شخصیاتطب

حکیم عزیز الرحمن اعظمی: حیات وخدمات

حکیم عزیز الرحمن صاحب کی زندگی بہت ہی سادہ تھی۔ آپ بہت ہی نیک، مخلص اور ملنسار تھے۔

شمیم ارشاد اعظمی

راقم نے اپنی کتاب ’اطباء اعظم گڑھ ‘ کے مواد کے سلسلہ میں اعظم گڑھ و اطراف کے مختلف علاقوں کا سفر کیا اور متعدد لوگوں سے ملاقاتیں کی۔ ان ملاقاتوں میں ایک اہم ملاقات حکیم عزیز الرحمن اعظمی صاحب  سے بھی رہی۔ راقم صبح صبح مؤ ناتھ بھنجن حکیم صاحب کے دولت کدہ پر  پہونچ گیا۔ حکیم صاحب نے جس محبت اور شفقت کا مظاہرہ کیا وہ آج تک قلب شمیم پر مرتسم ہے۔ اس ملاقات میں خاص طور سے حکیم صاحب کی حیات و خدمات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ دوران گفتگو طب کے علاوہ  دینی، ادبی، سماجی  اور تعلیمی مسائل پر بھی بات ہوتی رہی۔ آپ نے اپنے خاندان، تعلیم و تدریس اور تصنیف و تراجم سے متعلق جو باتیں بتائیں انہیں اس مضمون میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔

آپ کا خاندان اصلاً امروہہ کا رہنے والا تھا جو کسی حکمراں کے عتاب کا شکار ہوکر نقل مکانی کر کے دریائے ٹونس کے کنارے آکر آباد ہوا جس کو اب بختاور گنج کہتے ہیں۔ حکیم موصوف کا خاندان یہاں سے منتقل ہو کر محلہ اللہ داد پور مئو آگیا اور اب یہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ آپ کا خاندان اگیارہ پستوں سے علما، صلحا، شیوخ اور اطبا کاخاندان رہا ہے۔ آپ کے لکڑ دادا مولانا حکیم منیرالدین صاحب حکیم اجمل خان کے دادا حکیم صادق دہلوی کے شاگرد تھے۔ آپ کے والد مولانا محمد ایوب صاحب دیوبند کے فاضل تھے اور مدرسہ عالیہ کلکتہ کے صدر مدرس رہے اور ترک موالات کے زمانہ میں مدرسہ سے علاحدہ ہو گئے۔ اس کے بعد مفتا ح العلوم اور ندوۃ العلماء میں شیخ الحدیث رہے۔ اس کے بعد آپ تعلیم الدین ڈابھیل کے صدر مدرس ہوئے اور ۲۲؍ سال خدمت کر کے ۱۹۸۴ء؁ میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔

عزیز الرحمن صاحب ۲۲؍ جمادی الثانی ۱۳۳۶ھ بمطابق ۱۹۱۸ء کو محلہ اللہ داد پور مئو میں پیدا ہوئے۔ آپ کی بیشتر تعلیم مئو بالخصو ص ’مفتاح العلوم ‘ میں ہوئی۔ آپ کے والد محترم اس مدرسہ میں اعلیٰ درجات میں مدرس تھے اور اس مدرسہ کی تعمیر وترقی میں اہم رول ادا کیا تھا۔ آپ کے اساتذہ میں عالمی شہرت یافتہ محدث کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمیؒ (پیدائش:۱۳۱۹ھ بمطابق۱۹۰۱ء۔ وفات: ۱۴۱۲ھ بمطابق ۱۹۹۲ء) نیز مولانا عبد اللطیف نعمانی مؤی ؒ ؒ (پیدائش:۱۳۲۰ھ بمطابق۱۹۰۲ء۔ وفات: ۱۳۹۲ھ بمطابق۱۹۷۳ء) جیسے اہل علم و فضل کا نام شامل ہے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے دیو بند کا سفر کیا۔ ۱۹۳۸ء؁ میں آپ نے دیو بند سے فضیلت کی سند حاصل کی۔ یہاں آپ کے اساتذہ کرام میں شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد حسین مدنی ؒ (پیدائش:۱۲۹۵ھ بمطابق۱۸۷۹ء۔ وفات:۱۳۷۷ھ بمطابق۱۹۵۷ء)، اور شیخ الادب و الفقہ حضرت مولانا محمد اعزاز علی امروہویؒ  ؒ (پیدائش:۱۳۰۰ھ بمطابق۱۸۸۳ء۔ وفات:۱۳۷۲ھ بمطابق ۱۹۵۲ء) اور علامہ محمد ابراہیم بلیاوی ؒؒ (پیدائش:۱۳۰۴ھ بمطابق۱۸۸۶ء۔ وفات: ۱۳۷۲ھ بمطابق۱۹۶۷ء)وغیرہ جیسے داعیان اسلام ہیں۔ دارالعلوم سے فراغت کے بعد آپ نے ۱۹۴۴ء میں مئو کے D.A.V کالج سے بی۔ اے کا امتحان پاس کر کے عصری علوم میں بھی مہارت حاصل کر لی۔ اس کے بعد مدرسہ رسڑا (بلیا )میں صدر مدرس ہو گئے، مگر اپنے پیر ومرشد حضرت وصی اللہ فتحپوری اعظمی ؒ (پیدائش:۱۳۱۲ھ بمطابق۱۸۹۵ء وفات ۱۱۳۸۷ھ بمطابق ۱۹۶۷ء) کے مشورہ سے آپ نے ۱۹۶۲ء؁ میں فاضل طب کیا اور اس کے بعد طب کی طرف راغب ہو گئے۔ جامعہ طبیہ دار العلوم دیوبند کے قیام کے دو سال بعد شاہ صاحب کو معلوم ہوا کہ جامعہ طبیہ میں اچھے اساتذہ کی ضرورت ہے۔ چنانچہ شاہؒ صاحب نے حکیم صاحب کو حکم فرمایا کہ آپ وہاں تدریسی خدمات کے لئے درخواست دے دیں۔ حکیم صاحب پس وپیش کیا مگر شاہ صاحب نے فرمایا کہ تم درخواست دو، مجھے یقین ہے کہ تم مشکل سے مشکل مضامین دیگر اساتذہ سے اچھا پڑھاؤ گے۔ چنانچہ حکیم صاحب نے درخواست دے دی  اورآپ کا وہاں تقرر ہوگیا۔ جامعہ طبیہ دارالعلوم دیوبندمیں آپ ایک اچھے استاد کی حیثیت سے مقبول ہو ئے۔ جامعہ طبیہ کے پرنسپل حکیم محمد عمر صاحب نے۹؍ذی الحجہ ۱۸۳۲ھ کو دفتر اہتمام کو انٹر یو کی جو رپوٹ پیش کی حکیم صاحب کی صلاحیت اور قابلیت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ رپوٹ ملاحظہ ہو:

