دیگر نثری اصنافشخصیات

اقبال متین – کثیرالجہات ادبی شخصیت

احمد علی جوہر

اقبال متین (پ، 2/فروری1929ء- م، 5/مئی2015ء) اردو ادب میں کثیرالجہات شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ایک مستند افسانہ نگار، ناولٹ نگار، یادنگار، شاعر، مضمون نگار اور خاکہ نویس ہیں۔ ان کا شمار اہم اور ممتاز افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کا اصل نام ’سید مسیح الدین خاں ‘ عرف ’اقبال‘ اور تخلص ’متین‘ ہے۔ اقبال متین ان کا قلمی نام ہے اور تعلیمی ریکارڈ میں بھی یہی نام درج ہے۔ ان کی پیدائش فرحت منزل، محلّہ رام کوٹ، حیدرآباد میں ہوئی۔ ان کی تاریخ پیدائش اسکول کے تعلیمی ریکارڈ کے مطابق 2/فروری 1929ء ہے۔ ان کے والد سید عبدالقادر شاعر تھے اور ناصرؔ تخلص کرتے تھے۔ ان کے دوچچا سید قادرالدین تمکین سرمست (پدر یوسف سرمست) اور نسیم قاسمی خوش فکر غزل گو شاعر تھے۔ تیسرے چچا دستگیرالدین ڈرامہ نویس تھے۔ ان بزرگوں کے زیراثر اقبال متین کے شعری وادبی ذوق کی نشوونما ہوئی تھی۔

اقبال متین کی ابتدائی تعلیم مدرسہ وسطانیہ بشیرآباد اور مدرسہ فوقانیہ، چیتاپور میں ہوئی۔ سٹی ہائی اسکول، حیدرآباد سے دسویں کا امتحان پاس کیا۔ چوں کہ ان کے والد تعلقدار اور تحصیلدار کے عہدہ پر فائز تھے، اس لیے ان کے تبادلہ کے ساتھ ساتھ اقبال متین کی درسگاہیں بھی بدلتی رہیں۔ کچھ دنوں ان کی تعلیم ایم۔ اے۔ او۔ انسٹی ٹیوٹ، عابڈس، حیدرآباد، سٹی کالج، حیدرآباد اور دارالعلوم کالج، حیدرآباد میں ہوئی۔ انٹرمیڈیٹ انھوں نے چادرگھاٹ کالج، حیدرآباد سے پاس کیا۔ ان تعلیمی اداروں میں انھیں مخدومؔ محی الدین اور محی الدین قادری زورؔ جیسے اساتذہ کی سرپرستی حاصل رہی۔ یہاں انھیں رفقاء بھی ایسے میسّر آئے جو ستھرے ادبی ذوق کے مالک تھے۔ ان اساتذہ اور رفقاء کی صحبت نے بھی ان کے ادبی شعور کو جلا بخشنے میں اہم رول اداکیا۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد جب اقبال متین کو ملازمت نہیں ملی تو انھوں نے پان کی دکان لگالی۔ یہ دکان زیادہ نہیں چلی۔ اسی دوران محکمہ آبکاری میں انہیں ملازمت ملی۔ پولیس ایکشن کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہو گیا توحیدرآباد کے جاگیر ایڈمنسٹریشن میں وہ ملازم ہوئے۔ یہاں ان کا تقرر کلرک کی حیثیت سے ہواتھا۔ جاگیر ایڈمنسٹریشن جب محکمہ بندوبست میں ضم ہوگیا تو اقبال متین کی خدمات محکمہ مال کے سپرد کردی گئیں۔ یہاں ترقی کرکے وہ نائب تحصیلدار کے عہدہ پر فائز ہوئے اور اسی عہدہ پر خدمات انجام دیتے ہوئے سبکدوش ہوئے۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد وہ اپنی تصنیفی سرگرمیوں میں بڑی مستعدّی سے منہمک رہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمر کے اس پڑائو میں وہ اپنی کئی تخلیقات وتصنیفات منظرعام پر لانے میں کامیاب رہے۔ ان کی آخری تصنیف ’’اُجالے جھروکے میں ‘‘ (مضامین کامجموعہ) 2008ء میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد وہ ضعیفی کے تقاضے کے تحت تصنیفی وتخلیقی کاموں سے دست بردار ہوکر آرام فرمانے لگے۔ وہ اس اعتبار سے خوش نصیب رہے کہ انھیں کوئی بڑا عارضہ لاحق نہیں ہوا البتہ اخیر عمر میں وہ تھوڑا کم سنتے تھے۔ ضعف وپیرانہ سالی کے باوجود وہ نوجوانوں سے اس شفقت ومحبت سے ملتے تھے کہ ان کے دلوں میں ایک نئی اُمنگ پیدا ہوجاتی تھی۔ وہ فون پر اس پیار بھرے انداز میں بات کرتے تھے کہ ان سے مسلسل بات کرتے ہی رہنے کو جی چاہتا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ شخص ابھی بالکل ضعیف نہیں ہوا ہے۔ سچ کہا ہے کسی نے کہ حقیقی ادیب کبھی ضعیف نہیں ہوتا ہے۔ کسے معلوم تھا کہ ایسی محبوب شخصیت اچانک ہم سے جُدا ہو جائے گی۔ ان کے چھوٹے بیٹے سید سدید اقبال کے مطابق موت سے تین چار دن پہلے سر میں چکّر آنا شروع ہوا۔ بالآخر 5/مئی کی صبح 20۔ 9سے30۔ 9 کے درمیان انھوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی۔ اللہ مرحوم کو غریق رحمت کرے۔

