شخصیات

ابن المقفع – مختصر سوانح

   (106تا142ھ/723 تا759ء)

سراج احمد برکت اللہ فلاحیؔ        

        ابن المقفع کا پورا نام ’’ابومحمد عبداللہ بن المبارک المقفع‘‘ ہے۔ بعض اہل قلم ’ عبداللہ ابن المقفع‘ لکھتے ہیں البتہ کتب تاریخ وادب میں بالعمو م صرف’ ابن المقفع‘ کے نام سے ہی مشہور ہے۔ عربی زبان کا بہت ہی مشہور ومعروف ادیب، صاحب نثر اور مترجم گزرا ہے۔ اس کا ذکر کیے بغیرعربی ادب کی تاریخ ادھوری اور نامکمل ہی رہے گی۔ عربی ادب کی تاریخ پر قلم اٹھانے والے جملہ مورخین نے بہت ہی نمایاں انداز سے اس کا ذکر کیا ہے۔ یہ پیدائشی اعتبار سے ایرانی النسل تھا اور مجوسی فکر وخیالات کا حامل تھا۔ اس کاقدیم نام ’روزبہ‘ اور اس کے باپ کا قدیم نام ’داذویہ‘ہے جو بعد میں ’المبارک‘کہلایا۔

        ایران کے ایک شریف، مال دار اور علمی گھرانے سے اس کا تعلق تھا۔ وطن میں رہ کر ہی اس نے فارسی اور پہلوی زبان میں تحریر وبیان پر قدرت حاصل کرلی تھی۔ اس کے والد عہد بنو امیہ میں حجاج بن یوسف کی ولایت فارس کے کسی نواحی صوبے میں محصلِ مالیات رہ چکے تھے۔ بعدمیں انہیں بصرہ بھیج دیا گیا۔ جہاں کئی سالوں تک محصلِ مالیات رہے۔ دوران ملازمت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ والی بصرہ اور دوسرے امراء کی نظر میں بڑارتبہ حاصل کرلیا۔ کہاجاتا ہے کہ کسی موقع سے مالی ہیرا پھیری میں حجاج نے اس کے والد کو ملوث پایا تو سخت ناراض ہوا، قید کردیااوراسے شکنجوں سے باندھنے کا حکم دے دیا۔ حکم کی تعمیل میں اسے بڑی سختی کے ساتھ شکنجے میں کس دیا گیاجس سے اس کے دونوں ہاتھ لنج ہوگئے۔ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ ہاتھ بالکل ہی ٹیڑھے ہوگئے تھے اور استعمال کے قابل نہ تھے۔ اسی وجہ سے اسے المقفع کہا جانے لگا۔ سوئے اتفاق کہئے تاریخ کے صفحات میں باپ تو غیر معروف رہا لیکن بیٹا’ ابن المقفع ‘کے نام سے ہی جانا گیا۔

        ابن المقفع جب کچھ بڑا ہوا تو بصرہ آکر رہنے لگا۔ جہاں اس کے والد مالیات کے شعبے میں سرکاری ملازم تھے۔ باپ نے بیٹے کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔ عربی زبان سیکھنے کے لیے باقاعدہ اتالیق مقرر کردیا اور اسے اس کام کے لیے بالکل فارغ کردیا۔ یکے بعد دیگرے کئی اساتذہ سے ابن المقفع نے کسب فیض کیا۔ البتہ اس کے دواساتذہ کا نام بالخصوص تاریخ میں ملتا ہے۔ (1) ثور بن یزید (2) ابوالغول۔ ابن المقفع چوں کہ بہت ذہین تھا، اس لیے اسے جلد ہی کامیابی ملی اور چند سالوں کے اندر وہ عربی میں شاعری بھی کرنے لگا۔ ابوتمّام کی مشہور کتاب ’دیوان الحماسہ‘ میں ابن المقفع کے اشعار بھی شامل ہیں۔

