شخصیاتطب

حکیم رام لبھایا: حیات و خدمات

حکیم شمیم ارشاد اعظمی

حکیم رام لبھایا گوسوامی بن گوسائیں ہیرابن جی کا آبائی وطن ڈیرہ بخشیاں، ضلع راول پنڈی (پاکستان) تھا یہیں ا گست1914میں آپ کی ولادت ہوئی۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی اور رہتاس، ضلع جہلم سے ورناکلر امتحان پاس کیا۔ پھر جہلم سے میٹرک کیا۔ ان کا تعلق ایک قدیم طبی خاندان سے تھا۔ سات پشتوں سے آپ کے خاندان کے لوگ مستقل طب کی خدمت انجام دے رہے تھے۔ شروع میں شہر جہلم میں حکیم سندر داس سے تشریح طب، میزان الطب، دارالشفا اور اپنے ماموں حکیم بدھ پوری اور حکیم گرودت سنگھ الگ سے دوسری طبی کتابیں پڑھیں۔ 1937 میں جامعہ طبیہ، دہلی میں داخل ہوئے اور حکیم محمد الیاس، حکیم کبیر الدین اور حکیم فضل الرحمان جیسے عمائدین طب اور صاحب فن اطبا کی زیر نگرانی طب کی تعلیم و تربیت حاصل کی۔ 1941 میں طب کی تعلیم مکمل کر کے فراغت حاصل کی۔ دہلی سے وطن واپس جاکر آبائی وطن گوجر خاں، ضلع راولپنڈی میں مطب شروع کیا۔

1947 میں تقسیم ہندکے بعدترک وطن کرکے دہلی منتقل ہوئے تو آپ کے استاد شفیق حکیم محمد الیاس خاں نے جامعہ طبیہ سے آپ کو منسلک کر لیا۔ ایک سال آیور ویدک اینڈ یو نانی طبی کالج دہلی میں بطور رجسٹرار کام کیا۔ 1948 میں جامعہ طبیہ میں لکچرر مقرر ہوئے اور تیس برس سے زیادہ وہاں درس و تدریس کے فرائض انجام دیے۔ وائس پرنسپل اور پھر پرنسپل کے عہدہ پر فائز رہ کر ستمبر 1978میں سبکدوش ہوئے۔ ان کے بعد حکیم جمیل احمد کا پرنسپل کی حیثیت سے انتخاب عمل میں آیا۔ 1

978سے1982 تک حکیم رام لبھایا ہمدرد طبی کالج میں جز وقتی درس و تدریس سے وابستہ رہے۔ حکیم رام لبھایا کے والد اور دادا دونوں کو رسائن اور کشتہ کا شوق تھا۔ حکیم رام لبھایا کو بھی طبی مضامین میں علم الادویہ سے خاص دلچسپی رہی۔ رسائن، کشتہ سازی اور صیدلہ میں مہارت رکھتے تھے۔ دوائی پودوں کی بڑی پہچان تھی۔ طبی کانفرنس کے اجلاس یا دوسرے موقعوں پر جب باہر سفر میں ہوتے تو پیڑ پودوں کو دیکھ کر رک جاتے تھے۔ رفقا کو ان کے نام، شناخت اور دوائی خواص کے بارے میں بتاتے اور ان کے نمونے حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

تصانیف      

 جامعہ طبیہ میں علم الادویہ کا درس آپ سے متعلق تھا۔ حکیم صاحب نے ادویہ مفردہ پر دو جلدوں میں ’’گوسوامی بیان الادویہ ‘‘کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ یہ کتاب 1978 میں یہ پہلی مرتبہ شائع ہوئی تھی۔ جلد ہی نظر ثانی و اضافہ کے ساتھ اس کا دوسرا ایڈیشن طبع ہوا۔ آپ کی دوسری کتاب’’ دہلی کے منتخب مرکبات ‘‘ہے۔ یہ1979 میں شائع ہوئی تھی۔ حکیم صاحب نے فن تکلیس پر ’’ گوسوامی گلدستہ اکسیر ورسائن ‘‘ کے نام سے بھی ایک کتاب لکھی ہے۔ ا س کتاب میں آپ نے کشتہ سازی پر اپنے تجربات کی روشنی میں قلم اٹھایا ہے۔ یہ کتاب زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوسکی۔ اس کے علاوہ شرح اسباب کا ترجمہ اور اس میں جدید اضافات کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ ان اضافا ت میں خاندا ن شریفی کا مطب اور حکیم محمد الیاس خاں کے معمولات مطب اور بے شمار مجربات تحریر کیے ہیں۔  اس کتاب میں ہر مرض کے انگریزی نام لکھنے کا التزام فر مایاہے۔ یہ کتاب غالباً شائع نہیں ہو سکی ہے۔ گوسوامی بیان الادویہ حصہ اول کے طبع دوم میں مرتب کی حیثیت سے اس کا تذکرہ کیا ہے۔