 اقبال متین کی دو شادیاں ہوئی تھیں۔ پہلی شادی اپنی پھوپھی زاد بہن سیدہ بدرالنساء بیگم منیر سے ہوئی۔ اس کے انتقال کے بعد ان کا دوسرا عقد شاہ جہاں بیگم رابعہ سے ہوا۔ ان کو کل 9/اولادیں ہوئیں۔ 7/لڑکے اور 2/لڑکیاں۔ ان میں سے تین لڑکوں کا انتقال ان کی زندگی ہی میں ہو ا۔ پہلی بیوی اور بچّوں کی ناگہانی موت سے اقبال متین کو بڑا دلی صدمہ پہنچا۔ انھوں نے اپنی تخلیقات میں رِقّت آمیز پیرائے میں اس دردوغم کا اظہار بھی کیا ہے۔

اقبال متین کی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے ہوا۔ ان کی پہلی نظم ’’کب تلک‘‘ ’سب رس‘ حیدرآباد میں 1942ء میں شائع ہوئی۔ اسی سال ان کی دوسری نظم ’’کیوں ؟‘‘ کے عنوان سے حیدرآباد ہی کے رسالہ ’ارم‘ میں چھپی۔ ان چند نظموں کے کہنے کے بعد اقبال متین نے اپنا رُخ شاعری سے کہانی کی طرف کیا۔ ان کی پہلی کہانی ’’چوڑیاں ‘‘ کے عنوان سے جون 1945ء میں ’ادبِ لطیف‘ لاہور میں شائع ہوئی۔ دوسری کہانی ’’سنہری لکیریں ‘‘ فروری 1946ء میں ’ادبی دنیا‘ میں چھپی۔ تیسری کہانی ’’مرگھٹ‘‘ اور چوتھی کہانی ’’تانبہ اور پانی‘‘ ’ادبِ لطیف‘ اور ’نیادور‘ میں شائع ہوئیں۔ ان ابتدائی کہانیوں کی اشاعت کے بعد کچھ گھریلو الجھنوں اور نجی پریشانیوں کی وجہ سے وہ کچھ برسوں تک خاموش رہے۔ اس خاموشی کے بعد وہ پھر افسانے لکھنے کی طرف ایسے مائل ہوئے کہ وہ افسانے ہی کے ہوکر رہ گئے۔ 1960ء میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’اُجلی پرچھائیاں ‘‘ کے عنوان سے منظرعام پر آیا۔ اس کے بعد ان کے چھ اور افسانوی مجموعے سامنے آئے جن کے نام علی الترتیب یہ ہیں۔ ’’نُچاہواالبم‘‘ (1973ء)، ’’خالی پٹاریوں کا مداری‘‘ (1977ء)، ’’آگہی کے ویرانے‘‘ (1980ء)، ’’مزبلہ‘‘ (1989ء)، ’’میں بھی فسانہ تم بھی کہانی‘‘ (1993ء)، ’’شہرآشوب‘‘ (2003ء)

