شخصیاتطب

حکیم اجمل خان: ایک ہمہ جہت شخصیت

مسیح الملک حکیم اجمل خاں اپنی غیر معمولی طبی خدمات کی وجہ سے ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔ آج انہیں کی وجہ سے طب یونانی زندہ ہے۔

حکیم محمد شیراز

بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ  ہم عصروں کو ان کی عبقریت و صلاحیت کا  انداز نہیں ہو پاتا۔ بعد کے زمانے کے لوگ ان کے کارناموں اور اخلاص سے ان کی شخصیت کی بلندی کا اندازہ کرتے ہیں۔

مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں کی شخصیت اطبائے ہند میں ممتاز اور نمایاں ہے۔ اجمل  خاں نہ صرف نامور طبیب تھے بلکہ ہندوستان کی تحریک آزادی میں بھی آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ حالانکہ انگریزوں نے حکیم اجمل خاں کی طبی لیاقت اور حذاقت کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں ’’قیصر ہند ‘‘ اور’’ حاذق الملک ‘‘ جیسے  ذی وقار اور معزز خطابات سے نوازا تھا۔ لیکن حکیم اجمل خان کی حب الوطنی پر قربان جائیے کہ آپ نے ان خطابات کو واپس کر دیا۔ پھر حکیم صاحب سے متاثر ہو کر ہندوستانی عوام نے انھیں مسیح الملک کا خطاب دیا تھا جو آج تک باقی ہے۔ اور حکیم صاحب کی پہچان ہے۔

حکیم محمد اجمل خان کی پیدائش گیارہ فروری ۱۸۶۸عیسوی  میں دلی کے ایک عالی رتبہ رئیس اور فن طب کی تاریخ میں معروف شریف منزل میں ہوئی۔ محض ؍۵۹ سال کی عمر پا کر اور زندگی کے تقریباً چالیس ملک اور قوم کی خدمت میں لگا کر ؍۲۹ ؍دسمبر ۱۹۲۷ میں رامپور میں انتقال ہوا۔

حکیم اجمل خاں کا خاندان وہی مشہور خاندان  ہے جو تاریخ میں خاندان ِ شریفی کے نام سے منصوب ہے۔

حکیم صاحب نے  اٹھارہ سال کی عمر تک منطق و فلسفہ،  طبیعات، حدیث، تفسیر اور فقہ وغیرہ کی تکمیل کر لی تھی۔

حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ درجہ کے خطاط، ادیب اور صاحب دیوان شاعر تھے۔ اردو فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے۔

علم معانی و ادب و مذہب و زبان پر عبور:

عربی علم و ادب اور معانی میں ان کو کمال حاصل تھا۔ عربی نثر و نظم پر پورا عبور حاصل تھا۔ حکیم صاحب محض عربی داں ہی نہیں تھے بلکہ عربی زبان  میں وہ ایک  قادرالکلام اور فصیح و بلیغ ادیب تھے۔ علوم مذہبی میں حدیث فقہ تفسیر اور کلام وغیرہ سے پوری واقفیت حاصل تھی وہ فقہ حنفی کے قائل اور اسی کے عامل تھے۔ حکیم صاحب تمام بزرگان مذاہب کا احترا  م کرتے تھے۔ انگریزی زبان کی واقفیت اگر چہ محدودد تھی مگر وہ انگریزوں سے  بلا تکلف گفتگو کر لیتے تھے۔

ذوق شعر گوئی:

حکیم صاحب اردو فارسی عربی تینون زبانوں میں شعر کہتے تھے۔ حکیم صاحب کی بعض غزلوں میں ان کا تخلصؔ ’’ حافظ‘‘ پایا جاتا ہے لیکن بعد میں ’’شیدا‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔

نمونہ کلام

درد کو رہنے بھی دے دل میں دوا  ہو جائے گی

موت آئے گی تو اے ہم دم شفا ہو جائے گی

ہو گی جب نالوں کی اپنے زیر  گردوں باز گشت

میرے درد دل کی شہرت جا بجا ہو جائے گی

کوئے جاناں میں اسے ہے سجدہ ریزی کا جو شوق

میری پیشانی رہین نقش پا ہو جائے گی

(حکیم اجمل خان شیداؔ)

