خصوصی

انل امبانی ٹاور،اسپیکٹرم، کیمپس بیچ  رہے ہیں، آپ بھی لے لو!

آپ جانتے ہیں کہ انل امبانی پر بہت بینکوں کا7000 44 کروڑ روپیہ لون ہو چکا ہے. اسٹیٹ بینک آف انڈیا، آئی ڈي بي آي، بینک آف بڑودہ. چائنا ڈیولپمنٹ بینک نے تو 9600 کروڑ کے لون کی وصولی کے لئے NCLT میں دعوی بھی ٹھوک دیا تھا. جون میں انل امبانی نے کہا تھا کہ چھ ماہ کے اندر لون کے بوجھ اتارنے کے لئے کئی اہم تبدیلیاں کریں گے. اسے SDR اسکیم کہتے ہیں جس کی سمجھ مجھے نہیں ہے.موٹا موٹی یہی سمجھ آیا ہے کہ اس اسکیم سے کوئی فائدہ نہیں ہوا. ابھی انل امبانی مارچ 2018 تک اپنے کئی ایسیٹ یعنی سرمایہ فروخت کردیں گے. انل امبانی کے پاس اسپیکٹرم، ریئل اسٹیٹ اور شیئر کے طور پر پونجی ہے. اس لئے RCOM 43000 ٹاور فروخت کیے جا رہے ہیں. 4 جی اسپیکٹرم کا 122.4 میگاهرتج اسپیکٹرم بیچ کر 25000 کروڑ جٹائے گیں. ملک بھر میں بچھائے گئے 178000 کلومیٹر آپٹیکل فائبر فروخت کر دیں گے. نوی ممبئی میں دھیرو بھائی امبانی نالج سٹی کیمپس ہے. اسے بیچ کر 10000 کروڑ آئے گا. اس کے علاوہ 4000 کروڑ کی اپنی حصہ داری بیچیں گے. آركام کے بحران کی وجہ سے کتنوں کی نوکری گئی ہے، اس کا حساب نہیں ہے.

مزید پڑھیں >>

سکندرا کا بندر اور سکندر

سکندرا سے 2012 میں بھی بہوجن سماج پارٹی کے امیدوار اندرپال سنگھ  کو کامیابی ملی تھی لیکن اس بار کمال دانشمندی  کا مظاہرہ کرتے ہوئے مایاوتی نے انتخاب نہیں لڑا یعنی بلاواسطہ سماجوادی پارٹی کی حمایت کردی لیکن اس کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے  کانگریس نے  اپنا امیدوار میدان میں اتارنے کی حماقت کردی۔ موروثی سیاست پر دن رات تنقید کرنے والی بی جے پی نے  مرحوم متھرا پرساد پال کے بیٹے اجیت سنگھ کو ٹکٹ دے دیا۔ کانگریس نے سوچا کہ سماجوادی اور بہوجن سماج کےاتحاد کو براہمن ووٹ  نہیں دیں گے اور وہ ووٹ بی جے پی کے جھولی میں چلے جائیں گے اس لیے اپنے براہمن امیدوار پربھاکر پانڈے کو کھڑا کر دیا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بی جے پی  کےووٹ  میں 14 ہزار ووٹ کی کمی کے باوجود  وہ 11 ووٹ سے کامیاب ہوگیا اس لیے کہ کانگریس کو 19 ہزار ووٹ مل گئے۔ کانگریس نے اگر سماجوادی پارٹی  سے اپنا الحاق ختم کرنے کے بجائے برقرار رکھا ہوتا تو ممکن ہے 7 ہزار ووٹوں کی یہ شکست 7 ہزار ووٹ کی فتح میں بدل جاتی۔

مزید پڑھیں >>

بیت المقدس کا حالیہ بحران اور ہماری ذمے داری

۶؍دسمبر کی تاریخ ہم میں سے ہر ایک کو یاد ہوگی۔ آج سے پچیس برس قبل اسی تاریخ میں ایودھیا میں شرپسندوں اور شدّت پسندوں کے ہاتھوں سے بابری مسجد شہید کی گئی تھی۔ دن کے اجالے میں کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیاگیاتھا اور اللہ واحد کی عبادت کے لیے بنائے گئے گھر کو مسمار کرکے زمیں بوس کردیاگیاتھا۔ امسال۶؍دسمبر کو ایک اور حرکت کی گئی، جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں نے اذیت محسوس کی اور ان کے دلوں میں اضطراب پیداہوا۔ اس تاریخ کو صدرِ امریکہ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کردیں گے۔

مزید پڑھیں >>

باغوں میں بہار تو نہیں ہے مگر پھر بھی۔۔۔۔۔!