اقبال متین نے افسانوں کے علاوہ ناولٹ، یادیں اور خاکے بھی لکھے ہیں۔ مضامین بھی سُپردِ قلم کیے ہیں اور شاعری بھی کی ہے۔ ’’چراغِ تہہِ داماں ‘‘ (1976ء) ان کا ناولٹ ہے۔ ’’سوندھی مٹی کے بُت‘‘ (1995ء) ان کے لکھے خاکوں کا مجموعہ ہے۔ ’’باتیں ہماریاں ‘‘ (1998ء) ان کی یادوں پہ مشتمل مجموعہ ہے۔ ’’صریرجاں ‘‘ (2006ء) شعری مجموعہ ہے۔ ’’اعتراف وانحراف‘‘ (2006ء) اور ’’اُجالے جھروکے میں ‘‘ (2008ء) ان کے مضامین کے مجموعے ہیں۔

اقبال متین کی ادبی شخصیت کے مختلف زاویے ہیں۔ انھوں نے اردوادب کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔ ان مختلف ادبی اصناف میں طبع آزمائی نے ان کی شخصیت کو رنگارنگ بنادیا ہے۔ اقبال متین کی شخصیت کے اگرچہ کئی پہلو ہیں مگر ان کی بنیادی شناخت افسانہ نگار کی ہے۔ ان کا افسانوی سفر تقریباََ چھ دہائیوں پر محیط ہے۔ اس طویل عرصہ میں انھوں نے افسانوی ادب کے سرمائے میں گراں قدراضافہ کیا ہے اور بہت سی ایسی خوبصورت اور شاہکار کہانیاں لکھی ہیں جن سے دنیائے افسانہ میں ان کی اپنی منفردومستحکم شناخت قائم ہوئی اور وہ باکمال افسانہ نگاروں میں تسلیم کیے گئے۔

اقبال متین نے اپنی کہانیوں میں حیدرآباد کی زوال پذیر جاگیردارانہ زندگی، اس کے تضاد اور اس کے اقدار، جاگیردار طبقہ کی جھوٹی شان وشوکت اور کھوکھلی رعونت کی حیرت انگیز تصویرکشی کی ہے۔ ’’گرتی دیواریں ‘‘، ’’ملبہ‘‘، ’’کتاب سے کتبہ تک‘‘ اور ’’آدمی اور آدمی‘‘ اس موضوع پر دلچسپ افسانے ہیں۔ ان کے افسانوں کے عام موضوعات  انسانی اقدار کے زوال، انسانوں کی خود غرضی، زندگی سے اخلاقیات کا یکسر غائب ہوجانا، مذہب کے نام پر فرقہ وارانہ منافرت کا زبردست پروپیگنڈا، قتل وغارت گری، شہروں کا تیزی سے بدلتا ہوا کردار، زندگی کے ہر شعبہ پر تصنّع کا ملمّع، دولت کی ہوس میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی دوڑ، آبادی کے ایک بڑے طبقے میں شدید غربت، بوڑھے والدین کو بے یارومددگار چھوڑ کر غیر ملکوں میں بس جانا، پال پوس کر بڑاکرنے والے والدین کے تئیں غیر انسانی بے اعتنائی، دنیا سے انتقال کر جانے والوں کی ناقابل فراموش اور غمگین یادیں وغیرہ ہیں۔ اقبال متین کے افسانوں کو پڑھ کر یہ شدید احساس ہوتا ہے کہ وہ موجودہ حدسے بڑھی ہوئی مادّی تہذیب سے بے حد نالاں ہیں۔ اس مادّی تہذیب کی وجہ سے انسانی واخلاقی قدریں ملیامیٹ ہورہی ہیں۔ افراد بے حس ہورہے ہیں۔ افراد کی طرح ہمارے شہر بھی بے چہرہ اور بے حس ہوچکے ہیں۔ اب ان کی کوئی انفرادی شناخت باقی نہیں رہ گئی ہے۔ اس سنگین صورت حال سے اقبال متین سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ شاید اسی لیے ان کے اکثر مرکزی کردار شدیدترین ذہنی اور دماغی الجھنوں اور مستقل بے خوابی کا شکار نظر آتے ہیں۔

