شخصیات

خانوادۂ قاسمی کی روایتوں کا امین: حضرت مولانا اسلم قاسمی

راحت علی صدیقی قاسمی

  خانوادہ قاسمی مختلف حیثیتوں سے عظمت کا حامل ہے، مدارس کا قیام، دین کا تحفظ، تصوف و سلوک میں بلند پایہ خدمات، تصنیف و تالیف کی دنیا میں لا زوال کارنامے، صفحات پر علوم و معارف کے چراغ روشن کرنا، تدریس میں ادق ترین مسائل کو سہل تر بنا کر پیش کرنا، طلبہ کی سہولتوں پر حد درجہ توجہ دینا، وقت کی پکار پر لبیک کہنا، علوم و معارف کے میٹھے چشمے جاری کرنا، سادہ مزاجی، سنجیدگی اور متانت اس خانوادہ سے وابستہ ہر شخص کی سرشت میں داخل ہے، اس خانوادہ کی نرالی شان ہے، یہ فیصلہ سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ دس سال تک اس خانوادہ کی عظیم شخصیات کو دیکھ کر ان کے شب و روز سے متاثر ہو کر کیا جا رہا ہے۔ دنیا میں کون ہے جو ان معروضات کو غلط ثابت کرے؟ کون ہے جو حقائق کو جھٹلانے کی تاب لائے؟ تاریخ کا مجرم ٹھہرے اور کیوں کر ہوسکتا ہے حجۃ الاسلام مولانا قاسم نانوتویؒ کے کمالات زندہ ہیں۔

مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ کے کارنامے دنیا سے داد وصول کر چکے ہیں، حضرت حکیم الاسلام کی خدمات جلیلہ کا دنیا اعتراف کررہی ہے۔ دارالعلوم دیوبند کی بیش بہا خدمات اس کے نظم و انتظام کی برتری حکیم الاسلام سے عبارت ہے، خاص طور پر خداوند قدوس نے نسلاً بعد نسل اس خانوادہ کو عظیم شخصیات عطا کیں، ان سے علم و کمالات کی دنیا روشن رہی، خطابت اور تحقیق و تدریس کا شعبہ ان سے ہمیشہ فیضیاب ہوتا رہا، ان اکابر کو نظم و انتظام میں حددرجہ کمال حاصل رہا۔ حضرت حکیم الاسلام کی وفات کا درد ناک مرحلہ اور نازک حالات اس وقت کے اکابر کے ذہنوں میں کتنے سوالات ابھرے ہوں گے، قلب کے سمندر میں کیسا جوار بھاٹا ہوا ہوگا، دل دہل گئے ہوں گے، آنکھیں نم ہوگئی ہوں گی اور یہ خیال ضرور دل پر گذرا ہوگا، بھلے ہی اس کی حیثیت سایہ بے ثبات کی رہی ہو کہ خانوادۂ قاسمی کے علم و کمالات مولاناقاری محمد طیب کے ساتھ زمین دوز ہوجائیں گے، یہ روایت مستقبل کی دہلیز پر قدم نہیں رکھ سکے گی اور حکیم الاسلام کے ساتھ خانوادۂ قاسمی دفن ہوگیا، یہ قرین قیاس بھی تھا، حالات کی سختیوں سے پار پانا آسان نہیں تھا، مولانا محمد سالم صاحب قاسمی تنہا محسوس ہوتے تھے، مولانا محمد اسلم صاحب قاسمی کو اب تک لوگوں نے ناظم برقیات کی حیثیت ہی سے جانا تھا، ان کے علم و کمالات مخفی تھے، ان کی خدمات جلیلہ کا باب ابھی تک نہیں کھلا تھا، عمر کے اس مرحلہ میں تصورات و مشاہدات یہی کہتے تھے کہ اب تنہا مولانا محمد سالم قاسمی کے کندھوں بار گراں ہے، انہیں ہی مستقبل میں خاندانی روایتوں کو زندہ رکھنا ہے، لیکن کون خیال کرسکتا تھا، جس طرح سمندر کی طغیانی موتیوں کو باہر لے آتی ہے، اسی طرح حالات کی گردش اور وقت کی ستم ظریفی مولانا اسلم قاسمی کی ذات میں پوشیدہ خزانوں سے دنیا کو متعارف کرائے گی، ایک جہاں ان سے فیضیاب ہوگا، ان کے علم و کمال کا شہرہ ہوگا۔

