خصوصی

حضرت شاہ ولی اللہؒ : آغوش موج کا ایک درِ تابندہ 

شاہ صاحب کی زندگی کا ایک ایک لمحہ متاثرکن اور سحر انگیز ہے۔شاہ صاحب نے اکیلے منزل کی طرف چلنا شروع کیا تھا لیکن ان کے تجدیدی کارناموں سے متاثر ہوکرراہ رو آتے گئے اور کارواں بنتا چلا گیا۔ آج ایک بار پھر شاہ ولی اللہ ثانی کی ضرورت ہے جو مسلم سماج میں بڑھتی بدعات و خرافات پر لگام لگاسکے۔ آج پھر سے اسی طرح کے حالات پیدا ہوتے جارہے ہیں اور امت مسلمہ کاشیرازہ منتشر ہوتا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

وزیر اعظم صاحب! گجرات کے وہ 50 لاکھ گھر کہاں ہیں؟

5 سال گزر چکے ہیں. اسی طرح نریندر مودی وزیر اعلیٰ سے وزیر اعظم بن گئے ہیں. 2012 کے مینڈیٹ کے ایک حصے میں یعنی 2012-14 کے درمیان وزیر اعلی اور 2014 کی سے 2017 کے درمیان وزیر اعظم، یعنی وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ دہلی کی سلطنت نے غریبوں کی رہائش کے لئے پیسے نہیں دیے. اگر وہ چاہتے ہیں تو، وہ دو منٹ میں بتا سکتے ہیں،کہ کن لوگوں کو 50 لاکھ گھر ملے ہیں اور وہ گھر کہاں ہیں۔ 30 مارچ، 2017 میں، اکنومکس ٹائمز  میں کولکتہ سے ایک خبر شائع ہویی ہے. اس و قت شہری ترقی وزیر وینکیا نایڈو تھے. اس خبر کے مطابق 2015 میں لانچ ہوئی وزیر اعظم کی رہائشی منصوبہ کے تحت گجرات میں سب سے زیادہ 873 25،  گھر بنائے ہیں. یہ ملک میں سب سے زیادہ ہے. آپ سوچئے، 2015 سے 2017 کے درمیان 873 25، گھر بنتے ہیں تو اس شرح سے کیا 2012 سے 2017 کے درمیان 50 لاکھ گھر بنے ہوں گے؟ پچاس لاکھ چھوڑیے، پانچ لاکھ بھی گھر بنے ہیں؟

مزید پڑھیں >>

قلب اور کیفیاتِ قلب

جو لوگ دل و دماغ سے کام نہیں لیتے، دیکھنے میں تو جانوروں سے وہ مختلف نظر آتے ہیں۔ ان کا قد سیدھا ہے، چار پیر کی جگہ دو پیر سے چلتے ہیں، ہاتھوں سے چیزوں کو پکڑتے اور استعمال کرتے ہیں۔ بے زبان نہیں، منہ میں زبان رکھتے ہیں، لیکن ذہن و مزاج اور رویہ کے لحاظ سے جانور ہی ہیں۔ جانور کو زندہ رہنے، کھانے پینے اور جنسی خواہش کی تکمیل اور نسل کَشی سے آگے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ یہ بھی ان ہی امور کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا: بل ہم اضل، (بلکہ وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں )۔ اس لیے کہ جانور کوعقل نہیں ہے، لیکن یہ باعقل و باخرد جانور ہیں۔ جانور سے قیامت میں باز پرس نہ ہوگی کہ اس نے کیا دیکھا، کیا نہیں دیکھا، قلب و دماغ سے کام لیا یا نہیں لیا، لیکن انسان کو ان سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس وجہ سے کہا گیا کہ یہ غفلت کی زندگی گزار رہے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

شراب و منشیات: سماجی ناسور! (تیسری قسط)

