات کو مناسب طریقے سے سمجھئے. یہ ایک دن آپ کی زندگی کو متاثر کرنے والا ہے. جرات تو ہے ہی نہیں اس میڈیا میں. كیروان پر ساری رپورٹ ہندی میں ہے. 27 دسمبر کی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں.

مزید پڑھیں >>

عدلیہ کے اندر اندر سلگتے سوالات

چار جج کہیں کہ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ایسے یاد کرے کہ انہوں نے اپنی روح بیچ دی اور ہم ان اٹھائے سوالوں پر بحث نہیں کر رہے ہیں. معزز ججوں کے سوالوں کو کنارے لگا کر ٹی وی میڈیا اور سوشل میڈیا اس پر بحث کرنے لگا کہ ان کا خاندانی پس منظر کیا ہے، پریس کانفرنس کیوں کی، صدر کے پاس کیوں نہیں گئے، چیف جسٹس سے بات کیوں نہیں کی. یہی نہیں، سوشل میڈیا پر ان لوگوں کی طرف سے نامناسب الفاظ کا استعمال کیا گیا جنھیں ملک کے آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگ فالو کرتے ہیں. دوسری طرف ناانصافی چیف جسٹس کے ساتھ بھی ہوئی. انہیں رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ کے فیصلے سے جوڑ دیا گیا اور مان لیا گیا کہ کیا فیصلہ دینے والے ہیں، ان کے فیصلوں کے قصیدے پڑھے جانے لگے اور دوسری طرف ان پر الزامات لگنے  لگے. یہ انتہائی خطرناک ماحول تھا، جسٹس نے جو کہا اس پر بات نہیں، جو نہیں کہا اس پر ہنگامہ. جبکہ جمعہ کو جسٹس چیلامیشور نے کہا کہ 'ہماری ساری کوششیں فیل ہو گئیں. ہم سب نے سمجھانے کی کوشش کی کہ جب تک اس ادارے کو بچایا نہیں جائے گا، بھارت میں جمہوریت کو نہیں بچایا جا سکتا ہے. '

مزید پڑھیں >>

مكاباز: کچھ کے لئے ٹانک ہے، کچھ کے لئے وائن

فلم کی یہی خوبی ہے. بہترین فلم وہی ہوتی ہے جو آپ کو ایک ساتھ کہانی کے اندر اندر ایک سے زیادہ تہوں کو دکھائے اور آپ کے اندرونی تضادات کو ابھارے. مزا آ رہا تھا. ونیت کمار سنگھ نے بہت اچھا کام کیا ہے. یہ آرٹسٹ اپنے رول میں سما گیا ہے. سب کچھ بہترین ہے. روی كشن کی پرتیبھا پہلی بار کسی فلم میں صحیح طریقے سے ابھر کر سامنے آئی ہے. روی کشن کے بارے میں بھی ڈائریکٹرز کو سوچنا چاہئے. ان میں کافی دم ہے. انوراگ کشیپ نے بہت چالاکی سے اس فلم کے ذریعہ آج کی سیاست کو سمیٹ دیا ہے. کہانی شروع ہی ہوتی ہے گئو رکشسوں کے سین سے. میڈیا سے زیادہ بہتر فلم والے آج کے وقت کو پکڑ رہے ہیں. بیگ گرؤنڈ میوزک میں ڈائیلاگ کی مکسنگ خوب ہے.

مزید پڑھیں >>

آج چینلوں کی وفاداری کی رات ہے!

آج اگر آپ نیوز چینل دیکھ رہے ہیں تو غور سے دیکھئے. چینلز کی اسکرین پر کیا لکھا ہے اور اینکرز کیا بول رہے ہیں. ججوں نے ملک کی خدمت کی اس کے بعد بھی یہ میڈیا حکومت کی خدمت کر رہا ہے. آپ میڈیا کی زبان پر غور کریں گے تو سارا کھیل سمجھ آ جائے گا.جج لويا کی موت پر آپ نے ان ایكروں کو بحث کرتے دیکھا تھا جب كیروان نے کہانی بریک کی تھی؟ جج لويا کی سماعت کے معاملے نے اس پریس کانفرنس کی حوصلہ افزائی کی گئی مگر کیا کوئی اینکر جج لويا کی موت کے معاملے کا نام لے رہا ہے؟ ایک جج کی موت پر سوال اٹھے ہیں کیا آپ اس پر میڈیا کی اس وقت بھی اور آج کی خاموشی کو صحیح مانیں گے؟

