خصوصی

عورت: اسلام کے زیر سایہ 

اسلام کے زیر سایہ عورت بہت سکون و اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتی ہے۔ البتہ چوں کہ بہت سے مسلمان اسلام کی ان تعلیمات پر عمل نہیں کرتے اور اسلام کے عطا کردہ حقوق سے اسے محروم کرتے اور اس پر ظلم ڈھاتے ہیں ۔ اس بنا پر دوسروں کو اعتراضات کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم پوری خوش دلی کے ساتھ عورتوں کو وہ حقوق دیں، جن کی ادائیگی کی اسلام نے تاکید کی ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کریں، جس کا اسلام نے پابند کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

جاپانی بخار : بچاؤ پر سوال

مچھروں سے پیدا بیماریوں میں سے انسیفیلاٹس (جاپانی بخار) ایک ہے۔ اس مرض کو سب سے پہلے جاپان کے لوگوں نے 1871 میں جانا، جو جے ای (جیپنیز انسیفیلاٹس) کے نام سے دنیا بھر میں بدنام ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا، مغربی علاقہ کے 24 ممالک کے تین ارب لوگ اس کی زد میں آئے اور زیادہ تر افراد وقت پر علاج اور احتیاط کی وجہ سے بچ بھی گئے۔

مزید پڑھیں >>

چیلنج کا اِدراک، سمتِ سفر کا شعور اور تجدیدِ عہد

 ہمارے ملک میں پائے جانے والے حالات کی مجموعی کیفیت کا ایک رخ افکار ونظریات ہیں۔ جہاں تک عام سماج کا تعلق ہے وہ شرک سے متأثر ہے نظامِ تعلیم پر بھی دیومالائی اثرات پائے جاتے ہیں لیکن نظامِ قانون وسیاست میں مغربی افکار کا رنگ نمایاں ہے۔ ذرائع ابلاغ میں کیفیت ملی جلی ہے، مشرکا نہ تصورات کے اثرات بھی محسوس ہوتے ہیں اورمغربی افکار کے بھی، ان کے درمیان فطری طورپر تصادم پایا جاتا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ان کے لیے شرک بھی ناقابل قبول ہے اور مغربی مادیت بھی۔ حکمت، صبر اور استدلال کے ساتھ شرک اور مادی افکار کی تردید اور ان کے بالمقابل تو حید اور وحدتِ بنی آدم کی جانب دعوت مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ حالات نے اس ذمہ داری کی ادائیگی کو اور زیادہ ضروری بنادیا ہے۔ اسلام اور مسلم مخالف پروپیگنڈے کے باوجود حق کی دعوت کو عام کرنے کے راستے کھلے ہوئے ہیں۔ بلکہ بعض ذہنوں کو خود منفی پروپیگنڈے نے اسلام کی جانب متوجہ کیا ہے۔ دعوتِ حق کا کام سنجیدگی، منصوبہ بندی اور محنت کا طالب ہے۔ حالات کے اندر صحت مند تبدیلی لانے میں بنیادی رول دعوت کا ہے۔ اس سے غفلت برتی جائے تو کوئی اور کام اس کی تلافی نہیں کرسکتا۔

مزید پڑھیں >>

ہندوستان تاج محل کے بغیر!

اج محل کو مندر میں تبدیل کرنے کی یہ کوشش ابھی سرد نہیں پڑی ہے، بر سر اقتدار پارٹی بی جے پی کی جانب سے اس کو مندر میں تبدیل کرنے کی کوشش جاری ہے، دوسری جانب آر کیا لوجیکل سرے آف انڈیا بار ہار یہ ثبوت پیش کرچکی ہے کہ تاج محل کے مندر ہونے کا دعوی بے بنیاد اور محض ایک افسانہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