 آج بین الاقوامی سطح سے لے کر ملکی سطح تک ہر سال ایک خاص دن انسداد منشیات کا منایا جاتا ہے۔ گزشتہ سال منعقدہ اسی طرح کی ایک تقریب سے سابق صدر جمہوریہ ہندمسٹر پرنب مکھرجی نے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ منشیات کے شکار لوگوں کی شناخت،رہنمائی، کائونسلنگ اور نشے کی لت چھڑانے کے ساتھ ساتھ ان کی دیکھ بھال اور باز آباد کاری کے لیے بھی مکمل خدمات فراہم کی جانی چاہیں ۔ وہیں یہ بات بھی آپ پر واضح ہے کہ شراب نوشی اور منشیات کی لعنت دراصل ذہنی،طبی اور معاشرتی مسئلہ ہے۔ جس سے نمٹنے کے لیے جامع طریقہ کار کی ضرورت ہے۔ جامع علاج اورپروگرام کا مقصد صرف متاثرہ لوگوں کی شراب نوشی اور منشیات چھڑانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ منشیات کے شکار لوگوں کو منشیات سے آزاداورجرائم سے آزاد ی فراہم کرنے کے بعد روزگار سے وابستہ کیا جائے تاکہ وہ معاشرے کے لیے کار آمد ممبر بن سکیں۔

مزید پڑھیں >>

اونٹ پہاڑ کے نیچے!

مودی جی پر یہ برا وقت کیوں  آیا اس کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ جو طلباء سال بھر محنت کرتے ہیں ان کو امتحان کے وقت کچھ خاص نہیں کرنا پڑتا بس تھوڑا بہت اعادہ کیا اور امتحان گاہ میں جوش و خروش کے ساتھ داخل ہوگئے مگر  جو طالب علم سال بھر کلاس میں جانے کے بجائے  باغوں میں گلچھرے اڑاتے پھرتے ہیں یعنی دنیا بھر کی سیاحت پر سرکاری خزانہ لٹاتے ہیں امتحان کی قربت ان کے ہاتھ پیر پھلانے لگتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کسی طور امتحانی تاریخ ملتوی ہوجائے۔ تیاری کے  لیےدوچار دن اضافی مل جائیں اور مزید پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیں۔ کہیں سے پیپر لیک ہوجائے  یعنی دشمن کے کیمپ سے دوچار اہم رہنماوں کو خرید کر اپنے ساتھ کرلیا جائے یا نقل مارنے کی یعنی ووٹنگ مشین  کے ساتھ کھلواڑ کا موقع نکل آئے۔ بی جے پی کو گجرات میں 22 سال کا موقع ملا لیکن ان لوگوں نے ڈرامہ بازی کے سوا کچھ نہیں کیا۔ مودی جی نے مرکز کی کانگریسی حکومت کو کوس کوس کر اپنا الو سیدھا کیا لیکن اب مرکز میں الو بول رہا ہے اس لیے مشکل کھڑی ہوگئی ہے۔ ادھو ٹھا کرے یہی طنز کیا ہے کہ اگر گجرات نے ایسی ترقی کرلی ہے تو الیکشن سے قبل یہ پتھر پہ پتھر رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟

مزید پڑھیں >>

علمی اختلاف کی حقیقت: اسباب و آداب

آج مسلمانوں کی بہترین صلاحیتیں اور ذہانتیں فروعی مسائل میں مناظرہ بازی میں ضائع ہورہی ہیں، علم و تحقیق کا سارا زور اس پر  صرف ہورہا ہے کہ کیسے دوسرے فریق کو گمراہ اور اس کے موقف کو بے وزن ثابت کردیا جائے، سینے کے نیچے اور اوپر ہاتھ باندھنے پر لڑائی ہورہی ہے اور اس کی وجہ سے مسجدیں الگ ہورہی ہیں، حالانکہ ان کا دشمن ان کے ہاتھ کاٹنے کی تیاری کر رہا ہے اور ان کے قبلہ وکعبہ کو منہدم کرنے کی سازشیں کر رہا ہے اور ان میں اس طرح کے اختلافات کو ہوا دے کر انہیں اپنی ریشہ دوانیوں سے غافل رکھناچاہتا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ امت کی صفوں میں پائے جانے والے انتشار کوختم کیاجائے، اختلاف کو بر داشت کرنے اور دوسرے کی رائے کو اہمیت دینے کی عادت ڈالی جائے اور علمی وفقہی اختلاف کو فرقہ بندی کا ذریعہ نہ بنایا جائے اور دشمنانِ اسلام نے جو محاذکھول رکھا ہے ان پر اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں صرف کی جائیں اور مسلمان جس پستی اور رسوائی کا شکار ہیں انہیں ان سے نکالنے کی کوشش کی جائے۔