’’جو اطباء انٹریو میں شریک تھے، ان میں سے مولوی حکیم عزیز الرحمن صاحب ہیں ، جو الہ ٰباد  سے آئے تھے، دین دار اور قابلیت کے اعتبار سے اچھے معلوم ہو تے ہیں ، جناب والا (حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب، مہتمم دارالعلوم دیوبند)نیز حضرت علامہ (علامہ محمد ابراہیم بلیاویؒ) نے بھی ان کو پسند فرمایا تھا۔ )

اس کے بعد حکیم صاحب کو دفتر اہتمام کی طرف  ۲۰؍ذی الحجہ ۱۳۸۲ھ کو ایک خط بھیج کر جامعہ طبیہ دار العلوم دیوبند کے عربی طبی نصاب کی کتاب کوپڑھانے کے بارے میں استفسار کیا گیا۔ واضح رہے کہ اس زمانہ میں یہاں قانونچہ، سدیدی فن ثانی، شرح اسباب مکمل، نفیسی کلیات، ، قانون شیخ کلیات، کامل الصناعہ مقالہ ثانی و ثلاثہ و تاسعہ۔ حکیم عزیز الرحمن اعظمی صاحب نے اس استفسار کے جواب میں جو مکتوب ارسال فرمایااس سے آپ کی علمی پختگی اورخود اعتمادی کا اظہار ہوتا ہے۔ حکیم ؒ صاحب لکھتے ہیں۔ بطول بقائہ۔۔ ۔ ۔ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و بر کاتہ

’’ ذو المجد و الکرام! متّعنااللہ بطول بقائہ۔۔ ۔ ۔ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و بر کاتہ۔ گرامی نامہ مؤرخہ ۲۰؍۱۲؍۱۳۸۲ھشرف صدور لایا، سوالات مندرجہمکتوب گرامی کے جواب میں گزارش ہے بعون اللہ تعالی میں جناب کے طبیہ کالج کے جملہ مضامین و فنون پڑھانے کی پوری قدرت رکھتا ہوں۔ اگر طلبا عربی زبان میں چاہیں تو عربی میں بھی باحسن وجوہ تقریرکر سکتا ہوں اور اگر فارسی واردو میں چاہیں تو ان دونوں زبانوں میں اہل زبان کی طرح تعلیم و تقریر کر سکتا ہوں۔ نسخہ نویسی و طب جدید کے مضامین خواہ وہ عربی زبان میں ہی کیو ں نہ ہوں ، نہایت آسانی سے سمجھنے اور سمجھانے کی قدرت رکھتاہوں۔ الحمدللہ کہ اس سلسلہ میں کسی اعانت و رہنمائی کا محتاج ثابت نہ ہوسکوں گا۔

عزیز الرحمن

۲۲؍۵؍۱۹۶۳ء

چنانچہ اس کے بعد دفتر اہتمام کی طرف سے آپ کو دارالعلوم میں آنے کو کہا گیا۔ حکیم صاحب ۱۳؍محرم ۱۹۸۳ھ کو دار العلوم میں حاضر ہوئے اور جامعہ طبیہ میں اپنی جوائننگ کی درخواست ان الفاظ میں دی۔ ملاحظہ ہو۔

