خصوصی

معمولی آدمی کی فلم اور اس کے نمائندے کیجریوال

جس دن امریکہ سے یہ سروے ہمیں پروسا گیا ہے کہ %55  بھارتی مضبوط لیڈر کو ترجیح دیتے ہیں، اس کے ٹھیک ایک دن بعد ایک فلم آ رہی ہے جس کا اردو میں مطلب ہے 'معمولی آدمی'. آپ اس اتفاق پر مسکرا سکتے ہیں. آپ کی مسکراہٹ کم اہم نہیں ہے. یہ فلم ان تمام طرح کے خدشات کو مسترد کرتی ہے کہ بغیر وسائل اور معاہدے کے کوئی سیاست میں جگہ نہیں بنا سکتا. یہ فلم یہ بھی بتاتی ہے کہ جب آپ سیاست میں آئیں گے تو سمجھوتے آپ کا امتحان لینے آئیں گے. عام آدمی پارٹی کا پہلا سال اور اس کے پہلے کے دو سال جذباتیت بھرے سال تھے. جذبات کا غلبہ تھا. مگر فلم بنانے والے نے اپنے کیمرے سے ان جذبات کو نکال دیا ہے. وہ خود ایک معمولی آدمی بن کر ایک معمولی آدمی کے رہنما بننے کی کہانی کو ریکارڈ کرتا ہے.یہ فلم ایک نئے سیاسی خواب کے طور پر ابھر رہی عام آدمی پارٹی کا سفر نہیں ہے بلکہ اس سیاست کو قریب سے دیکھنے کی چاہ لئے نوجوانوں کی بھی یاترا ہے.

مزید پڑھیں >>

ہر سانس کے ساتھ زندگی میں گھلتا زہر

عوام کو خود آگے آکر ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی ہوگی۔ ساتھ ہی سرکاروں پر بھی دباؤ بنانا ہوگا کہ وہ ماحول کے معاملہ میں کسی طرح لاپرواہی کو برداشت نہ کرے، شہر میں جگہ جگہ ہوا کو صاف کرنے کے لئے ائر کلینر لگائے جائیں ۔ دھول کو اڑنے سے روکا جائے اور بغیر روکاوٹ والا ٹریفک نظام تیار ہو، تاکہ ہم سب کو صاف ستھرا ماحول  مل سکے۔ کیونکہ اسی میں ہمیں سانس لینا  اور زندہ رہنا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ایماندار افسروں کے لئے نظام میں گنجائش کہاں؟

ہریانہ کے آئی اے ایس افسر اشوک کھیمکا نے تبادلے میں نصف سنچری بنایی ہے. 51 ویں بار ان کا تبادلہ ہوا ہے. ایک تبادلے سے دوسرے تبادلے کے درمیان ایک افسر کس طرح جیتا ہے، نئے اور پرانے محکموں کے اس ماتحت یا وزیر اس کے آنے اور جانے کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں، مجھے یہ سب سمجھنے میں دلچسپی ہو رہی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اشوک کھیمکا کے ساتھ ہونے جا رہی یہ بات چیت آئی اے ایس اور آئی پی ایس یا کسی بھی سطح کے لوك سیوك کا امحتان دینے جا رہے نوجوانوں کے لئے کوچنگ کا کام کرے. کیا تبادلہ کسی ایماندار افسر کو توڑ دیتا ہے، کیا اس کے خاندان والے اسی سے تنگ آ جاتے ہیں، اس کے خاندان پر کیا اثر پڑتا ہے، کیا ایماندار افسر کو مدھیہ مارگ ہونا چاہئے، مثلا کچھ کمانے دینے چاہئے اور کچھ کو کمانے نہیں دینا چاہئے.

