شخصیاتطب

حکیم تبارک کریم تکمیلی: حیات و خدمات

حکیم شمیم ارشاد اعظمی

حکیم تبارک کریم تکمیلی بن مولوی منشی بشارت کریم بہار شریف، محلہ خاص گنج، ڈاکخانہ سوہ سرائے ضلع پٹنہ (نالندہ)میں 1912میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مولوی شفاعت حسین سے ، فارسی مولانا نعمت اللہ اور عربی متوسطات کی تعلیم مدرسہ اسلامیہ بہار شریف میں حاصل کی۔ عربی منتہیات کی تکمیل کے لیے آرہ کے مدرسہ وحیدیہ گئے اور احادیث کی بیشتر کتابیں مولانامحمد شاکر سے پڑھیں۔ حکیم تبارک کریم تکمیلی مزاجاً بہت سادہ تھے، انتہائی بامروت، وضع دار اور خوش اخلاق انسان تھے۔ ذمہ داری نبھانا کوئی آپ سے سیکھے۔ دفتر میں صبح ٹھیک نو بجے آجاتے تھے اور شام تک اسی انہماک و انبساط کے ساتھ کام انجام دیتے تھے۔

عربی و فارسی کی تعلیم کی تکمیل کے بعد 1931میں تکمیل الطب میں داخلہ لیا اور1933 میں طب کی سند فراغت حاصل کی۔ تکمیل طب کے بعد وطن جاکر بہار شریف میں مطب قائم کیا پھر کلکتہ چلے گئے اور شروع شروع میں یہاں ’ کولہو ٹولہ‘ میں مطب شروع کیا بعد میں زکریا اسٹریٹ ایک شاندار مطب قائم کیا اور یہیں نیشنل دواخانہ کولہوٹولہ اسٹریٹ سے شائع ہو نے والے ماہنامہ طبی رسالہ ــ’’ حسن و صحت‘‘ کے1963سے1970تک ادارت کے فرائض انجام دیئے۔ چونکہ آپ کا ذہنی رحجان تصنیف و تالیف کی طرف زیادہ تھا اسی لیے علاج ومعالجہ کے  ساتھ طبی کتابوں کی تصنیف و تراجم کا کام بھی انجام دیتے رہے۔ طبی کتب کے بیشتر تراجم رسالہ’’ حسن و صحت‘‘ کے وساطت سے منظر عام پر آئے۔ فروری 1971 میں لٹریری ریسرچ یو نٹ، تکمیل الطب، لکھنؤ میں تقرر عمل میں آیا۔ اور 1977تک اس یونٹ میں اپنے فرائض بخوبی انجام دیتے رہے۔ وقت کے بہت پابند اور ذمہ دار شخص تھے۔ طب یو نانی سے ان کا تعلق عشق کی حد تک تھا، یہی وجہ تھی طب یو نانی کی ترویج و اشاعت اور اس کے فروغ کے لیے دامے درمے قلمے و سخنے ہمہ آں تیار رہتے تھے۔ طب کی اہم کتب کے ترجمہ اسی عاشقانہ لگاؤ کا نتیجہ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ حکیم تبارک کریم تکمیلی کی علمی فتوحات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ سب سے اہم کارنامہ کتاب الکلیات کے مخطوطہ کو خط نستعلیق میں نقل کر نا اور اس کی تدوین و ترجمہ ہے۔ یہ کام آپ نے لٹریری ریسرچ یونٹ تکمیل الطب ، لکھنؤ میں رہ کر کیا۔ کلیات کا عربی متن اور اردو ترجمہ کونسل سے علاحدہ علاحدہ شائع ہو چکے ہیں۔ اس یونٹ میں آپ کے ذریعہ یا آپ کی زیر نگرانی جو دوسرے کام انجام پائے ہیں ان میں ترجمہ الجامع لمفردات الادویہ و الاغذیہ( جلد اول و دوم)، ترجمہ کتاب العمدہ فی الجراحت( اول ودوم) اور کتاب الابدال قابل ذکر ہیں۔

