سائنس و ٹکنالوجیشخصیات

آئن سٹائن: تعارف اور حالاتِ زندگی

ادریس آزاد

البرٹ آئن سٹائن، تاریخ ِ انسانی کا سب سے بڑا ماہرِ طبیعات جس نےبابائے فزکس نیوٹن کے پیچھے آنکھیں موند کر دوڑتےچلے جانے والے بڑے بڑے سائنسدانوں کو نہایت سادہ سادہ باتوں کے ذریعے چونکا دیا اور ایسی ایسی کراماتِ علمی کا مظاہرہ کیا کہ دنیائے سائنس بالخصوص دنیائےفزکس یکایک ایک بالکل ہی نئے جہان میں داخل ہوگئیجسے اصطلاح میں ماڈرن فزکس کا جہان کہا جاتاہے۔

ماڈرن فزکس کے بنیادی طور پر دو ستون ہیں۔

نمبر۱ ’’تھیوری آف جنرل ریلٹوٹی‘‘

نمبر۲ ’’کوانٹم فزکس‘‘۔

تھیوری آف جنرل ریلٹوٹی آئن سٹائن نے خود پیش کی  جبکہ کوانٹم فزکس کی پیدائش میں آئن سٹائن کی دریافت ’’ فوٹوالیکٹرک ایفیکٹ ‘‘کا بنیادی ہاتھ ہے۔

آئن سٹائن کی ایک اور بڑی پہچان اُس کا’’ ماس انرجی اِکوئیلنس‘‘ کا نظریہ ہےجو اس کی مساوات ’’اِی اِز اِکوَل ٹُو ایم سی سکوئرڈ‘‘ (E=mc2)  کی صورت دنیابھر میں مشہور ہے۔

اِس نظریہ کی رُو سے مادہ اور توانائی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور اِن کی ایک دوسرے کے ساتھ اَدلہ بدلی کی جاسکتی ہے۔

آئن سٹائن کو ابتدا ہی سے یہ احساس ہوگیا تھا کہ نیوٹن کی فزکس جو میکانیات تھی اور برقی مقناطیسی لہروں کی دریافت کے بعد والی فزکس، جو الیکٹرومیگناٹزم کے نام سے جانی جاتی تھی، دونوں کوایک جیسے قوانین کے تحت سمجھنے کی کوشش کرنا اب مزید کارآمد نہیں تھا۔

چنانچہ اس نے روشنی کی شعاع کا، نیوٹن کی فزکس کے قوانین سے ماورا ہوکر مطالعہ اور مشاہدہ شروع کردیا ۔ اس تفکر نے آئن سٹائن کو’’ خصوصی اِضافیت‘‘ کےعجیب و غریب نظریہ کی تشکیل  کی طرف راغب کیا۔جلد ہی آئن سٹائن کو محسوس ہونے لگا کہ’’ خصوصی اضافیت‘‘ کے حیران کن میدانِ تخیل کو کششِ ثقل تک بھی وسیع کیا جاسکتاہے۔

ایسے ہی کسی خیال میں ایک  روز وہ اپنے آفس میں بیٹھا کھڑکی سے باہر ایک بلندو بالا عمارت کو گھورتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اگر ایک شخص اِس عمارت سے گرے تو وہ کیا محسوس کرے گا؟ کیا وہ اپنے آپ کو گرتاہوا محسوس کرے گا؟

معاً اُسے خیال آیا کہ اگر ہوا کی رگڑ نہ ہو تو وہ شخص اپنے آپ کوگرتاہوا محسوس نہیں کریگا۔ بس پھر کیا تھا۔ آئن سٹائن مارے خوشی کے پاگل ہوگیا۔ بعد میں وہ تمام عمر اِسےاپنی زندگی کے خوشگوارترینخیال کے طور پر یاد کیا کرتا تھا۔1920 میں اُس نے لکھا،

"That was the happiest thought of my life”

دراصل یہی وہ خیال تھا جس کے بعد آئن سٹائن پرگریوٹی کا راز کھل گیااور اس کی سب سے اہم تھیوری، تھیوری آف جنرل ریلٹوٹی وجود میں آئی۔1905  میں آئن سٹائن نے تھیوری آف سپیشل ریلٹوٹی پیش کی جبکہ 1916  میں آئن سٹائن نے تھیوری آف جنرل ریلٹوٹی پیش کی جس کےتین سال بعدیعنی  1919 میں  ایک انگریز ماہرِ طبیعات’’ارتھر ایڈنگٹن‘‘  (Arthur Eddington) نے  نہایت کامیاب عملی تجربہ کے بعداِس تھیوری کی تصدیق کردی۔

1933 میں جب جرمن ڈکٹیٹرایڈولف ہِٹلر برسراقتدار آیا تو ایک یہودی کے طور پر آئن سٹائن کے لیے جرمنی میں رہنا ناممکن ہوگیا کیونکہ ہٹلر اپنی یہود دشمنی کی وجہ سے بدنام تھا۔

چنانچہ آئن سٹائن امریکہ چلا گیا اور واپس نہ آیا حالانکہ وہ ان دِنوں ’’برلن اکیڈمی آف سائنس‘‘ میں پروفیسرتھا۔تب سے آئن سٹائن امریکہ میں ہی مقیم ہوگیا اور 1940  میں اُسے امریکی شہریت بھی مل گئی۔

