آج کا کالم

مجھے میری انا کے خنجروں نے قتل کرڈالا

سنسکرت میں ایک کہاوت ہے ’وناش کالے وِ پریت بدھی‘ یعنی ’ برے وقت میں دماغ الٹ جاتا ہے‘۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کیرالہ سے بھاگتے ہوئے امیت شاہ نے اپنی جگہ یوگی ادیتیہ ناتھ کو بلا کر ان کی مٹی پلید نہ  کراتے۔ کیرالا کے ضمنی انتخاب نے یوگی کو نیم چڑھا  کریلا ثابت کردیا۔ امیت شاہ کے آگے پیچھے  جوکارکنان کسی عہدے کی لالچ میں بھاگتے پھرتے تھے  وہ یوگی جی کو دیکھ کر ر فوچکر ہوگئے۔ ادیتیہ ناتھ  نے جب یہ اعلان کیا کہ جمہوریت میں سیاسی قتل ناقابلِ قبول ہے تو کچھ ہنسی  نہ روک سکے اس لیے کہ اگر وہ خود اس نصیحت پر عمل پیرا ہوتے تو ان کی قائم کردہ ہندو یوا واہنی کو عالمی ادارے جیش  کی طرح دہشت گرد تنظیم نہیں قرار دیتے۔ سیاسی مبصرین جو  یوگی کے لب و لہجے سے واقف ہیں انہوں نے اس بیان کی یہ مطلب نکالا کہ یوگی کے نزدیک  کہ جمہوریت میں  غیر سیاسی قتل و غارتگری مباح ہے۔ اس لیے  سیاسی لوگوں کو چاہیے کہ وہ گائے کے نام پر قتل کریں،  لوجہاد کے بہانے غیر سیاسی بے قصوروں کے خون کی ہولی کھیلیں۔  کیرل  سرکار نے بی جے پی کے دفتر سے اسلحہ برآمد کرکے یوگی  کی  زبان اورچوٹی دونوں  کاٹ دی۔

مزید پڑھیں >>

تاریخ بھی کہیں بدلی جاسکتی ہے!

ملک میں مسلمانوں کی تاریخ کو مٹانے کی کوشش کوئی نیا کام نہیں ہے آزادی کے بعد ہی سے مسلم ناموں والے شہروں سڑکوں چوراہوں وغیرہ کے نام بدلنے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا جو اب بھی جاری ہے۔اسی طرح ملک میں مسلم حکمرانوں کی تاریخ کو منفی انداز میں پیش کر نے کی کو شش کی جارہی ہے۔ انہیں ظالم اور ہندو دشمن ظاہر کر نے کے لئے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ان کے ذریعہ بنائی گئی عمارتیں ہندو مندروں کو توڑ کر بنائی گئی تھیں، بابری مسجد رام مندر معاملہ تو اب بہت پرانا ہو چکا ہے جس میں بظاہر تاریخ بدلنے کے لئے بابری مسجد کو شہید کردیا گیا لیکن تاریخ تو نہ بدلی جا سکی بلکہ یہ مسماری بھی بجائے خود تاریخ بن گئی اب اگر وہاں رام مندر بن بھی جائے توجب جب تاریخ اس کا ذکر کر ے گی یہ ضرور کہے گی کہ وہاں پہلے بابری مسجد معرض وجود میں تھی اور کس طرح اسے مسمار کیا گیا اور پھر رام مندر بنایا گیا۔

مزید پڑھیں >>

تاریخ کو دوبارہ لکھنے والے!

 ہندوتواطاقتوں نے ہمیشہ تاریخ کے استعماری اسکول کی پیروی ہے اور آپ غورکریں تو پتا چلے گاکہ برطانوی مؤرخین نے بڑی چالاکی سے ہندوستانی تاریخ کو تین حصوں میں منقسم کررکھا ہے، وہ پہلے دو حصوں کو ہندواور مسلم عہدکا عنوان دیتے ہیں، جبکہ تیسرے حصے کو برطانوی (عیسائی نہیں )عہدکا، اسی تقسیم کی وجہ سے ماقبل برطانوی عہد کو ہندو مسلم دشمنی کے چشمے سے دیکھنے کا رجحان پیدا ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہندوتوا طاقتیں شروع سے مسلم مخالف تورہی ہیں، مگر برطانیہ یا استعماریت مخالف کبھی نہیں رہیں۔ آر ایس ایس اور ہندو مہا سبھا نے اپنی ساری طاقت و قوت ہندووں کو مسلمانوں کے خلاف منظم و برانگیختہ کرنے میں تو صرف کیا؛لیکن خود کو جدوجہدِ آزادی سے قطعی الگ تھلگ رکھا، ان کے غیظ و غضب کا واحد نشانہ ہندوستان کے مسلمان تھے۔

