خصوصی

محبت اور سیاست کی جنگ بنام ’لوجہاد‘ یا ’لو فساد‘ ؟

لوجہاد  انگریزی اور عربی الفاظ کا منفرد مرکب ہے۔ ہندوستان کی فسطائی قوتوں کو  جب سنسکرت اور عربی کو ملاکر نیا استعارہ وضع  کرنے میں ناکامی  ہوئی توفرنگیوں  کا سہارا لینے پر مجبور ہوگئے۔ اسلام کے دشمنوں نے اپنے حواریوں  کو دین حنیف سے برگشتہ کرنے کے لیے یہ خیالی فتنہ  ایجاد تو  کردیا لیکن جب بھی اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو انہیں منھ کی کھانی پڑی۔ خالص  لسانی سطح پر  جہاد کا ایک لغوی مطلب ہے  اور دوسرا شرعی مفہوم ہے۔ ویسےہر دو معنیٰ میں لو جہاد معقول اصطلاح  ہے۔ اللہ کی محبت کے بغیر جہاد فی سبیل اللہ ممکن نہیں ہے اور انسانوں کی محبت کا حق ادا کرنے کے لیے بھی اچھا خاصا جہاد بمعنیٰ جدوجہد کرنی ہی پڑتی ہے  گویا دونوں معنیٰ میں لو کا جہاد سے تعلق ہے۔ مثل مشہور ہے ’’جنگ اور محبت میں سب جائز ہے‘‘۔ اس طرح جنگ اور محبت ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم قرار پاتے ہیں۔ فی زمانہ منظر عام پر آنے والے لو جہاد کے واقعات اس امر کی شہادت  دیتے  ہیں۔ ان کا دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ عدالت پلڑوں پر جلد یابہ دیر محبت جیت جاتی ہے سیاست ہار جاتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

وجئے روپانی نے’بدعنوان جنتا پارٹی عرف بی جے پی‘ کا نام روشن کردیا

جمہوریت میں عام آدمی اچھے دنوں کی امید میں جیتا ہے لیکن اچھے دن انتخاب جیتنے والوں کے آتے ہیں ۔ انتخاب ہارنے والوں کوعوام کی طرح  برے دنوں کا مزہ چکھنا پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ راہل یا لالو  جیسےحزب اختلاف کے رہنما عوام کے درمیان نظر آتے ہیں۔ بدعنوانی میں سیاستداں  وہ دن رات ملوث رہتے ہیں لیکن کبھی کبھار پکڑے جاتے ہیں  اس طرح ان کے بھی  برے دن آجاتے ہیں۔ مودی  جی کے ابتدائی زمانے  میں کوئی بڑا گھپلا سامنے نہیں آیا اور وہ بار بار دعویٰ کرتے تھے کہ یہ کرپشن فری سرکار ہے لیکن گجرات کے انتخابات جیسے قریب آنے لگا یکے بعد دیگرے بدعنوانیوں کی جھڑی لگ گئی۔ ابتداء جئے شاہ سے ہوئی۔  اس کے بعد  شوریہ ڈوبھال کئی وزراء کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ یہ معاملہ سنبھلا نہ تھا کہ پیراڈائز پیپرس کے اندر  بی جے پی کے وزیر اور راجیہ سبھا کے کا نام آگیا اور اس کے بعد  وجئے روپانی پر سیبی نے جرمانہ لگادیا۔ اتنے کم عرصے میں اتنے سارے گھپلے تو کانگریس بھی نہیں کرسکی تھی اس لیے ماننا پڑے گا کہ بی جے پینے  کم ازکم نے بدعنوانی کے  معاملے میں کانگریس کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