گرامی مرتبت مہتمم صاحب دار العلوم دیوبند۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

حسب الحکم ۲۵؍۵؍۱۹۶۳ء آج بہ تاریخ ۶؍جون ۱۹۶۳ء حاضر ہورہاہوں۔ مجھ سے جو خدمات متعلق ہیں ان کی تفویض کا حکم صادر فر مادیجئے۔ ممنون کرم ہوں گا۔ عزیز الرحمن، پنج شنبہ ۱۳، محرم ۱۳۸۳ھ درخواست بالا کے بعد مہتمم دار العلوم دیوبند حضرت مولانا قاری محمد طبیب صاحبؒ نے حکیم موصوف کاتقرر فر ماتے ہوئے لکھتے ہیں۔

’’ حکیم عبد الکریم صاحب کے استعفا دے کر چلے جانے سے ادارہ طبیہ کالج کی تدریس میں جو خلا واقع ہوگیاتھا اس کے جلد سے جلد پُر کر نے کی ضرورت تھی ورنہ تعلیم کا نقصان تھا اور آغاز سال میں یہ نقصان ناقابل تلافی ہوتا۔ اس لئے جناب مولوی حکیم عزیز الرحمن کو اس خدمت کے لئے بلایاگیا۔ ممدوح انٹریومیں شریک تھے۔ ان کی صفات کو قابل اعتماد سمجھا گیا تھالہذا ممدوح کو تقرر جامعہ طبیہ میں کیا جاتا ہے۔ ‘‘محمد طیب، ۱۸؍۱۳۸۳ھ

اس طرح حکیم عزیز الرحمن اعظمی صاحب نے جون ۱۹۶۳ء؁ سے جامعہ طبیہ دیوبندمیں طبی درس و تدریس کا آغاز کیا اور ۲۶ برس تک مسلسل پورے انہماک اور ذمہ داری کے سا تھ جامعہ طبیہ میں طب کے مختلف مضامین  بڑے ہی کامیابی کے ساتھ پڑھاتے رہے۔ طلبا اور رفقاء آپ کی صلاحیت سے بہت متاثر تھے۔ جامعہ طبیہ دار العلوم کا اسٹاف بہت ہی کم اساتذہ پر مشتمل تھا جن میں حکیم ایوب علی قاسمی (جو بعد میں اجمل خاں طبیہ کالج مسلم یو نیورسٹی علیگڈھ میں لکچرر ہوگئے تھے اور ریڈر کی پوسٹ سے ریٹائر ہوئے ) اورحکیم شمیم احمد سعیدی صاحبؒ  سے آپ کے مراسم بہت ہی اچھے تھے۔ جب۱۰؍مارچ ۱۹۸۶ء میں دار العلوم کی انتظامیہ نے بعض ناگزیروجوہ کی بنیاد پر جامعہ طبیہ کو بند کر نے کا فیصلہ کیاتوجامعہ طبیہ کے اساتذہ کو ان کی صلاحیت اور ذوق طبع کے مطابق دار العلوم کے مختلف شعبہ جات میں منتقل کر دیا۔ حکیم سید نفیس احمد اور حکیم شمیم احمد سعیدی صاحبان کو دار العلوم کے ہاسپیٹل سے متعلق کر دیا گیا، حکیم عبد الحمید صاحب کو لائبریری کا ناظم بنادیا گیا اور حکیم عزیز الرحمن صاحب کی خدمات شیخ الہند اکیڈمی سے متعلق ہو گئیں اور یہیں سے اکتوبر ۱۹۸۸ء مطابق ربیع الاوّل ۱۴۰۹ھ میں دار العلوم سے سبکدوش ہوئے۔ اس وقت دار العلوم نے آپ کے لئے ۴۰۰ روپیہ ماہانہ وظیفہ مقرر کر رکھا تھا جو تاحیات ملتا رہا۔ آخر وقت میں یہ وظیفہ بڑھ کر سات سو روپئے سے بھی کچھ زائد ہو گیا تھا۔ آج بھی حکیم سید نفیس احمد عظمت ہاسپیٹل دارالعلوم دیوبند میں بحییثیت طبیب خدمت انجام دے رہے ہیں اور حکیم عبد الحمید صاحب لائبریری دارالعلوم دیوبند کے ناظم ہیں۔

