شخصیاتطب

حکیم عبد الاحد: حیات وخدمات

 دواسازی اور شناخت ادویہ میں آپ کوکمال حاصل تھا۔ ادویہ کی کاشت اپنی نگرانی میں کراتے تھے۔

حکیم شمیم ارشاد اعظمی

حکیم عبد الاحد کا شمار طب یونانی کی متحرک اور فعال شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ مختلف سر کاری و غیر سرکاری کمیٹیوں کے ممبر رہے۔ مختلف انجمنوں اور ادارہ جات سے وابستہ رہے۔ بہار میں طبی تحریکوں کے روح رواں رہے۔ آپ کے دم سے بہار کی طبی تحریکات میں رونق تھی۔ درس و تدریس کے علاوہ آپ کی خدمات بہت ہی متنوع ہیں۔  دواسازی اور شناخت ادویہ میں آپ کوکمال حاصل تھا۔ ادویہ کی کاشت اپنی نگرانی میں کراتے تھے۔

حکیم عبد الاحد ولد حاجی عبد الحمید19فروری 1912 کو موضع شرف الدین پور بہٹہ، ضلع پٹنہ میں تولّد ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی اس کے بعدپٹنہ کے مشہور و معروف اسلامی ادارہ مدرسہ شمس الہدی، پٹنہ میں داخل ہوئے۔ اور بورڈ سے عالم کا امتحان اعزازی نمبروں سے کامیاب ہوکر میرٹ اسکا لر سے سرفراز ہوئے۔ طب کی تعلیم آیورویدک اینڈ یونانی طبی کالج دہلی سے حاصل کی۔ 1937میں امتیازی نمبروں سے پاس ہوکر طب کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد ہاؤس فزیشین کی خدمات بھی اسی کالج میں انجام دیں۔  1938میں دہلی سے پٹنہ واپس ہوئے اور یہیں پر مطب کا شاندار آغاز کیا۔ 3اگست 1941 میں پروفیسر کی حیثیت سے طبی کالج پٹنہ سے منسلک ہوگئے۔ 7ستمبر1951میں سینیئر پروفیسرہوئے۔ اپنی ذہانت و قابلیت کی بنیاد پر 27اکتوبر1951میں بہار انڈیجینس میڈیسن کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور طبی کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ 1951 سے1970تک بہار اسٹیٹ فیکلٹی اور اسٹیٹ کونسل آف آیورویدک اینڈ یونانی میڈیسن بہار کے ممبر رہے۔

 1953میں اجمل خاں طبیہ کالج علیگڈھ مسلم یونیورسٹی،  علیگڈھ کے سلبس کمیٹی کے بھی ممبر رہے۔1957میں اسٹیٹ بورڈ اینڈ فیکلٹیز آف انڈین میڈیسن کی ایکزیٹیو کمیٹی کے ممبر منتخب ہوئے نیز 1966 تا 1970کے دوران اس بورڈ کے نائب صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی ہیں۔  1957میں محکمہ صحت بہار کے ذریعہ قائم شدہ یو نانی فارما کوپیا کے ممبر سکریٹری منتخب ہوئے۔ 1963میں ڈپٹی ڈائریکٹر اینڈانڈیجینس میڈیسن بہار کے عہدہ عظیم پر بھی فائز رہے۔ 19فروری 1970میں گورنمنٹ طبی کالج سے پرنسپل اور ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے۔ 1974سے 1978تک سی سی آر آئی ایم ایچ دہلی کے ممبر اور ایڈوائزری بورڈ برائے یونانی کے چیر مین بھی رہے۔ اس کے علاوہ سنٹرل کونسل فار ریسرچ ان یو نانی میڈیسن، دہلی کی گورننگ باڈی اور سائنٹفک ایڈوائزری کمیٹی ووزارت صحت کے حکم نامہ بحوالہ نمبرایف 68/1/10 آر آئی ایس ایم بتاریخ19اگست 1968،  نیشل فارموکوپیا آف یونانی میڈیسن کے بھی ممبر رہ چکے ہیں۔

آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کے بہت ہی فعال رکن تھے۔ کانفرنس کے اجلاس میں دور دراز کا سفر کر کے شرکت فر ماتے تھے۔ 1957 میں آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس،  برہان پور کی قائم کردہ کری کولم کمیٹی کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1958 میں آل انڈیا یو نانی طبی کانفرنس ، دہلی کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر بنائے گئے۔ آپ کے پاس کانفرنس کی تمام رپوٹ اور روئیداد موجو د تھیں۔

علاج و معالجہ سے آپ کو خاص دلچسپی تھی۔ آپ کے مجربات کو حکیم محمد اسرار الحق نے افادۂ عام کی غرض سے تاریخ اطبا ء بہار کی جلد دوم میں نقل کیاہے۔ کم اجزاء پر مشتمل یہ نسخے بہت ہی مفید اور کارآمد معلوم ہوتے ہیں۔

مزید دکھائیں

شمیم ارشاد اعظمی

مضمون نگار الہ آباد میں اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج کے شعبہ علم الادویہ میں ریڈر ہیں۔ طب کی نو کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کے درجنوں وقیع تحقیقی و علمی مضامین قومی اور بین الاقوامی طبی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ آپ کو طب میں مختلف ایوارڈوں سے بھی سرفراز کیا جاچکا ہے۔

متعلقہ

Close