حالیہ مضامین

  • کیا ضابطۂ اخلاق صرف دکھاوے کے لئے ہے؟

    کچھ تو بات ہے ایگزٹ پول میں. ورنہ ٹی وی اسٹوڈيو میں اسپیکر دو دو گھنٹے نہیں بیٹھتے، وہ بھی صرف دو یا پانچ منٹ بات کرنے کے لئے. اینکرز لوگ ایسے بول رہے ہیں جیسے آندھی میں اشوک کے درخت جھک رہا ہو. وہ اٹھتے ہیں جھکتے ہیں گرتے ہیں اور کئی بار لگتا ہے کہ گرا ہی دیں گے قریب والے اسپیکر کو. ایگزٹ پول انتخابی تہوار کا آخری میلہ ہے. اس میلے میں لوگ خوب جھولا جھول رہے ہیں. مزہ آ رہا ہے تبھی تو لوگ لفٹ میں چڑھتے اترتے وقت پوچھ رہے ہیں کہ بتائیے کون جیت جائے گا. وهاٹس اپ كھولے تو وہاں لوگ پرسنل اور كاپنفڈینشیل ہوکر پوچھ رہے ہیں کہ وہاں نہیں تو یہاں بتا تو کون جیتے گا. ایگزٹ پول 18 کو گول ہو جائیں گے، کچھ صحیح ہوں گے کچھ غلط ہو جائیں گے، پھر لوگ ایگزٹ پول کو گرياییں گے، لیکن اگلے انتخابات میں دوبارہ ایگزٹ پول دیکھنے بیٹھ جائیں گے. یہی ایگزٹ پول کا جلوہ ہے. یہ وہ بیماری ہے جس کا علاج کوئی نہیں چاہتا. انتخابات ہو گئے، اس انتخاب میں الیکشن کمیشن کو لے کر کیا کیا تنازعہ ہوئے، کیا ہم ایسے دور میں پھر سے آ گئے ہیں جہاں الیکشن کمیشن کی ذرا سی چوک بڑا خدشہ پیدا کر دیتی ہے. ٹی این شیشن نے الیکشن کمیشن کو خدشات سے باہر نکالا تھا. کیا الیکشن کمیشن کو لے کر پھر سے خدشات ہونے لگے ہیں؟ پہلے ای وی ایم کو لے کر سوال کھڑے ہوئے اور اب سوال اس بات پر پہنچ گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلوں میں بھی برابری نہیں کر رہا ہے. کیا ایسا ہے، اس کا صحیح اور متوازن جواب تو تبھی آئے گا جب الیکشن کمیشن اپنا موقف رکھے گا، شاید 18 کو نتائج آنے کے بعد کمیشن اپنا موقف رکھے.

    مزید پڑھیں >>
  • جی ہاں، مجھے معلوم ہے گجرات انتخابات کا نتیجہ!

  • انصاف کی چوکھٹ پر اتنا ظلم کیوں؟

  • بیت المقدس

  • بیت المقدس فلسطین کا اٹوٹ حصہ ہے!