حکیم عزیز الرحمن صاحب کی زندگی بہت ہی سادہ تھی۔ آپ بہت ہی نیک، مخلص اور ملنسار تھے۔ عمران قاسمی ایک مضمون میں حکیم شمیم احمد سعیدی صاحب کا ایک واقعہ نقل کیا ہے جس سے حکیم عزیز الرحمن اعظمی صاحب کی سادہ لوحی کو اچھی طرح سے سمجھا جا سکتا ہے۔ شمیم احمد سعیدی صاحب فرماتے تھے۔ ’’ حکیم محمد عمر صاحب اور حکیم عزیز الرحمن صاحب میں کسی معاملہ پر تلخی پیدا ہوگئی، حکیم محمد عمر صاحب پرنسپل  تھے انہوں نے پرنسپل ہونے کی حیثیت سے اہتمام میں داخل کرنے کے لئے جو سالانہ رپورٹ مرتب کی تواس میں حکیم عزیز الرحمن صاحب کی کارگردگی پر عدم اطمینان کا اظہار تھا وہ ہمارے گروپ کے آدمی تھے، ہمیں بڑی تشویش ہوئی، کیونکہ ان کی ترقی بھی رک سکتی تھی اور اگر شوریٰ اس پر زیادہ دھیان دیتی تو ملازمت پر بھی حرف آسکتا تھا۔ جب حکیم عزیز الرحمن صاحب کے سامنے اس کا ذکر آیا تو انہوں نے تو یہ کہہ دیا کہ بھئی جو اللہ کو منظور ہوگا ہو جائے گا میں پرنسپل صاحب سے کچھ نہیں کہوں گا، ہم نے اپنے ذرائع سے پرنسپل صاحب کو ہموار کرنا چاہا تو انہوں نے صاف انکار کردیا، اب ہمارے سامنے کوئی راستہ نہیں تھا۔ ڈاکٹر شمیم احمد سعیدی مرحوم فرماتے تھے کہ بھئی میرے ذہن میں ایک پلان آیا مگر اس میں جھوٹ بولنا پڑتا تھا لیکن میں نے سوچا اگر مجھ کو اپنے ایک نیک ساتھی کو اس کا حق دلانے کے لئے ایک جھوٹ بھی بولنا پڑے تو میں اس سے بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ ہم نے ایک آدمی کے سامنے جو حکیم محمد عمر صاحب کا خاص تھا یہ خبر پھیلادی کہ حضرت علامہ محمد ابراہیم بلیاویؒ (جو اس وقت دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین تھے اور دارالعلوم کے مہتمم صاحب اور تقریباً تمام ہی شوریٰ کے ممبران کے استاذ تھے ان کے سامنے کسی کی بولنے کی ہمت نہ ہوتی تھی) حکیم محمد عمر صاحب کی کسی بات سے ناراض ہیں اور شوریٰ میں ان کے خلاف رپورٹ کرنے والے ہیں جیسے ہی حکیم محمد عمر صاحب کے سامنے یہ خبر پہنچی تو ان کے ہو ش اڑ گئے اور وہ لگے بھاگ دوڑ کرنے کہ کسی طرح حقیقت کا پتہ لگایا جائے اور اگر اس میں کوئی صداقت ہو تو اس کے تدارک کی کوئی سبیل کی جائے۔ حکیم عزیز الرحمن صاحب، علامہ بلیاویؒ کے خاص خادم تھے، حضرت کے خطوط کے جوابات وہی لکھتے تھے اور حضرت ہی کے مکان پر رہتے تھے۔ ایک دم حکیم صاحب کا دماغ گھوما کہ ایک تو علامہ بلیاوی ؒویسے ہی میرے خلاف شوریٰ میں بولنے والے ہیں ان کی رائے کو کوئی کاٹ نہیں سکتا اور اوپر سے جب ان کے سامنے یہ رپورٹ جائے گی جس میں ان کے خاص خادم کے خلاف رپورٹنگ کی گئی ہے تو وہ اور بھڑک جائیں گے۔ فوراً حکیم محمد عمر صاحب نے رپورٹ تبدیل کی اور حکیم عزیز الرحمن صاحب کے واسطے سے علامہ بلیاویؒ  کے یہاں سلام پہنچایا اور خود بھی حاضر ہوئے۔ وہاں چونکہ ایسا کوئی معاملہ نہیں تھا یہ تو سب ہماری اڑائی ہوئی تھی۔ بہرحال ہم حکیم عزیز الرحمن صاحب کے خلاف رپورٹ داخل کرنے سے پرنسپل صاحب کو روکنے میں کامیاب رہے۔ ‘‘