 گوسوامی فارمیسی کے تحت انھوں نے کچھ خصوصی مرکبات بھی تیار کیے تھے۔ ان میں کشتہ شنگرف، گوسوامی مفرح اعظم، حب وجع المفاصل، اکسیر دق الاطفال، نورانی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔  بلی ماران میں گوسوامی دواخانہ کے نام سے مطب قائم کیا تھایہاں آپ پابندی وقت کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے لیکن کانفرنس کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے بھی دور دراز کا سفر کرتے تھے۔ چونکہ کشتہ سازی میں آپ کو مہارت حاصل تھی اس لیے زیادہ تر امراض کا علاج کشتہ کے ذریعہ ہی کیا کرتے تھے۔ کشتہ نیلا تھوتھا کے ذریعہ سوزاک کا کامیاب علاج کرتے تھے۔ کشتہ گئو دنتی (جسے اسگند ناگوری اور لعاب گھیکوار میں تیار کرتے تھے)ہر قسم کے بخار میں استعمال کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ چونکہ کشتہ کم خوراک میں تیر بہ ہدف تاثیر رکھتا ہے اس لیے عصر حاضر میں اس کی جادوئی تاثیر سے فائدہ اٹھا کر یو نانی طریقہ علاج کو مقبول بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے گوسوامی کتب خانہ کے نام سے ایک لائبریری قائم کی تھی جس میں ان کی کتابوں کے علاوہ دوسرے مصنفین کی طبی کتابیں بھی رہتی تھیں۔

 حکیم رام لبھایا کوطبی سیاست سے شروع سے ہی لگاؤ اور دلچسپی تھی۔ آپ کوطب کی اجتماعی و سیاسی سرگرمیوں سے گہرا تعلق تھا۔ تقسیم سے قبل اپنے وطن میں تنظیمی صلاحیتوں کی وجہ سے وید اینڈ حکیم ایسوسی ایشن پنجاب کے جنرل سکریٹری منتخب ہوئے۔ بعد میں یہ تنظیم پنجاب طبی کانفرنس میں مدغم ہوئی توآپ ضلع راولپنڈی کے جنرل سکریٹری مقرر ہوئے۔ تقسیم کے بعد جب1952 میں آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کا قیام عمل میں آیا تو وہ مجلس عاملہ کے رکن بنائے گئے۔ پابندی سے کانفرنس کے سالانہ اجلاس اور مجلس عاملہ کی نشستوں میں شرکت کرتے تھے۔ کانفرنس سے ان کی وابستگی بحیثیت رکن ورکنگ کمیٹی آخر تک قائم رہی۔ آپ برسوں یونانی طبی کانفرنس، صوبہ دہلی کے جنرل سکریٹری رہے۔ پانچ بار بورڈ آف آیورویدک اینڈ یونانی سسٹم آف میڈیسن، دہلی کے منتخب مممبر رہے۔

دہلی کی شہری زندگی میں نمایاں مقام تھا۔ مختلف مذہبی اور سیاسی انجمنوں کے رکن اور عہدہ دار تھے۔ بڑے خلیق اور وضعدار انسان تھے۔ طبیعت میں ظرافت تھی، جس کا اظہار خاص مواقع پر ہی ہوتا تھا۔ ضیافت کے بہانے ڈھونڈھتے تھے اور دل کھول کر خرچ کرتے تھے۔ مذہب سے گہرا تعلق تھا۔ تقریباً ہرسال ویشنو دیوی کے درشن کے لیے جاتے تھے اور مذہبی امور میں دلچسپی لیتے تھے۔ 8جنوری 1985 کو ایسٹ پنجابی باغ، دہلی میں وفات ہوئی۔

مزید دکھائیں

شمیم ارشاد اعظمی

مضمون نگار الہ آباد میں اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج کے شعبہ علم الادویہ میں ریڈر ہیں۔ طب کی نو کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کے درجنوں وقیع تحقیقی و علمی مضامین قومی اور بین الاقوامی طبی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ آپ کو طب میں مختلف ایوارڈوں سے بھی سرفراز کیا جاچکا ہے۔

متعلقہ

Close