اقبال متین کے افسانے فنّی وتکنیکی اعتبار سے بہت متاثّر کرتے ہیں۔ ان کی کہانیوں میں فنکارانہ اختصار سے کام لیا گیا ہے اور فنّی ہنرمندی کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کہانیاں ساحرانہ فضا پیدا کرنے اور قاری کواپنی طرف متوجّہ کرنے میں خاصی کامیاب ہوئی ہیں۔ ناقدین نے ان کی افسانہ نگاری کو تحسین کی نظروں سے دیکھا ہے اور انھیں اہم افسانہ نگاروں میں تسلیم کیا ہے۔

اقبال متین نے اپنے ناولٹ ’’چراغِ تہہِ داماں ‘‘ میں موجودہ سرمایہ دار مادّی معاشرہ کی عکاسی کی ہے۔ یہاں سماج کے اس رُخ کو بے نقاب کیا گیا ہے کہ عورتوں کے جسم سے تو سب پیار کرتے ہیں مگر ان کی روح کی پرواہ کوئی نہیں کرتا۔ اس ناولٹ کے دو اہم کردار ہیں۔ ماں کوشلیا، اس کا بیٹا شانوجہ۔ کوشلیا اپنی غلطیوں اور حالات کی مجبوریوں کے تحت طوائف بن جاتی ہے۔ وہ اپنے بیٹے شانوجہ کو اس ماحول سے دور رکھنا چاہتی ہے مگر اس کی کوشش رائیگاں جاتی ہے اور شانوجہ ایک کامیاب مرد طوائف کے روپ میں سامنے آتا ہے۔ شانوجہ کوشلیا کا بیٹاہے اور اس کے لیے وہ ایسا چراغ ہے جس کے سہارے وہ زندگی جینا چاہتی ہے مگر جب یہ ٹمٹماتا چراغ بُجھ جاتا ہے تو کوشلیا کی زندگی کی رہی سہی آخری اُمّید بھی ختم ہوجاتی ہے، اسی لیے وہ موت کی آغوش میں چلی جاتی ہے۔ اس ناولٹ میں اقبال متین نے موجودہ معاشرے کے ایک سنگین ترین رُخ کو سامنے لاکر کئی زاویوں سے ہمیں سوچنے پر مجبور کیاہے۔ فنّی اعتبار سے یہ ایک دلچسپ ناولٹ ہے۔

’’سوندھی مٹی کے بت‘‘ میں اقبال متین نے شخصیات اور خاکے کے عنوانوں کے تحت ان ممتاز ہستیوں پر قلم اُٹھایا ہے جن سے عمر کے مختلف حصوں میں ان کا شب وروز کا ساتھ رہا ہے، یا پھر جن سے وہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے بیشتر بلندپایہ ادیب، شاعر اور پُرخلوص دوست ہیں۔ مخدوم محی الدین، سلیمان اریب، شاذتمکنت، ڈاکٹرسیدعبدالمنان اور حسن چشتی پر لکھے خاکہ نما مضامین اور لطیف ساجد، تمکین سرمست، پروفیسریوسف سرمست، راشد آزرؔ، ڈاکٹر غیاث صدیقی اور ابراہیم شفیق پر لکھے خاکے بہت موثر ہیں۔ ان خاکوں میں شخصیات چلتی پھرتی نظرآتی ہیں اور اپنی خوبیوں وخامیوں کے ساتھ اس طرح ہماری نگاہوں کے سامنے آکھڑی ہوتی ہیں کہ ہمارے ذہن ودل میں گھر کر جاتی ہیں۔ اس مجموعہ کے بیشتر خاکے فنّی اعتبار سے اچھے ہیں۔

