خصوصی

صفایٔی كرميوں کے حالات خراب ہیں!

پریکسس سنستھا نے 2014 میں گٹر میں کام کرنے والے مزدوروں کی صحت پر پڑنے والے اثرات کا مطالعہ کیا ہے. آپ جانتے ہیں کہ پورے ملک میں بھارت ماتا کے ان سچے سپوتو کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار نہیں رکھا جاتا ہے. گٹر بھی ملک کے اندر اندر کی وہ حد ہے جہاں ہماری صفائی کے لئے لڑتا ہوا بھارت کی ماں کا سپوت مارا جاتا ہے. اسے نہ تو شہید کا درجہ ملتا ہے نہ ہی معاوضہ. بھارت ماتا کا سپوت کہہ دینے سے سارا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا. گٹر میں اترنے والے نسل پرستی کا جو خمیازہ بھگتتے ہیں اس پر بات پھر کبھی ہوگی. کوئی 20 فٹ گہری گٹر میں اترا ہو، سانس لینے کی صاف ہوا تک نہ ہو، پتہ بھی نہ ہو کہ اندر صاف ہوا ہے یا زہریلی گیس. ان کے پاس کوئی سامان نہیں ہوتا جس سے معلوم کر سکے کہ نالے میں زہریلی گیس ہے. کئی بار ماچس کی تیلی جلا کر تحقیقات کر لیتے ہیں. بدن پر کوئی کپڑا نہیں ہوتا ہے. کمر میں رسی بندھی ہوتی ہے تاکہ کیچڑ میں پھنس جائے تو کوئی کھینچ کر باہر نکال لے. پریكسس کی رپورٹ ڈاؤن دی ڈرین پڑھيے گا، انٹرنیٹ پر موجود ہے.

مزید پڑھیں >>

فراموش کی جا رہی ہیں جنگ آزادی میں مسلمانوں کی قربانیاں

 ہندوستان پر زبردستی قابض ہونے والے اور ہندوستانیوں کو اپنا غلام بنانے والے انگریزوں کے خلاف جدو جہد اور دی گئی قربانیوں میں یہاں کے مسلمانوں کا جو تاریخی رول رہا اور ان مسلمانوں نے اپنے اُوپر ہو نے والے ظلم وبربریت اورقتل و غارتگری کے خلاف جس طرح  نبرد آزما رہتے ہوئے ملک کوانگریزوں کے ناپاک چنگل سے آزاد کرانے میں کامیاب ہوئے ۔ یہ سب واقعات ، سانحات اور حادثات ہمارے ملک کی تاریخ کا  اہم حصہ ہیں ، جو سنہری حروف میں لکھے گئے ہیں اور باوجود منظم طور پر ان تاریخی حقائق کو مسخ  کرنے کی کوششوں کے بعد بھی تمام تر شواہد کے ساتھ ملک اور بیرون ممالک کی لائبریریوں میں موجود ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

بات توسچ ہے مگر…!

چوں کہ حامد انصاری مسلمان تھے؛چ نانچہ کرن تھاپر نے کچھ سوالات خاص مسلمانوں کے تعلق سے بھی کیے اور کچھ عمومی انداز کے تھے، مگربین السطور میں مسلمانوں کاہی ذکر تھا، گویا پورے انٹرویوکا کم ازکم دوتہائی حصہ راست یابالواسطہ طورپرمسلمانوں سے متعلق تھا۔مثلاً انھوں نے انٹرویو میں ایک سوال ہندوستان میں بڑھتی ہوئی عدمِ برداشت کی فضاکے بارے میں کیا، اس تعلق سے انھوں نے پہلے متعدد مثالیں دیں کہ کس طرح بیف کھانے کے نام پر پرہجوم تشددلوگوں کی جان لے رہاہے، بھارت ماتاکی جے نہ بولنے والے کو دیس نکالادیے جانے کی بات کی جارہی ہے،  لوجہادکی فرضی داستان اور گھرواپسی کی مہم چلائی جارہی ہے، اس صورتِ حال کووہ ہندوستان کے نائب صدرکے طورپرکس نگاہ سے دیکھتے ہیں ، اس کے جواب میں انصاری صاحب کہتے ہیں کہ’’ہندوستانی اقدارشکست کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں اور ایک ہندوستانی الاصل انسان سے اس کی قومیت کے بارے میں دریافت کیاجارہاہے، جو نہایت تکلیف دہ صورتِ حال ہے‘‘۔ان سے پوچھاگیاکہ ’’بہت سے لوگوں کاایسا مانناہے کہ ہندوستان ایک عدمِ برداشت والا دیش بنتاجارہاہے، اس کے بارے میں آپ کیاکہتے ہیں ؟‘‘جواب میں وہ کہتے ہیں کہ’’صحیح بات ہے، میری بھی مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں سے گفتگو ہوتی رہتی ہے، ان کابھی یہی احساس ہے‘‘۔