ٹیچرز ڈے اور مثالی استاد کی صفات

ٹیچرز ڈے کے موقع پر وہ تمام خواتین وحضرات جو استاد کی نازک ذمے داریوں پر فائز ہیں ، اس بات کا عہد کریں کہ مندرجہ بالا صفات اور خوبیوں کو اپنے اندر بھی پیدا کریں گے اور اپنے شاگردوں میں بھی منتقل کریں گے۔ اس مادیت کے دور میں اساتذہ پر عاید ہونے والی ذمے داریاں ماضی کے مقابلے میں دوچند اور سہ چند ہوچکی ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کا استاد بھی، تعمیرکردار وسیرت کے بجائے محض حرف خوانی کو اپنی ذمے داری سمجھتا ہے، جس کی وجہ سے تعلیم یافتہ لوگ توہر طرف نظر آتے ہیں ، لیکن ان کے اندر وہ صفات ڈھونڈے سے نہیں ملتیں ، جو ماضی میں تعلیم وتربیت کا لازمہ سمجھی جاتی تھیں ۔

مزید پڑھیں >>

مجموعۂ اضداد ہے دنیا مرے آگے

وزارت داخلہ ان کو  پناہ گزین نہیں  بلکہ گھس پیٹھئے یعنی درانداز کے لقب سے یاد کرتی ہے لیکن یہ اصطلاح تبت یا سرلنکائی پناہ گزینوں کے لیے استعمال نہیں کی جاتی۔ اس کے برعکس وزارتِ خارجہ انہیں  پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے بنگلادیشی حکومت کی تعریف کرتی ہے۔ یہ عجب تماشہ ہے کہ روہنگیا مظلو مین  جب اپنےمادرِ وطن سے نکل کر بنگلادیش پہنچتے ہیں تو  پناہ گزین  ہوتے ہیں لیکن  ہندوستان میں قدم رکھتے ہی  غیر قانونی گھس خور ہوجاتے ہیں۔ بنگلا دیش کے اندر چار لاکھ لوگوں کی آمد امن و سلامتی کو متاثر نہیں کرتی لیکن ہندوستان میں ان میں سے چالیس ہزار لوگ  خطرہ بن جاتے ہیں۔ پڑوسی ملک میں جو لوگ بے ضرر ہیں وہ اس سرزمین پر آتے ہی ضرر رساں کیسے   ہوجاتے ہیں اس سوال کا جواب تو کوٹلیا بھی نہیں دے سکتا؟ ملک کے مختلف حصوں میں منتشر ان لٹے پٹے لوگوں کو خطرہ بتاکر ہمارے سیاستدانوں نے ان قومی حفاظتی دستوں کی توہین کی ہے جوبنگلادیش کی بہ نسبت مقدار و معیار دس گنا  سے زیادہ لائق و فائق   ہے۔

مزید پڑھیں >>

امریکہ میں ایک اور خبط الحواس دہشت گردی

گیارہ ستمبر کے بعد امریکی تاریخ کا سب سے بڑاحملہ گزشتہ سال  جون میں اورلینڈو نائٹ کلب پر حملہ ہوا تھاجس میں 50 ہلاک اور 59 زخمی ہوئے۔ لاس ویگاس کے حملے نے وہ ریکارڈ توڑ دیا۔  اس بار 59 ہلاکتیں  اور 500  سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اورلینڈوحملہ   ایک سنکی مزاج عمر متین  کی حرکت تھی اس لیے پولیس چیف نے اسے نفرت کا جرم  ( Hate Crime)قراردیا۔ سابق صدر اوبامہ نے ان  حادثات  کوبلا ثبوت مذہب سے جوڑنے کو غلط ٹھہرایا۔ حملہ آور کے والد صدیق میر کے مطابق  ان کے بیٹے کی ہم ہم جنسوں سے نفرت  کلب پر حملےکا سبب بنی۔ امریکہ کے دستور میں اگر چہ  تعدد ازدواج  پر پابندی  ہے مگرہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت ہے۔ عوام  کی ایک بڑی تعداد لوطیتسے نفرت کرتی ہے۔ دو سال قبل جب  امریکہ کی سپریم کورٹ نے اس غیر فطری  شادی کو جائز قرار دیا تو ۹ رکنی بینچ میں سے 4 جج مخالف تھے  جن میں چیف جسٹس بھی شامل تھے۔ اس حملے کے بعد  امریکہ میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نظر ثانی کی بحث پھر سے چھڑ گئی تھی۔ ان تمام حقائق کے باوجود چونکہ حملہ آور افغانی نژاد مسلمان تھااس لیے میڈیا نے اسےمذہبی رنگ دے کر داعش سے جوڑدیا  اور عوام کو اسلام اور مسلمانوں سے متنفر کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