دارالعلوم وقف دیوبند کے قیام نے ان کی شخصیت کو الگ ہی رنگ میں پیش کیا، وہ خانوادہ قاسمی کے سچے فرد اور حضرت حکیم الاسلام کے سچے جانشین ثابت ہوئے، حقائق ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں، وقت اور حالات کی بھٹی میں تپ کر یہ شخصیت کندن بنی، ان کی خدمات کا آج ایک جہاں آباد ہے اور وہی منصب جلیلہ اور عزت و جاہ انہیں میسر ہوا جو ان کا نصیبہ تھا، جو ان کے لئے موزوں تھا، ان کے جنازہ میں شریک ہر شخص ان کا آخری دیدار کرنے  کے لئے بے تاب تھا، ٹوپیاں ہی ٹوپیاں نظر آتی تھیں، عقیدت و محبت میں ڈوبے ہوئے لوگ ہر شرط پر ان کی آخری رسومات میں حصہ لینا چاہتے تھے، خوف ہوتا تھا لوگ خود شدت اشتیاق میں حادثہ کا شکار نہ ہوجائیں، ملک کے گوشے گوشے سے ان کی محبت و عقیدت میں لوگ سرزمین دیوبند پر دوڑے چلے آئے، جو نہ آسکے ان کے دلوں میں کرب اور بے چینی ضرور تھی، اس صورت حال سے ثابت ہوگیا، یہ ناظم برقیات نہیں بلکہ ایک کامیاب محدث کا جنازہ تھا اور ایسا لگ رہا تھا جیسے فضا میں یہ شعر گونج رہا ہو:

شب کو مرا جنازہ جائے گا یوں نکل کر

رہ جائیں گے سحر کو دشمن بھی ہاتھ مل کر

 اپنا، پرایا، عزیز، قرابت دار، غیر ہر شخص نے آپ کی وفات کا غم محسوس کیا، آپ کی شخصیت بہت سی خوبیوں کی مالک تھی، گفتگو نقوش کی بناء پر نہیں مشاہدہ کی بناء پر کرنا چاہتا ہوں، تکلفات کو بالائے طاق رکھ کر ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔

  حضرت مولانا محمد اسلم صاحب قاسمی خوبصورتی و جاذب نظر چہرہ، ناک لمبی، سرخ درازی مائل، ڈاڑھی سفید، میانہ قد، بڑھاپے کے بوجھ نے جھکا ضرور دیا تھا، جسم ہلکا پھلکا، آپ کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جوانی میں بھی لحیم شحیم نہیں رہے ہوں گے، شیروانی پہن کر نکلتے تو علم کے شہنشاہ معلوم ہوتے تھے، آپ کا وقار اور اثر ہر شخص نمایاں طور پر محسوس کرتا تھا، وہ نگاہیں جنہوں نے حضرت حکیم الاسلام کو دیکھا، آپ کو دیکھ کر قرار پاتی تھیں، آپ کی شخصیت حکیم الاسلام کا عکس محسوس ہوتی تھی، لب و لہجہ سنجیدہ اور لفظ انتہائی جماؤ کے ساتھ وجود میں آتے تھے، مسند تدریس پر جلوہ افروز ہوتے تو علم کے خزینے لٹاتے، گفتگو سن کر ایسا محسوس ہوتا تھا علم کا بادشاہ خطاب کر رہا ہے، بخاری کا درس دیتے تھے تو نازک ترین مسائل کو بھی منقح کردیتے اور ہر ہر لفظ دل پر نقش ہوتا چلا جاتا، مشفقانہ انداز، شگفتہ لہجہ، شائستہ زبان۔ فرماتے تھے آپ میری اولاد کے مانند ہیں، یہ مسائل کس طرح آپ کو سمجھاؤں، حیاء محسوس ہوتی ہے، شرم دامن گیر ہے، اس کے بعد جب گفتگو کرتے تھے تو مسئلے کے ایک ایک جزء کو واضح کردیتے تھے، طلبہ ان کی تقریر میں گم ہوجاتے تھے، لفظوں کا حسین انتخاب کرتے تھے، ان کی درسی تقریر الفاظ کا حسین مرقع ہوتی تھی، شرم و حیا کا دائرہ نہیں ٹوٹتا تھا اور زندگی کے نازک ترین مسائل کو حل کردیتے تھے۔