مزید پڑھیں >>

بھارت چھوڑو آندولن کے 75 سال: کیا سیکھا ہم نے آندولن سے؟

کرکٹ کی دنیا میں عظیم کھلاڑیوں کی بہترین علامات میں ایک علامت یہ بھی سمجھی جاتی ہے کہ آؤٹ ہونے پر وہ امپائر کے فیصلے کا انتظار نہیں کرتا، خود میدان سے چلا جاتا ہے. اس پیمانے پر ویسے تو کئی کھلاڑی ہیں لیکن سب سے اوپر آسٹریلیا کے سلامی بلے باز ​​ایڈم گلکرسٹ کا نام آتا ہے. 2003 کے ورلڈ کپ میں سری لنکا کے خلاف کھیلتے ہوئے گلکرسٹ کے بلے سے ڈی سلوا کی گیند چھوکر پیچھے گئی. امپائر کو لگا کہ گیند پیڈ پر لگی ہے. لہذا آؤٹ نہیں دیا لیکن گلکرسٹ خود پچ چھوڑ کر چلے گئے. عظیم کھلاڑی کھیل کے ایمان سے سمجھوتہ نہیں کرتے ہیں. وہ تھرڈ امپائر یا الیکشن کمیشن کے لئے میدان میں کھڑے نہیں رہتے ہیں.

مزید پڑھیں >>

شاہ جی کا لنگڑا گھوڑا

حرص و طمع کی صفت  انسان کی ذلیل و خوار کرتی ہے اس کی تازہ مثال امیت شاہ اور اس کے آقا نریندر مودی ہیں ۔  گجرات کے اندر ایوان بالا کا انتخاب بہت سہل تھا ۔ بی جے پی ارکان اسمبلی کی تعداد چونکہ کانگریس سے تقریباً دو گنا  ہیں اس لیے بی جے پی کے 2 اور ایک کانگریسی امیدوار منتخب ہوجاتا۔  اس طرح احمد پٹیل کے ساتھ نہایت خوشگوار سیاسی ماحول  سمرتی ایرانی اور امیت شاہ  راجیہ سبھا کے ارکان  بن جاتے لیکن اگر یہی سب ہوتا تو امیت شاہ کے حصے میں ذلت کیسے آتی؟ اس کے لیے شاہ جی نے کافی جدوجہد کی اور بالآخر رسوائی کا طوق اپنے گلے میں ڈال کر بیٹھ گئے ۔ حیرت کی بات  یہ ہے کہ سارے ہندوستان میں اپنی چانکیہ نیتی کا ڈنکا بجانے والے امیت شاہ کو خوداپنے ہی صوبے میں منہ کی کھانی پڑی  اور وہ ان کے چہرے پر ایسا طمانچہ پڑا   کہ مودی جی کے گال بھی سرخ ہوگئے۔ اس طرح لیلیٰ مجنوں کی یاد تازہ ہوگئی۔

مزید پڑھیں >>

اگست ستمبر میں فلو کے خطرات اور ہماری ذمہ داریاں

مورخہ07ا گست2017کو  اخبارات میں خبریہ نمایاں رہی کہ’اس سال برسات کا موسم آنے کے ساتھ ہی دہلی میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ڈینگو کے معاملات بڑھ کر 185 تک پہنچ گئے ہیں ،جبکہچکن گنیا کے 45 نئے معاملے بھی سامنے آئے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