’’باتیں ہماریاں ‘‘ میں اقبال متین نے ماضی کی خوبصورت یادوں کو دلکش ادبی پیرایہ اظہار عطاکیا ہے۔ یہاں انھوں نے مختلف علمی وادبی، سماجی وسیاسی شخصیات سے وابستہ یادوں کو اس خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے کہ ان یادوں کے آئینہ میں ہمیں ان شخصیات کے اخلاق وکردارکی ایک حسین جھلک نظرآتی ہے۔ ان یادوں میں ہمیں اس بزم کی خوشبو بھی محسوس ہوتی ہے جس میں اقبال متین کی ان شخصیات سے ملاقات ہوئی اور ان کے ساتھ ان کا وقت گزرا۔ یہ یادیں اردوادب کا بیش بہا سرمایہ ہیں۔

 ’’اعتراف وانحراف‘‘ اور ’’اُجالے جھروکے میں ‘‘ اقبال متین نے مختلف ادبی شخصیات اور ان کے فن کو محور بناکر تاثراتی مضامین لکھے ہیں۔ ان مضامین میں ہلکی تنقید کی چاشنی بھی ملتی ہے۔ کہیں کہیں سوانحی اشارے بھی پائے جاتے ہیں۔ ان مضامین میں زیادہ تر شخصیات کے شخصی اوصاف کو ادبی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ادبی اعتبار سے یہ مضامین لائق مطالعہ ہیں۔

اقبال متین نے شاعری بھی کی ہے۔ ان کے شعری مجموعہ’’صریرجاں ‘‘ میں سو غزلیں اور سولہ نظمیں ہیں جو اپنی رعنائی ودلآویزی سے متاثر کرتی ہیں۔ ان کی شاعری عموماََ ان کی ذات کے گرد کردش کرتی نظر آتی ہے۔ شہریار ان کی شاعری کے بارے میں رقم طراز ہیں : ’’اقبال متین کی شاعری کے بارے میں جو باتیں خاص طور سے کہی جاسکتی ہیں وہ یہ ہیں کہ شاعری (1) خاصی Personalیعنی ذاتی ہے (2) غموں میں ڈوبی ہوئی ہے اور (3) زندگی کی تلخی اور ماضی کے عذاب لیے ہونے کے باوجود خاصی مہذب ہے۔ ‘‘ (بحوالہ، اقبال متین سے اُنسیت، مرتب: نورالحسنین، ص، 361) اقبال متین کی شاعری بڑی شاعری کے زمرہ میں اگرچہ نہیں آتی مگر سنجیدہ توجہ کی مستحق ضرور ہے۔

اقبال متین نے مختلف ادبی اصناف میں طبع آزمائی ضرور کی ہے مگر ان کی امتیازی شناخت افسانہ نگار کی ہے۔ افسانہ نگاری کے میدان میں انھوں نے فکری وفنّی مہارت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ ان کا شمار معتبر اور اہم افسانہ نگاروں میں ہونے لگا۔ افسانہ کے میدان میں ان کی گراں قدر خدمات کو دیکھتے ہوئے ان کے بارے میں یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ وہ آزادی کے بعد کے منفرد و ممتاز اور قدآورافسانہ نگار ہیں جن کے ذکر کے بغیر اردوافسانہ کی کوئی بھی تاریخ مکمل نہیں کہی جا سکتی۔

مزید دکھائیں

احمد علی جوہر

ریسرچ اسکالر، ہندوستانی زبانوں کا مرکز جواہرلعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی

متعلقہ

Back to top button
Close