شخصیاتنظم

حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کے سانحۂ ارتحال پر منظوم تاثرات

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی

ہوگئے رخصت جہاں سے آج سالم قاسمی
مظہرِ حُسنِ عمل تھی جن کی عملی زندگی

ضوفگن تھی اُن کے دم سے محفلِ دارالعلوم
تھے چراغِ قاری طیب کی وہاں وہ روشنی

اہلِ ایماں کررہے تھے جن سے حاصل کسبِ فیض
کررہے ہیں اُن کی وہ محسوس شدت سے کمی

مٹ نہیں سکتے کبھی ان کے نقوشِ جاوداں
کم نہ ہوگا تاقیامت ان کا فیض معنوی

اپنے شاگردوں کے تھے وہ درمیاں ہردلعزیز
اب وہ دیں گے کس کے در پر جا کے اپنی حاضری

ان کی صحبت میں جنھیں ملتا تھا روحانی سکوں
ہو گئی ہے آج غائب ان کے ہونٹوں سے ہنسی

آج مسلم پرسنل لا بورڈ بھی ہے غمزدہ
اُن کے ارشادات کی جو کررہا تھا پیروی

ان کے غم میں ہیں سبھی علماء و فضلاء سوگوار
ہر طرف سوزِ دروں سے چھائی ہے افسردگی

تھے وہ اپنے عہد کے قومی و ملی رہنما
درحقیقت شخصیت تھی ان کی برقیؔ عبقری

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close