شخصیات

  اسلاف کے گلشن کا وہ ایسا گل ِتر تھا!

 مفتی محمد صادق حسین قاسمی 

استاذالاساتذہ،عظیم محدث ،مایہ ناز ادیب وشاعر حضرت مولانا ریاست علی ظفر بجنوری ؒ بھی جوارِ رحمت میں منتقل ہوچکے ہیں ۔20 مئی2017ء  بروز ہفتہ صبح کی اولین ساعتوں میں آپ نے داعئی اجل کو لبیک کہااور دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔اس دورِ آخر میں اللہ والوں اور اہل ِ علم کا اٹھ جانا اور رحلت کرجانا ملت ِ اسلامیہ کے لئے ایک عظیم خسارہ ہے ۔یکے بعد دیگر اکابر کا دنیا سے پردہ فرمانا ایک بہت بڑا نقصان ہے ،جس کا احساس ان کے جانے کے بعد ہر فرد محسوس کرتا ہے اور کرے گا،ان حضرات کا وجود خداجانے کتنی رحمتوں اور برکتوں کاسبب ہوتا ہے اور کتنی کٹھن منزلوں اورمرحلوں میں مینارہ ٔ نور ہوتا ہے اس کا انداز ہ نہیں کیاجاسکتا ۔

  ہر طالب علم کو بالخصوص اپنے استاذ کے انتقال فرماجانے پر گہرا رنج والم ہوتا ہے ،انتقال کی خبر بجلی بن کر گرتی ہے اور ذہن ودماغ میں یادوں کے انمٹ نقوش جھلملانے لگتے ہیں ،ان سے منسوب واقعات اور دلنشین باتیں بے چین وبے قرار کردیتی ہیں ۔حضرت مولانا ریاست علی صاحب ؒ دارالعلوم دیوبند کے صف ِ اول کے مقبول ومحبوب ترین اساتذۂ حدیث میں سے تھے۔جن کی سادگی ،خوش مزاجی ،ملنساری ،خرد نوازی شفقت ومحبت معروف تھی ۔ہم نے بھی ان سے 2008ء میں دارالعلوم دیوبند میں حدیث کی مشہور ترین کتب ’’ابن ماجہ ‘‘ پڑھی تھی اور اس طرح اس عظیم المرتبت شخصیت سے زانوئے تلمذ طے کرنے کا موقع نصیب ہوا تھا،ان کی میٹھی وشیریں آواز ،پیارا اور سادہ اندازِ بیاں اور دلکش وپرُاثرسبق کا منظر آج بھی تازہ ہے ۔بہت محبت کے ساتھ اپنے شاگردوں سے پیش آتے اور ان کے حوصلوں کو بلند کرتے اور ان کی کاموں اور محنتوں کی ستائش کرتے۔

 ڈسمبر 2016 ء میں سفر ِ دیوبند کے موقع پر حضرت کی خدمت میں دو تین دفعہ حاضری ہوئی اور آپ کی علمی وپُربہارمجلس سے مستفید ہونے کا موقع ملا ۔زندگی بھر جن کا قلم چلتا رہا ،حدیث اور دیگر موضوعات پر خامہ فرسائی کرتے رہے اور کتابوں و تصنیفات پر لکھ کر مؤلفین کے حوصلوں کو تقویت دیتے رہے ،کسی کتاب پر آپ کی تقریظ اس کی مقبولیت کے لئے کافی ہوتی سمجھی جاتی۔کسی بات پر متنبہ کرنا ہوتا یا کسی غلطی کی طرف نشان دہی مقصود ہوتی تو بھی بہت ہی محبت کے ساتھ فرماتے اور اکثر آپ ’’بیٹے‘‘ کے ذریعہ اپنے شاگردوں کو خطاب کرتے۔چالیس سال سے زائد کا طویل دور دارالعلوم دیوبند میں آپ کا گزرا ہے اور آپ نے دارالعلوم دیوبند کی تعمیر وترقی میں اہم کردار اداکیا۔دارالعلوم دیوبند کا مقبول ترین اور اپنی نوعیت کا منفرد ترانہ ’’یہ علم وہنر کا گہوارہ ،تاریخ کا وہ شہ پارہ ہے‘‘ آپ ہی کے قلم معجز رقم سے نکلا ہوا ہے ،جس کی گونج پوری دنیا میں سنائی دیتی ہے ،جو آپ کے بلند ترین ذوقِ ادب اور باکمال شاعر ہونے کا بین ثبوت ہے۔دارالعلوم دیوبند کے ترانہ کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے مولانا لقمان الحق فاروقی ؒ نے لکھا ہے :’’بجاطور پر یہ کہتا ہوں کہ کسی بھی مادرِ علمی کو ،اس کے کسی فرزند نے اتناشاندار،انتاپراثر،اتنافصیح وبلیغ اور اتناجامع خراج ِ عقیدت نہیں پیش کیا ہے جتناظفر ؔبجنوری نے دارالعلوم دیوبند کو پیش کیا ہے۔اسی طرح جمعیۃ علماء ہند کا بھی مشہور ترانہ ’’یہ اہل ِ یقیں کی جمعیت گلبانگ ِ بہارِ گلشن ہے‘‘ بھی آپ کا لکھا ہوا ہے۔آپ جہاں مسند درس کے ایک عظیم استاد اور محدث تھے وہیں باکمال ادیب وشاعر بھی تھے ،آپ کا مجموعہ ٔکلام ’’نغمہ ٔ سحر ‘‘ کے نام سے مقبول ہے۔