مزید پڑھیں >>

انصاف کے گواہ بنو

یہ امت جوکروڑوں کی تعداد میں ہے، اگرقیام عدل کے لیے کمربستہ ہوجائے اور ہر خوف وخطر اور طمع اورلالچ سے بے نیاز ہوکر انصاف کی شہادت دینے لگے، اگر اس مقصد کے حصول کے لئے اس کے اندرایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا جذبہ ابھر آئے اور وہ حصول انصاف کے لیے متحداور صف بستہ ہوجائے تویقینا دنیا کا نقشہ بدل سکتاہے۔ اُمت جہاں اقتدار میں ہوبغیر کسی تفریق کے ہر مظلوم کو انصاف فراہم کرے تودنیا کے لیے وہ نمونہ بن جائے گی، جہاں اقتداراُسے حاصل نہیں ہے وہاں اُسے چاہیے کہ قیام عدل کی جدوجہد کرے محض اپنے لیے انصاف کے مطالبہ پر قناعت نہ کرے، بلکہ جس کسی پر بھی ظلم ہو اور جو بھی انصاف سے محروم ہواس کی حمایتمیں کھڑی ہوجائے توتوقع ہے کہ امت پر ہونے والے ظلم کے خلاف ہزارہاآوازیں اسی دنیا میں بلندہونے لگیں گی اور پھر کسی کمزورفرد یا طبقے کوہدف جوروستم بنانا آسان نہ ہوگا۔ دنیا اسی اقدام کی منتظر ہے۔

مزید پڑھیں >>

سر سید کا سفر جاری ہے!

برج کورس کو ئی نیا اور انوکھا خیال نہیں ہے۔ ہماری یونیورسٹی کے طلباء بھی جب  ماسکو یا برلن  جیسے مقامات  میں تعلیم کی غرض سے جاتے ہیں تو انہیں اس طرح کا کورس کرنا پڑتا ہے جس کی اولین وجہ مقامی زبان کوسیکھنا ہوتی  ہے تاکہ اس میں تعلیمی  سلسلے کو آگے بڑھایا جاسکے نیز وہاں کی تہذیب و ثقافت سے بھی واقفیت ہوجاتی ہے۔ ہندوستان کا معاملہ ان یوروپی ممالک سے  دو معنیٰ میں مختلف ہے اول تو یہاں کوئی ایک زبان رائج نہیں ہے۔ ہندی راشٹر بھاشا ہونے باوجود ایک بڑے علاقے کی علاقائی  زبان ہے اور ملک بہت بڑا حصہ نہ اسے جانتا ہے اور نہ سیکھنا چاہتا ہے۔ دوسری مشکل یہ ہے کہ ہندی زبان میں اعلیٰ  سائنسی و تکنیکی تعلیم  سے آراستہ کرنے  کی صلاحیت و گنجائش مفقود ہے اس لیے  بدقسمتی  سے ہمیں اعلیٰ تعلیم گاہوں میں اپنی مادری زبان کو خیرباد کہہ کر ایک غیر ملکی زبان یعنی انگریزی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ تمام ہی اسکولی طلباء کی یہ ضرورت ہے مگر دینی مدارس کے فارغین کی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