طب کی تعلیم:

طب  کی ابتدائی کتب اپنے والد گرامی حکیم محمود خاں صاحب سے اور انتہائی کتب اپنے برادر بزرگ حکیم عبد المجید خاں صاحب سے پڑھی۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ فن  نباضی، مطب اور نسخہ نویسی  جو ایک حکیم کے لیے لازمی تعلیم ہے اپنے والد کے ساتھ اور بعد میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ مطب میں بیٹھ کر حاصل کی۔

حکیم صاحب  کے شوق:

حکیم صاحب کو خدمت خلق اور ذوق مطالعہ کے سوا کوئی دوسرا شوق نہ تھا۔ چوبیس گھنٹے میں سے جب بھی کوئی وقت فرصت ملتا تھا تو پھر کتاب ہی ان کی ہمدم ہوتی تھی۔

حکیم صاحب کا مطب:

حکیم اجمل خاں بنیادی حیثیت سے ایک طبیب تھے۔ انھیں پیشہ طبابت ورثہ میں ملا تھا۔ بمشکل مریضوں کا ہجوم ختم ہوتا تھا۔ اپنے مطب میں حکیم صاحب  کئی کئی مریضوں کو دیکھتے تھے۔ مریض نہ صرف مدراس، بمبئی اور برما جیسے دور درراز مقامات سے آتے تھے بلکہ ایران، عراق، افغانستان اور ترکستان وغیرہ ممالک کے مریض بھی ان کے  مطب میں آتے تھے۔ حکیم  صاحب کے مطب کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ ان کے یہاں مطب میں امیر غریب ہندو مسلمان سب کے ساتھ مساوی حیثیت کا برتاؤ ہوتا تھا۔

حکیم صاحب کی مذہبی روادای:

حکیم صاحب نے  ہندو مسلم اتحاد کے بڑے حامیوں میں سے تھے۔ آپ نےقرولباغ، نئی دہلی میں ایک کالج بنام آیورویدک اور یونانی طبیہ کالج   قائم کیا اور اس کا افتتاح گاندھی جی کے دست سے کروایا۔ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ آپ اس کالج کا نام یونانی اینڈ آیورویدک رکھتے۔ مگر حکیم صاحب کی دور رس نگاہوں نے یہ بات بھانپ لی تھی کہ یونانی کو اگر آیوروید کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا تو مستقبل میں بھی یہ طب ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا۔

نیزایک مجلس میں یوں فرمایا :

’’میں اس بات کو ملک کی   بد قسمتی سے تعبیر کرتا ہوں کہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمانوں کے سب کام علیحدہ علیحدہ ہیں۔ علی گڑھ کالج اور بنارس کالج بھی اس علیحدگی کی مد سے دور نہیں سمجھے جاتے۔ افسوس ہے کہ ملک کی دو بڑی قومیں اپنے تمام کاموں میں علیحدہ علیحدہ راستہ اختیار کریں۔ اس حالت میں کیا آپ کو یہ غنیمت نہیں معلوم ہوتا کہ اس کانفرنس کے غریب اسٹیج  پر یہ دونوں قومیں آیور ویدک اور یونانی طبی علوم کی بقا اور بہتری کا کام مل کر کرنے کے لیے جمع ہوتی ہیں، آپ خیال فرمائیں یہ عمل دیسی طبی  علوم کے لیے کتنا بڑا سود مند اور ملک کے لیے کتنا مفید ہے۔ کیا عجب ہے کہ اس غریب کانفرنس کے مشترک کام کی تقلید دوسرے کاموں میں بھی پیدا ہونے لگے۔ ‘‘

تصانیف:

حکیم محمد اجمل خان کی معروف سیاسی و سماجی زندگی نے ان کو تصنیف و تالیف کا موقع کم دیا۔ تاہم فن طب میں جو کچھ بھی لکھا وہ اہم ہے۔

