خصوصی

لارنس آف عریبیہ  (lawrence of arabia)

لیفٹیننٹ کرنل تھامس ایڈورڈ لارنس (16 اگست 1888ء – 19 مئی 1935ء)، جنہیں پیشہ ورانہ طور پر ٹی ای لارنس (T. E. Lawrence) کے طور پر جانا جاتا تھا، برطانوی افواج کے ایک معروف افسر تھے جنہیں پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں عرب علاقوں میں بغاوت کو منظم کرنے کے باعث عالمی شہرت ملی۔ اس بغاوت کے نتیجے میں جنگ عظیم اول کے بعد عرب علاقے سلطنت عثمانیہ کی دسترس سے نکل گئے۔

مزید پڑھیں >>

شراب و منشیات: سماجی ناسور!(آخر ی قسط)

حقیقت یہ بھی ہے کہ اجتماعی خرابیاں اس وقت ابھر کے نمایاں ہوتی ہیں جب انفرادی خرابیاں پایۂ تکمیل کو پہنچ چکی ہوتی ہیں ۔ آپ اس بات کا تصور نہیں کر سکتے کہ کسی معاشرے کے بیشتر افراد نیک کردار ہوں اور وہ معاشرہ بحیثیت مجموعی بدکرادی کا اظہار کرے۔ یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں ہے کہ نیک کردار لوگ اپنی قیادت اور نمائندگی اور سربراہ کاری بدکرادر لوگوں کے ہاتھ میں دے دیں اور اس بات پے راضی ہوجائیں کہ ان کے قومی اور ملکی اور بین الاقوامی معاملات کو غیر اخلاقی اصولوں پر چلایا جائے۔

مزید پڑھیں >>

عالمِ انسانی کو درپیش ایک سنگین خطرہ

اسلام ہر اس حرکت سے روکتا ہے جس سے صحت انسانی کو خطرات لاحق ہوتے ہوں۔ ایک مسلمان شہری کو آلودگی کے حوالہ سے حساس ہونا چاہئے۔ عالمی سطح پر آلودگی کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لئے عالمی طاقتوں کو مضر گیسوں کے اخراج میں کمی لانا چاہئے، نیز جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہئے۔ شجرکاری اور نباتات کی افزائش پر خصوصی توجہ دی جائے، آبی ذخائر کو آلودہ کرنے سے گریز کیا جائے۔

مزید پڑھیں >>

نوٹ بندی کی سالگرہ کا تحفہ ہیں مکل رائے

آٹھ نومبر کو نوٹبدي کی پہلی سالگرہ ہے. اس موقع پر مکل رائے سے اچھا نیشنل گفٹ کیا ہو سکتا ہے. بغیر وجہ کالے دھن کے ملزم دوسری پارٹیوں میں گھومتے نظر آئے، یہ نوٹبدي کی کامیابی کے آپٹکس کے لئے بھی اچھا نہیں ہے. لہذا بی جے پی انہیں اپنے گھر لے آئی.  ابھی تقریر ہی تو دینا ہے تو دو گھنٹے کی تقریر کو تین گھنٹے کر دیا جائے گا. کہا جائے گا کہ ماں شاردا کی بڑی کرپا ہوئی کہ شاردا اسکیم کے ملزم بھی آ گئے. اب تو عدالت کا بھی کام کم ہو گیا. کالا دھن ترنمول والوں کے یہاں سے کم ہو گیا. تالیاں بجانے والے بھی ہوں گے. بھارت کی عوام کا سفید دھن پھونک کر کالا دھن پر فتح کرنے کا جشن منایا جایے گا. جس میں شامل ہونے کے لئے دوسرے جماعتوں سے کالے دھن کے ملزم آ جائیں تو چار چاند لگ جائیں گے. بلکہ بی جے پی کو ان لیڈروں کی علیحدہ پریڈ نکالنی چاہئے جن پر اس نے اسکیم کا الزام لگایا اور پھر اپنے میں ملا  کر وزیر بنا دیا.

مزید پڑھیں >>

نوٹ بندی کا ایک سال: کس کافائدہ کس کانقصان؟

مودی جی کوایک ریکارڈ اپنے نام قائم کرناتھا سو حاصل ہوگیا۔ بدنام نہ ہوں گے تو کیانام نہ ہوگا کی مصداق حکومت نوٹ بندی کے بعد مسلسل دفاعی پوزیشن میں کھڑی رہی ہے اوراپنے فیصلے کوعوام کے مفاد میں بتلارہی ہے حالانکہ حقیقت سامنے آچکی ہے۔ لوگ باگ حکومت کی چالبازی پر نظر رکھے ہوئے ہیں، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟کے تحت جی ایس ٹی کوفوائد گنوائے جارہے ہیں۔ جس میں کہیں ناکہیں غریب، مزدور اور متوسط طبقہ پریشان ہورہاہے۔ نوٹ بندی سے جتنی دشواریاں غریب اور مزدور طبقہ بشمول سیکڑوں اموات کے کسی کو نہیں ہوئی، امیراوردھناسیٹھ لوگ اپنے اثرورسوخ کا بھرپور فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہے چکی کے پاٹ میں پسے تو بے چارے غریب۔ تقریباً اُس وقت چلن میں موجودتمام بڑے نوٹ بینکوں میں جمع ہوگئے اورکالادھن کہاں گیا کسی کو اندازہ تک نہیں !!