انتخابی سنسنی سے اب تک بچا کس طرح ہے گجرات؟

گجرات انتخابی سنسنی پھیلانے میں شروع سے مشہور رہا ہے. ایک وقت تھا جب گجرات کو فرقہ وارانہ خیالات کے نفاذ کی لیبارٹری کہا جاتا تھا. گجرات ہی ہے جہاں مذہب کی بنیاد پر مسائل کو ڈھونڈنے اور ڈھوڈھ كر پنپانے کے لئے ایک سے ایک ہتھکنڈے استعمال ہمیں دیکھنے کو ملے. لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انتخابی سیاست میں ایک رستا نہیں چل پاتی. اسی لیے ہر بارانتظار رہتا ہے کہ کیا نئی بات کی جائے گی. اس بار بھی گجرات میں اب تک یہی انتظار ہے. لگ رہا تھا کہ وہاں حکمران بی جے پی آپ کی ضرورت کے پیش نظر اس وقت ترقی کا مسئلہ لے کر آئے گی، لیکن اس بار پردیش کے لیڈر کے طور پر وہاں نریندر مودی نہیں ہیں. وزیر اعظم بن جانے کے بعد وہاں ان کے لئے انتخابی جادوگری دکھانے کے موقع بھی کم ہو گئے ہیں. بہرحال دو رائے نہیں کہ وہاں بی جے پی کو ایڑی چوٹی کا دم لگانا پڑ رہا ہے. ملک پہلی بار دیکھ رہا ہے کہ ایک چھوٹی سی ریاست کے لئے مرکز کے درجنوں وزراء کو اپنا سارا کام دھام چھوڑ کر وہاں ڈیرہ ڈال پڑ رہا ہے.

مزید پڑھیں >>

یہ پبلک ہیلتھ ایمرجنسی نہیں تو کیا ہے؟

وجہ سب کو پتہ ہے مگر حل کرنے میں کسی کو دلچسپی نہیں ہے. سب کو لگتا ہے کہ یہ نومبر کی بات ہے، اس کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا. دہلی کی ہوا آپ کی جیب اور ہیلتھ پر اثر ڈالنے دوبارہ آ گئی ہے. کب تک دہلی بات بات میں اسکول بند کرتی رہے گی، وہ یہ کیوں نہیں کہتی کہ شہر میں ڈیزل، گاڑیوں کی رجسٹریشن بند ہو، کاروں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ بند ہو، پبلک ٹرانسپورٹ کی ثقافت کو بڑھانے کے لئے کاریں بند کرنے کی بات نہیں ہوتی، کب تک بڑوں کے پھیلائے اس آلودگی کا حل ہم بچوں کے اسکول کو بند کر کے کریں گے. ہر عمر کے لوگوں کا پھیپھڑا خراب ہو رہا ہے، ہمارے لیڈر بھیجا خراب کر دینے والے مسلسل پریس کانفرنس کر رہے ہیں مگر ان میں ہوا کو لے کر کوئی فکر نہیں ہے. ایک دن اٹھیں گے اور لوگوں کو اخلاقی تعلیم دے دیں گے کہ آپ باغبانی کریں، پیپل کے درخت لگائیں تو آلودگی رکے گی. دراصل مسئلہ کے تہہ تک کوئی نہیں جانا چاہتا، کیونکہ وہاں سب کے مفاد پھنسے ہیں.

مزید پڑھیں >>

9؍نومبر:عالمی یوم اردو کے حوالے سے

9؍ نومبر،بیسویں صدی کے معروف مفکر،مایہ ناز فلسفی، شاعر مشرق،علامہ اقبال کا یوم پیدائش ہے، اس دن بہ طور خاص اقبال کو یاد کیا جاتا ہے اور ان کے روشن کارناموں  کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے، اس دن کو اب یوم اردو بھی کہا جانے لگا ہے ؛کیوں کہ اقبال مرحوم نے اپنی زندہ و پائندہ شاعری کے ذریعہ دنیائے اردو میں ایسا انقلاب برپا کیا اورایسی روح پھونکی جسے محبان اردو کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔

مزید پڑھیں >>

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

علامہ محمد اقبال، دورغلامی کے لق و دق ریگستان میں لالہ صحرائی کی مانند ایک کھلتاہوا پھول ہے۔ علامہ نے اس وقت امت کی قیادت کا سامان فراہم کیاجب چاروں طرف اندھیراگھپ تھاازشرق تا غرب امید کی کوئی کرن باقی نہ تھی۔ کل امت غلامی کے مہیب غارمیں شب تاریک کے لمحات گزاررہی تھی اورعلامہ محمداقبال اس بدترین دورمیں قندیل راہبانی ثابت ہوئے اور اپنے شعری و خطاباتی کلام سے امت مسلمہ کے تن مردہ میں ایک نئی روح پھونک دی۔

مزید پڑھیں >>

علامہ اقبال کی سیرت وشخصیت ان کے خطوط کے آئینہ میں

علامہ اقبال نے جو کچھ کہا اور لکھا وہ پورے یقین کے ساتھ ایک مرد مومن کی حیثیت سے مگر جو لوگ مسلمانوں میں بے عملی اور گمراہی پیدا کرناچاہتے تھے وہ ہر زمانے کی طرح ان کے زمانے میں بھی ان کی راہ کا روڑابنے ہوئے تھے اقبال نے ہرطرح سے ان کا مقابلہ کیا۔ ایک خط میں عرض کیا کہ’’ آپ میری نسبت بدگمانی کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی، اور اگر کسی وجہ سے بدگمانی ہوبھی گئی ہو توآپ مجھ سے براہ راست دریافت کرسکتے تھے۔لوگ تو اس قسم کی باتیں اڑایا ہی کرتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

