آج کا کالم

PNB گھوٹالے کے تار کہاں کہاں تک پھیلے ہیں؟

رويش کمار

وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا تھا کہ ڈاووس میں وزیر اعظم کے ساتھ نیرَو مودی کی تصویر کے لئے سی آئی آئی ذمہ دار ہے، کیونکہ انہوں نے ہی فوٹو سیشن کا انعقاد کیا تھا. ہم نے سی آئی آئی سے پوچھنے کا بہت کوشش کی. ہمارے ساتھی ہمانشو شیکھر کی کوششیں ناکام رہیں. جواب یہی ملا کہ معاملہ کورٹ میں ہے. ہمیں تحریری یا زبانی طور پر بولنے کے لئے منع کیا گیا ہے. ابھی بتائیے نیرَو مودی کے کوریج میں ہر جگہ وہ تصویر چل رہی ہے، وزیر اعظم پر سوال اٹھ رہے ہیں مگر ادارے یہ بتانے کی ہمت نہیں جٹا پا رہے ہیں کہ فوٹو سیشن میں نیرَو مودی کس طرح پہنچا. کیا سی آئی آئی کی جوابدہی نہیں بنتی ہے کہ وہ اس معاملے میں کچھ کہے، کیا جئے شاہ کے کیس کی طرح عدالت سے کوئی روک لگی ہے کہ سی آئی آئی بول نہیں رہی ہے. وزیر قانون روی شنکر پرساد نے 15 فروری کے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ

‘وہ وزیر اعظم کے وفد کا حصہ نہیں تھے … وہ اپنے آپ وہاں پہنچے … وی سی آئی آئی کے جوائنٹ فوٹوگراف میں تھے تو اس سے وزیر اعظم کا کیا لینا دینا .. . میں کہہ رہا ہوں کہ نیرَو مودی کی وزیر اعظم سے کوئی بات نہیں ہوئی … ‘

تصویر سے تعلق قائم کرنے کی سیاست ان کی ہے جو نہرو کی بہنوں کے ساتھ کی تصویر کو گرل فرینڈ بنا کر ٹویٹ کر رہے تھے. فوٹو لے کر اس میں گھیرا بنا کر سیاست کرنا اور وائرل کرنا اس کام میں کون آگے رہا ہے، بتانے کی ضرورت نہیں ہے. یہ بات صحیح ہے کہ تصویر کسی کی بھی کسی کے ساتھ ہو سکتی ہے مگر یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم کے ساتھ تصویر كھچانا، وہ بھی ایک خاص پروگرام میں، کیا سب کے لئے آسان ہے. وزیر اعظم کسی سماجی یا ریلی میں تو نہیں تھے، صنعت کاروں کے ساتھ تھے. پھر سی آئی آئی کیوں نہیں جواب دے رہی ہے. صحافی سواتی چترویدی نے بھی اس سوال کو اور بھی باریک نظر سے دیکھا ہے.

پریس کانفرنس میں جو سوال اٹھائے جا رہے ہیں وہ شور پیدا کرنے کے لئے زیادہ لگتے ہیں، جواب دینے کے لئے کم. خبروں میں یہ خبر ٹھیلي گئی کہ 5000 کروڑ سے زیادہ کی جائیداد برآمد ہو گئی. تو ان امور کے ماہرین نے کہا کہ نیرَو مودی کا کھیل ہی 10 روپے کے مال کو 500 روپے کا بتا کر فروخت کرنے کا ہے. کیا ہماری جانچ ایجنسیوں نے 5000 کروڑ کا ہی مال پکڑا ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ سارا مال ہی 100 کروڑ کا ہو. نیرَو مودی ابھی تک جانچ ایجنسیوں کی گرفت میں نہیں آیا ہے. وزیر اعظم کے ہمارے مےهل بھائی بھی ابھی تک گرفت میں نہیں آئے ہیں جن کی کمپنی پر886 4، کروڑ کا چونا لگانے کا الزام ہے. دکانوں میں چھاپے پڑ رہے ہیں. دکاندار کا ہی پتہ نہیں ہے. پنجاب نیشنل بینک نے اپنی طرف سے نہیں کہا ہے کہ اسے 5000 کروڑ مل گئے ہیں. اخباروں کی هیڈلان مینج ہو چکی ہے. بغیر کسی بنیاد کے خبر شائع ہو گئی کہ 5000 کروڑ برآمد کر لئے گئے. یہ اطلاع بھی اپنی جگہ جوں کی توں ہے کہ اس گھوٹالے کا ایک انتہائی نقطہ 2017 میں بھی پہنچتا ہے جب گیتانجلی جیمز لمیٹیڈ قریب 5000 کروڑ نکالنے کے لئے لیٹر آف انڈرٹیكنگ یعنی ایل یو آئی حاصل کرتی ہے.

