خصوصی

پنجاب نیشنل بینک میں500 11، کروڑ کا گھوٹالہ

پنجاب نیشنل بینک نے مئی 2016 میں370 5، کروڑ کا نقصان رپورٹ کیا تھا. بھارتی بینکاری کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا خسارہ ہے. اب اسی پنجاب نیشنل بینک سے500 11،  کروڑ کے گھوٹالے کی خبر آئی ہے. گھوٹالہ بینک نے ہی پکڑا ہے. معاملہ 2011 کا ہے اور ممبئی کی بریچ کینڈی برانچ میں گھوٹالہ ہوا ہے. ڈائمنڈ تاجر نِیرَو مودی اور ان کے خاندان کے لوگوں کا نام آیا ہے. خدشہ ہے کہ دوسرے بینکوں کو بھی چپت لگائی گئی ہو گی. نِیرَو مودی کون ہے، اس کے پیسے سے کس کس نے ہیلی كاپٹر میں عیش کیا ہے، بینک کے افسر کون ہیں، ان کے کس کس سے تار جڑے ہیں، اور کس کس کو فائدہ پہنچا گئے ہیں، یہ سب ڈٹیل آنا باقی ہے. ویسے جب سی بی آئی 2 جی میں کسی کو پکڑ نہیں سکی تو ان سب میں کیا کرے گی.

مزید پڑھیں >>

بابری مسجد، پرسنل لا بورڈ اور مولانا سلمان ندوی

ان واقعات سے زیادہ افسوسناک وہ گفتگو ہے جو سوشل میڈیا میں سنجیدہ دینی حلقوں میں اس کے حوالہ سے ہورہی ہے۔ خیالات پر بحث کو خیالات تک محدود رکھنے کی صلاحیت اجتماعی شعور اور بالغ نظری کی بڑی اہم علامت ہوتی ہے۔ یہ بحث اگر تیزی سے ذاتیات کی سطح پر اترنے لگے تو سمجھ لیجئے کہ ہمارا شعور ابھی بالغ نہیں ہوا ہے۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس نابالغی کے مظاہرے ان دودنوں میں بہت کثرت سے ہوئے۔

مزید پڑھیں >>

نکاح کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر: ایک تحقیقی جائزہ

موجودہ زمانہ میں کتنے ایسے واقعات اخبارات کی زینت بن چکے ہیں (اورآج بھی انٹرنیٹ پرسرچ کیاجاسکتاہے؛ بل کہ وکی پیڈیامیں تو اس سلسلہ کی ایک طویل فہرست بھی دی ہوئی ہے، جوحضرات دیکھناچاہتے ہوں، وہ دیکھ لیں )، جن میں سات آٹھ سال کی بچی کااستقرار حمل ہواہے، ان باتوں کولوگ تسلیم بھی کرتے ہیں ؛ لیکن پتہ نہیں کیوں حضرت عائشہؓ کی چھ سال کی عمرمیں نکاح اورنوسال کی عمرمیں رخصتی کو تسلیم کرنے سے ہچکچاتے ہیں ؟ شاید مستشرقین کے اوچھے حملوں کے سامنے کم فہمی اوردینی معلومات کے لئے انھیں کی مرتب کردہ کتابوں سے استفادہ کے نتیجہ میں مجبورہیں۔

مزید پڑھیں >>

موہن بھاگوت

آرایس ایس خود کو سماجی و ثقافتی تنظیم سمجھتی ہے تو ملک میں پھیلی انارکی کے خلاف لڑے، نفرت و کدورت سے جنگ کرے، سماج کی اصلاح مجاہدہ کرے، سماجیات کا مطالعہ کرے، اور عملی طور پر انہیں اپنائے یہ اس کا جہاد ہوگا، پتھر کی عمارتوں پر طاقت کا مظاہرہ کرنا اور ہتھیار سے لیس فوجیوں کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہے، آر ایس ایس کو اس تعلق سے سوچنا چاہیے، اور حکومت کو بھی غور و فکر کرنی چاہیے، کیا ہر شخص ملک کی حفاظت کے پردے میں اس طرح طاقت کا مظاہرہ کرے گا، سیاسی جماعتیں ہماری کرتی رہیں گی، اقلیتیں ہراساں ہوں گی، ملک میں عدم تحفظ کی فضاء عام ہوگی.

مزید پڑھیں >>

سنگھ پریوار کی ‘منظم’ فوج

سنگھ پریوار آخر تین دن میں فوج کھڑی کرنے کا دعوی کس بنیاد پر کر رہا ہے؟ کیا اس کے پہلے اس نے اپنے ساتھیوں کی 'صلاحیت' آزمائی ہوئی ہے؟ اچانک کسی مسئلے پر جو منظم تشدد پھوٹ پڑتے ہیں، اس کے پیچھے کہیں سنگھ پریوار کی طاقت تو نہیں؟ چاہے وہ گودھرا کے بعد گجرات کے فسادات ہوں یا اس کے دس سال پہلے بابری مسجد شہادت کی منصوبہ بند سازش یا اس بھی آٹھ سال پہلے سکھوں کے خلاف ہوئے ملک گیر تشدد؟ کیونکہ 84 کے تشدد میں کانگریس کو سب سے بڑا گنہگار ماننے کے باوجود یہ بھولنا مشکل ہے کہ صرف راجیو گاندھی نے ہی درخت گرنے پر زمین ہلنے کی حمایت نہیں کی تھی، سنگھ کے لیڈر نانا جی دیش مکھ نے بھی تب لوگوں کے غصے کو جائز ٹھہرایا تھا اور ان دنوں اٹل بہاری واجپئی کے منتخب کردہ گاندھی وادی سوشلزم کو ٹھکرا کر سنگھ نے پوشیدہ طور پر کانگریس کی حمایت کی تھی اور اس کی وجہ سے بی جے پی کو صرف 2 سیٹیں ملی تھیں.