        اس کی زندگی بہت مختصر ہے۔ اس کی پوری زندگی میں دوچیزیں اہم نظر آتی ہیں ایک ملازمت بحیثیت سکریٹری یا ترجمان کے اوردوسرے ملازمت بحیثیت مترجم کے۔ شروع میں ابن المقفع فارس کے کسی نواحی صوبہ میں ’المسیح بن حواری‘ کے یہاں کاتب کی حیثیت سے رہا۔ اس صوبہ کا نام شاہ پور یا مکران تھاجیساکہ مورخین نے لکھا ہے۔ المسیح بن حواری اس صوبے کا والی تھا۔ اسی زمانے میں مرکز خلافت سے سفیان بن معاویہ بن یزید بن المہلب شاہ پور کا والی بناکر بھیجا گیا۔ یہ فیصلہ المسیح بن حواری کو برداشت نہ ہوسکا۔ اس نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح سفیان بن معاویہ کایہاں سے تبادلہ ہوجائے لیکن جب کامیابی نہ ملی تو علی الاعلان مخالفت پر اتر آیا۔ بالآخر دونوں میں جنگ ہوئی۔ جس میں اتفاق سے سفیان بن معاویہ کو شکست ہوئی، وہ بری طرح زخمی ہوا اور بھاگنے پر مجبور ہوگیا۔ ابن المقفع نے اس پورے عمل میں اپنے مالک المسیح بن حواری کا پورا پورا ساتھ دیا اور سفیان بن معاویہ کو سخت سست بھی کہا۔ یہاں تک کی اس کی پاک دامنی پربھی الزام لگا دیا۔ اس وجہ سے سفیان بن معاویہ کے دل میں ابن المقفع کے تعلق سے سخت نفرت اور عدوات پیدا ہوگئی۔

        بعد میں ابن المقفع کرمان میں داود بن یزید بن عمر بن ہبیرہ کا بھی کچھ دنوں تک پرسنل سکریٹری رہا۔ خط وکتابت اور عوام کی ترجمانی کاکام اس کے ذمہ تھا۔ بعد میں وہ بصرہ آگیااور دوسرے عباسی خلیفہ ابوجعفر منصور کے چچاعیسی بن علی العباسی کے یہاں کئی سالوں تک ملازم رہا۔ ان کی صحبت میں رہ کروہ اسلام سے متاثر ہوا اور مسلمان ہوگیا۔ عیسی بن علی نے اس خوشی میں اجتماعی دعوت کا اہتمام کیا، بھرے مجمع میں اس کے قبول اسلام کا اعلان کیا اوراس کا نام عبداللہ رکھا۔ آگے چل کرعہد عباسی میں دوسرے خلیفہ ابوجعفر منصور (136ھ تا158ھ )کے یہاں ابن المقفع سرکاری کاتب ہوگیا۔ اسی زمانے میں ’کلیلۃ ودمنۃ‘ کے ترجمہ کا کام کیاہے۔ اس سے بڑی شہرت کمائی۔ خلیفہ کی نظر میں اچھا مقام حاصل کرلیا۔ دوسرے لوگ حسد کرنے لگے لیکن ایک روز اسی خلیفہ کی ایماء پر دھوکہ سے قتل کردیا گیا۔

        اس کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں اس طرح ملتی ہے۔ 136ھ میں جب خلیفہ ابوجعفر منصور خلیفہ ہوا تو اس کے ایک چچا عبداللہ بن علی العباسی نے بغاوت کردی خلیفہ کی فوج سے مقابلہ ہوا تووہ شکست کھاگیا اور پناہ لینے پر مجبور ہوا تو اپنے بھائی عیسی بن علی العباسی اور سلیمان بن علی العباسی کوساتھ میں بطور سفارشی لے کر طلب امان کے لیے حاضر ہوا۔ چچا کی درخواست اور دوسرے چچاؤں کی سفارش سن کر خلیفہ نے کہا ٹھیک ہے میں نے آپ لوگوں کی بات سن لی ہے اور حسب مرضی فیصلہ جلد ہی کروں گا۔ لیکن قبل اس کے کہ خلیفہ کوئی فیصلہ سناتا، اسی طرح کی کسی مجلس میں ابن المقفع نے ایسی بات کہہ دی کہ خلیفہ امان دینے پرمجبور ہوگیااور اپنی رضامندی ظاہر کردی۔ لیکن خود اسی سے سخت ناراض ہوگیاکہ اس نے اس طرح سفارش کیوں کی۔ اب یہ خلیفہ کی نظر میں چڑھ گیا۔ خلیفہ نے اسے اپنے یہاں سے ہٹاکر سفیان بن معاویہ جو اس وقت بصرہ کا حاکم تھا اس کے ماتحتی میں کردیا۔ کسی معاملہ میں اس نے کچھ ہی دنوں کے اندر اسے قتل کردیا۔ سفیان بن معاویہ کے دل میں پہلے سے دشمنی اور عداوت تھی۔ گویا اس طرح اس کی آرزو مکمل ہوگئی۔ خلیفہ بھی چوں کہ پہلے سے ناراض تھا اس لیے اس نے کوئی تفتیش یا گرفت نہیں کی۔ یہ واقعہ 142ھ میں پیش آیا۔ اس وقت ابن المقفع کی عمر کل 36 سال تھی۔