15 فروری کو سی بی آئی کی جانب سے درج دوسری ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مےهل چوکسی نے 143 ایل یو آئی کے ذریعہ887 4، کروڑ روپے کا چونا لگایا ہے. مےهل چوکسی گیتانجلی جیمز لمیٹیڈ کا سربراہ ہے. مےهل چوکسی کہاں ہے، اس سے پوچھ گچھ کہاں ہو رہی ہے، اسے بچانے میں کون لگا ہے.

بینکنگ کی دنیا کے ملازم بار بار یہ میسج کر رہے ہیں کہ اتنے چھوٹے سطح کے عملے سے اتنا بڑا گھوٹالہ ممکن نہیں تھا. ہم لوگ دس کروڑ کا لون تک نہیں دے سکتے ہیں. ہزاروں کروڑ کا لون بغیر بڑے سطح کے افسران کی ملی بھگت کے ہو ہی نہیں سکتا. تمام معلومات ذرائع کے حوالے سے آرہی ہیں، کوئی اس پر مکمل معلومات نہیں دے رہا ہے، بس نیرَو مودی کس کا کرایہ دار تھا، کس نے اس سے ہیرے خریدے، ان سب باتوں سے عوام کو بہلايا جا رہا ہے.

وزیر دفاع کو یہ بتانے کے لئے آنا پڑا کہ ابھیشیک منو سنگھوی کی بیوی نے ڈیڑھ کروڑ کا ہیرا خریدا ہے. کیا اب وہ یہ بھی بتانے والی ہیں کہ اتنے سالوں میں کس کس نے ڈائمنڈ خریدا. کیا وہ اس بات کو لے پر یقین ہیں کہ ان کی پارٹی کے بڑے لیڈروں نے وہاں سے ڈائمنڈ نہیں خریدا یا نیتاؤں کے بچے وہاں کام نہیں کرتے تھے. بیٹی اور بیوی کے بہانے وزیر دفاع کیا ثابت کرنا چاہتی ہیں. ویسے اب جب پتہ چل رہا ہے کہ نیرَو مودی نام کے فراڈ نے 10 روپے کا ڈائمنڈ 200 میں فروخت کیا ہے تو امید کی جانی چاہیے کہ سارے خریدار خود ہی روتے ہوئے باہر آجائیں گے. جن کے یہاں شادیوں میں ان لوگوں نے ہیرے کا سیٹ تحفے میں دیا ہوگا اب وہ بھی رو رہے ہوں گے. ویسے اگر نرملا سیتا رمن پریس کانفرنس کرنے آئی تھیں تو انہیں یہ بتا کر جانا چاہیے تھا کہ اگست 2016 میں رجسٹرار آف کمپنیز نے وهیزل بلوار کی شکایت کو کیوں رد کر دیا تھا. جبکہ وہ شکایت پی ایم او نے فارورڈ کی تھی. وہ دو چیزیں بتا دیں … کیا جب کوئی شکایت کرتا ہے تو اس کی تحقیقات اور منسوخ کرنے کا فیصلہ کوئی کلرک لیتا ہے یا کوئی افسر لیتا ہے، کس بنیاد پر فیصلہ ہوتا ہے، وہ خود بھی کارپوریٹ امور کے وزیر رہی ہیں.

یہی نہیں سنتوش شریواستو نے 2013 میں گیتانجلی لمیٹیڈ سے استعفی دیا اور شکایات کیں تو مےهل چوکسی نے بلا کر دھمکی دی. ان کی سیلری کا بقایا آج تک نہیں دیا. فرضی کیس کئے، جس میں سنتوش بری ہو گئے. اقتصادی کرائم برانچ نے اپنی جانچ میں ایک بھی الزام درست نہیں پایا.