دوران تدریس آپ نے طب پر کئی کتابیں لکھیں بعد میں یہ کتابیں مختلف مطابع سے شائع ہوئیں۔ اس میں ’’ امراض صدر‘‘ کافی مشہور و مقبول ہوئی اور بعض کتابیں ابھی بھی آپ کے پاس مسودہ کی شکل میں ہیں جسے نا چیز کو دیکھنے کا شرف حاصل ہے۔ اس وقت آپ کی عمر ۹۰ سال(مارچ ۲۰۰۶ء کے مطابق)کی ہو گئی ہے مگر ابھی بھی بفضل تعالیٰ چلتے پھرتے ہیں اور مطب کے ساتھ تصنیف و تالیف میں مشغول ہیں۔ (افسوس کی حکیم صاحب کاانتقال ۱۹؍رمضان ۱۴۳۰ھ مطابق ۱۰؍ستمبر ۲۰۰۹ کو ہو گیا)۔ طب سے متعلق ’’ وصی ڈکشنری‘‘ کے نام سے آپ نے ایک ضخیم طبی لغت لکھی جو ۲۰۰۳ء؁ میں لکھنؤسے شائع ہو چکی ہے۔ تین جلدوں میں ’سنگم‘ نامی سہ لسانی( اردو، عربی اور انگلش) ڈکشنری۲۰۰۵ء؁ میں لکھنؤ سے شائع ہو چکی ہے۔ حدیث سے متعلق ایک ڈکشنری ابھی زیر تصنیف ہے، انیس سو صفحات پورے ہو چکے ہیں۔ ناچیزکو اس عظیم کام کو بھی دیکھنے کی سعادت حاصل ہے۔ ابن القیم الجوزی کی زاد المعاد کی چوتھی جلدکا ترجمہ ’’طب نبوی‘‘ کے نام سے کیا جو بہت مقبول ہوا۔ یہ کتاب ہند و پاک سے متعدد بار شائع ہو چکی ہے۔ انٹر نیٹ پر بھی یہ کتاب دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ ابو ہریرہ، خاتم النبیین، ختامہ مسک، شاداب افریقہ، ماثر امام اعظم اور تدوین حدیث شا ئع ہو چکی ہیں۔ ان کے علاوہ مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب، استاد ادب عربی، دار العلوم دیوبند نے آپ کی مطبوعہ کتابوں میں سوانح فراہی، سوانح عطار، اعجاز علمی کی بنیادیں ، کتاب الرحمہ کاتذکرہ کیا ہے۔ تلاش بسیار کے باوجود ان کتابوں کے شائع ہو نے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ناچیز نے مولانا امینی صاحب سے ان کتابوں کے بارے وضاحت چاہی تو انھوں نے بہت واضح جواب نہیں دیا۔ لائبریری دارالعلوم دیوبند میں بھی ان کے موجود ہونے کی کوئی خبر نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ کتابیں ابھی شائع ہی نہیں ہوئی ہیں۔  کتاب الرحمۃ کے بارے میں حکیم صاحب نے ناچیز سے بتایا تھا کہ اس کا مسودہ اور اس کے ساتھ مزید چار مسودے دیوبند کے فساد میں تلف ہو گئے، جن میں  حبۃ السوداء یعنی کلونجی پر ایک معلوماتی کتاب اور حکیم اعظمی صاحب کا  فارسی اور اردو کا دیوان بھی تھا۔ حکیم صاحب ان کتابوں کے ضائع ہو نے پربہت کبیدہ خاطر تھے۔ آپ جب ان کتابوں کا کا تذکرہ کر رہے تھے تو آنکھیں نم تھیں۔ آپ تیں مرتبہ ۱۹۸۴ء؁، ۱۹۹۲ء؁ اور ۱۹۹۵ء؁ میں حج وزیارت سے مشرف ہو چکے ہیں۔ آخری بار راقم کے والد محترم پروفیسر حکیم ارشاد احمدصاحب بھی آپ کے ہم سفرتھے۔ حکیم اعظمی صاحب سے والد محترم کے تعلقات بہت ہی خوشگوار تھے۔ والد محترم جامعہ طبیہ دار العلوم دیوبند میں اکثر امتحان اور طبیہ کالج کی اہم میٹنگ میں شرکت فرماتے تھے۔

جیسا کی اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ حکیم صاحب نے طب پر بالخصوص طبی لغت پر بہت اہم خدمات انجام دی ہیں۔ وصی میڈیکل ڈکشنری کے علاوہ حکیم عزیز الرحمن صاحب نے ایک اور طبی لغت لکھی ہے۔ اس کتاب میں حکیم صاحب نے طبی اصطلاحات کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ ایک مفید اوراپنی نوعیت کا پہلا کام ہے جسے ایک فرد نے کر دکھایا جو برسوں میں ایک ٹیم کیا کرتی ہے۔ حکیم صاحب اس کتاب کو قومی کونسل، دہلی بھیجا تھا، خوشی کی بات ہے کہ قومی کونسل نے اس پروجکٹ کو منظور کرلیا ہے۔ امید کہ جلد ہی یہ کتاب قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی سے شائع ہو جائے گی۔ اس کام کو منظر عام پر لانے کے لئے حمید اللہ بھٹ صاحب تمام طبی برادری کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔ حکیم صاحب نے اس کتاب سے متعلق قومی کونسل سے جو خط و کتابت کی تھی ناچیز کواس کی کاپی دکھائی تھی۔ اس کتاب کا تذکرہ آپ نے وصی میڈیکل ڈکشنری میں بھی کیا ہے۔ لکھتے ہیں۔

’’اس لغت (وصی ڈکشنری)کے علاوہ میں نے ایک دوسری ڈکشنری جو اردو مصطلحات طبی کا انگریزی میں   ترجمہ ہے ۲۸ جنوری ۱۹۸۸ء کو نیشنل کونسل برئے فروغ اردو دہلی کو دیا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ ۱۳ سال کے  بعد اس کے ڈائریکٹر حمیداللہ  بٹ نے اسے ایک ورکشاپ کو، جو آٹھ گرامی اطباء پر مشتمل تھا جس نے  مہینوں اس پر کام کر کے گذشتہ سال اپریل میں قابل اشاعت قرار دیا جو اب فروغ اردو کے ذریعہ جلد   ہی شائع ہو جائیگی۔ ‘‘