میں اندر جاتے وقت اور باہر آتے وقت ان سے ملتا رہا. کچھ سامنے آکر ملے تو کچھ نے دور سے ہی نگاہوں سے ملاقات کی رسم ادا کر دی. ایک عمر دراز وردی دھاری دو تین بار آئے. اتراکھنڈ کے چمپاوت میں کئی سال سے سڑک نہ ہونے کی وجہ سے دکھی تھے. زور دے کر کہا کہ آپ چمپاوت کی تھوڑی خبر دكھايے تاکہ حکومت کی نظر جائے. حکومت میں بیٹھے لوگوں اور ان کے اشارے پر چلنے والے آئی ٹی سیل کے لوگوں نے اسی بنیادی کام کو حکومت مخالف بنا دیا ہے. میں نے ان سے کہا کہ ہمارے چینل پر سشیل بہوگنا نے حال ہی میں پنچیشور باندھ کے بارے میں لمبی رپورٹ کی ہے. فوری طور پر کہا کہ ہم نے دیکھی ہے وہ رپورٹ، ویسا کچھ چمپاوت پر بنا دیجئے. میں یہی سوچتا رہا کہ اتنی تھکاوٹ لے کر گھر گئے ہوں گے اور پھر بھی انہوں نے بہت محنت اور تحقیق سے تیار کی گئی پنچیشور ڈیم کی کوئی 25-30 منٹ کی طویل رپورٹ دیکھی. ممکن ہے اس پروگرام کی درجہ بندی زیرو ہو، ہوگی بھی.ہم نے صحافت کو ٹی آر پی میٹر کا غلام بنا دیا ہے. ٹی آر پی میٹر نے ایک سازش کی ہے. اس نے اپنے دائرہ کار کے لاکھوں کروڑوں لوگوں کو ناظرین ہونے کی شناخت ہی باہر کر دیا ہے. کئی بار سوچتا ہوں کہ جن کے گھر ٹی آر پی میٹر نہیں لگے ہیں، وہ ٹی وی دیکھنے کا پیسہ کیوں دیتے ہیں؟ کیا وہ ٹی وی کے ناظرین ہونے کی گنتی سے بے دخل ہونے کے لئے تین سے چار سو روپے مہینے کے دیتے ہیں. کروڑوں لوگ ٹی وی دیکھتے ہیں مگر سبھی  ٹی آر پی کا فیصلہ طے نہیں کرتے ہیں. ان کے بدلے چند لوگ کرتے ہیں.

مزید پڑھیں >>

گجرات: چراغ گھات میں ہیں اور ہوا نشانے پر

گجرات کے انتخاب میں راہل گاندھی کو یقینا ً شکست سے دوچار ہونا پڑا لیکن اگر مودی جی کے آبائی گاوں واڈ نگر  اور حلقۂ انتخاب   اونجھاکے نتائج پر نظر ڈالیں  تو   مناّ بھائی (ایم بی بی ایس) کی زبان میں کہنا پڑے گا ’’ گھر میں گھس کے مارا‘‘۔ یہی وجہ ہے مودی جی  ایوان پارلیمان سے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں ۔  سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور سابق صدر جمہوریہ حامد انصاری کے خلاف نریندر مودی کے بیان پر کانگریس نے سرمائی اجلاس میں   ہنگامہ برپا  کر رکھا۔ کانگریس  وزیر اعظم سے  معافی پر اصرار کررہی ہے۔ اس بابت  حزب اختلاف کو سمجھانے اور منانے  کے لیے وزیر مالیات ارون جیٹلی نے کوشش کی ناکام رہے ۔ وقفۂ صفر میں اس مسئلہ پرا جازت نہ ملنے کے سبب کانگریسی اراکین ’وزیر اعظم ایوان میں آؤ، وزیر اعظم معافی مانگو‘ کے نعرے لگا نے لگے۔

