شخصیاتطب

حکیم محمد عبد الحلیم: حیات وخدمات

حکیم شمیم ارشاد اعظمی

حکیم محمد عبد الحلیم فروری 1905 میں لکھنؤ کے مشہور طبی خانوادہ میں آنکھیں کھولیں۔ آپ حکیم عبد العزیز لکھنوی کے چوتھے صاحبزادے تھے۔ والد محترم کے سایہ سے محروومی کے بعد آپ کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری آ پ کے برادر بزر گ شفاء الملک حکیم عبد الرشید (وفات:1920)کے ذمہ ہوئی۔  درس نظامیہ کی کتابیں مولانا عبد الغفورؒ سے پڑھیں اور عربی ادب کے لیے ملا عبد الرشید مکی کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا۔ اسلامیات، عقلیات اور عربی ادب میں مہارت کے بعد آپ کے برادر بزرگ نے 1915 میں انگریزی تعلیم شروع کرائی۔ طب کی تعلیم خاندان کے بزرگوں سے حاصل کی۔ اگست 1923 میں طبی تعلیم سے فراغت کے بعد فوراآپ کا تقرر تکمیل الطب کالج کے شعبہ علم الادویہ میں بحیثیت لکچررہوا۔ چونکہ ادویہ سے آپ کو زمانہ طالب علمی سے خاص دلچسپی تھی اسی لیے ادویہ کا درس آپ کے ذمہ ہوا۔

1926میں شفاخانہ کے انچارج بنائے گئے اور وائس پرنسپل کی ذمہ داری بھی آپ کے سپرد کی گئی۔ ادویہ کے علاوہ معالجات قانون، کامل الصناعۃ حصہ تشریح اور کتاب الاکسیر کادرس بھی آپ سے متعلق رہا۔ جراحت سے آپ کو بے حد شغف تھا۔ جراحت کی باقاعدہ تعلیم اورمشق کے لیے لفٹنٹ کر نل ٹی. ہنٹرایم. ڈی.، آئی .ایم .ایس.، سی.آئی.ای کے ساتھ تین سال گزارے۔  آنکھ کے آپریشن میں آپ کو خصوصیت کے ساتھ مہارت حاصل تھی۔ حکیم محمد عبد الحلیم بہت ہی فعال شخص تھے۔ اطبا کو متحد کرنے میں آپ نے جو کوششیں کی ہیں قابل تعریف ہیں ۔ ستمبر1922میں ’نادیہ طبیہ‘ کے نام سے تکمیل الطب میں ایک کلب کی شروعات کی۔ اس کے ساتھ اکیڈمک کونسل بھی قائم کی۔

ہندوستان میں تمام طبیہ کالجوں کے اساتذہ میں رابطہ پیدا کر نے کے لیے ’ انجمن جمعیۃ الحکما‘قائم کی۔ اپنے بڑے بھائی حکیم عبد الحمید سے جائداد کی تقسیم میں کچھ اختلاف ہوا تو 12دسمبر1929 تکمیل الطب کالج سے علاحدگی اختیار کرلی اور وائس پرنسپل و انچارج شفاخانہ سے استعفیٰ دے دیا۔ اور اپنے ہمراہ کالج کے کچھ اساتذہ (جن میں حکیم مظفر حسین، حکیم احمد حسین، حکیم محمد تقی عرف مجن اور حکیم سید بشیر احمد قابل زکر ہیں) اور آخری سال کے اکیس طلباکو لے کر علاحدہ ہوگئے اور انہیں باقاعدہ سند طب دینے کے لیے چوک پر ’دار الشفا شاہی ‘ کے نام سے ایک مدرسہ قائم کیا۔ اس طبی مدرسہ کے قیام کا مقصدصرف ان طلبا کو سند دینا تھا تاکہ ان کا مستقبل روشن رہے۔ بعد میں اس مدرسہ کو بند کر دیا گیا۔ اس کے بعد12دسمبر 1929 کو منبع الطب میں پرنسپل کی حیثیت سے تقرری عمل میں آئی۔ چند سال کے بعد اس کالج سے بھی علاحدگی اختیار کر لی۔  اس کے بعد دوبارہ اس کالج میں 1943 میں اسی منصب پر مراجعت ہوئی۔ حکیم عبد الحلیم کی خواہش تھی کہ منبع الطب اور وہاجیہ طبیہ کالج کوملا کر ایک بہترین طبی درسگا ہ بنائی جائے۔  اس کو شش میں آپ کو کامیابی ملی چنانچہ1944میں وہاجیہ منبع الطب میں ضم کر دیا گیا اور اب اس کالج کا نام طبیہ وہاجیہ کالج ملحق بہ منبع لاطب قرار پایا۔ حکیم عبد الحلیم صاحب اس متحدہ کالج کے پرنسپل ہوئے اور1946تک اس عظیم ذمہ داری کو نبھاتے رہے۔ 1946میں اس کالج کے سکریٹری بنائے گئے اور1951 تک کالج کے بند ہونے تک اس عہدہ پر فائز رہے۔