  حضرت مولانا ریاست علی صاحب کی زندگی پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں :حضرت مولانا ریاست علی ظفر ؔ بجنوری ؒ کی ولادت 9مارچ 1940ء کو شہر علی گڑھ کے محلہ حکیم سرائے میں ہوئی ،آپ کے والد ماجد کا اسم گرامی فراست علی تھا۔ابتدائی تعلیم کے بعد علومِ عربیہ کی تکمیل دارالعلوم دیوبند میں ہی کی اور 1958ءمیں دورۂ حدیث میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی۔دورہ ٔ حدیث سے فراغت کے بعد اپنے جلیل القدراستاذ فخرالمحدثین حضرت مولانا سید فخر الدین صاحب ؒ کے دامن سے وابستہ ہوئے اور مسلسل تیرہ سال تک ان کی علمی مجلسوں سے استفادہ کیا۔اور حضرت مولانا سید فخر الدین صاحب ؒ کے درسی افادات کو مرتب کرکے ’’ ایضا ح البخاری‘‘ کے نام سے شائع کرنا شروع کیا۔1391ھ میں دارالعلوم دیوبند میں بحیثت استاذ تقرر عمل میں آیا۔

1402ھ میں ماہنامہ دارالعلوم کے مدیر مسئول مقرر ہوئے۔1405ھ کو ناظم مجلس ِ تعلیمی مقررہوئے اور آپ نے اپنے زمانہ ٔ نظامت میں قابل ِ قدر اصلاحات کیں ،امتحان ِ داخلہ کو تحریری طور پر منظم کیا،امتحا ن ششماہی کو باقاعدہ مستحکم کیا،تمام امتحانات مین امیدواروں کے نام کے بجائے کوڈ نمبر کی بنیاد ڈالی۔1408ھ میں مجلس شوری نے شیخ الہند اکیڈمی کا نگران مقرر کیا۔چند سال میں شیخ الہند اکیڈمی سے متعدد کتابیں معیار ی اور علمی کتابیں شائع ہوئیں ،جن میں سے ایک خود آپ کی لکھی ہوئی ’’شوری کی شرعی حیثیت ‘‘ بھی شائع ہوئی۔1412ھ میں آ پ کو نائب مہتمم مقرر کیا گیا۔ان تمام اہم ترین ذمہ داریوں کو آپ نے بحسن وخوبی نبھایا اور انجام دیا اور آخر میں جب عمر اور مصروفیات کی وجہ سے صحت متاثر ہونے لگی تو یکے بعد دیگر ذمہ داریوں سے سبکدوشی حاصل کی اور تادم ِآخر حدیث کی کتابیں پڑھاتے رہے اور انتظامی امور سے یکسوئی حاصل کرکے تدریس ہی سے منسلک رہے۔آپ نے اپنے عظیم المرتبت استاذ حضرت مولانا سید فخر الدین صاحب ؒ کی شان میں ایک مرثیہ کہاتھا ،اسی کا ایک شعر ہے:

  ؎ پروردہ ٔصد فصل ِ بہاراں جسے کہیے

اسلاف کے گلشن کا وہ ایسا گل ترتھا

 اللہ حضرت مولانا کو غریق ِ رحمت فرمائے ،ان کے درجات بلند کرے اور ان کی عظیم خدمات کو ثواب ِ جاریہ بنائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close