مزید پڑھیں >>

طب یو نانی کی ترویج و ترقی اور زوال کے اسباب؟

طب یونانی کی ترویج و ابتداء اور اس کے عام ہونے مسلم مسلطنتوں میں پھلنے پھولنے اور اس طرح  ہندوستان میں گھر گھر تک پہنچنے کی اجمالی تاریخ۔ ہم دیانت داری کیساتھ دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ طب یونانی پر صرف مسلمانوں کا ٹھپہ لگا کر اردو کی طرح ہی اس کی جڑیں کاٹنے کی خاموش کوششیں ہورہی ہیں ۔ اب اس کے پیچھے کون ہے اور کن عناصر نے ایک پانچ ہزار برس قدیم طریقہ علاج کو مٹانے اور بے نام و نشان کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔

مزید پڑھیں >>

سوشل میڈیا: غور و فکر کے چند پہلو

ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک مثبت اور دوسرا منفی، سوشل میڈیا بھی اس کلیہ سے مستثنی نہیں ہے۔ سوشل میڈیا ذرائع ابلاغ کی دنیا میں ایک انقلاب ہے، آج دنیا  کی رائے عامہ بنانے میں اسکا انتہائی اہم کردار ہوتا ہے، یہاں تک کہ حکومتوں کو بنانے اور بگاڑنے، مظلوموں کو انصاف دلانے اور حکومتی اداروں کو جوابدہ بنانے میں بہت موثر  ثابت ہورہی ہے، سوشل میڈیا کی خبریں اب مین اسٹریم میڈیا کی بھی زینت بنتی ہیں بلکہ بعض میڈیا ہاؤسز تو سوشل میڈیا کو اپنی معلومات کا ذریعہ بناتے ہیں اور اس کی بنیاد پر رپورٹیں تیار کرتے ہیں ، اب کوئی بڑا افسر ہو یا رہنما، وہ اس بات سے خوف زدہ رہتا ہے کہ کب اسکی بدعنوانی کا پردہ فاش ہوجائے اوراسکے منصب اور شہرت کی بینڈ بج جائے، سماجی وسیاسی مسائل سے لیکر تجارت و معیشت ٹک  ہر جگہ سوشل میڈیا کی جلوہ گری ہے، مختلف علمی وفکری، ادبی وتحقیقی، سیاسی وسماجی اور معاشی وتجارتی ادارے سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنے پروڈکٹس اور افکار ونظریات کی نشر و اشاعت کرتے ہیں اور اپنے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اسلامى تہذيب کيوں کر زوال پذير ہوئى؟

عالم اسلام کى اندرونى تبديليوں کا تجزيہ کريں تو معلوم ہوگا مادى اور غير مادى وسائل کے حوالے سے مسلمانوں کا زوال صديوں پہلے شروع ہوچکا تھا. نظام خلافت ميں ضعف، منگولوں کے حملے اور ان کے کبھى نہ بھرنے والے زخم مسلمانوں کے زوال کى سرعت کا باعث بنے، اسى زمانے ميں اہل يورپ عالم اسلام سے تجارت اور صليبى جنگوں کے ذريعے پيدا ہونے والے نزديکى تعلقات کى بدولت اپنى ثقافتى اور علمى تحريک و بيدارى کا آغاز کرچکے تھے.

مزید پڑھیں >>

پاکستان کا تاریخی اور سیاسی منظر نامہ

  پاکستان کے بارے میں 2009ء میں ڈاکٹر اسرار احمد نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں ایسا لگتا ہے کہ اسلام سے بے وفائی کی وجہ سے جو پورے ملک میں شریعت شکنی، بے حیائی، بے پردگی اور بدعنوانی کا راج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عذاب الٰہی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سیاستداں ، عوام و خواص سب ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں جو عذاب الٰہی کی ایک علامت ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کی امت پر عذاب کا فیصلہ کرلیا تھا مگر عذاب کو ٹال دیا۔ پاکستان میں اگر اللہ کے عذاب کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اسے اللہ اپنی رحمت بے پایاں سے ٹال بھی سکتا ہے۔ پاکستان کلمہ حق پر حاصل کیا تھا مگر کلمہ باطل کا مظہر ہے۔ جو بے حیائی، بے شرمی، درندگی اور بدعنوانی ہے۔ اس سے تو ڈاکٹر صاحب کی باتوں میں صداقت معلوم ہوتی ہے۔ پاکستان کی عدلیہ گزشتہ کئی سال سے مشرف کے وقت سے جس طرح Active اور عدل و انصاف کا مظاہرہ کر رہی ہے اس سے پاکستانی کچھ پر امید ہوئے ہیں ۔ دیکھنا ہے کہ پاکستانیوں کی امید بر آتی ہے یا نہیں؟

مزید پڑھیں >>