گنگا میلی کیوں ہوگئی؟

گنگا جمنا کا اصل مسئلہ ان  کےساتھ وابستہ غیر ضروری تقدس ہے۔ اس کا اعتراف معروف رام بھکتن  اور آبی وسائل کی وزیر سادھوی اوما بھارتی نے ازخودکیا۔  انہوں نے ایوان پارلیمان  کو بتایا کہ یہ کوئی ٹھیمس یا رائن جیسی ندیوں  کا معاملہ نہیں ہے کہ جن میں لوگ غوطہ نہیں لگاتے بلکہ گنگا میں ہر روز 20 لاکھ اور ہرسال 60 کروڈ لوگ ڈبکی لگاتے ہیں ۔ گنگا میں اتنے سارے لوگ اپنا پاپ دھونے کے لیے نہاتے ہیں اس لیے اس کے آلودہ میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے حالانکہ کسی ندی میں نہا لینے سے کیا کسی کا گناہ معاف ہوسکتا ہے؟   اس سوال پر غور کرنے کی توفیق کسی اندھے بھکت کو نہیں ہوتی ۔  سادھوی اوما بھارتی کا خیال ہے کہ گنگا صرف پاپیوں کے پاپ  دھوتے دھوتے   میلی ہوگئی لیکن یہ بات غلط ہے ۔ شاید وہ نہیں جانتیں کہ جن لوگوں کے پاس اپنے اعزہ و اقارب کی لاشوں کا انتم سنسکار کرنے کے لیے روپیہ کوڑی نہیں ہوتا۔ جو بیچارے سیکڑوں روپیوں کی لکڑی کا پربندھ نہیں کرپاتے وہ مجبوراً ان بے کس و لاچار لاشوں کو گنگا میں بہا دیتے ہیں ۔ اس طرح سال بھر میں نہ جانے کتنی لاشیں اس پوتر ندی کی نذر کردی  جاتی ہیں ۔یعنی زندہ اور مردہ دونوں اس  ندی کوآلودہ کرتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

ہندوستان کی جنگ آزاد ی میں علما و اسلامی مدارس کا کردار

ہندوستان کی تحریک آزادی میں مسلمانوں خاص کر علما کا رول(Role)انتہائی اہمیت رکھتا ہے ساتھ ہی ساتھ مدارس اسلامیہ بھی اس میں شانہ بشانہ شامل تھے۔ جنگ آزادی کی داستان بہت طویل اور انتہائی دردناک ہے جس کا احاطہ ایک چھوٹے سے مقالہ میں ممکن نہیں۔

مزید پڑھیں >>

کیا رات کے وقت باہر نہیں نکل سکتی لڑکیاں؟

آئی اے ایس وریندر کمار نے اپنی بیٹی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے. ملزم کے بیٹے کے ساتھ آئی اے ایس وریندر کمار سے زیادہ لوگ ہیں. میڈیا ٹرائل سے بچنا چاہئے. لیکن نظام کا میڈیا ٹرائل تو ہونا ہی چاہئے. تم نہیں جانتے، ایک بار کسی مقدمے میں الجھيے، پتہ چلے گا کہ کس کس میز پر آپ گردن دبوچي جاتی ہے. اسی لیے کسی کو اعلان کرنا پڑتا ہے کہ وہ لڑے گا. جیسے ہی وہ کہتا ہے کہ وہ لڑے گا، ہر حال میں لڑے گا اس مطلب یہی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ نظام اس وقفے کی حد تک پہنچا دے گا، پھر بھی لڑے گا.

مزید پڑھیں >>

 اسلامی اور غیر اسلامی طرز معاشرت: ایک تقابل

اسلام ایک پائیدار اور مستحکم طرز معاشرت رکھتا ہے جس کے اصول و ضوابط مستقل اورواضح ہیں،  اسلام کا پورا نظام عدل و انصاف پر قائم ہے، اس کے اجزاء باہم مربوط و ہم آہنگ ہیں۔ یہ جامع اور ہمہ گیر نظام ہے کہ زندگی کی تمام سر گرمیاں اس کے دائرے میں آجاتی ہیں۔

مزید پڑھیں >>