اس دوران ممبئی میں نیرَو مودی کے گھر کے علاوہ سورت کے تین اور دہلی کے ایک ٹھکانے پر چھاپے پڑے ہیں. ادھر سی بی آئی نے نیرَو مودی کی کمپنی کے دوسرے چیف فنانشیل افسر روی گپتا کو بھی پوچھ گچھ کے لئے بلایا. کمپنی کے ایک اور CFO وِپل امبانی سے سی بی آئی اتوار سے پوچھ گچھ کر رہی ہے. بینک کے کچھ معطل حکام سے بھی سی بی آئی نے پوچھ گچھ کی ہے. پنجاب نیشنل بینک گھوٹالے کے مرکز میں رہی ممبئی کی بریڈی ہاؤس برانچ کو پہلے سیل کر دیا گیا لیکن بعد میں سی بی آئی افسر سیل کھول کر چیک کرنے کے لئے برانچ کے اندر گئے. بہت سے بینک کے حکام کو بھی وہاں تحقیقات اور پوچھ گچھ کے لئے بلایا گیا. اسی برانچ سے400 11، کروڑ کے اس گھوٹالے کی بنیاد پڑی. اس گھوٹالے کا ایک اہم ملزم گوكلناتھ شیٹی اسی برانچ کا ڈپٹی مینیجر تھا جو اب سی بی آئی کی حراست میں ہے. الزام ہے کہ گوكلناتھ شیٹی کی مدد سے ہی لیٹر آف انڈراسٹینڈنگ جاری کیے گئے جن کی مدد سے نیرَو مودی کے لئے بیرون ملک میں دوسرے بینکوں کی ضمانت پنجاب نیشنل بینک نے لی.

اس گھوٹالے کو کس طرح انجام دیا گیا اور اس میں کل کتنے لوگوں کی ساز باز تھی اسے لے کر اب مختلف سطحوں پر قیاس ہی چل رہے ہیں. Live Mint میں تمل بندوپادھيا نے اپنی رپورٹ میں اس گھوٹالے کو سمجھانے کی کوشش کی ہے. پہلے SWIFT کو سمجھئے یعنی Society for Worldwide Interbank Financial Telecommunications. ایک ایسا نظام جس سے دنیا بھر کے بینک آپس میں ایک کوڈ کے نظام کے ذریعہ مالی لین دین سے متعلق معلومات اور ہدایات پر محفوظ لین دین کرتے ہیں. تمل بندوپادھيا اپنے مضمون میں کہتے ہیں کہ SWIFT کے ذریعہ کسی بینک کو چونا لگانے کے لئے کم از کم تین افسران کی ضرورت ہوتی ہے. میکر، چیکر اور ویری فاير. میکر وہ ہوتا ہے جو سسٹم میں SWIFT سے منسلک میسج رکھتا ہے، چیکر اس کی جانچ کرتا ہے اور تیسری اسٹیج پر ویری فاير آتا ہے جو میسج کی جانچ سے مطمئن ہونے کے بعد ویری فائی کرتا ہے. لیکن تین ہی کافی نہیں ہیں. کیونکہ مالی لین دین کے لئے SWIFT میسج جب بیرون ملک کسی بینک کو بھیجا جاتا ہے تو وہ بینک لون کو کنفرم کرنے کے لئے اس میسج کو واپس پہلے بینک میں بھیجتا ہے. پہلے بینک میں یہ میسج اس شخص کے پاس جاتا ہے تو میکر، چیکر اور ویري فاير سے مختلف ہوتا ہے. یہ میسج ایک سكيورڈ روم میں آتا ہے اور ایک الگ پرنٹر پر پرنٹ ہوتا ہے. اس کے کمرے میں جانے کی اجازت بہت ہی کم لوگوں کو ہوتی ہے. تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا بریڈی ہاؤس برانچ میں گوكلناتھ شیٹی نے یہ چاروں کردار نبھائے؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے. اس صورت میں بہت بڑے لوگوں کا یقینا کردار ہو گا جو آگے کی تفتیش میں سامنے آئیں گے. شیلا بھٹ ماہر صحافی ہیں، انہوں نے 1980 سے 1997 تک یعنی 17 سال ڈائمنڈ کاروبار کی رپورٹ کی ہے. شيلاجي نے سنڈے گارڈین اخبار میں ایک رپورٹ لکھی ہے. اس رپورٹ کے ایک حصے کا ترجمہ پیش کر رہا ہوں:

‘سورت میں ایک بڑا ہیرے کا کاروباری گزشتہ چھ ماہ سے 4000 کروڑ سے زیادہ کے قرض پر کوئی سود نہیں دے رہا ہے. اس نے یہ لون پرائیویٹ بینک سے لیا ہے. بینک کی سانس اٹکی ہوئی ہے کہ کہیں وہ دکان بند کر بھاگ نہ جائے. یہ وہی آدمی ہے جس نے چند سال پہلے اپنے تمام ملازمین کو کار تحفے میں دی تھی.

اس کہانی کو پڑھا تو ہم بھی سہم گئے … ہم نے بھی ایک ایسے ہیرے تاجر کی کہانی دکھائی تھی. کیا وہی ڈائمنڈ تاجر ہے جس کے بارے میں شیلا بھٹ اشارہ کر رہی ہیں. جب اس نے کار گفٹ کی تھی تب میڈیا میں اس کی دھوم مچ گئی تھی. کیا بھارتیہ کاروباری بغیر چوری کے کامیابی کا مقام حاصل نہیں کر سکتے ہیں؟ شیلا بھٹ سے ایک ہیرے کے تاجر نے کہا ہے کہ پچاس سال سے ہیرے کا کاروبار 90 فیصد بلیک منی پر چلتا ہے. ظاہر ہے آج بھی چل ہی رہا ہو گا… ان مضمون کا ایک اور حصہ ہے:

 ‘ ہیرے کے بڑے کاروباریوں کو معلوم تھا کہ مےهل اور نیرَو کا دھندہ چوپٹ ہونے والا ہے لیکن انہیں بھی پتہ نہیں تھا کہ وہ لیٹر آف انڈرٹیكنگ کے سہارے یہ کھیل کریں گے. مال کی قیمت زیادہ بتانا، بل میں کم دکھانا، اسمگلنگ کا مال خریدنا، بیچنا، ٹیکس چوری کرنا یہ سب تو چلتا ہے مگر لیٹر آف انڈراسٹینڈنگ کا آئیڈیا کسی کو نہیں تھا. ان ڈائمنڈ کاروباریوں کو بھی سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ نیرَو اور مےهل نے اتنے لیٹر آف انڈرٹیكنگ کس طرح حاصل کر لئے. ‘

اس واقعہ نے ڈائمنڈ کے کاروبار کو ہی شک کے گھیرے میں لا دیا ہے. اس کی چمک کے پیچھے کا اندھیرا بتا رہا ہے کہ ہم سب کتنے بھولے ہیں. چمک دکھا کر چکما دینے والے اب بھی سارا مال بٹور کے لے جا رہے ہیں. اس دوران كوِنٹ ہندی کے ادارتی ڈائریکٹر اور سینئر صحافی سنجے پگلیا نے ٹویٹ کیا ہے کہ:

‘ نیرَو مودی نے اپنے بچوں کا ممبئی کے اسکولوں سے چھ ماہ پہلے ہی نام کٹوا لیا تھا جب اسکول سیشن کے درمیان میں ہی تھے. بچے اپنی ماں کے ساتھ امریکہ چلے گئے. کاروباری خاندان حیران تھے کہ ایسا کیوں ہوا. اب انہیں وجہ پتہ لگی ہے. ‘

تو بھاگنے کی پوری تیاری تھی … ہمارے ساتھی مانس پرتاپ سنگھ نے معلومات دی ہے کہ نیرَو مودی مارچ 2017 تک ہندوستانی شہری تھا لیکن نومبر 2017 سے وہ این آر آئی ہے اور اس نے اپنا پتہ دبئی میں برج خلیفہ کو دیا ہے۔

مےهل چوکسی کہاں ہیں، کیوں نہیں پکڑ میں آئے ہیں، باقی لوگوں سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے، گرفتاري نہیں ہوئی ہے. بینک کے ملازم تو فوری طور پر گرفتار ہو گئے ہیں. اس پر وزیر قانون، انسانی وسائل کے وزیر، وزیر دفاع کے بعد زراعت بہبود کے وزیر پریس کانفرنس کرنے والے ہیں. پتہ چلا کہ سارا کابینہ پریس کانفرنس کر گیا مگر نیرَو اور مےهل نہیں آئے.