مندر کی سیاست سے ٹمپل کی تجارت تک

بی جے پی کے اندر گھبراہٹ کا یہ عالم ہے  اجئے شاہ کی بدعنوانی کا راز کو فاش کرنے والی ویب سائٹ دی وائر اور روہنی سنگھ  پر ہتک عزت کا دعویٰ کرنے جارہے ہیں جس نے رابرٹ وادرہ کی نقاب کشائی کی تھی اور اس وقت انہیں لوگوں نے اسے سر پر اٹھالیا تھا۔ کیا یہ دیانتداری ہے کہ اگر الزامات مخالفین پر لگیں تو ان  کو خوب اچھالا جائے اوربات اپنے پر آئے تو شتر مرغ کی مانند سر کو ریت میں چھپا کر دھمکیاں دی  جائیں ؟ کیا یہ صریح منافقت نہیں ہے کہ لالو کی بدعنوانیوں پر تاریخ  پہ تاریخ اور نتیش کمار و سشیل مودی کے سرجن گھوٹالے پر خاموشی  اختیار کی جائے؟ راجناتھ سنگھ اور دیگر وزراء نے جئے شاہ کی حمایت کرکے اپنا اور سرکار کا وقار پامال کیا ہے۔ وزیر اعظم نے بڑے تاو سے کہا تھا کہ ہمارے ملک میں بہت جلد سیاستدانوں پر الزام لگ جاتاہے کہ کسی بیٹے نے اتنا کمایا اور کسی داماد نے اتنا بنایا لیکن اب امیت شاہ کے بیٹے پر الزام لگا تو ’’ نہ کھاوں گا اور نہ کھانے دوں گا‘‘ کی صدا لگانے والا چوکیدارنہ جانے کہاں سورہا ہے؟

مزید پڑھیں >>

خوراک اور بھوک: عالمی یوم خوراک کے حوالے سے

ﷲ تعالی نے اپنی محبت کا واسطہ دے کر مسکین، یتیم اور گرفتار کو کھانا کھلانے کا تقاضا کیا ہے۔ اپنے راستے میں مال خرچ کرنے کوسات سو گنا بڑھا کر لوٹانے کا وعدہ کیاہے اوراسے اپنے ذمہ قرض قرار دیاہے۔ محسن انسانیت ﷺ نے موقع بہ موقع کھانا کھلانے کا شوق بیدار کیا کہ جو خود پیٹ بھر کر سویااور اس کا پڑوسی بھوکا سو گیا وہ ہم میں سے نہیں، جس بستی میں کوئی بھوکا سو جائے اس بستی پر سے اﷲ تعالی کی ذمہ داری ختم,اور محسن انسانیت ﷺ نے گھر آئے مہمان کو بغیر کھلائے پلائے رخصت کر دینے والے میزبان کو مردہ کہا۔ بھوکے اور غریب کا استحصال کرنے والے سود خور کو اﷲ تعالی اور اسکے رسول ﷺ کے خلاف اعلان جنگ کا عندیہ ہے، سونا چاندی سینت سینت کر رکھنے والے کو عذاب دوزخ کی وعید ہے اور فضول خرچ کو شیطان کا بھائی گردانا گیا۔ نبوی معاشرے کے تسلسل میں مانعین زکوۃ سے جنگ لڑی گئی، اس وقت کے حکمران سے کہا بھی گیاکہ منکرین زکوۃ سے صرف نظر فرمائیں لیکن خلیفۃ الرسول نے اس سے انکار کر دیا۔ دور فاروقی میں جب اسلامی انقلاب، نبوی پیشین گوئیوں کی منازل کو چھو رہا تھاتو سب انسان مسلمان نہیں ہو گئے تھے اور نہ ہی سب مسلمان متقی و پرہیزگارہو چکے تھے لیکن انسان کی بھوک شکم سیری میں ضرور بدل چکی تھی اور ہر پیدا ہونے والا بچہ شہری کی حیثیت سے حکومت وقت سے اپنا مشاہیر وصول کرتا تھا۔

مزید پڑھیں >>

تحفظ، سلامتی اور امن سب کے لیے انصاف ضروری !

انصاف کے بغیر امن اور ترقی کی  باتیں اور ساری  نام نہاد کوششیں مزید بد امنی اور مزید بد حالی کو جنم دے رہی ہیں۔ صاحبان اختیار غربت کے خاتمے کی بات تو کرنے لگےہیں لیکن انصاف کے ساتھ ترقی Growth with Justice کی بات کرنے والے اب بھی برائے نام ہیں۔ مثلاً فرانس کے سابق صدر ژاک شیراک  نے پندرہ سال پہلے ہی 22 مارچ 2002 کو میکسیکو میں منعقدہ بین ا لا اقوامی کانفرنس برائے ترقی میں یہ اعتراف کر لیا تھا کہ ’’غربت کے خاتمے کے لیے بھی ٹھیک ویسے ہی عالمی اتحاد و اشتراک کی ضرورت ہے جیسا اتحاد و اشتراک دہشت گردی سے مقابلے  کے لیے قائم ہوا ہے ‘‘اور تیرہ سال قبل 30 ستمبر 2004 کو عالمی بینک کے اس وقت کے صدر جیمس وولفنسن نے انٹر نیشنل ہیرالڈ ٹریبیون میں شایع اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’’جنگوں سے گزر کر آنے والے ملکوں اور مایوسی میں ڈوبے ہوئے غریب ملکوں میں معاشی استحکام پیدا کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا دوسری جنگ عظیم  ختم ہونے کے بعد ضروری تھا جب پوری دنیاامن کے قیام اور کروڑوں لوگوں کی شندگی کی تعمیر ِنَو کے لیے جد و جہد کر رہی تھی۔ غربت و افلاس کے خلاف مؤثر امداد ہی بہترین سرمایہ کاری ہے جو ہمارے بچوں کو پُر اَمن دُنیا اور نسبتاً محفوظ مستقبل فراہم کر نے کے لیے کی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