        سطور ذیل میں آپ کی مشہور طبی کتاب امراض صدراور وصی میڈیکل ڈکشنری کا تعارف پیش کیا جارہا ہے۔ اس سے آپ کی محنت، صلاحیت اور کام کی نوعیت کا اندازہ لگانے میں آسانی ہوگی۔

تشخیصی اسباب وعلامات امرض صدر یہ کتاب’’ امراض صدر‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ ۱۹۷۲ء میں محبوب المطابع دہلی سے شائع ہوئی۔ ۲۶۰+۲۴ صفحات پر پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کی فہرست قاری کی سہولت کے لئے انگریزی میں مرتب کی گئی ہے۔ یہ کتاب در اصل امریکی مصنفین YATER & OLIVER کی مشترکہ کوششیں ہیں ، جس کااردو میں حکیم عزیز الرحمٰن صاحب نے نہایت سلیس ترجمہ کیا ہے۔ حکیم عزیز الرحمن صاحب اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں :

’’ میں جب سے دارالعلوم کے جامعہ طبیہ میں بسلسلہ تدریس حاضر ہوا برابر اس کی طرف متوجہ رہا۔ چنانچہ ۱۹۶۵ء میں جب مجھے امراض صدر وریہ پڑھانا پڑھااس وقت یہ خیال گذرا کہ طب یو نانی میں امراض سینہ و قلب پرطویل و سیر حاصل کتابیں موجود ہیں مگر کوئی ایسی کتاب جو امراض سینہ کے لئے آئینہ تشخیص ہو، جس پر طبیب ایک نظرڈال کر ان تمام اسباب و علامات کو مستحضر کر لے جس سےسینہ کے امراض کی تعین وتشخیص بغیر کسی زحمت کے آسانی سے ہو سکے۔ اس سلسلہ میں مجھے OLIVER YATER امریکن مصنفین کی کتابSymptoms Diagnosis سب سے زیادہ مفید معلوم ہوئی۔ اس کتاب میں جسم کے سارے اسباب و علامات کی ممکن حد تک نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ کتاب علمی مباحث  اور تدریسی ضرورت کے لئے اتنی مفید نہی ہے جتنی تشخیسی اور عملی ضرورتوں مین مفید ہے۔ میں نے اطباء یو نانی اور اردو خواں معالجین کے لئے یہ کتاب بطور خلاصہ ما فی الباب مرتب کیا ہے۔ اس کتاب میں صرف امراض سینہ و قلب کے تشخیصی اسبا ب و علاما ت بیان کئے گئے ہیں۔ اس کتاب کی تلخیص میں مجھے اصطلاحات کے وضع کر نے اور اس کے ترجمے پر بڑی دقتیں پیش آئیں۔  ‘‘

وصی میدیکل ڈکشنری حکیم صاحب نے اس اہم اور مفید طبی لغت کا نام اپنے پیر و مرشدحضرت وصی اللہ فتحپوری اعظمیؒ کے نام پر رکھا ہے۔ یہ لغت برسوں کی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے جسے حکیم صاحب نے تنہا انجام دیا ہے۔ یہ طبی لغت اس لئے بھی اہم ہے کہ اس سے قبل طب میں جتنی بھی اس موضوع پر کتابیں موجود تھیں ان میں اختصار کا غلبہ تھا۔ یہ کتا ب قدیم طبی اصطلاحات اور جدید طبی اصطلاحات دونوں پر کافی مواد فراہم کرتی ہے۔ اس کتاب کو لکھنے  اور منظر عام پر لانے میں حکیم صاحب کوکیا پاپڑبیلنے پڑے ہیں انہی کی زبانی سنتے ہیں۔ حکیم عزیز الرحمن صاحب لکھتے ہیں۔

