شخصیاتطب

حکیم خواجہ رضوان احمد

حکیم شمیم ارشاد اعظمی

حکیم خواجہ رضوان احمد اتر پردیش کے موضع نہٹور ضلع بجنور کے ایک علمی و مذہبی خاندان میں 1906میں تولد ہوئے۔ سب سے پہلے حفظ قرآن کااہتمام کیا گیا۔ اسلامیات اور عربی درسیات کی تکمیل دار العلوم دیوبند سے کی۔ اس کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی سے منشی فاضل، کانپور سے فاضل الہیات، اور رام پور سے فاضل منطق و فلسفہ کے امتحانات پاس کیے۔ 1920میں طبیہ کالج دہلی میں داخلہ لیا اور1924میں امتیازی نمبرات حاصل کر کے گولڈ میڈل و سلور میڈل سے بھی سر فراز کیے گئے۔ اس کے بعد ایک سال تک طبیہ کالج میں اسسٹنٹ ہاؤس فیزیشین کی حیثیت سے کام کیا۔ 26جولائی 1926 کو بحیثیت پروفیسرطبی اسکول پٹنہ سے وابستہ ہوگئے۔ طبی کالج پٹنہ میں تشریح و منافع ا لاعضاء جیسے مضامین آپ سے متعلق تھے۔

 1935 میں حکیم خواجہ رضوان احمد پٹنہ سے دہلی منتقل ہوئے اور مادر علمی طبیہ کالج دہلی سے وابستہ ہوگئے۔ یہاں بھی منافع الاعضاء کی تدریس آپ سے متعلق رہی۔ اپنی صلا حیت، محنت اور کام کی وجہ سے بہت جلد کالج کے مقبول اساتذہ کی فہرست میں شمار ہو نے لگا۔آپ کا شمار حکیم کبیر الدین کے لائق شاگردوں میں ہوتا ہے۔ استاد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ترجمہ نگاری کے ذریعہ طب کی اہم کتابوں کو اردو کے قالب میں منتقل کیے۔ ابتدا میں حکیم خواجہ رضوان احمد نے بعض عربی کتب کے تراجم جن میں شیخ کی قانون بھی ہے حکیم کبیر الدین ؒ کی خواہش پر ترجمہ کیا جو حکیم کبیر الدین کے قائم کردہ ادارہ ’المسیح ‘ سے شائع ہوئی ہیں۔ حکیم خواجہ رضوان احمد کا شمار طب کے مایہ ناز مصنفین و عظیم مترجمین میں کیا جاتا ہے۔ زندگی بھر درس و تدریس اور تصنیف و تالیف سے وابستہ رہے۔

 1947میں تقسیم ملک سے پہلے دہلی میں فسادات کا سلسہ شروع ہو گیا تھا اس میں آپ کے اکلوتے بیٹے رضی احمد نے بھی شہادت پائی۔ بہت صدمہ ہوا۔ یکایک بینائی کمزور ہوگئی۔ چنانچہ تقسیم ملک کے وقت سلہٹ، مشرقی پاکستان پرنسپل ہو کر چلے گئے۔ یہاں آپ نے تقریباً بیس برس درس و تدریس اور پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1967میں سبکدوش ہو کر کراچی منتقل ہوگئے یہاں جامعہ طبیہ شرقیہ میں اعزازی طور سے بھی خدمات انجام دیں۔ آخر8 دسمبر1972 کو اللہ کو پیارے ہوگئے۔

کتابوں کی اشاعت کے لیے ’دار التالیف‘  نامی ایک ادارہ بھی قائم کیا تھا۔  اس ادارہ سے آپ کی قابل قدر کتابیں شائع ہوئیں ہیں۔ پاکستان منتقل ہو جانے کے بعد بھی آپ کی کتابیں ہندوستانی طبیہ کالجز کے نصاب میں شامل رہیں اور آج بھی ان کتابوں سے طبی حلقہ فیض اٹھارہا ہے۔ آپ کا شمار طب کے مشہور مترجمین میں ہو تا ہے اس کے علاوہ آپ کی متعددگراں قدر طبع زاد کتابیں بھی لکھی ہیں۔

تراجم

بڑی بیاض ترجمہ علاج الامراض کی دو جلدیں، ترجمہ موجزالقانون، ترجمہ و شرح کلیات قانون، ترجمہ شرح اسباب و علامات مع حاشیہ شریف خاں، ترجمہ حمیات قانون مع حاشیہ شریف خاں، ترجمہ کلیات نفیسی، میزان الطب، دہلی کاصحیح مطب، دہلی کے صحیح مرکبات، علاج الجراحی، طب قانونی، کتاب السموم، منافع الاعضاء طب کی اہم کتابوں میں شمار کی جاتی ہیں اور آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھی جارہی ہیں۔

مزید دکھائیں

شمیم ارشاد اعظمی

مضمون نگار الہ آباد میں اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج کے شعبہ علم الادویہ میں ریڈر ہیں۔ طب کی نو کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کے درجنوں وقیع تحقیقی و علمی مضامین قومی اور بین الاقوامی طبی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ آپ کو طب میں مختلف ایوارڈوں سے بھی سرفراز کیا جاچکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close