سیاست کی دیوالی حفاظت کا دیوالیہ

سربراہِ فوج جنرل بپن چند راوت نے دفاعی امور کے ماہرین کو خطاب کرتے ہوئے جن باتوں کی جانب توجہ دہانی کی تھی اگر ان پر مناسب اقدامات  کیے جاتے تو 9 اکتوبر کے دن لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ایچ ایس پناگ کو چند تصاویر کے ساتھ  ٹویٹر پر یہ نہ  لکھنا پڑتا کہ ’’سپاہی کو ایسے گھر میں لایا گیا تھا‘‘۔ یہ اروناچل پردیش کے اندرہیلی کاپٹر حادثے میں جان گنوانے والے سات فضائیہ کے اہلکاروں کے لاشوں کی تصاویر تھیں جن کو  کو پلاسٹک کی بوریوں میں رکھ کر اور گتتوں میں باندھ کرسرحد سے  لایا گیا تھا۔ اس خبر کو ذرائع ابلاغ میں خاطر خواہ اہمیت نہیں ملی اس لیے کہ امت شاہ کے بیٹے جئے شاہ کی بدعنوانی نے سیاسی گلیارے میں زلزلہ برپا کردیا  تھا۔ ایک کے بعد ایک  بعد وزراء اور سیاستدانوں نے بیانات کی بھرمار کردی تھی  لیکن نامعلوم فوجیوں کی خبر پر نہ تو سرکار نےتوجہ دی  اور نہ حزب اختلاف نے تبصرہ کیا۔ قوم کے سپوتوں کے ساتھ اس سلوک  کو دیکھ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ وزیر دفاع تو دور سنگھ  پریوارکے  کسی چپراسی  نے بھی اپنے غم و غصے کا اظہار نہیں کیا اس لیے کہ سار ےبھکت امیت شاہ کے کپوت جئے شاہ کے دفاع میں جٹے ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں >>

خواتین کو باختیار بنانے کی ہو پہل

خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے ہر سطح پر ان کی نمائندگی کو یقینی بنانے کی بات زور شور سے اٹھتی رہی ہے۔ خاص طورپر قانون ساز اداروں میں۔ جن ممالک نے عورتوں کو نمائندگی دی ہے، وہاں ان کی حالت بہتر ہے۔ بھارت میں باوجود کئی سطح پر خواتین کو ریزرویشن دینے کے قانون ساز اداروں میں ان کی نمائندگی کے راستہ میں کئی رکاوٹیں ہیں ۔ ہمارا مردوں کی بالادستی والا سماج ہے۔ اس کو سیاسی پارٹیوں کے لیڈران اس ضروری مدعے کو پیچھے ڈھکیل دیتے ہیں۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر ابھی حال میں ہی خواتین ریزرویشن بل لوک سبھا میں پاس کرانے کی اپیل کی ہے۔ اسی کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آگیا ہے۔ بی جے پی اپنے چناوی منشور میں اور نریندر مودی نے اپنی ریلیوں میں اس بل کو پاس کرانے کا خواتین سے وعدہ کیا تھا۔ خواتین ریزرویشن بل کی حمایت کرنے والی پارٹیوں نے اس مانگ میں اپنا سر ملایا تو بی جے پی کو مجبوراً کہنا پڑا’’ ان کی سرکار اس بل کو پاس کرانے کو لے کر پابند عہد ہے۔‘‘ آنے والے سرمائی اجلاس میں وہ یہ بل پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔

مزید پڑھیں >>