قیام رامپور کے زمانے میں حکیم صاحب نے متعدد تصانیف لکھیں۔ چونکہ تصنیف و تالیف کا شوق ابتدا ہی سے تھا لہٰذا زمانہ تعلیم ہی میں ایک رسالہ عربی میں ’’القول المرغوب فی الما ٫المشروب‘‘ تحریر کیا۔

۱۸۹۵ سے ۱۸۹۶ میں جب ہندوستان میں طاعون کی وبا پھیلی تو اردو میں ایک محققانہ رسالہ لکھا۔ جس میں طاعون کے تاریخی حالات، اسباب اور علامات درج کئے تھے اورآخر علاج کے طریقے نہایت تفصیل کے تحریر کئے تھے۔ ایک کتاب ’’رسالہ فی ترکیب الادویہ و استخراج اللغات  الطبیہ‘‘ لکھی جس میں مرکبات کی تیاری  اور مفردات کی پہچان کی تفصیل موجود ہے۔

حاذق:

حکیم صاحب کی یہ طبی تصنیف در اصل طب یونانی کا خلاصہ  اور خاندان شریفی کا مکمل دستور العلاج ہے۔

حکیم صاحب نےشرح اسباب کا حاشیہ بھی لکھا تھا۔

حکیم اجمل خان کے کارنامے:

مسیح الملک کی کشادہ ذہنی کا ایک بڑا مظہر  یہ  تھا کہ انھوں نے مغرب سے آنے والی میڈیکل سائنس کو مسترد نہیں کیا تھا بلکہ طب یونانی کی صدیوں قدیم روایتوں  تعلیم و تربیت کی تجدید پر بھی خاص توجہ صرف کی۔

حکیم صاحب نے ایک طرف ملک میں دیسی طبوں کے تحفظ اور ترقی کے لیے ایک بڑی تحریک چلائی اور دوسری طرف انھوں نے انگلستان، فرانس اور دوسرے ممالک کا دور ہ کر کے جدید میڈیکل سائنس کی تعلیم و تحقیق کے معیاری ادارے اور  ان کا طریق کار مطالعہ کیا۔

ہندوستانی دواخانہ :

مسیح الملک نے ہندوستان واپس آنے کےبعد اپنی تمام ترتوجہ طب یونانی کی معیار بندی، ریسرچ اور دوا سازی پر صرف کی۔ حکیم اجمل خان نے   طب یونانی اور آیو روید کا وہ تعلیمی اور تحقیقی ادارہ قائم کیا جسے آج بھی دنیا آیو ویدک اینڈ یونانی طبی کالج کے نام سے جانتی ہے۔ حکیم  اجمل خان نے  ’’ہندوستانی دواخانہ ‘‘کے نام سے دوا سازی کا وہ عظیم الشان ادارہ قائم کیا جو پورے ملک میں لاثانی ہے۔ اس دواخانہ کو ۱۹۰۳ عیسوی میں قائم کیا گیا۔

محکمہ تصنیف و تالیف:

حکیم صاحب نےمحکمہ تالیف کا قیام ۱۹۱۶عیسوی میں قائم کیا۔

طبیہ کالج کا افتتاح:

۱۹۱۶ میں لارڈ ہارڈنگ نے طبیہ کالج کا سنگ بنیا د رکھا۔ اس کے  بعد سے ہی حکیم صاحب نے کالج کی عمارات بنوانی شروع کر دیں۔ یہ عمارت کی تعمیر پانچ چھہ سال میں مکمل ہوئی۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ:

