دیگر نثری اصنافشخصیات

تاج دار تاج کی وفات

شاہ اجمل فاروق ندوی

25؍اگست 2016 کو یہ افسوس ناک خبر ملی کہ منفرد لب و لہجہ کے شاعر حضرت تاج دار تاج اپنے وطن اقامت ممبئی میں وفات پاگئے۔ اناﷲ واناالیہ راجعون۔ ان کا اصل وطن دیوبند تھا۔ عثمانی خاندان کے چشم و چراغ تھے اور دیوبند ہی میں جناب محمد زکریا عثمانی کے ہاں 8؍جولائی 1939 کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کے تین مجموعے شائع ہوئے۔ پہلا مجموعہ ’’زبر‘‘، دوسرا مجموعہ ’’آوارہ پتھر‘‘ اور تیسرا مجموعہ ’’برفیلی زمین کا سورج‘‘ (2016)۔ یہی شعری مجموعے اب ان کی علمی میراث ہیں۔ اب اِن ہی کی روشنی میں تاج صاحب کے فکری و فنی رویے کو سمجھا اور پرکھا جائے گا۔

تاج دار تاج کا نام اپنے گھر میں ہم بچپن سے سنتے چلے آئے تھے۔ چار پانچ سال کی عمر سے ہی ان کی شاعری گنگناتے رہے۔ چوں کہ اس وقت تاج صاحب دیوبند کو چھوڑ کر ممبئی میں مقیم ہوچکے تھے، اس لیے کبھی ان کی زیارت کا موقع ہی نہ ملا۔ وقت آگے بڑھتا رہا۔ تاج صاحب ایک سے زائد مرتبہ دلّی میں ہمارے گھر تشریف لائے، لیکن لکھنؤ میں زیر تعلیم ہونے کی وجہ سے ہم ان کی ملاقات سے محروم رہے۔ البتہ ان سے لگائو، محبت اور ایسی انسیت جو کسی خاندان کے بڑے سے ہوتی ہے، وہ ہمیشہ رہی۔

کچھ ماہ قبل دیوبند میں تاج دار تاج کے تیسرے اور آخری شعری مجموعے ’’برفیلی زمین کا سورج‘‘ کا اجراء بڑے تزک و احتشام کے ساتھ ہونا تھا۔ والد محترم کو بھی اس میں بہ طور خاص شرکت کرنی تھی۔ لیکن وہ اپنے ایک آپریشن کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے۔ اس کے دوچار روز بعدع ہی ہمارا دیوبند جانا ہوا۔ دیوبند پہنچ کر والدمحترم کا حکم ملا کہ ’’تاج دار صاحب دیوبند میں ہی ہیں، اُن سے ملاقات کرو اور شعری مجموعہ بھی لے لو۔ ‘‘ وقت مقررہ پر ہم اُن کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔ تاج صاحب اپنے گھر کے اوپری صحن میں ایک پلنگ پر تشریف فرماتھے۔ بہت خوش ہوئے۔ بار بار دعائیں دیتے رہے۔ کئی بار فرمایا کہ دیکھو یہ بھی بالکل تابش صاحب کا انداز ہے۔ تابش صاحب بھی یہ بات بالکل اسی طرح بولتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ والد محترم سے اُن کی بے پناہ محبت تھی، جو یہ سب باتیں کہلوا رہی تھی۔ وہیں بیٹھے بیٹھے انھوں نے مجھے اپنے گھر کی پوری عمارت کی تاریخ بتائی۔ پچھلے حصے کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ   ’’ تم ابھی اِدھر سے اُترنا۔ یہ وہی حصہ ہے، جس میں مفتی اعظم محمد شفیع عثمانی رہا کرتے تھے۔ ‘‘ اس دوران میرے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بڑی قیمتی بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں تو ہر چھوٹے بڑے شاعر کو اپنا استاد سمجھتا ہوں۔ کسی کے ہاں خامیاں نظر آتی ہیں، تو اُن سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں اور کسی کے ہاں خوبیاں نظر آتی ہیں تو انھیں اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ‘‘ میرا احساس ہے کہ اِس روش نے ہی اُن کی شاعری میں انفرادیت پیدا کی تھی۔ ہرسخن ور اور شعر و ادب کے ہر طالب علم کو یہ روش اختیار کرنی چاہیے۔

