شخصیات

بیادِ شہرۂ آفاق سخنوربیکلؔ اُتساہی مرحوم

تاریخ وفات : 3دسمبر2016

احمد علی برقیؔ اعظمی

نہیں رہے بیکلؔ اُتساہی بجھ گئی شمعِ شعرو سخن
اہلِ نظر کو یاد رہے گا اُن کا شعورِ فکروفن
اردو، ہندی اور اودھی میں ان کا ہے پُرکیف کلام
اُن کی نعتوں اور غزلوں میں رواں تھی موجِ گنگ و جمن
اردو کے گلزار سخن میں ذات تھی ان کی مثلِ بہار
سوگ میں اُن کے خزاں دیدہ ہیں برگ و شجر اور سرو و سَمن
نام سے اُن کے وابستہ تھاپدم شری کا بھی اعزاز
اُن کی کمی محسوس کریں گے اُن کے سبھی ابنائے وطن
ہیں اقصائے جہاں میں ان کے چاروں طرف جتنے مداح
سوزِ دروں سے کرتے ہیں محسوس وہ پیہم ایک چُبھن
تھا جو سپہر ادب پہ فروزاں ایک ستارہ ٹوٹ گیا
اُن کلام ہے ایسا درخشاں جیسے ہو روشن دُرِّ عدن
اُن کا ترنم کردیتا تھا محفل میں سب کو مسحور
یاد آتاتھا سن کر برقیؔ جس کو جگرؔ کا طرزِ کُہن

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Back to top button
Close