عرصۂ دراز تک یہ سلسلہ جاری رہا، طلبہ آپ کے درس سے مانوس رہے، آپ کی شخصیت کے دلدادہ رہے، آپ کی اداؤں اور سادگی کے دیوانے رہے، سادگی کا عالم یہ تھا کہ طلبہ کی بھی مہمانوں کی طرح ضیافت کرتے تھے، ایک مرتبہ میں اپنے عزیز رشتہ دار کے ساتھ آستانۂ قاسمی پر حاضر ہوا، حضرت مولانا محمد اسلم صاحب قاسمی تشریف لائے، دیر تک گفتگو فرماتے رہے، ہر جملہ ان کی بصیرت کا غماز اور علمی وجاہت کا عکاس تھا، ملکی و دینی مسائل پر عصر تا مغرب انہوں نے گفتگو کی، خندہ پیشانی کے ساتھ لبوں پر مسکراہٹ کا گماں ہورہا تھا، طبیعت مچل گئی، قلب ان کی علمی شان پر فریفتہ ہوگیا، یہی نہیں جب انہیں کسی سے مخاطب دیکھا ہمیشہ چہرہ پر تازگی بشاشت اور خندگی کا اثر نمایاں ہوتا تھا، پژمردگی، بدخلقی نہ ان کی طبیعت میں تھی نہ کبھی ظاہر ہوئی۔

خطابت کے جوہر بارہا دیکھنے کا موقع ملا، بڑے سلیقے سے خطاب کرتے تھے، جو کہتے صاف ستھرے انداز سے، مخاطب کی پوری طرح رعایت کرتے، تقریر میں روایتوں کی کثرت ہوتی تھی، جس سے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کا یقین ہوتا تھا اور دلیل کی صورت میں رسول پاک الفاظ ان کی زبان سے ادا ہوتے، خطاب کا لہجہ کیا کہنے، ایسا لگتا تھا، جیسے کسی نے کانوں میں شہد گھول دیا ہو، قلب قرار پاتے تھے، روح سکون حاصل کرتی تھی، طویل خطاب فرماتے لیکن مجمع پر ان کی پوری دسترس ہوتی تھی، لوگ ان کی تقریر میں پوری طرح گم ہو جایا کرتے تھے، تصنیف و تالیف میں انہوں نے واضح نقوش چھوڑے ہیں، یہ سلسلہ بھی ان کے عشق نبی کی تصویر دکھاتا ہے، سیرت حلبیہ کا اردو ترجمہ ان عظیم کارناموں میں سے ایک ہے، سیرت پاک کا سیٹ بچوں کے لئے ان کی عظیم خدمت ہے، عشق نبیؐ میں ڈوب کر لکھا، لب و لہجہ معیاری، اسلوب انتہائی دلکش، بڑے انشاء پرداز تھے،اشعار میں آپ نے طبع آزمائی کی، لیکن زینت محفل بننا گوارا نہیں کیا۔

آپ کی کتابوں کے اسلوب پر مستقل بحث و تحقیق کی ضرورت ہے، ان سطروں میں اس کا حق ادا نہیں ہو سکتا،آپ باکمال شخصیت کے مالک تھے، آپ کی جدائی نے خانوادہ قاسمی ہی نہیں پورے ہندوستان کو سوگوار کیا ہے، کل جس کی تقریر سے سکون پاتے تھے، سالوں جن کی تقریرسنیں، مسکراتے دیکھا، مجلسوں کی زینت دوبالا کرتے دیکھا، ان کے درس کے تذکروں سے زبان تھکتی نہیں تھی، آج ان پر اپنے ہاتھوں سے مٹی ڈالنا یقیناباعث تکلیف ہے، ان کی جدائی عرصہ تک علمی دنیا محسوس کی جاتی رہے گی، مگر نظام خداوندی کا انسان پابند ہے اور خدا نے اعلان کر دیا ہے، مدت متعینہ کے بعد تاخیر نہیں ہوتی۔

جذبات غم و اندوہ کے باوجود اس بات کا شکر ہے کہ مولانا نے عظیم خدمات انجام دیں اور مولانا محمد فاروق قاسمی کی شکل میں اپنا جانشین چھوڑا جو ان روایتوں کو آگے بڑھائے گا، خداوند قدوس ان کو جنت میں مقام کریم نصیب کرے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close