مضامین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ کتابوں کی بھی فہرست طویل ہے جن میں زیادہ تر ترجمے شامل ہیں۔ آسان نسخے کے نام سے آپ کی ایک مستقل کتاب ہے جو 1970 میں شائع ہوئی ہے۔ اس پر حکومت اتر پردیش نے انعام سے بھی سر فراز فر مایا تھا۔ اس کے علاوہ یو نانی طب میں گھریلو ادویہ اور عام معالجہ کی کتاب میں بھی آپ کا مکمل تعاون رہاہے۔ یہ کتاب سنٹرل کونسل سے 1979 میں شائع ہوئی ہے۔ اس کتابچے کا پہلا مسودہ آپ ہی کا تیار کر دہ ہے۔ حکیم تبارک کریم تکمیلی نے کچھ کتابوں کے مکمل ترجمے کیے ہیں جو شائع بھی ہو چکے ہیں ان کے علاوہ طب کی اہم کتابوں کے جزوی ترجمے بھی کیے ہیں۔ یہ تراجم ماہنامہ ’ حسن و صحت ‘ کلکتہ میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان میں الفصول البقراطیہ کے چند صفحات کا ترجمہ ( ’اقوال بقراط ‘ کے نام سے)، کتاب جالینوس الیٰ اغلوقن (2 صفحات) ، جالینوس کارسالہ قارورہ 12صفحات، دیسقوریدوس کی کتاب الحشائش کا ساڑھے چار صفحات، ربن طبری کی فردوس الحکمت کا 20صفحات، علی بن عباس مجوسی کی کامل الصناعۃ کے چند مقالات کا ترجمہ، محمد بن زکریا رازی کی الحاوی کا چھٹے باب کا ترجمہ بعنوان’ ضعف بصر‘)  18صفحات( اطعمۃ المرضیٰ 11) صفحات(من لا یحضرہ الطبیب کے ابتدائی چند اوراق کا ترجمہ (20صفحات)،  ابو علی سینا کی تصانیف میں ترجمہ معالجات قانون شیخ [امراض کبد و جگر](320صفحات)، الارجوزۃ السینائیہ (2صفحات)، ترجمہ حمیات قانو ن مع شرح قرشی، رسالہ نبضیہ(25صفحات)، ادویہ قلبیہ [ معالجات قانون اور القانون ، جلد دوم کے ادویہ مفردہ سے ادویہ قلبیہ کا منتخب ترجمہ (4صفحات)، رسالہ حفظ الصحت (18 صفحات)، مفردات قانون میں ہندوستانی دوائیں (10صفحات)، رسالہ سکنجبین ( 48صفحات)، قرابادین شیخ بو علی سینا ( 60 صفحات)، دیگر اطبا کی تصانیف کے تراجم میں اسحاق بن حنین کی فروق الا مراض کا ترجمہ (2صفحات)، شرف الدین ایلاقی کی معالجات ایلاقی کا ترجمہ (5 صفحات)،   مو فق الدین ہروی کی کتاب الابنیہ عن حقائق الادویہ (4 صفحات)،  محمد بن منصور جرجانی کی نور العیون (300صفحات)، ابن القف کی کتاب العمدہ فی الجراحت ( 4صفحات)، اخوینی بخاری کی ہدایۃ المتعلمین فی الطب (3صفحات)، محمود بن ضیاء الدین شیرازی کی الحاوی فی علم التداویٰ(6صفحات)، شہاب الدین کی الدُر المنتخبہ فی الادویہ المجربۃ(159صفحات)،  امام جلال الدین سیوطیؒ کی اتمام الدرایہ لقراء النقایہ (9 صفحات)، احمد بن سلیمان کی رجوع الشیخ الیٰ مباہ فی القوۃ الیٰ الباہ (3صفحات)، ابو القاسم زہراوی کی کتاب التصریف لمن عجز عن التالیف ( 36صفحات)شامل ہیں۔

چند تراجم کی تفصیل درج ہے:

1-  الدر المنتخبہ فی الادویہ المجربہ (یہ کتاب ماہنامہ حسن و صحت کلکتہ کے جنوری 1967سے دسمبر 1968میں 24 قسطوں میں شائع ہوا ہے۔ )

2 –  رسالہ سکنجبین ( 48 صفحات پر مشتمل مع متن یہ ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔)

3 – رسالہ نبضیہ (فارسی) [ 25صفحات کا یہ ترجمہ مع متن1971میں شائع ہو چکا ہے۔ )

4  –  رسالہ حفظ الصحۃ ( یہ ترجمہ18مختصر صفحات پر مشتمل ہے اور ماہنامہ حسن و صحت کلکتہ سے بالاقساط جنوری و فروری 1973میں شائع ہوا ہے۔ )

5 –  رسالہ قارورہ ( جالینوس کے اس رسالہ کاترجمہ بھی بارہ صفحات پر مشتمل ہے۔)

6- کتاب اکلیات ( ابن رشد کی مشہور زمانہ کتاب کاترجمہ بھی حکیم تبارک کریم کی مساعی کانتیجہ ہے۔ اس کتاب کی پہلی اشاعت1980 میں ہوئی۔ یہ کتاب سنٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے۔)

7- کتاب الابدال( یہ کتاب بھی سنٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن کے زیر اہتمام پہلی بار1980میں شائع ہوئی ہے۔ اس کے اب تک کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ کونسل سے ہی اس کا انگریزی ایڈیشن بھی شائع ہو اہے۔

مزید دکھائیں

شمیم ارشاد اعظمی

مضمون نگار الہ آباد میں اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج کے شعبہ علم الادویہ میں ریڈر ہیں۔ طب کی نو کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کے درجنوں وقیع تحقیقی و علمی مضامین قومی اور بین الاقوامی طبی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ آپ کو طب میں مختلف ایوارڈوں سے بھی سرفراز کیا جاچکا ہے۔

متعلقہ

Close