شخصیاتطب

حکیم افتخار الحق تکمیلی

حکیم افتخار الحق تکمیلی کا شماربیسویں صدی کی ممتاز ترین شخصیات میں سے ہوتا ہے۔

حکیم شمیم ارشاد اعظمی

حکیم افتخارالحق تکمیلی نے شاہ جہان پور کے ایک چودھری خاندان میں ستمبر 1914میں آنکھیں کھولیں۔ ابتدائی تعلیم وتربیت روایت کے مطابق گھر ہی پر ہوئی۔ عربی فارسی اور قرآن مجید کی تعلیم مفتی شہر مولانا سراج الدین احمد ؒ سے حاصل کی۔ درس نظامی کی تکمیل مدرسہ ’ عین العلم ‘ سے ہوئی اور خصوصاًادب و فلسفہ اور ہیئت پرتوجہ فر مائی۔ حکیم صاحب کی ذہانت و ذکاو ت مشہور تھی۔ قوت حافظہ بہت غضب کا تھا۔ طب کی تعلیم حاصل کر نے کے لیے شہر تہذیب و ادب لکھنؤ تشریف لائے اور 1931میں تکمیل الطب کالج میں داخلہ لیا۔ لکھنؤ کے اساتذہ میں حکیم عبد المعید، حکیم احمد حسن، حکیم جلیل احمد انصاری، حکیم منظور احمد، ڈاکٹر راج کشور اور ڈاکٹر عبد الرحمان خاں قابل ذکر ہیں۔ آپ نے طب کی عملی مشق شفاء الملک حکیم عبد الحمید صاحب کے مطب میں رہ کر حاصل کی۔

تکمیل الطب کے تین سالہ نصاب تعلیم مکمل کر لینے کے بعد1934 میں درجہ تبحر یو نانی میں داخلہ لیا۔ اس کا نصاب صرف حمیات قانون اور مبحث بحران تھا۔ فراغت کے بعد بیسلپور ضلع پیلی بھیت میں خالص یو نانی مطب شروع کیا۔ ایک طویل عرصہ گذارنے کے بعدلکھنؤ تشریف لائے اور اپنے لائق فرزند حکیم احتشام الحق قریشی کے ساتھ رہنے لگے۔ زندگی کے آخری وقت تک خدمت لوح و قلم جاری رکھی۔ ایک کمرہ جو مسکن کم لائبریری زیادہ معلوم ہوتا تھا ہمہ آں مطالعہ اور تصنیف وتالیف میں مشغول رہتے تھے۔

حکیم افتخار الحق تکمیلی کا شماربیسویں صدی کی ممتاز ترین شخصیات میں سے ہوتا ہے۔ طب یو نانی کے اندر برسوں کے بعد ایسی شخصیت پیدا ہوئی ہے جس نے نقل و تقلیدسے ہٹ کر اس کے اندر غور و فکر اور تفتیش و تفحیص کے ذریعہ اپنی الگ راہ بنائی ہے۔ حکیم افتخار الحق تکمیلی بچپن سے ہی تلاش و تحقیق کے عادی تھے۔ جیسے جیسے علم و آگہی کا سفر آگے بڑھتا گیا علم و فکر میں پختگی آتی گئی۔ طب کے نشیب و فراز سے واقفیت ہوتی گئی۔ حکیم تکمیلی نے طبی مسائل و نظریات اور اطبا قدیم کی تصانیف کا بالاستیعاب مطالعہ کیا۔ جہاں جہاں آپ کو اطبائے سلف کے نظریات یا طب جدید کے انکشافات میں کوئی نقص نظر آیا اس پرگرفت فرمائی۔ اور اپنے نقطۂ نظر کودلیل کے ساتھ پیش کیا۔

حکیم افتخار الحق تکمیلی اجتہادی فکر کے حامل تھے۔  طب کے پیچیدہ مسائل کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ کر کے قابل فہم بنایا۔ غلط مسائل کی تردید اوران کی اصلاح فر مائی اور اختلافی مسائل میں صحیح اور اعتدال کا راستہ دکھایا۔ بہت ساری غلط فہمیوں کا ازالہ فر مایا۔ جیسا کہ خودلکھتے ہیں۔ ’’ میرے مضامین کی بنیاد فلسفہ اور نظریہ طب ہے۔ میں نے نقل اور تقلید سے اجتناب کیا۔ تنقید، تحقیق اور تنقیح کو ہمیشہ پیش نظر رکھا۔ میں نے ادھورے مسائل کو مکمل کیا، اختلافی مسائل کافیصلہ کیا، غلط فہمیوں کو زائل کر نے کی کوشش کی اور مسائل کی تردید بھی کی اور ان میں طب جدید بھی میرے پیش نظر رہی ہے۔ ثبوت یا دلائل سے ہٹ کر کسی کی حمایت یا مخالفت میں میں نے کوئی بات نہیں کہی ہے۔ ‘‘ مبادیات طب پر آپ کا مطالعہ نہایت وسیع تھا۔ طبی اصولیات پر فکر و تدبر، تحقیق، تنقیح، تفہیم اور مسائل کی توضیح آپ کا خاص مشغلہ تھا۔ آپ نے طبی ادب عالیہ کامطالعہ ارتکاز ذہن اور استحضار فکر کے ساتھ کیا تھا۔ طبی روایت کے ساتھ ساتھ صالح انحراف کو فن کی روح تصور کرتے تھے۔