مزید پڑھیں >>

ختم نبوت

ہر نبی اور ہر آسمانی کتاب نے اپنی امت کو اپنے بعد پیش آنے والے حالات کے بارے میں اطلاعات دی ہیں ۔ کتب آسمانی میں یہ اطلاعات بہت تفصیل سے بیان کی گئی ہیں ۔ گزشتہ مقدس کتب میں اگرچہ انسانوں نے اپنی طرف سے بہت سی تبدیلیاں کر دیں ، اپنی مرضی کی بہت سی نئی باتیں ڈال کر تو اپنی مرضی کے خلاف کی بہت سی باتیں نکال دیں لیکن اس کے باوجود بھی جہاں عقائد کی جلتی بجھتی حقیقتوں سے آج بھی گزشتہ صحائف کسی حد تک منور ہیں وہاں آخری نبی ﷺ اور قیامت کی پیشین گوئیاں بھی ان تمام کتب میں موجود ہے۔

مزید پڑھیں >>

عالمی یوم برداشت

 برداشت، علم نفسیات کا ایک اہم موضوع ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق اس دنیامیں وارد ہونے والا ہر فرد بالکل جدا رویوں اور جداجدا جذبات و احساسات و خیالات کا مالک ہوتاہے۔ اپنے جیسا ایک انسان سمجھتے ہوئے اسے اسکاجائزمقام دینا ’برداشت‘ کہلاتا ہے۔ اس تعریف کی تشریح میں یہ بات کھل کرکہی جاتی ہے کہ دوسرے کے مذہب، اسکی تہذیب اور اسکی شخصی وجمہوری آزادی کومانتے ہوئے اس کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا ’برداشت‘ کے ذیلی موضوعات ہیں۔ دیگرماہرین نفسیات نے ’’برداشت ‘‘ کی ایک اورتعریف بھی کی ہے۔ ان کے مطابق ’دوسرے انسان کے اعمال، عقائد، اس کی جسمانی ظواہر، اسی قومیت اور تہذیب و تمدن کو تسلیم کرلینا برداشت کہلاتی ہے‘۔ برداشت کی بہت سی اقسام ہیں، ماہرین تعلیم برداشت کو تعلیم کا اہم موضوع سمجھتے ہیں، ماہرین طب برداشت کو میدان طب و علاج کا بہت بڑا تقاضاسمجھتے ہیں، اہل مذہب کے نزدیک برداشت ہی تمام آسمانی تعلیمات کا خلاصہ ہے جسے آفاقی صحیفوں میں ’صبر‘ سے موسوم کیا گیا ہے اورماہرین بشریات کے نزدیک برداشت انسانی جذبات کے پیمائش کا بہترین اور قدرتی وفطری پیمانہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

بڑھتی ہوئی شہرکاری کے چیلنجز اور ہماری ذمہ داریاں

میٹروپالیٹن شہرو میں آلودگی کی بنیادی وجہ گاڑیوں اور صنعتی مشینوں سے نکلنے والے زہریلے کیمیکل ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت نے اس کا مفصل سروے کرکے عوام کو صحتمند رہنے کیلئے مذکورہ بالا سبھی قسم کی آلودگیوں سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔ شہری ماحول میں جو خطرناگیسیں اور کیمیکلز تباہی پھیلا رہے ہیں ان میں سلفر ڈائی آکسائید، کاربن مونوآکسائڈ جیسے زہریلے مادے کلیدی رول ادا کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

بی جے پی سانسد آر کے سنہا کی صفائی اشتہار کی شکل میں کیوں شائع ہویٔی؟

پیراڈایٔس پیپرس میں بی جے پی کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ آر کے سنہا کا بھی نام آیا تھا. انڈین ایکسپریس اخبار نے ان کی صفائی کے ساتھ خبر شائع تھی. پیراڈایٔس پیپرس کی رپورٹ کے ساتھ یہ بھی سب جگہ چھپا ہے کہ اسے کس طرح پڑھیں اور سمجھیں. صاف صاف لکھا ہے کہ آف شور کمپنی قانون کے تحت ہی بنائے جاتے ہیں اور ضروری نہیں کہ تمام لین دین مشتبہ ہی ہو مگر اس کی آڑ میں جو کھیل کھیلا ہے اسے بھی سمجھنے کی ضرورت ہے. حکومت کو بھی بھاری بھرکم تحقیقاتی ٹیم بنانی پڑی ہے. خیر اس پر لکھنا میرا مقصد نہیں ہے.آج بہت سے اخباروں میں آر کے سنہا کا بیان اشتہارات کی شکل میں چھپا دیکھا. یہ تشویش کی بات ہے. مجھے معلومات نہیں کہ اخبار نے اس کے لئے پیسے لئے ہیں یا نہیں. اگر مفت میں بھی چھاپا  ہے تو بھی اس طرح سے شائع کرنا غلط ہے. آر کے سنہا نے بطور سانسد راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیا نائیڈو کو خط لکھا ہے اور اس خط کو اشتہارات کی شکل میں شایٔع کیا گیا ہے.