        ابن المقفع چوں کہ ابوجعفر منصور کے یہاں کاتب رہنے سے پہلے عیسی بن علی العباسی کے یہاں رہ چکا تھا۔ عبداللہ بن علی العباسی کی سفارش کے لیے دوسرے بھائیوں کے ساتھ یہ بھی آیاتھا۔ شاید اسی کی طرف داری میں ابن المقفع نے ایسا بیان دیا کہ خلیفہ کی نظر میں خود ہی موجب قتل ٹھہرا۔

سیرت واخلاق :      ابن المقفع کی پوری زندگی پر ایک نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ متضاد کردار کا مالک تھا۔ بعض لوگوں نے کہاہے کہ وہ زندیق یعنی ملحد اور بے دین ہوگیا تھا۔ لیکن حقیقت ہے کہ یہ باتیں محض الزام ہیں۔ جو اس کے ہم عصر لوگوں نے بیان کیا ہے البتہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قبولِ اسلام کے بعد بھی اس کی ذاتی زندگی ا ورانفرادی معمولات میں کوئی بہت زیادہ فرق نظر نہیں آتا ہے۔

        کہا جاتا ہے کہ ابن المقفع بہت فیاض اور سخی تھا، ایثار کا جذبہ رکھتا تھا۔ کئی بار اس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کی مدد کی ہے۔ نیز اس نے چوں کہ ترجمہ کے لیے حکمت ونصائح سے پُر کتاب کا انتخاب کیا ہے اس لیے ہم اس کی سیرت واخلاق اور اچھے سلوک وبرتاؤ کوتسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

زبان وبیان کی خوبی:        ابن المقفع نے عموماً فارسی یاپہلوی زبان سے عربی میں ترجمہ کیا ہے۔ کچھ اشعار بھی کہے ہیں۔ اس کی زبان میں سلاست وروانی، ایجازواختصار، آسان الفاظ کا استعمال اور مترادفات سے پرہیز پایا جاتا ہے۔ وہ مسجع عبارتوں کا استعمال بالکل نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے بیان میں غموض ہوتا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ اس نے ترجمہ کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے اور اس کی نئی بنا ڈالی ہے۔ خلافت عباسیہ کے اوائل میں جب ترجمہ وتصنیف کاکا م بڑے پیمانے پر سرکاری سرپرستی میں شروع ہوا تو ابن المقفع نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور اس وقت کے اہل قلم میں بہت ممتاز ثابت ہوا۔

عربی ترجمے:       ابن المقفع نے متعدد اہم کتابوں کا دوسری زبان سے عربی میں ترجمہ کیا ہے۔ بالخصوص فارسی منطق وفلسفہ کی کتابوں کا ترجمہ کیا۔ بعض کتابوں کے نام اس طرح ہیں۔

(1) کلیلۃ ودمنۃ               پہلوی سے عربی (حکیمانہ قصے واقوال)

(2) کتاب الرسوم             پہلوی سے عربی (ایرانی آئین کا ترجمہ)

(3) کتاب التاج               پہلوی سے عربی(نوشیرواں کی سوانح)

(4)سیر ملوک العجم پہلوی سے عربی(بعض عجمی بادشاہوں کی سوانح)

(5)رسالۃ تنسر               فارسی سے عربی (منطق وفلسفہ)

(6)کتاب البیکار              فارسی سے عربی (منطق وفلسفہ)

(7)کتاب مزدک              فارسی سے عربی (منطق وفلسفہ)

تالیفات:        ابن المقفع نے اکثر کتابیں دوران ملازمت کسی کے مطالبے پر تصنیف کی ہے۔

1۔ الادب المفرد                       پندونصائح کا مختصر مجموعہ

2۔ الادب الوجیز للولدالصغیر        کسی کے مطالبہ پر لکھا گیا۔

3۔ الدرۃ الیتیمۃ                        پندونصائح کا مختصر مجموعہ

4۔ رسالۃ السیاسۃ                     ابوجعفر منصور کے لیے لکھا گیا۔

5۔ رسائل ابن المقفع          بعض خطوط کا مجموعہ

6۔ حکم ابن المقفع            بعض اقوال حکمت کا مجموعہ

مزید دکھائیں

سرا ج احمد برکت اللہ فلاحی

مضمون نگار سہ ماہی پیغام کے سب اڈیٹر ہیں۔

متعلقہ

Close