آپ کا اہم کارنامہ طبی نظریات کی تنقیح ہے۔ آپ نے مزاج انسان بالکل انسان کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا اور اطبا قدیم کے نظریات کی روشنی میں مزاج معتدل سے متعلق صحیح نقطۂ نظر پیش کیا۔ طب یو نانی کے اندر جراثیمی نقطہ نظر کی تردید فر مائی۔ اورجراثیم کے بارے میں آپ نے کافی اہم معلومات طب قدیم اور طب جدید کی روشنی میں پیش کی ہے۔ کچھ لوگوں نے اجسام خبیثہ کو جراثیم کا مترادف سمجھا ہے جس پر آپ نے سخت تنقید لکھی اور اس موضوع پر دو کتابیں سپر د قلم کی ہیں۔ حکیم افتخار الحق تکمیلی اجسام خبیثہ کے بجائے حرارت اور رطوبت کو عفونت کی پیدائش کا سبب مانتے تھے۔ بخارکے بارے میں ان کا خیال تھا کہ یہ اکیلا مرض ہے اور نا قابل تقسیم ہے جو کبھی بالعرض نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ بالذات ہو تا ہے۔ علاج کے سلسلہ میں بھی آپ کا یہ نقطہ نظر بالکل جدا تھا فرماتے تھے کہ سبھی امراض کا مشترک اصول علاج ’ادویہ ہاضم‘ ہیں۔  ماء اللحم کی تنقیح فر مائی اوراس کا صحیح نقطہ نظر پیش کیا۔

حکیم افتخار الحق تکمیلی کے مضامین اور تصانیف میں تحقیق کا عنصر غالب ہے۔ موضوع سے متعلق کتابوں کا وسیع مطالعہ کرتے تھے۔ یہی نہیں بعض بحثوں میں طب قدیم اور طب جدید کے نظریات اور تعلیمات کاتجزیاتی اور تقابلی مطالعہ فرماتے تھے۔ بعض مقامات پر اطبا کے بعض نظریات سے اختلاف کیا ہے لیکن تکمیلی صاحب ہمیشہ اپنے نقطہ نظر کو بہت ہی مدلل طور پر پیش کرتے تھے۔

تصانیف

حکیم افتخار الحق تکمیلی کی کتابوں کا مطالعہ کر نے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتابیں صرف ذوق کی تسکین کی خاطر نہیں لکھی گئی ہیں، بلکہ حکیم تکمیلی کے یہاں اصلاح فکر اور تجدید و تنقیح کا ایک عظیم منصوبہ تھا۔ یہ کتابیں اسی صالح فکر کا نتیجہ ہیں۔ جس موضوع پر قلم اٹھایا ہے اس کا حق ادا کر دیا ہے۔ گرچہ حکیم افتخار الحق تکمیلی کی کتابوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے لیکن یہ اس قدر اہم ہیں کہ سیکڑوں کتابوں پر حاوی ہیں۔

1 – طبی مقالات(1985)

2- ادویہ یو نانیہ (1987)

3-  تشخیصی علامات (1988)

4  – طب قدیم کامبحث مزاج انسان(1994)

5 – جراثیم کا مسئلہ(1999)

6- جراثیم یا عفونتی امراض(2001)

7 – طبی تنقیحات (2017 )

مزید دکھائیں

شمیم ارشاد اعظمی

مضمون نگار الہ آباد میں اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج کے شعبہ علم الادویہ میں ریڈر ہیں۔ طب کی نو کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کے درجنوں وقیع تحقیقی و علمی مضامین قومی اور بین الاقوامی طبی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ آپ کو طب میں مختلف ایوارڈوں سے بھی سرفراز کیا جاچکا ہے۔

متعلقہ

Close