’’ یہ کتاب میں نے بڑی محنت سے ۱۹۸۲ء میں تیار کر لی تھی خیال تھا خود چھپواؤں گامگر ۸۰ ء کے اجلاس صد سالہ کے بعد دارالعلوم دیوبند میں جو حالات پیدا ہوئے، اس نے مجھے مجبور کردیا کہ میں یہ کتاب شدہ مسودہ میڈیکل ڈکشنری کسی ناشر کو دے دوں چنانچہ میں نے یہ کتابت شدہ مسودہ اپنے محسن کرم فرما مولانا مختار احمد ندوی مد ظلہ کو ۸۳ء میں دیدیا، میرا یہ اندیشہ بے جا نہ تھا  چناچہ ۲۳مارچ ۸۳ء کو جو ہنگامہ دار العلوم دیوبند میں ہوااس میں بہت سے اساتذہ کے کمروں کا تالا توڑ کر ان کا ساز و سامان لوٹ لیا گیاجس کی ایف آئی آر منتظمہ نے اس زمانے میں کر دیا تھا۔ میرا کمرا بھی توڑ کر سارا سامان لوٹ لیا گیا۔ اس میں پانچ مسودات اور میرے عربی فارسی کلام کا مجموعہ جو ستر صفحات پر مشتمل تھا وہ بھی اس ہنگامہ کی نذر ہو گیا میں نے اس احتیاط کے پیش نظر اپنے دو مسودے مولانا بدر الحسن قاسمی کو سپرد کیا تھا کہ وہ اس کی حفاظت کریں گے، مولانا ہنگامے کی شدت سے خوف زدہ ہو کر کمرے سے بھاگ نکلےجس کے نتیجے میں مسودات تلف ہو گئے اس میں بائیس سو صفحات کی ایک لغت جو انگریزی عربی اردو میں تھی اس کا بھی ایک حصہ ضائع ہو گیا جسے میں نے پھرآٹھ سال کی محنت سے دوبارہ مرتب کیا۔

  مولانا ندوی مد ظلہ کو  میں نے لغت کا مسودہ کتابت شدہ ۸۳ء ہی میں دیا تھا مگر معلوم نہیں کن اسباب کی بنا پراس کو شائع نہیں کیا۔ ۹۵ء میں دوبارہ میں نے محنت کر کے ایک دوسری میڈیکل ڈکشنری تیار کی، جو آپ کے سامنے ہے۔ اس کی تیاری میں میرے قدیم کرم فرما حکیم سید ایوب علی قاسمی (سابق ریڈر شعبہ علم الادویہ، اجمل خان طبیہ کالج، علیگڈھ) نے غیر معمولی تعاون دیا۔ اب یہ ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل لغت آپ کے سامنے ہے۔

اس کتاب کی طبی دنیا میں خوب پزیرائی ہوئی۔ یہاں پر صرف طب دنیا کے مشہور مؤرخ اور اجمل خان طبیہ کالج، علیگڈھ مسلم یونیورسٹی علیگڈ کے سابق پروفیسر وڈین حکیم سید ظل الرحمن صاحب کے تبصرہ پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :

’’ یہ کام اداروں سے تعلق رکھتا ہے کسی ایک فرد سے اس کی توقع نہی کی جاسکتی۔ لیکن ایک فاضل طبیب کی برسوں کی لگا تار محنت اور کاوش کا یہ اعجاز ہے، جس نے ایک دانش گاہ کے پر وقار علمی ماحول میں ہنگامہ شام و سحر سے بے نیاز، دن کے اجالے اور را ت کے سناٹے میں اپنے کام کو جاری رکھا۔ نہ سردی کی شدت اس کام میں حارج ہوئی اور نہ گرم ہوا کے جھونکے اور طوفان باد و باراں اس نحیف لیکن علمی خدمت کے جذبہ سے معمور انسان کے حوصلہ و عزم پر اثر انداز ہوئے۔ حکیم عزیز الرحمٰن، استاد جامعہ طبیہ دارالعلوم دیوبند کی یہ لغت ایک مستقل تالیف ہے۔ اکتالیس ہزار سے زائد الفاظ پر مشتمل اس لغت کی تدوین میں جہاں انہوں نے بہت سے الفاظ کی توضیح اورترجمہ میں فنی قابلیت اور دانشوری کا ثبوت دیا ہے، وہاں عہد حاضر کی انگریزی اور عربی کی تمام معروف طبی لغات سے پوری طرح استفادہ کیا ہے۔ اس مہتمم بالشان کام کے لئے وہ پوری طبی  دنیا کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔ طب کے علمی ذخیرہ میں یہ ایک بیش بہا اضافہ ہے جو ان کے ذریعہ انجام پایا ہے۔ ‘‘

اس کے علاوہ منیر بعلبکی کی مشہور لغت المورد (انگریزی عربی) کے ترجمہ کے فرائض بھی آپ انجام دے رہے تھے۔ یہ لغت غیر طبی الفاظ پر مشتمل ہے۔ آپ کی دوسری زیر قلم یا زیر تکمیل کتابوں میں قرابادین علوی خان حصہ امراض راس کا ترجمہ، امراض استحالہ غذا، ذیابطیس پر ایک انگریزی کتاب کا ترجمہ، سوانح عمری حضرت ابوہریرہ، بطل السندھ سوانح محمد بن قاسم، خاتم النبیین (انور شاہ کشمیری کی فارسی تصنیف کا ترجمہ)، اسلام کیا ہے( محمود شلتوت شیخ الازہر کی کتاب الاسلام کا ترجمہ) ہیں۔