مزید پڑھیں >>

عصمت دری کے واقعات: پس پردہ حقائق!

خواتین کے ساتھ زیادتیاں مختلف طریقہ سے ان کا استحصال ان کی عصمت و عفت کو تارتار کرنے کے واقعات وغیرہ ہر صبح اخبارات کی زینت ہوتے ہیں۔ کسی بھی زبان کا کوئی بھی اخبار ہو یا کسی بھی علاقہ، ضلع اور ریاست سے نکلنے والا اخبار، وہاں کی مقامی خبروں میں اس قسم کی غیر شائستہ اور ظلم و ستم کی داستیں درج ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

بابری مسجد تنازعہ: ایک جلتا زخم

بابری مسجد کی تعمیر کب ہوئی؟ اس کی تعمیر کس نے کی؟ بابری مسجد کی تعمیر سے قبل وہ زمین کس کی ملکیت تھی؟ اس کی تعمیر سے قبل وہاں کیا تھا؟ ان سارے سوالات کے جوابات تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں لیکن آزادی سے قبل بھی اور آزادی کے بعد بھی بابری مسجد اپنی جگہ  موجود تھی اور اس میں بدستور نماز قائم تھی۔

مزید پڑھیں >>

میڈیا جھک سکتا ہے مگر جمہوریت نہیں: ہارورڈ یونیورسٹی میں رويش کمار کی تقریر

بھارت میں دو طرح کی حکومتیں ہیں. ایک گورنمنٹ آف انڈیا. دوسری گورنمنٹ آف میڈیا. میں یہاں گورنمنٹ آف میڈیا تک محدود رہوں گا تاکہ کسی کو برا نہ لگے کہ میں نے بیرون ملک گورنمنٹ آف انڈیا کے بارے میں کچھ کہہ دیا. یہ آپ پر منحصر ہے کہ مجھے سنتے ہوئے آپ میڈیا اور انڈیا میں کتنا فرق کر پاتے ہیں.ایک کو عوام نے چنا ہے اور دوسرے نے خود کو حکومت کے لئے چن لیا ہے. ایک کا انتخاب ووٹ سے ہوا ہے اور ایک کا ریٹنگ سے ہوتا رہتا ہے. یہاں امریکہ میں میڈیا ہے، بھارت میں گودی میڈیا ہے. میں ایک ایک مثال دے کر اپنی تقریر طویل نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی آپ کو شرمندہ کرنے کا میرا کوئی ارادہ ہے. گورنمنٹ آف میڈیا میں بہت کچھ اچھا ہے. جیسے موسم کی خبریں، ایكسی ڈینٹ کی خبریں، سائنا اور سندھو کا جیتنا اور دنگل کا سپر ہٹ ہونا. ایسا نہیں ہے کہ کچھ بھی اچھا نہیں ہے. چپراسی کے 14 عہدوں کے لئے لاکھوں نوجوان لائن میں کھڑے ہیں، کون کہتا ہے امید نہیں ہے. کالجوں میں چھ چھ سال میں بی اے کرنے والے لاکھوں نوجوان انتظار کر رہے ہیں، کون کہتا ہے کہ امید نہیں بچی ہے. امید ہی تو بچی ہوئی ہے کہ اس کے پیچھے یہ نوجوان بچے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

انسانیت کا لباس: شرم و حیا

آج کی سیکولر تہذیب نے بھی انسانیت کوحیاکے لبادے سے ناآشنا کر دیا ہے اور انسان کوثقافت کی آڑ میں اپنے خالق و مالک سے دور کر کے توتباہی و بربادی کے دہانے پر لاکھڑاکیاہے۔ پس جو بھی اس بے ہودگی و ہوس نفس کی ماری پر کشش اورفریب زدہ سیکولرتہذیب میں داخل ہو گاوہ ان الانسان لفی خسر کی عملی تصویر بنتے ہوئے ممکن ہے کہ قوم لوط میں شمار ہوکہ یہ سیکولر فکر خالصتاََابلیس اور اس کے پیروکاروں کا راستہ ہے جس کا انجام بھڑکتی ہوئی آگ کی وادیاں ہیں ، اور جو اس نقصان سے بچنا چاہے اس کے لیے کل انبیاء علیھم السلام کا طریقہ حیات موجود ہے جسے بسہولت حیات حیاداری کا نام دیا جاسکتاہے، کہ اس دنیامیں انسانوں سے حیا اور روز محشراﷲ تعالی بزرگ و برترکے سامنے پیش ہونے کا خوف و حیا۔

مزید پڑھیں >>

تفتیشی صحافت کی اہمیت

تحقیقی صحافت کا مطلب یہ ہے کہ کسی واقعہ پر توجہ مرکوز کر کے  گہری تحقیق و تفتیش کے ذریعہ حقیقی حالات اور پس منظر کو اُجاگر کرنا ہے۔ جہاں تک عوام و خواص کی رسائی نہیں ہو سکی ہے۔ یا ان کی نظر وہاں تک نہیں ہو پاتی ہے۔ اسی نئے انکشافات یا دریافت کو صحافتی زبان میں تحقیقاتی صحافت کہتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>