حالیہ مضامین

  •  موہن ندوی اور سلمان بھاگوت: ہم نے دشمن سے دوستی کرلی

    مولانا سلمان ندوی کو چاہیے کہ پرسنل لا بورڈ کو اپنے حال پر چھوڑ کر اولین فرصت میں ایودھیا سدبھاونا سمنوے مہاسمیتی کے امرناتھ مشرا کے خلاف  ہتک عزت کا دعویٰ کریں ۔ یہ سمیتی شری شری روی شنکر کے آشیرواد سے  بنائی گئی ہے اور امرناتھ مشرا اس کے صدر گرامی قدر ہیں ۔ انہوں نے مسلم پرسنل لابورڈ کے صدر رابع حسن ندوی کو مصالحت کا ۸ صفحاتی خط لکھا اور اس کی نقول وزیراعظم، یوپی کے وزیراعلیٰ اور دیگر  ۶ افراد کو ایک ہفتہ قبل بھیجی۔   مشرا کا الزام ہے کہ مولانا  سلمان  نے اس سے ۲۰۰ ایکڑ زمین، ایوان بالا کی رکنیت اور ۱یک ہزار کروڈ روپئے کا مطالبہ کیا۔ مولانا کا کسی مشرا کو جاننے سے انکار ناقابلِ یقین ہے۔ مشرا نے چونکہ کھلے عام یہ الزامات لگائے ہیں اس لیے اس کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کی جانی چاہیے محض شیطان  قراردے کر اس پر منافرت پھیلانے کا الزام لگا دینا کافی نہیں ہے۔ مولانا کو مشراجی کے اس الزام کے بعد اندازہ ہوگیا ہوگا کہ شری شری روی شنکر اور ان کا چیلا امرناتھ مشرا کس قدر قابلِ اعتماد ہے اور ان کے بھروسے قائم ہونے والا امن کتنا پائیدار ہوگا۔

    مزید پڑھیں >>
  • بینکنگ کا سب سے بڑا گھوٹالہ

  • حکومت کی ناک کے نیچے گھوٹالہ کیسے ہوا؟

  • پنجاب نیشنل بینک میں500 11، کروڑ کا گھوٹالہ

  • موہن بھاگوت

  • حکومت کی ناک کے نیچے گھوٹالہ کیسے ہوا؟

    کسی ایک بینک سے، اس بینک کی ایک شاخ سے، اس شاخ سے کسی ایک آدمی کو، اس آدمی کی دو تین کمپنیوں کو300 11، کروڑ کا لیٹر آف ایٹینٹ مل جائے، چار پانچ سال بعد فراڈ ہو جانے کے بعد بینک کو ہی پتہ چلتا ہے300 11، کروڑ کا فراڈ ہوا ہے ایسا معجزہ جمبو ديپے بھرتكھنڈے آرياورتے دیشانترگتے میں ہی ہو سکتا ہے. بینکاری کی دنیا میں کچھ نہیں بہت کچھ گڑبڑ ہے. یہاں، لاکھوں ملازم سے پوچھئے جو اپنی سیلری کے بڑھنے کا انتظار کر رہے ہیں، جو گھنٹوں گھنٹوں کام کر رہے ہیں، مگر ڈر کی وجہ سے بول نہیں پا رہے ہیں. ان کی سیلری بڑھ نہیں پا رہی ہے، کام کے بوجھ سے بیماری بڑھتی جا رہی ہے. وہ ایک ایسے ٹاپو پر بیٹھے ہیں جہاں ہر کوئی ڈرا ہوا ہے. ان سب چرمراتے انتظامات کے درمیان آخر وہ لوگ کہاں سے یہ حوصلہ لاتے ہیں جو بینکوں سے مل کر300 11، کروڑ کا گھوٹالہ کر جاتے ہیں. یہی نہیں وہ گناہ کرنے کے بعد بھی وزیر اعظم کے پیچھے جاکر کھڑے ہو جاتے ہیں.نہ پولیس کا ڈر نہ ایس پی کا۔ تو ڈر ڈکیتی اور ڈاووس نام کی اس فلم کی کہانی کا پلاٹ ابھی پوری طرح صاف نہیں ہوا ہے. کہانی کھل رہی ہے، اس لیے الزام اور مبینہ طور پر ہی کرداروں کا نام لیا جائے گا.