حکیم عزیز الرحمن اعظمیؒ نے طب کے ساتھ دیگر موضوعات پر دو درجن کتابیں تصنیف فر مائی ہیں۔ ان میں بیشتر کتابیں دیگر زبانوں سے ترجمہ کی ہوئی ہیں۔ کچھ کتابیں حکیم صاحب کی طبع زاد ہیں۔ حکیم صاحب عربی، فارسی  اوراردو کے ساتھ انگریزی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے اورساتھ ہی ساتھ فن ترجمہ نگاری  اور اس کی تمام تر باریکیوں سے بھی واقف تھے۔ عربی، فارسی اور انگریزی سے اردو میں اتنا رواں ترجمہ کرتے تھے کہ کہیں سے عبارت میں کسی قسم کا کوئی جھول نہیں محسوسں ہوتا تھا۔ حکیم اعظمی ؒ نے اپنی زندگی کے اوقات کی تقسیم و درس وتدریس، تصنیف و تالیف اور مطب میں کر رکھی تھی۔ اس کے علاوہ باقی اوقات میں عبادات میں مشغول رہتے تھے۔ حکیم صاحب عالم جوانی سے ہی تہجد گذار تھے۔ حکیم صاحب کا روز آنہ کا معمول تھا کہ کم از کم ایک منزل کلام پاک کی تلاوت کرتے اور دلائل الخیرات پڑھتے۔ پھر اشراق، چاست کی نماز پڑھتے۔ نماز باجماعت کے پابند تھے۔ کہیں بھی ہوں اور کتنی ہی اہم مجلس ہو اذان کی آواز سن کر اٹھ جاتے اور مسجد جاکر نماز اداکرتے۔ عشاء کی نماز پڑھ کر جلدی سو جاتے۔ دوپہر کا کھانہ تناول فر ماکر سوتے نہیں تھے بلکہ اس وقت تصنیف و تالف کے کام میں مشغول رہتے تھے۔ افسوس کہ ہمارے درمیان سے ایک عابد و زاہد، طب کا سچا بہی خواہ، ماہر فن، بلند پایہ مصنف، قابل  قدرمترجم اور ماہر لغت دنیاسے رخصت ہو گیا۔

مئو میں آپ کی خاندان کو علمی اعتبار سے ہمیشہ تفوق حاصل رہاہے۔ آپ کے منجھلے بھائی مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی صاحب عالمی شہرت کے مالک ہیں۔ آپ ادب عربی کے ماہر، ندوۃ العلماء لکھنؤکے مہتمم اور مشہورعالمی عربی جریدہ’’ البعث الاسلامی‘‘ کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ آپ کے چھوٹے بھائی پروفیسر ڈاکٹر مسیح الرحمن صاحب شبلی نیشنل پوسٹ گریجوٹ کالج اعظم گڈھ سے ریٹائرڈہیں۔ آپ کے بیٹے  عالم دین ہیں اورملازمت کے سلسلہ میں سعودی عرب میں مقیم ہیں۔

راقم جب ۷؍مارچ ۲۰۰۶ء کو حکیم صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو حکیم صاحب نے ناچیز کو اپنی چند کتابیں بھی از راہ محبت عنایت فرمائیں۔ یہ کتابیں اور ان پر حکیم صا حب کا دستخط  راقم کے لئے سر مایہ افتخار ہیں۔ آخر میں جب میں حکیم صاحب سے وداع ہو نے کی اجازت چاہی تو حکیم صاحب نے  ارتجالاًناچیزکی حوصلہ افزائی کے لئے ایک شعر کہا۔ اسے میں نذر قارئین کر نا چاہتاہوں اور اسی پر اپنا مضمون ختم کرتاہوں۔

  نسیم طب محبت لئے ہوئے آئے

شمیم حضرت ارشاد دل کی دنیا میں

مآخذ:

(۱) ذاتی ملاقات

(۲)عزیز الرحمن اعظمی ، ۱۹۷۳ء، تشخیصی اسباب وعلامات امرض صدر، محبوب المطابع، دہلی۔

(۳)عزیز الرحمن اعظمی، وصی میدیکل ڈکشنریانگلش، ۲۰۰۱، پاریکھ آفسیٹ پرنٹنگ پریس، لکھنؤ

(۴)سید ظل الرحمن، ۲۰۰۰ء، طبی تقدمے، پبلیکش ڈویزن، علیگڑھ مسلم یو نیورسٹی علیگڑھ، علیگڑھ

(۵)شمیم ارشاد اعظمی و دیگر، ۲۰۱۲، حکیم شمیم احمد سعیدی :حیات وخدمات، جامعہ طبیہ دیوبند، اتر پردیش

(۶)ماہنامہ دارا لعلوم، دیوبند، جلد۹۴، شمارہ ۲، فر وری ۲۰۱۰

(۷)ترجمان درا لعلوم دیوبند، جلد ۶، شمارہ ۵۔ ۷، جنوری۔ مارچ ۲۰۱۰ء

مزید دکھائیں

شمیم ارشاد اعظمی

مضمون نگار الہ آباد میں اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج کے شعبہ علم الادویہ میں ریڈر ہیں۔ طب کی نو کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کے درجنوں وقیع تحقیقی و علمی مضامین قومی اور بین الاقوامی طبی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ آپ کو طب میں مختلف ایوارڈوں سے بھی سرفراز کیا جاچکا ہے۔

متعلقہ

Close