مزید پڑھیں >>

سنیما کے تاریخ کی جادویٔی فلم ہے AN INSIGNIFICANT MAN

اپنی نوعیت کی یہ آخری فلم ہے. جب تک ایسی کوئی دوسری فلم نہیں بنتی ہے، اسے آخری فلم کہنے کا خطرہ اٹھایا جا سکتا ہے. شاید ہی کوئی سیاسی پارٹی اپنے اندر کسی فلم ساز کو اتنی جگہ دے گی جہاں سے کھڑا ہو کر وہ اپنے کیمروں میں اس کے تضادات درج کرتا چلے گا. یہ فلم سیاست کے ہونے کے عمل کی جو جھلک پیش کرتی ہے، وہ نایاب ہے. بہت پیچھے کی تاریخ میں جاکر نہیں بلکہ تین چار سال پہلے کی تاریخ میں جاکر جب AN INSIGNIFICANT MAN کے پردے پر منظر چلتے ہیں تو دیکھنے والے کے اندر اندر کتاب کے صفحے پھڑپھڑانے لگتے ہیں. یہ فلم ایک تماشائی کے طور پر بھی اور ایک سیاسی مخلوق ہونے کے طور پر بھی دیکھنے والے کو آکرشت کرے گی. ہم پرنٹ میں ایسے مضامین پڑھتے رہے ہیں مگر سنیما کے پردے پر اس طرح کا بےمثال نمونہ کبھی نہیں دیکھا. ممکن ہے سنیما کی روایت میں ایسی فلمیں بنی ہوں، جن کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے.

مزید پڑھیں >>

ایک مسلمان کا مقصدِ زندگی کیا ہو؟

مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں ؛ اپنی جسمانی،  علمی و مالی تمامتر صلاحیتوں کو اس عظیم مقصد کی حصولیابی کے لئے استعمال کریں۔ اللہ کی اطاعت کے ذریعہ اس کی رضا حاصل کرنا اور دعوت دین اور  اس راہ کی جد وجہد کے ذریعہ اسلام کو زندہ اور غالب کرنے کی مستقل فکر کرنا، یہی وہ مقاصد ہیں جن کے لئے ایک مسلمان کو جینا و مرنا چاہیے اور باقی تمام مقاصدکو ان عظیم مقاصد کے تابع رکھنا چاہیے۔

مزید پڑھیں >>

تاجروں کے لئے سبق: ووٹر بنے رہیں کوئی نہیں لوٹے گا

جن لوگوں نے جی ایس ٹی کی تکلیفوں کو لے کر آواز اٹھایی کی وہ صحیح ثابت ہوئے. تاجروں نے ڈر ڈر کر اپنی بات کہی. ان کے خوف کو ہم جیسے کچھ لوگوں نے آسان کر دیا. اس کے بارے میں لکھا اور بولا کہ جی ایس ٹی بزنس کو برباد کر رہی ہے. لوگوں سے کام چھن رہے ہے. جواب ملتا رہا کہ یہ تاجر ہی چور ہیں. چوری کی عادت پڑی ہے، لہذا جی ایس ٹی نہیں دینا چاہتے. کیا سانحہ رہا تاجروں کا، جو لٹ رہا تھا، وہی چور کہا جا رہا تھا. اپوزیشن بھی چپ رہا. بعد میں راہل گاندھی نے اسے زوردار انداز سے اٹھایا تو پھر مذاق اڑا کہ راہل کو جی ایس ٹی کی سمجھ نہیں ہے. وہ امیروں اور چوروں کا ساتھ دے رہے ہیں. آخر میں حکومت کو وہی کرنا پڑا جو پہلے کر دینا چاہئے تھا مگر گھمنڈ کے چلتے وہ طویل عرصے تک ان سنی کرتی رہی. سوچئے اگر ایک ہی بار میں لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات ہو گئے ہوتے تو کیا تاجروں کی آواز سنی جاتی؟

مزید پڑھیں >>