اس دوران سی وی سی نے پنجاب نیشنل بینک کے حکام کو پوچھ گچھ کے لئے بلایا … خاص بات یہ ہے کہ اسی سی وی سی نے گزشتہ تین سال میں تین بار بینکنگ میں احتیاط برتنے کے لئے پنجاب نیشنل بینک کو ایوارڈ دیئے ہیں. ان میں سے دو ایوارڈ گزشتہ ہی سال پنجاب نیشنل بینک کو دیے گئے جس سال پي این بي نے نیرَو مودی اور ان کے ان کے خاندان کو 293 ایل او يو جاری کیے. اس سی وی سی  سے ہی پوچھا جانا چاہئے کہ وہ احتیاط ایوارڈ کس طرح دیتا ہے. انعام دینے کے سلسلے میں اس کے شرائط کیا ہیں. اس واقعہ سے احتیاط کمیشن کی تصویر کو کتنا دھکا پہنچا ہے، بشرطیکہ اس دھکے سے کسی کو فرق پڑتا ہو.

خود مرکزی سی وی سی کمشنر کیوی چودھری نے یہ ایوارڈ اپنے ہاتھوں سے دیے. اب وہی ان سے پوچھ رہے ہیں کہ خرابی کیوں اور کیسے ہو گئی. انہیں خود ہی عوام کے سامنے آکر اپنی بات بتانی چاہئے.

کاروباری وکرم کوٹھاری کی کمپنی روٹومیك کی بنائی قلم خرید کر ہم لوگ سچ لکھتے ہیں مگر کمپنی والے وکرم کوٹھاری 3695 کروڑ نہیں چکا پا رہے ہیں. انہوں نے الہ آباد بینک، بینک آف انڈیا، بینک آف بڑودہ، انڈین اوورسيذ بینک، یونین بینک آف انڈیا سے لون لیا تھا. ان بینکوں نے قوانین کو طاق پر رکھ کر وکرم کوٹھاری کو لون دیا. لیکن اب کوٹھاری نہ تو سود چکا رہے ہیں نہ ہی اصل. فروری 2017 میں لون ادا کرنے میں ناکام رہنے پر بینکوں نے انہیں ولفل ڈفالٹر قرار دیا یعنی جو جان بوجھ کر لون ادا کرنے میں تاخیر کرے. اس کے بعد کوٹھاری اور ان کے خاندان کے لوگوں کی بہت سی پروپڑتی کو بینکوں نے گزشتہ سال نیلام کرنے کی کارروائی شروع کی تاکہ اپنے بقائے کا کچھ حصہ وصول کیا جا سکے. کانپور کے مال روڈ کے سٹی سینٹر میں روٹومیك کمپنی کے آفس پر کئی دنوں سے تالا بند ہے. بینک آف بڑودہ کی شکایت کے بعد سی بی آئی نے ان کے خلاف ایف آئی آر دائر کی ہے اور کانپور میں ان کے تین ٹھکانوں پر چھاپے مارے ہیں.

وکرم کوٹھاری، اس کی بیوی اور بیٹے سے سی بی آئی کے افسر پوچھ گچھ کر رہے ہیں. اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ وکرم کوٹھاری بھی ودیش بھاگ گئے ہیں لیکن اتوار کی رات انہیں کانپور میں ایک شادی کی تقریب میں دیکھا گیا. غبن کو لے کر سوالات کے جواب میں کوٹھاری نے کہا کہ ‘میں ملک چھوڑ کر بھاگ نہیں رہا ہوں. کانپور کا رہنے والا ہوں اور یہیں رہوں گا. بھارت سے بہتر کوئی ملک نہیں ہے. ان کے یہ بول سن کر میں سہم گیا. لون لے کر غبن کرنے میں بھارت سے بہتر کوئی ملک نہیں ہے یا واقعی بھارت سے بہتر کوئی ملک نہیں ہے. دراصل سب کو پتہ ہے کہ ہونا جانا کچھ نہیں ہے. ایسے ہی انکوائری واچ ہوتی رہے گی بعد میں سب رفع دفع ہو جائے گا. لون نہ ادا کرنے کے سوال پر کوٹھاری نے کہا کہ ‘بینک سے لون ضرور لیا ہے، لیکن لون نہ چکانے کی بات غلط ہے. میرا اور بینک کا نیشنل کمپنی لاء ٹریبونل کے اندر کیس چل رہا ہے. ‘ ادھر کوٹھاری کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بینک کا لون نہ چکا پائے تو اسے فراڈ نہیں کہا جانا چاہئے، یہ کوئی جرم نہیں ہے. ایک جانا پہچانا پان مسالہ برانڈ ’پان پراگ‘ کوٹھاری خاندان کا ہی ہے.