مزید پڑھیں >>

تعلیمات مسیح ابن مریم علیہماالسلام

’’مسلمان ہوں ، یہودی ہوں ، مسیحی ہوں یاصابی ہوں جوکوئی بھی اﷲ تعالی پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اورنیک عمل کرے ان کے اجر انکے رب کے پاس محفوظ ہیں اور ان پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ ہی کوئی اداسی وغم‘‘۔ قرآن مجیدکی سورہ بقرہ کی اس باسٹھ نمبر آیت میں اﷲ تعالی نے یہ واضع کیا ہے کہ اﷲ تعالی کی رحمت پر کسی مذہب والوں کی ٹھیکیداری نہیں ، کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والااگر اپنا عقیدہ و عمل درست کر لے تو اس کے لیے اﷲ تعالی کی رحمت کے دروازے کھلے ہیں ۔ اورظاہرہے کہ عقیدہ و عمل کی درستگی صرف انبیاء علیھم السلام کی تعلیمات سے ہی ممکن ہے۔

مزید پڑھیں >>

2 جی کا جھوٹ گھوٹالہ کتنا بڑا

اسے بدعنوانی کا معاملہ بتا کر اس کا نام گھوٹالہ بتایا گیا تھا. اس جھوٹے الزام میں بدعنوانی کا سائز تاریخی طور پر سب سے بڑا بنایا گیا تھا یعنی ایک لاکھ 76 ہزار کروڑ. اس کے پہلے ملک کے عوام نے صرف چار چھ ہزار کروڑ کے ہی الزام سنے تھے. عام طور پر ان گھوٹالوں کے الزام بھی بس بڑے کاروباریوں پر ہی لگتے تھے. لیکن پچھلی یو پی اے حکومت کو تباہ کرنے کے لئے ایک لاکھ 76 ہزار کروڑ کے گھوٹالے کے الزام بنائے گئے تھے. اور واقعی الزام لگانے والوں کی تب کی حکومت کی تصویر کو بالکلیہ ’بدعنوان حکومت‘ بنانے میں کامیابی بھی مل گئی تھی. میڈیا میں جس طرح سے ان الزامات کی تفتیش کی، پہلے ہی سب سے بڑا کرپشن ثابت کرکے دکھایا گیا تھا  اور اس کا اثر ہوئے بغیر رہ بھی نہیں سکتا تھا. آخر 2014 کے انتخابات میں یو پی اے حکومت کو عوام نے بے دخل کر دیا تھا. یہ ثابت کرنے کے لئے کسی بحث کی ضرورت نہیں کہ گزشتہ انتخابات میں یو پی اے حکومت کی شکست کی وجوہات میں اس 2 جی الاٹمنٹ میں خرابی کے جھوٹے الزامات کا کتنا بڑا کردار تھا. معاملہ یہ کہتے شروع کیا گیا تھا کہ حکومت کی پالیسیوں سے حکومت کے خزانے کو ایک لاکھ 76 کروڑ کا نقصان ہوا اور جلد ہی اسے رشوت خوری اور مہا گھوٹالے کے نام سے مشہور کر دیا گیا تھا.

مزید پڑھیں >>

کیا میڈیا اور اپوزیشن کا 2 جی گھوٹالے میں گھال میل رہا ہے؟

کیا سب کچھ کھیل کی طرح ہوا. سات سال سے سپریم کورٹ  نگرانی کر رہا تھا تب پھر سی بی آئی نے کس طرح ثبوت نہیں پیش کئے، کس طرح اپنا کام نہیں کیا اور سارے ملزم چھوٹ گئے یا پھر یہ ماننے کے کافی وجوہات ہیں کہ سی بی آئی جج کے سامنے ثبوت ہی نہیں پیش کر پائی. جج اوپی سینی نے لکھا ہے کہ وہ ہر روز صبح سے شام تک انتظار کرتے رہے کہ کوئی ثبوت لے کر آئے گا، کوئی آیا ہی نہیں. تو اب کیا مانا جائے، کیا عدالت کے فیصلے کو نہیں مانیں کہ کوئی گھوٹالہ نہیں ہوا یا فیصلے کے بعد بھی وہی کیا جائے تو 2010 سے 2017 تک ہوتا رہا کہ گھوٹالہ ہوا تھا. 1 لاکھ 76 ہزار کروڑ کون کھا گیا آخر. یہ کس کی جیب میں گیا. ملزمان کو بچانے والوں کی جیب میں تو نہیں گیا مگر بچانے والے کون ہے.2 جی گھوٹالے کے کوریج نے ٹی وی کے کردار کو تبدیل کر دیا. یہ وہی دور تھا جب ٹی وی میں ڈبیٹ آئی. انا تحریک کے کوریج میں ٹی وی کے بنائے سارے فورمیٹ منہدم ہو گئے. کئی گھنٹے تک تحریک ٹی وی پر لائیو ہوتا تھا. پارلیمنٹ میں بی جے پی گھوٹالے کو لے کر حکومت پر الزام لگا رہی تھی. یو پی اے حکومت کے لوگ ملزم کی طرح ہر طرف نظر آ رہے تھے. سي ایم میڈیا لیب کی رپورٹ بتاتی ہے کہ 2009 سے ٹی وی پر بدعنوانی کے كوریج کافی بڑھ گئے تھے. حکومت سے متعلق 2 جی، سي ڈبليوجي، آدرش اور بوفورس. سي ایم میڈیا کی رپورٹ بتاتی ہے کہ 2 جی کو ٹائمز آف انڈیا اور ہندوستان ٹائمز نے دوسرے اخبارات کے مقابلے زیادہ کور کیا. 2 جی گھوٹالے کو ٹی وی میں انگریزی نیوز چینلز نے زیادہ کوریج دیا.