مزید پڑھیں >>

ایف ڈی آئی کے نئے اعلانات کا مطلب؟

ویسے تو موجودہ حکومت کے  پاس ابھی ڈیڑھ سال کا وقت باقی ہے، لیکن اگلے ماہ وہ اپنا آخری مکمل بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے. کہتے ہیں کہ کسی حکومت کا آخری بجٹ لبھانے والے اعلانات پر مبنی ہوتا ہے. انہی اعلانوں کو وہ اگلے انتخابات میں دہراتی ہے، لیکن اس بار کے بجٹ میں حکومت کے سامنے سب سے بڑی دقت پیش  آنے کا اندیشہ یہ ہے کہ ان کاموں کو کرنے کے لئے بجٹ میں رقم کا انتظام وہ کس طرح دکھائے گی. دراصل اب تک سب کرکے دیکھ لیا، لیکن سرکاری خزانے کی حالت ابتر ہے. غیر ملکی سرمایہ کاری اور پرائویٹائزیشن  کے علاوہ متبادل ہو ہی کیا سکتا ہے. وہ تو سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ ہی تھے، جو ایک بار کہہ گئے کہ پیسے درختوں پر نہیں اوگتے اور وہیں وہ یہ بات بھی درج کرا گئے کہ کفایت برتئیے. لیکن ان کی وہ بات پسند نہیں کی گئی تھی. ایک ماہر اقتصادیات کی بات کی مخالفت کی گئی تھی اور یہاں تک کہ خود ان کے مخالف ماہرین اقتصادیات نے ان کا مذاق تک اڑایا تھا. بہرحال، آج کے مشکل حالات میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے علاوہ کوئی طریقہ  کوئی نہیں سجھا پا رہا ہے.

مزید پڑھیں >>

قومی ترانہ: جعلی حب الوطنی کا نیا شکار

 مرکزی حکومت کی جانب سے ہری جھنڈی دیکھنے کے بعد عدالت عظمیٰ کے ججوں نے قوم پرستی کا چولا اتار پھینکا اور نہ صرف اپنا پرانا فیصلہ بدل دیا بلکہ حب الوطنی کی بابت وہ حقیقت پسندانہ باتیں کیں جن کو دیکھ کر دل خوش ہوگیا لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت کا حلف نامہ  اگر پرچم کے حق میں ہوتا تو کیا اس صورت میں  بھی عدالت یہ جرأت رندانہ دکھا پاتی؟ عدالت کا  تازہ فرمان یہ ہے کہ  حب الوطنی ثابت کرنے کیلئے سنیما گھروں میں قومی ترانہ بجنے پر کھڑا ہونا ضروری نہیں ہے اگر کوئی شخص سنیما گھر میں قومی ترانہ بجنے پر کھڑا نہیں ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ محب وطن نہیں ہے۔ جسٹس دیپک مشرا،جسٹس اے کے خانویلکر نے کہا کہ سماج کو اخلاقی پہرے داری کی ضرورت نہیں ہے، اگر ایسا ہی رہا تو کل آپ لوگوں کو سنیماگھروں میں ٹی شرٹ اور شرٹس میں جانے سے روکنے لگیں گے اس لیے کہ اس سے قومی ترانہ کی توہین ہوتی ہے۔ جسٹس چندر چوڑ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ لوگ سنیما گھروں میں تفریح کے لئے جاتے ہیں ۔ وہاں حب الوطنی کو ناپنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہونا چاہئے۔ عدالت عظمیٰ  نے یہاں تک کہہ دیا کہ  کسی بھی شہری کیلئے یہ ضروری نہیں کہ وہ  اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کیلئے آستین پر کسی طرح کا بیج باندھے یا پٹی لگائے۔

مزید پڑھیں >>

نوکریوں کے گھٹتے اور بدلتے مواقعوں پر بحث کیجیے

مالنی گوئل نے سرسری طور پر بتایا ہے کہ جرمنی، سنگاپور اور سویڈن میں کیا ہو رہا ہے اور بھارت ان سے کیا سیکھ سکتا ہے. بلکہ دنیا کو ہندوستان سے سیکھنا چاہئے. یہیں کا نوجوان ایسا ہے جسے نوکری نہیں چاہئے، روز رات کو ٹی وی میں ہندو مسلم ٹاپك چاہئے. اب اس کو الو بنانے کے لئے اس بحث میں الجھايا جائے گا کہ ریزرویشن ختم ہونا چاہئے. نوکری کا دشمن ریزرویشن ہے. پوری دنیا میں کام نہ ہونے کے مختلف وجوہات پر بحث ہو رہی ہے، بھارت نے اسی میں اٹکا ہے کہ ریزرویشن کی وجہ کام نہیں ہے.حکومت کوئی پیشکش نہیں لائے گی، تین طلاق کی طرح بحث میں الجھا کر نوجوانوں کا تماشا دیکھے گی. ریزرویشن پر بحث کے مسئلے کا استعمال فرنٹ کے طور پر ہو گا، جسے لے کر بحث کرتے ہوئے نوجوان خوابوں میں کھو جائیں گے کہ اسی کی وجہ سے کام نہیں ہے. لیڈر ووٹ لے کر اپنے خواب کو پورا کر لے گا. حقائق کے لحاظ سے یہ ہمارے وقت کی سب سے بڑی بکواس ہے. کام نہ تو مخصوص طبقے کی وجہ سے پیدا ہو رہا ہے اور نہ کسی مخصوص طبقے کے لئے. یہی حقیقت ہے. کام کے پیدا کرنے پر تو بات ہی نہیں ہوگی کبھی.

مزید پڑھیں >>