شخصیات

حضرت مولانا علی میاں ندویؒ : یادوں کے جھروکے سے (دوسری قسط)

محمد شاہد خان ندوی

حضرت مولانا کی شخصیت بڑی سحر انگیز تھی، ایک بار جو ان کی ذات سے وابستہ ہو جاتا وہ پھر پوری زندگی انہی کا ہو کر رہ جاتا، مولانا نے ہندوستان کے کونے کونے سے چن چن کر ندوہ میں اساتذہ کی جو کہکشاں سجائی تھی وہ تا حیات بکھرنے نہیں پائی۔ مولانا عبد اللہ عباس ندوی رحمہ اللہ کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ وہ سعودی عرب کی شہریت پا چکے تھے اور جامعہ ام القری سے ریٹائر ہونے کے بعد حضرت مولانا کی خواہش پر ندوۃ العلماء میں اپنی خدمات انجام دے رہے تھے، اس کے لئے وہ بار بار سعودی عرب سے ہندوستان کا سفر کرتے، بارہا انہیں ویزے وغیرہ کے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا، انہی مسائل سے اکتا کر ایک بار انہوں نے حضرت مولانا سے ہمیشہ کے لئے رخصت لینی چاہی تو مولانا نے فرمایا کہ جب تک میں زندہ ہوں تمہیں آنا ہی پڑےگا، پھر اس کے بعد مولانا عبداللہ عباس صاحب مرحوم اپنی آخری سانس تک ندوہ سے وابستہ رہے، یہی ماجرا حافظ عتیق الرحمن طیبی کا تھا جو ندوہ پریس کے انچارج اور کثیر العیال تھے، ندوہ کی تنخواہ سے گزر بسر مشکل سے ہو پاتی تھی، اتفاق سے ان کے ایک بھائی سعودی عرب میں مقیم تھے، ان کے گھریلو حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے ان کے لئے ویزہ وغیرہ کا بندوبست کر دیا، حافظ صاحب حضرت مولانا سے ملنے گئے اور سعودی عرب جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو مولانا نے فرمایا کہ جب سے تم ندوہ آئے ہو ‘البعث الاسلامی’ کبھی تاخیر سے شائع نہیں ہوا، میری ساری کتابیں بھی وقت پر شائع ہو جاتی ہیں، حافظ عتیق صاحب نے مولانا کی اس خواہش کا احترام کیا اور اپنا ارادہ تبدیل کر دیا، تب سے لے کر اب تک وہ ندوہ سے وابستہ ہیں اور اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
حضرت مولانا کو دلنوازی کا ہنر خوب معلوم تھا، کوئی بھی طالب علم مولانا کی کوئی معمولی خدمت بھی انجام دیتا تو آپ کسی نہ کسی بہانہ سے اس کی دلجوئی ضرور فرماتے، ادنی سے ادنی شخص کو بھی کبھی نظر انداز نہ کرتے اور بڑے سے بڑے آدمی کی ضرورت سے زیادہ توقیر بھی نہیں فرماتےتھے۔

حضرت مولانا کی جگہ اگر کوئی دوسرا شخص عظمت و شہرت کی اس بلندی پر ہوتا کہ اس سے ملاقات کے لئے ہند و بیرون ہند کی سیاسی، سماجی اور علمی شخصیات کا اس طرح تانتا لگا رہتا تھا تو وہ اپنے ارد گرد وی آئی پی کلچر کو فروغ دیتا، لیکن مولانا ان سب نمائشوں سے کوسوں دور تھے، دنیا اپنی وسعتوں کے ساتھ ان کے قدموں میں تھی لیکن انہوں نے سادگی کو پسند کیا، محمد المجذوب نامی ایک عرب اپنی کتاب ‘مشاہداتی فی الہند’ میں لکھتے ہیں کہ جب وہ سیاحت کی غرض سے ہندوستان آئے اور ندوۃ العلماء کی زیارت کے لئے گئے تو حضرت مولانا سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی، وہ مولانا سے ملاقات کرکے انہیں کچھ مال و منال عطیہ کرنا چاہتے تھے لیکن جرأت نہیں ہورہی تھی، آخر انہوں نے مولانا عبداللہ عباس صاحب مرحوم کو وسیلہ بنایا، مولانا عبداللہ عباس صاحب حضرت مولانا علی میاں کی خدمت میں حاضر ہوۓ اور پورا ماجرا سنایا، مولانا نے فرمایا کہ ان سے کہئے کہ میں ان کی طرف سے صرف ایک ریال قبول کروں گا بشرطیکہ وہ میری دعوت قبول فرمائیں۔