مزید پڑھیں >>

2 جی فیصلے کے خلاف اپیل، حکومت کیوں نہ لے ونود رائے کی مدد؟

2 جی معاملے میں فیصلہ دینے والے اوپی سینی کی ایمانداری کی وجہ سے سی بی آئی عدالت کا اسپیشل جج بنایا گیا تھا. ملک میں بدعنوانی کے مقدمات کے خلاف کارروائی کرنے والی سی بی آئی کس طرح بے ایمان ہو سکتی ہے؟ اتنے ایماندار نظام کے باوجود 1.76 لاکھ کروڑ کے گھوٹالے کے ملزمان کو سزا کیوں نہیں ہوئی؟ پیچیدہ معاملات میں حکومت سابق حکام سے قانونی مسائل پر تبادلہ خیال کرتی ہے. سی اے جی سے ریٹائرمنٹ کے بعد ونود رائے ابھی بینکاری بورڈ اور بی سی سی آئی انتظامی کمیٹی کے چیئرمین بن کر این پی اے اور کرکٹ میں بدعنوانی  کو دور کر رہے ہیں. 2 جی معاملے میں پیروی کے لئے يويو للت کی تقرری ہوئی تھی، جو اب سپریم کورٹ کے جج ہیں. تو پھر اس صورت میں مندرجہ ذیل نکات پر اپیل بنانے کی ذمہ داری ونود رائے کو کیوں نہیں دی جانی چاہئے، جس سے سی بی آئی اور ای ڈی کے افسران ہائی کورٹ کو اپیل میں سماعت کے دوران الجھن پیدا نہ کر سکیں.

مزید پڑھیں >>

ٹو جی اور شیریں فرہاد

مذکورہ  فیصلہ اگر کانگریس دورِ اقتدار میں سامنے آتا تو حزب اختلاف یا نام نہاد سیول سوسائٹی کا یہ الزام درست ہوتا کہ  سی بی آئی حکومت کے در کی لونڈی ہے۔ اس نے حقائق کا پردہ فاش کرنے کے بجائے پردہ پوشی کی ہے۔ جان بوجھ کر شواہد کو چھپایا یا توڑ مروڈ کر پیش کیا ہے جیسا کہ امیت شاہ، کرنل پروہت یا سادھوی پرگیہ کے معاملے میں کیا جارہا ہے۔ حیرت اس  بات پر  ہے کہ یہ   فیصلہ ایک ایسی حکومت کے زیر اقتدار آیا ہے جو اپنے سیاسی مفاد کی خاطر  منموہن سنگھ  سمیت سابق نائب صدر اور فوجی کماندار کو پاکستان کا ایجنٹ قرار دینے سے بھی  نہیں ہچکچاتی۔  یہ حسن اتفاق ہے کہ جس وقت حزب اختلاف  وززیراعظم کی جانب سے منموہن سنگھ پر لگائے گئے  الزامات پر معافی کے لیے ایوان پارلیمان کو سر پر اٹھائے ہوئے ہے یہ دوٹوک فیصلہ سامنے آگیا۔ یہ قدرت کا انتقام ہے کہ لسبیلہ میں شیریں فرہاد کی قبر پر میلہ لگتا ہے اور عوام   ان کے قاتل  گاوں کےسردار پر لعنت ملامت کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>