جنگ ِ عظیم دوم کے آغاز میں آئن سٹائن نے اُس وقت کے امریکی صدر’’فرینکلن ڈی روزویلٹ‘‘ (Franklin D. Roosevelt) کو ایک خط کے ذریعے متنبہ کیا کہ جرمنی ایک نئی قسم کا خطرناک بم بنانے کی کوشش میں کامیاب ہوسکتاہے فلہذا امریکہ کو چاہیے کہ وہ اِس  خاص قسم کا بم بنانے کے لیے ریسرچ میں پہل کردے۔

آئن سٹائن یہودی النسل تھا جبکہ ہٹلر یہودیو ں کا شدید ترین دشمن تھا۔ ہٹلر نے ہزاروں یہودی خاندانوں کو نہایت بے رحمی سے تہِ تیغ کروادیا تھا۔ یقیناً آئن سٹائن کے لیے اپنے ہم مذہبوں کا یہ قتل ِ عام قابلِ برداشت نہ رہا ہوگا اور اُسے بطور انسان ہٹلر پر ضرور غصہ آتاہوگاکیونکہ آئن سٹائن نے اتحادی طاقتوں کی نہ صرف حمایت جاری رکھی بلکہ امریکہ کو دنیا کا سب سے خطرناک ہتھیار یعنی ایٹم بم بنانے میں مدد بھی دی۔

البتہ یہ بات بھی تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ آئن سٹائن نےہمیشہ ایسے خطرناک ہتھیار کے عملی استعمال کی مخالفت کی۔

بعد میں آئن سٹائن نے مشہور فلسفی اور ریاضی دان برٹرینڈ رسل کے ساتھ مل کر ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے جس میں نیوکلیئر ہتھیاروں سے دنیا کو لاحق شدید خطرات کو واضح کیاگیا۔

آئن سٹائن نےاپنی زندگی میں تین سو سے زائد سائنسی مقالے لکھے جبکہ آئن سٹائن کی  ایک سو پچاس غیر سائنسی تحریرات اور کتابیں الگ ہیں:

(1) آئن سٹائن کا بچپن اور ابتدائی تعلیم

آئن سٹائن 14 مارچ 1879 کے روز جرمنی کے شہر اُلم (Ulm)  میں پیدا ہوا۔

آئن سٹائن کے والد کانام’’ہَرمین آئن سٹائن‘‘ (Hermann Einstein)اوروالدہ کانام ’’پاؤلِین کوچ‘‘ (Pauline Koch)تھا۔

آئن سٹائن کے والدایک کاروباری آدمی تھے۔ 1880میں آئن سٹائن کا خاندان جرمنی کے شہر میونخ منتقل ہوگیا جہاں آئن سٹائن کے والد اور چچا نے مل کر ایک کمپنی کاآغاز کیا جس کا نام تھا،’’الیکٹروٹیکنیشے فیبرک جے آئن سٹائن اینڈسی‘‘ (Elektrotechnische Fabrik J. Einstien & Cie)۔یہ ایک بجلی سپلائی کرنے والی کمپنی تھی۔1894 میں ’’ہرمین اور جیکب کی کمپنی‘‘ کو اُس وقت خسارے کا سامنا کرنا پڑا جب وہ ایک کاروباری سودے کے مطابق میونخ شہر کو بجلی سپلائی کرنے میں ناکام رہے۔

اُن کے پاس ’’ڈی سی کرنٹ‘‘ کی بجلی کو ’’اے سی کرنٹ‘‘ کی بجلی میں کنورٹ کرنے کے لیے سرمایہ کم پڑگیا۔ نتیجۃً کمپنی کو ہی بیچنا پڑا۔اتنے بڑے نقصان کے بعد آئن سٹائن کا خاندان میونخ میں مزید قیام نہ کرسکا اور یہ لوگ اٹلی چلے گئے۔ البتہ آئن سٹائن کو میونخ میں ہی، ’’لُوئپولڈ جیمنیزیم‘‘  (Luitpold Gymnasium) میں چھوڑگئے جہاں وہ زیرتعلیم تھا تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرلے۔ لیکن آئن سٹائن وہاں خوش نہیں تھا۔

اس نے بعد میں لکھا،’’سیکھنے کی سچی رُوح اور تخلیقی فکر تو وہیں مر گئی تھی کیونکہ وہاں رٹّے کے ذریعے پڑھانے کو ترجیح دی جاتی تھی‘‘۔1894کے آخرتک آئن سٹائن  نے بھی اپنے سکول سے میڈیکل سرٹیفکیٹ کے ذریعے چھٹی لی اور اٹلی چلا آیا۔

اٹلی میں اس نے پہلا تحقیقی مضمون لکھا، جس کا عنوان تھا، ’’مقناطیسی میدان میں ایتھر کی حالت پر تحقیق‘‘
(On the Investigation of the State of the Ether in a Magnetic Field)

1895 میں آئن سٹائن نے سولہ سال کی عمر میں ’’سوِس فیڈرل پولی ٹیکنیک سول‘‘ میں ثانوی تعلیم کا امتحان دیالیکن وہ فیل ہوگیا اور امتحان کے عمومی معیار پر پورانہ اُترسکا۔

البتہ اِسی امتحان میں اس نے فزکس اور ریاضی میں اچھے نمبرلیے۔چنانچہ’’ سوس فیڈرل پولی ٹیکنیک ‘‘کے پرنسپل کی ہدایت پر آئن سٹائن نے اپنی ثانوی سکول کی تعلیم مکمل کرنے کی غرض سے’’آرگووِیَن کینٹونل سکول‘‘ (Argovian cantonal school)  سوئٹزلینڈ  میں داخلہ لے لیا۔ جہاں وہ 1895 تا 1896زیرِتعلیم رہا۔

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close