    مزید پڑھیں >>
  • صنفی عدل: اسلامی نقطۂ نظر سے

  • اتحاد بین المسلمین کی ضرورت واہمیت

  • پنجاب نیشنل بینک میں500 11، کروڑ کا گھوٹالہ

  • بابری مسجد، پرسنل لا بورڈ اور مولانا سلمان ندوی

  • دھاراوی سِلَمس

    یہاں آپ کو ایک کٹر ہندو ، اس سے بھی زیادہ کٹر مسلمان کے ساتھ ایک ہی کھولی شئیر کرتا نظر آئے گا۔ ایک عیسائی آپ کو اپنے ہندو یا مسلمان پڑوسی کے لئے پانی کی لائن میں لگا بھی نظر آئے گا۔ یہاں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ہر خوشی و غم میں شریک ہوتے ہیں۔ عید آتی ہے تو سب مناتے ہیں، ہولی آتی ہے تو ہر کوئی رنگین ہو جاتا۔ الغرض جتنے بھی تہوار ہیں، دھاراوی کے مکین انہیں مل کر مناتے ہیں۔

    مزید پڑھیں >>
  • مساوات مرد و زن

  • صنفی عدل: اسلامی نقطۂ نظر سے

  • میرا بچپن

  • ویلنٹائن ڈے

  •  موہن ندوی اور سلمان بھاگوت: ہم نے دشمن سے دوستی کرلی

    مولانا سلمان ندوی کو چاہیے کہ پرسنل لا بورڈ کو اپنے حال پر چھوڑ کر اولین فرصت میں ایودھیا سدبھاونا سمنوے مہاسمیتی کے امرناتھ مشرا کے خلاف  ہتک عزت کا دعویٰ کریں ۔ یہ سمیتی شری شری روی شنکر کے آشیرواد سے  بنائی گئی ہے اور امرناتھ مشرا اس کے صدر گرامی قدر ہیں ۔ انہوں نے مسلم پرسنل لابورڈ کے صدر رابع حسن ندوی کو مصالحت کا ۸ صفحاتی خط لکھا اور اس کی نقول وزیراعظم، یوپی کے وزیراعلیٰ اور دیگر  ۶ افراد کو ایک ہفتہ قبل بھیجی۔   مشرا کا الزام ہے کہ مولانا  سلمان  نے اس سے ۲۰۰ ایکڑ زمین، ایوان بالا کی رکنیت اور ۱یک ہزار کروڈ روپئے کا مطالبہ کیا۔ مولانا کا کسی مشرا کو جاننے سے انکار ناقابلِ یقین ہے۔ مشرا نے چونکہ کھلے عام یہ الزامات لگائے ہیں اس لیے اس کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کی جانی چاہیے محض شیطان  قراردے کر اس پر منافرت پھیلانے کا الزام لگا دینا کافی نہیں ہے۔ مولانا کو مشراجی کے اس الزام کے بعد اندازہ ہوگیا ہوگا کہ شری شری روی شنکر اور ان کا چیلا امرناتھ مشرا کس قدر قابلِ اعتماد ہے اور ان کے بھروسے قائم ہونے والا امن کتنا پائیدار ہوگا۔

    مزید پڑھیں >>
  • بینکنگ کا سب سے بڑا گھوٹالہ

  • ماحولیات کا تحفظ  اور اخلاقی قدریں: عہد حاضر کے تناظر میں     

  • حکومت کی ناک کے نیچے گھوٹالہ کیسے ہوا؟

  • صنفی عدل: اسلامی نقطۂ نظر سے