مزید پڑھیں >>

مجاہدۃ النفس: وقت کی اہم ضرورت

جو شخص چاہتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے قرب سے مشرف ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے جسم کو اپنی خواہش کے خلاف رکھے اس لیے کہ کوئی عبادت بندہ کو اللہ تبارک و تعالیٰ سے اتنا قریب نہیں کرتی جتنا ہوائے نفس کی مخالفت سے قرب حاصل ہوتا ہے، خواہش کی مخالفت کرنے والا ہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ محبوب و مقرب ہے۔

مزید پڑھیں >>

امار سونار بنگلہ (قسط دوم)

ڈھاکہ ایرپورٹ پر پہنچنے کے بعد ہی شعبۂ اردو کے طلبا نے استقبال اور میزبانی کے معیاری طور طریقوں کے جو نمونے پیش کیے، پانچ دنوں کے قیام میں اس میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔ شہر کے قلب اور بیت المکرم مسجد کے بالکل سامنے ایک اچھے ہوٹل میں ہمارا قیام تھا۔ ایئر پورٹ سے ہوٹل اور ہوٹل سے یونی ورسٹی لے جانے کے لیے ڈھاکہ یونی ورسٹی کی گاڑیاں ہر وقت میسر تھیں۔

مزید پڑھیں >>

ہمیں گواہ بنایا ہے وقت نے اپنا  کہ آؤ سچ بولیں

سرزمینِ ہندوپاک پرعدلیہ اور مقننہ کے درمیان سرد جنگ جاری ہے۔ پاکستان کے بارے میں یہ عام خیال پایا جاتا ہے کہ وہ ایک ناکام ریاست ہے۔ اس کے اندر جمہوری اقدار پائیدار نہیں ہیں اس لیے کئی بار فوجی سربراہوں نے سیاسی رہنماوں کو گھر ٹھکانے لگادیا جبکہ ہندوستان میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کا انکار ممکن نہیں ہے لیکن  سیاسی استحکام کو جانچنے کی ایک کسوٹی قانون کی بالادستی بھی ہے۔ اس لحاظ  سے دیکھیں تو پاکستان کے اندر عدالتوں کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے پرویز مشرف جیسے فوجی آمر کو  اقتدار سے بے دخل کرکے ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ فی زمانہ دونوں مقامات پر سیاسی حکومتیں ہیں اور عدالتیں ان سے برسرِ پیکار ہیں اس لیے حالات کا موازنہ  ضروری معلوم ہوتاہے۔

مزید پڑھیں >>

سیاست کی دہشت گردی یا دہشت گردی کی سیاست؟

دہشت گردی اور اس کی منصوبہ بندی کے الزام میں مسلمانوں کی گرفتاریاں اب کوئی نئی بات نہیں رہی ، پولس اس طرح کے کیسس میں مسلمانوں کو گرفتار کرتی ہے میڈیا انہیں خطر ناک دہشت گرد اور دل میں آئے وہ کہہ کر پورے ملک اور بیرون ملک میں بد نام کرتا ہے مسلمان رو پیٹ کر اور اخبارات خاص طور سے اردو خبارات کے صفحات کالے کر کے اور کبھی کبھار احتجاج کر کے خاموش ہو جاتے ہیںاور جمیعت علماء ہند پوری تندہی سے ان لوگوں کے مقدمات لڑ تی ہے اور اس کی وجہ سے کئی سال بعد معلوم ہوتا ہے کہ پکڑے گئے مسلمان بے قصور ہیں،پولس ان کے خلاف الزامات ثابت نہیں کر پائی اور میڈیا نے ان کے خلاف جو کچھ کہا وہ جھوٹ تھا۔

مزید پڑھیں >>

ترقی کیلئے تعلیم بنے سماج کا ایجنڈا

بھارت میں عام لوگوں کیلئے سب سے پہلے سکندر لودی نے مدرسے بنائے تھے۔ اس سے پہلے عام لوگ تعلیم حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ پڑھائی لکھائی صرف اعلیٰ ذات کے لوگوں کیلئے مخصوص تھی۔ اب تعلیم سب کیلئے ہے۔ اس لئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو علم سے جوڑنے کیلئے مقامی سطح پر تعلیمی کارواں نکالنے کا فیصلہ ہوا۔ یہ بھی طے پایا کہ اس کے ذریعہ لیڈر شپ ابھارنے، معاشی حالت بہتر بنانے،انتظامیہ میں شمولیت اور پروفیشنل کورسیز میں داخلہ لینے کیلئے بچوں کی ہمت افزائی کی جائے گی۔ آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ کے صدر امان اللہ خاں نے بتایا کہ تعلیمی ترقی کیلئے سید حامد فائونڈیشن معاون کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ اگلے سال سے صوبائی سطح پر کارواں نکالے جائیں گے تاکہ صوبائی یونٹ بعد میں فالواپ کرسکے۔ نئے اداروں کے قیام پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شمالی ریاستوں میں اکیڈمک آئی سیو (Remedial Class) شروع کیا جائے گا۔ اس میں ان بچوں کو دو تین ماہ رکھا جائے گا جو میتھ، سائنس یا انگریزی میں کمزور ہونے کی وجہ سے تعلیم میں دلچسپی نہیں لے رہے۔ یہی بچے اسکول چھوڑنے والے بن جاتے ہیں۔ بچوں کو ڈراپ آئوٹ ہونے سے بچانے کیلئے یہ قدم انتہائی ضروری ہے۔

مزید پڑھیں >>