حکیم صاحب کامطب بہت ہی خوب تھا۔ ادویہ اور اس کے افعال و تاثیر پر کمال حاصل تھا۔ اگر نسخہ کی شروعات برگ سے کر رہے ہیں تو پورا نسخہ برگ پر ہی ہوتا تھا اسی طرح اگر نسخہ کے شروع میں گل، تخم، جڑغرضیکہ جس نباتی حصہ سے شروعات ہوتی تو پورا نسخہ اسی پر مشتمل ہوتا۔ حکیم عبد الحلیم پیچیدہ اور مزمن امراض میں علمی اور عملی دونوں طور سے بڑی مہارت رکھتے تھے۔ آ پ کی طبی حذاقت کے بہت سارے واقعات عوام میں اب بھی مشہور ہیں۔

حکیم عبد العلی (وفات:1905)کا قائم کردہ دواخانہ ’ مخزن الادویہ ‘ خرید کر اس کو خوب ترقی دی۔ مشہور طبی میگزین ’ خادم الاطبا ‘ کے نائب مدیر بھی رہے۔ اس کے علاوہ ماہنامہ ’ الطبیب ‘ لکھنؤ کی سرپرستی بھی فر مائی ہے۔ مختلف طبی، مذہبی، سیاسی، سماجی اور ادبی تنظیموں سے وابستہ رہے۔ 1926 میں گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کی سلیکشن کمیٹی کے رکن رہے۔ 26جنوری 1926سے 13اکتوبر 1938 تک طبی کالج پٹنہ کی ایڈوائزری کمیٹی کے ممبر بھی رہے۔ بورڈآف انڈین میڈیسن کے ممبر کی حیثیت سے آپ نے اہم خدمات انجام دی ہیں ۔ شعری مذاق بھی رکھتے تھے اور حلیم تخلص فر ماتے تھے۔ عزیزؔ لکھنوی کے شاگرد تھے۔ آپ کی تاریخ وفات 18اگست 1955 ہے۔

تصانیف

حکیم عبد الحلیم نے پوری زندگی طب کی ترویج و اشاعت اور فروغ میں گذار دی۔ طبی درسیات سے متعلق کتب کی کمی کے احساس نے کئی اہم کتابیں لکھوانے پر مجبور کر دیا۔

1۔  طب کی تعلیمی زبان (1925)

2۔  دستور العلاج (1926)

3۔  مالایحضرہ الطبیب (1926)

4۔  حل المعضلات المشکلہ فی اصول علم الادویہ (1927)

5۔رہبر سرجری (یہ کتاب علی بن عباس مجوسی کی کتاب کامل الصناعۃ کے نویں مقالہ کا سلیس اردو ترجمہ ہے ) (1940)

6۔  مفردات عزیزی (1948اشاعت چہارم)

7۔ مجربات عزیزی (1953اشاعت دوم)

8۔ اکمل الصناعۃ، شرح تشریح کامل الصناعۃ کے نام سے کامل الصناعۃ کے حصہ تشریح (مقالہ ثانیہ و ثلاثہ) کی شرح بھی کرنا چاہتے تھے جو نا تمام رہی۔ یہ کتابیں اسی احساس کا نتیجہ ہیں۔

مزید دکھائیں

شمیم ارشاد اعظمی

مضمون نگار الہ آباد میں اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج کے شعبہ علم الادویہ میں ریڈر ہیں۔ طب کی نو کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کے درجنوں وقیع تحقیقی و علمی مضامین قومی اور بین الاقوامی طبی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ آپ کو طب میں مختلف ایوارڈوں سے بھی سرفراز کیا جاچکا ہے۔

متعلقہ

Close