پکوڑے تلنے کے بعد نیرَو مودی کے کیس نے لوگوں کی تصور کو جگا دیا ہے. وہ مودی کو لے کر طرح طرح کے جوگيرا سارہ رارا لکھ رہے ہیں. ایک نے لکھ بھیجا ہے کہ قرض بھی کتنا عجیب ہے، امیروں کا بڑھے تو ملک چھوڑ جاتے ہیں، غریبوں کا بڑھے تو بدن چھوڑ جاتے ہیں. اس دوران خبر آئی ہے کہ گھوٹالے کے اجاگر ہونے کے بعد گيتانجلي جیمز لمیٹیڈ كنپلائنس افسر پنکھڑی وارنگے نے ضمیر کی آواز پر اور چیف فنانشیل افسر چدركانت کرکرے نے بیمار بیوی کے نام پر استعفی دے دیا ہے. بہار میں اسی طرح کا گزشتہ سال اگست میں سرجن گھوٹالہ سامنے آیا تھا. سرجن گھوٹالہ بھی بینکاری گھوٹالہ تھا. 2013 میں ہی ہندوستانی ریزرو بینک نے لکھا تھا کہ سرجن کے اکاؤنٹ کی جانچ ہو مگر تحقیقات نہیں ہوئی، گھوٹالہ چلتا رہا. اب جب گھوٹالہ سامنے آیا تو معاملہ سی بی آئی کے پاس گیا. 6 ماہ سے سی بی آئی تحقیقات کر رہی ہے مگر سرجن اسکینڈل کے اہم ملزم گرفتار تک نہیں ہوئے ہیں.

ہمارے ساتھی منیش کمار نے رپورٹ فائل کی ہے کہ ابھی تک سرجن اسکینڈل کے اہم ملزم پریا اور امت فرار ہیں. سی بی آئی نے ابھی تک گرفتاری کے لئے وارنٹ تک نہیں لیا ہے. 1500 کروڑ کے اس گھوٹالے کو لے کر سی بی آئی کی یہ رفتار ہے. حکومت کی اسکیمیں جب بھاگلپور پہنچتی تھیں تو ضلع مجسٹریٹ چیک کاٹ کر بھاگلپور کے بینک آف بڑودہ کی شاخ کو دیتے تھے کہ پیسہ سرجن نام کی تنظیم کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیا جائے. وہاں سے پیسہ نکلتا تھا اور لوگوں میں تقسیم ہو جاتا تھا. یہ ایسا دھوکہ ہے اگر اس تیزی سے جانچ ہوتی تو دوسری ریاستوں پر بھی اثر پڑتا مگر سب کچھ  سماچارکی طرح سست رفتار سے بڑھ رہا ہے. بہار میں حکومت بدل گئی ہے اور سرجن گھوٹالے کی بات سست پڑ گئی ہے. 6 ماہ میں سی بی آئی اہم ملزم کو گرفتار نہ کر سکے تو کیا کہا جائے جبکہ سی بی آئی نے 5 چارج شیٹ، 2 سپلي مینٹري چارج شیٹ دائر کر چکی ہے.

ابھی تو تحقیقات میں تیزی آ رہی ہے. دو تین دنوں بعد جب میڈیا کی توجہ کا مرکز بدلے گا تو پنجاب نیشنل بینک کے گھوٹالے کا حال بھی سرجن گھوٹالے کے جیسا ہو جائے گا. بہار جیسے غریب ریاست میں کوئی 1500 کروڑ لوٹ لے جائے اور کسی کو فرق ہی نہ پڑے تو غریبوں کا خدا ہی مالک ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close