حکیم صاحب دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر ہی نہیں بلکہ بڑی حد تک اس کے اخراجات کے کفیل بھی تھے۔ حکیم اجمل خاں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے  علاوہ مسلم یونیورسٹی ندوۃ العلما٫، دار المصنفیں اعظم گڑھ، نظارۃ المعارف دہلی مسلم ایجوکیشنل کانفرنس وغیرہ کے استحکام  اور ترقی میں ہمیشہ سر گرمی سے حصہ لیتے رہے۔ حکیم صاحب فرماتے تھے کہ قرولباغ طبیہ کالج میری جوانی کی اولاد ہے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میری بڑھاپے کی اولاد ہے۔ حکیم صاحب نے طبیہ کالج قائم کیا۔ اپنی جد و جہد اور اپنے سرمائے سے قائم کیا۔ یہ کالج آج بھی ملک کا بے مثال ادارہ ہے۔

۱۹۶۷ عیسوی میں حکیم اجمل خاں کے یوم پیدائش کے جشن کے صد سالہ کے موقع پرعلی گڑھ یونیورسٹی نے  ان کی عظیم فنی خدمات کے اعتراف میں طبیہ کالج کو ان کے نام سے منصوب کرنے کا فیصلہ کیا۔

حکیم اجمل خاں کا تحقیقی کارنامہ:

حکیم اجمل خاں نے یونانی دوا  اسرول پر کافی کام کیا۔ جو ضغط الدم قوی کی خاص دوا ہے۔

اس میں Alkaloids نکالے.انھوں نے اپنے وقت کے کیمیا داں ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی سے مشہور نباتی دوا اسرول Rauwolfia Serpentina پر تحقیق کروائی۔

یہ دوا نظام دوران خون کے لیے موثر ثابت ہوئی۔ اس میں تین جوہر فعال بنام اجملین، اجملینین اور اجملیسین دوا کے طور پر مفید ثابت ہوئے۔ یہ دوا ہائی بلڈ پریشر میں کافی مفید ہے۔

حکیم صاحب کی زندگی کا سیاسی پہلو:

مسلم لیگ کا قیام حکیم صاحب کی سیاسی زندگی کی پہلی سیڑھی اور آغاز تھا۔ اپنی فنی  اور تعلیمی مصروفیات کے با وجود مسیح الملک نے ملک کی قومی تحریکوں کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ اور ہر اس تحریک کا خیر مقدم کیا جس کا تعلق ہندوستان کی آزادی سے تھا۔

تحریک خلافت ہو یا کانگریس، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جد و جہد ہو یا ندوۃ العلما کی اصلاح و ترقی کی وششیں۔ حکیم صاحب آزاد اور جدید ہندوستان کی تشکیل کے لیے ہر محاذ پر پیش پیش رہے۔ حکیم اجمل خاں ۱۹۲۱ میں  انڈین نیشنل کانگریس کے صدر رہے۔ حکیم صاحب نے ملک کے اتحاد عظیم، انسان دوستی اور فرقہ وارانہ انصاف اور مساوات پر زور دیا اور ہر پلیٹ فارم پر عزت و اعتماد حاصل ہوا۔ حکیم اجمل خاں اپنے زمانے کے رئیس اعظم اور دہلی کے بے تاج بادشاہ کہلائے۔ لیکن ایک لمحہ کے لیے بھی بلا تفریق انسانی خدمت کو نظر انداز نہیں کیا۔

خلاصہ:

غرض کہ مسیح الملک حکیم اجمل خاں اپنی غیر معمولی طبی خدمات کی وجہ سے ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔ آج انہیں کی وجہ سے طب یونانی زندہ ہے۔

ماخذ و حوالہ جات

تاریخ طب و اخلاقیات:حکیم اشہر قدیر

حیات اجمل:حکیم رشید احمد خاں

فرمودات مسیح الملک حکیم اجمل خاں: ڈاکٹر  خاور ہاشمی

ہندوستان کے مشہور اطبا: حکیم حافظ سید حبیب الرحمٰن

ہندوستان کی طبی درسگاہیں:حکیم فخر عالم

مزید دکھائیں

حکیم محمد شیراز

سائنسداں و لکچرر، طبیبہ نا ظمین، پی جی اسکالر شعبہ معالجات، ریجنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسین، کشمیر یونیورسٹی، سری نگر جموں و کشمیر۔

متعلقہ

Back to top button
Close