حضرت مولانا اپنی مجلسوں اکثر ملک شام کے مشہور محدث شیخ سعید الحلبی کا واقعہ بڑے والہانہ انداز میں بیان فرماتے واقعہ یوں ہے کہ شام کا آمریت پسند باشاہ ابراہیم باشا ایک دن مسجد اموی میں داخل ہوا جہاں شیخ سعید حلبی طلبہ کو درس دینے میں مشغول تھے، اسی وقت ادھر سے ابراہیم پاشا کا گزر ہوا، اتفاق سے اسوقت شیخ اپنا پاؤں پھیلائے ہوئے تھے لیکن ابراہیم باشا کو دیکھ کر نہ ہی شیخ نے اپنا پاؤں سمیٹا اور نہ ہی بیٹھنے کا انداز تبدیل کیا۔ یہ دراصل ایک طرح سے ابراہیم پاشا کے ہیبت وجبروت کو چیلنج تھا، وہ غصہ میں تمتمایا ہوا واپس آیا، ادھر منافقوں کی ٹولی نے اسے گھیرلیا اور شیخ کے خلاف اسے بھڑکانا شروع کردیا یہاں تک کہ اس نے شیخ کو بیڑیوں میں جکڑ کر لانےکا حکم صادر کردیا، ابھی اسکے فوجی اسکےحکم کی تعمیل کیلئے حرکت میں آنے ہی والے تھے کہ اسکے ذہن میں ایک اور خیال آیا، اس نے سوچا کہ اس ترکیب سے وہ ایک تیر سے دوشکار کرسکتا ہے اس طرح شیخ کا عزت واحترام لوگوں کے دلوں سے رخصت ہوجائے گا اور اسے اپنی حکومت کی تئیں عوام سے ایک طرح کی وفاداری حاصل ہوجائے گی چنانچہ اس نے ایک ہزار سونے کے سکوں کے ساتھ اپنے وزیر کو شیخ کی خدمت میں روانہ کیا، اس زمانہ میں یہ ایک خطیر رقم تھی جس کو دیکھ کر کسی کے بھی منھ میں پانی آسکتا تھا، وزیر سکوں کی تھیلی کے ساتھ مسجد پہونچا۔ اس نے دور ہی سے صدا لگائی تاکہ اسکی آواز سب کے کانوں تک پہونچ جائے، اس نے بلند آواز سے کہا کہ بادشاہ سلامت نے آپ کیلئے ایک ہزار سونے کے سکوں کی تھیلی بھیجی ہے تاکہ اسے آپ جہاں ضروری سمجھیں خرچ کریں ۔

شیخ نے وزیر کو شفقت بھری نظروں سے دیکھا اور وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو سنہری الفاظ میں تاریخ کے سینے میں ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوگیا شیخ نے فرمایا : ‘ ان الذي يمد رجله لا يمد يده ‘ کہ جو شخص اپنا پاؤں پھیلاتا ہے وہ ہاتھ نہیں پھیلاتا۔

مزید دکھائیں

محمد شاہد خاں

آپ کاروان اردو قطر کے جنرل سیکریٹری ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف اور مترجم بھی ہیں.

متعلقہ

Back to top button
Close