اِس دوران انھوں نے بہت صاف الفاظ میں مجھ سے والدمحترم کی شکایت کی کہ وہ میرے مجموعے کے اجراء میں نہیں آئے۔ انھوں نے بتایا کہ مجھ سے کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ’’ تابش صاحب کوئی بیمار ویمار نہیں ہیں۔ جلسے میں موجود کسی مقرر سے ذاتی پرخاش کی وجہ سے وہ نہیں آئے۔ ‘‘ جب میں نے انھیں اسپتال کی رپورٹوں، والد صاحب کی کیفیت اور عیادت کرنے والوں کے نام تفصیل سے بتائے، تو انھیں اطمینان ہوا۔ کئی بار فرمایا کہ اب اطمینان ہوگیا۔ اپنی عظمت کااظہار انھوں نے مجھ سے یہ کہہ کر بھی کیا کہ ’’انھیں بتادینا کہ میرے دل میں اُن کے لیے کچھ کبیدگی اور بدگمانی پیدا ہوگئی تھی۔ میرے بچے بھی کہہ رہے تھے کہ تابش چچا نے ایسا کیوں کیا؟    لیکن یہ بدگمانی اب دور ہوگئی۔ اگر چہ میں نے اُن سے اب تک شکایت نہیں کی تھی، پھر بھی تم اُن سے پوری بات بتا کر میری طرف سے معذرت کرلینا اور کہنا کہ مجھے معاف کردیں۔ ‘‘ وہ تو مجھ سے بھی معافی مانگنے والے تھے، میری لجاجت آمیز گزارش پر خاموش ہوئے اور مجھے شرمندگی سے بچالیا۔ ایسے اعلیٰ ظرف، صاف کردار کے حامل اور وضع دار لوگ اب کہاں رہ گئے ہیں ؟ اُن کی وفات پر شائع ہونے والے مختصر خاکے میں جناب ندیم صدیقی نے بہت صحیح بات لکھی ہے کہ ’’اُن کے بارے میں یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ اُن کی پوری شخصیت نستعلیق تھی۔ وہ گفتگو میں کبھی بلند بانگ نہیں دیکھے گئے۔ دراصل جس شہرسے اُن کا تعلق تھا اور وہاں جن جن اہل علم کی صحبت سے انھوں نے جس طرح فیض اٹھایا، وہ اُن کا حاصل زندگی تھا۔ ‘‘ (اردو نیوز ممبئی، 27؍اگست)

میرے اٹھنے سے پہلے انھوں نے بتایا تھا کہ ابھی تو ہم لوگ ممبئی جارہے ہیں، لیکن بقرعید کے موقعے پر پھر آئیں گے۔ افسوس! کہ اُن کا ارادہ پورا نہ ہوسکا اور وہ بقرعید سے پہلے ہی اِس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

تاج دار تاج کی شاعری پر مخمور سعیدی، قیصر الجعفری، یوسف ناظم، کالی داس گپتا رضا، ڈاکٹر تابش مہدی، شمس رمزی اور  نسیم اختر شاہ قیصر جیسے لوگوں نے تفصیل سے لکھا ہے۔ اس سے اُن کے فکر و فن کا بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ میں نے تو بس تأثراتی طور پر چند باتیں عرض کردیں۔ افسوس کہ زیر کو زبر کرنے والا، آوارہ پتھر کو اعتبار بخشنے والا اور برفیلی زمین میں سورج اگانے والا شاعر ہمارے درمیان سے رخصت ہوگیا۔ اُن ہی کے اس شعر پر اپنی بات ختم کرتا ہوں :

گرمیِ فکر ملی شہرِ غزل کو ہم سے

ہم نے برفیلی زمینوں میں اگایا سورج

مزید دکھائیں

شاہ اجمل فاروق ندوی

انچارج اردو سیکشن انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، نئی دہلی، چیف ایڈیٹر ماہنامہ المؤمنات، لکھنؤ و ایڈیٹر ماہنامہ تسنیم، نئی دہلی

متعلقہ

Close