مزید پڑھیں >>

چشمہ: نظر کا نہیں نظریے کا

انسانی زندگی میں نظریات کی کلیدی اہمیت کے باوجود سماجی علوم میں مختلف نظریات پر بحثیں تو ہوتی ہیں لیکن فی نفسہٖ’’نظریہ‘‘ کو موضوع بحث کم ہی بنایا جاتا ہے۔ نظریات کے معنی و مفہوم کے تعلق سے بھی جو بحثیں کی جاتی ہیں وہ اکثر یک رخی اور نامکمل رہ جاتی ہیں ۔ نظریات پر جو تنقید کی گئی ہے وہ بھی غلط فہمیوں کی معراج ہے۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ نظریہ فرد کو متعصب بنادیتا ہے لہذا ہمیں نظریات سے اوپر اٹھ کر سوچنا، غور و فکر کرنا، تجزیہ کرنا اور نتائج اخذ کرنا چاہئے۔ اس میں پہلی بات صحیح ہے اور دوسری غلط یا کم از کم ناممکن۔ یہ صحیح ہے کہ نظریہ ایک حد تک فرد کو متعصب بنا سکتا ہے لیکن اس کے حل کے طور پر نظریات سے ’اوپر‘ اٹھ جانا ممکن نہیں ۔ ہر فرد کا ایک نظریہ ہوتا ہے۔دوسرے الفاظ میں ہر فرد کے اپنے تعصبات ہوتے ہیں۔ اس دنیا میں کوئی بھی غیر جانبدار نہیں ہے، غیر جانبداری کا ہر دعویٰ جھوٹا ہے۔ پھر تعصب سے بچنے کا طریقہ کیا ہو؟ تعصب کے مضر اثرات سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اپنے اپنے تعصبات کو علی الاعلان تسلیم کرلیا جائے۔ وگرنہ ایک فرد خود کو غیر جانبدار کہے گا مگر اس کے خیالات مارکسزم کا چربہ ہوں گے؛ دوسرا خود کو نظریات سے اوپر کی چیز قرار دے گا مگر اس کی پوری فکر لبرل ہو گی۔

مزید پڑھیں >>

محتاط رہیں تو بہت زیادہ سنگین نہیں ہے لیو کیمیا

خون کے سفیدذرات اس کیلوس کو کہتے ہیں جو غذا کے ہضم ہونے کے بعدعروق مارسایقا (غددجاذبہ) کے ذریعے جگروخون میں داخل ہوتاہے چونکہ عروق ماساریقا اور غددجاذبہ و طحال ولبلبہ وغیرہ ایک ہی مزاج کے اعضاء ہیں اس لئے محققین نے ان سے سفید ذرات خون کا بننا تسلیم کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

مسلمانوں کا تعلیمی نظام: ایک تاریخی جائزہ

 موجودہ دور میں مسلمانوں کے درمیان تعلیم کے دو دھارے (Stream) جاری ہیں۔ ایک کو قدیم یا دینی کہا جاتا ہے اور دوسرے کو جدید یا عصری۔یہ دونوں دھار ے متوازی چلتے ہیں اور جس طرح دریا کے دونوں کنارے طویل ترین فاصلہ طے کرنے کے با وجود کہیں نہیں ملتے، اسی طرح ان دونوں دھاروں کے درمیان بھی کہیں یکجائی نہیں ہوتی۔ والدین کو ابتدا ہی میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو کسی دینی مکتب یا مدرسے کے حوالے کریں یا کسی اسکول میں اس کا داخلہ کرائیں ۔ جدید تعلیم حاصل کرنے والا بچہ ڈاکٹر، انجینیر، آرکیٹکٹ یا کسی پروفیشن کا ماہر تو بن جاتا ہے، لیکن اس کی دینی تعلیم واجبی سے بھی کم ہوپاتی ہے۔

مزید پڑھیں >>