اقبال اور عشق رسولﷺ

 دعویٔ عشق اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اتباع و اطاعت محبوب نہ ہو۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین آپﷺ کے ہر فعل و عمل پر نظر رکھتے اور دل و جان سے ان کی تقلید کرتے۔حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ جب حج کو جاتے تو بلا کسی ظاہری سبب کے جا بجا رکتے یا اٹھتے، بیٹھتے جاتے۔کسی نے اس کی وجہ دریافت کی تو آپؓ نے جواب دیا کہ میں نے حضورﷺ کو سفر حج میں جس جگہ جس حالت اور جس انداز میں دیکھا، میں چاہتا ہوں کہ ان طریقوں پر جوں کا توں عمل کروں ۔

مزید پڑھیں >>

کیا نوٹ بندی اپنے مقصد میں ناکام رہی؟

بھارتی ریزرو بینک کو 8 ماہ لگ گئے یہ بتانے میں  نوٹ بندي کے بعد اس کے خزانے میں 99 فیصد نوٹ واپس آ گئے ہیں. جبکہ 8 نومبر کو نوٹ بندي کا اعلان ہوا اور 28 نومبر کو ہی ریزرو بینک نے پروویذنل یعنی عارضی طور پر بتا دیا تھا کہ 8 لاکھ 45 لاکھ کروڑ واپس آ گئے ہیں. قریب 55 فیصد نوٹ بغیر نوٹ گننے کی نئی مشینوں کے ہی گن لئے گئے. جب پارلیمانی کمیٹی بار بار پوچھتی رہی کہ آپ مکمل اعداد و شمار کیوں نہیں دے رہے. تب جون میں ریزرو بینک نے کہا تھا کہ اس کے پاس نوٹ گننے کی کافی مشین نہیں ہے، ابھی ٹینڈر نکلنا ہے. اسی 17 جولائی کو یہ خبر چھپی تھی. کسی کو دیہان نہیں رہا کہ بینک جب نوٹ دیتے ہوں گے تو گن کر ہی دیتے ہوں گے تو پھر ریزرو بینک کو بتانے میں تاخیر کیوں ہو رہی تھی. یہی نہیں 14 دسمبر 2016 کو ریزرو بینک نے ہی بیان دیا کہ 80 فیصد نوٹ واپس آ گئے ہیں یعنی 12 لاکھ 44 ہزار کروڑ قیمت کے پانچ سو اور ہزار کے نوٹ واپس آ گئے ہیں.

مزید پڑھیں >>

جب دال نہیں گلی تو کھچڑی بیچنے لگے!

 جب دال نہیں گلی تو کھچڑی فروخت لگے. کھچڑی بے روزگاروں کا کھانا پہلے سے ہے۔ نوکری مل نہیں رہی ہے تو ظاہر ہے کھچڑی زیادہ بن رہی ہوگی. روز کوستے ہوئے بے روزگار کھا رہے ہوں گے تو بڑی چالاکی سے اسے قومی کھانا بنانے کے مسئلے سے جوڑا جا رہا ہے تاکہ بے روزگار نوجوانوں کو جھانسہ دیا جا سکے کہ انہیں جو کھانا، کھانے کے قابل بنا دیا گیا ہے وہ نیشنل اپرٹیس کا ہے. قومی اہمیت کا، بھلے ہی ان کے روزگار کا سوال قومی اہمیت کا نہ رہے.دہی چوڑا اور ستتو پیاز غریبوں کے کھانے رہا ہے. جسے ملک کی غریبی کا پتہ نہیں وہی کھچڑی کی بات کرتا ہے. دال کا ریٹ بتاؤ، مٹر اور گھی کا بتاؤ. کھچڑی گیس پر بنے گی یا بیربل کے باپ کے یہاں بن کر آئے گی. کام کی بات پر بحث نہیں ہے، جسے دیکھو یہی سب فالتو ٹاپک پر تبصرہ کر کے دن کاٹ رہا ہے. یہی سب بکواس ٹاپک لے آو اور اینكروں کو بھڑا دو.

مزید پڑھیں >>