شخصیات

خواجہ غریب نوازرحمة اللہ علیہ کی تعلیمات میں خدمت خلق اورغریب پروری کا سبق

GhAuS pIc
برصغیر ہندوپاک میں صوفیہ کی تاریخ ایک ہزار سال سے زیادہ پرانی ہے۔ اس دوران یہاں مختلف سلسلوں کے صوفیہ نے امن ومحبت اور بھائی چارہ کے پیغامات کو عام کیا اور انسان کو انسان کا بھائی بن کر رہنے کا درس دیا۔ صوفیہ کرام کی تعلیمات کا سب سے نمایاں حصہ ہوا کرتا تھا خدمت خلق اور اس کام کے لئے انھوں نے اپنی خانقاہوں کا استعمال کیا۔ ان خانقاہوں میں لنگر کا رواج عام رہاہے ۔وہ زمانہ جس میں غذائی قلت عام تھی اور لوگوں کو پیٹ بھرنے کے لئے کھانا تک ملنا مشکل ہوتا تھا،صوفیہ اپنی خانقاہوں میں ہر روز ہزاروں افراد کو کھانا کھلایا کرتے تھے۔بے شمار لوگ جو خانقاہ میں نہیں آسکتے تھے ان کے گھر پر کھانا بھیج دیا جاتا تھا اور جن لوگوں کے گھر دور تھے ان کے گھر راشن بھیج دیا جاتا۔ خدمت خلق کا یہ طریقہ عام صوفیوں کا طریقہ تھا مگر حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمة اللہ علیہ نے اس پر بہت زور دیا اور اسی غریب پروری کے سبب انھیں عوام نے ”خواجہ غریب نواز“ کے لقب سے پکارنا شروع کردیا۔خواجہ صاحب کی تعلیمات میں اگرچہ مختلف قسم کے سبق موجود ہیں مگر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے غریبوں کے امداد وتعاون پر کیونکہ صوفیہ کے نزدیک اللہ تک پہنچنے کا بہتر راستہ ہے اس کے بندوں کی خدمت کرنا۔ اللہ اپنے ایسے بندوں سے خوش ہوتا ہے جو اس کے بندوں کو خوش رکھتے ہیں۔ اللہ کو اپنی مخلوق سے بے حد پیار ہے۔ ایک ماں اپنے بچے سے جس قدر محبت کرتی ہے اس سے بہت زیادہ اللہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے لہٰذا وہ ان لوگوں سے خوش ہوتا ہے جو اس کے بندوں سے محبت کرتے ہیں اور ان کی خدمت کرتے ہیں ۔صوفیہ کے ہاں بھی اس پر عمل پایا جاتا ہے۔ اللہ والوں کی خانقاہیں ہمیشہ بندگان خدا کے لئے کھلی رہتی تھیں اور یہاں سے ہر کوئی اپنے مسئلے کا حل پایا کرتا تھا۔ خواجہ معین الدین چشتی کا آستانہ بھی لوگوں کے لئے ہمیشہ پناہ گاہ بنا رہتا تھا اور اسی لئے آپ (دلیل العارفین مجلس۶میں) فرماتے ہیں:
”عاجزوں کی فریادرسی، حاجت مندوں کی حاجت روائی، بھوکوں کو کھانا کھلانا، اس سے بڑھ کر کوئی نیک کام نہیں۔“
خواجہ معین الدین چشتی رحمة اللہ علیہ اپنے اس پیغام پر ہمیشہ عامل رہے اور آپ کے اس پیغام کو آپ کے چاہنے والوں نے اپنے لئے حرز جاں بنالیا۔آپ کی سیرت میں ملتا ہے کہ کسی کسان کی حاجت روائی کے لئے آپ نے اجمیر سے دلی کا سفر کیا۔ حالانکہ اس کے لئے آنے کی ضرورت نہیں تھی۔ آپ اگر خط لکھ دیتے تو کسان کا کام ہوسکتا تھا اور بادشاہ وقت اس کی مدد کردیتا مگر غریب کسان کی تالیف قلب کے لئے اجمیر سے دلی کا سفر کیا۔ صوفیہ کے اسی طریقہ کار نے دنیا کا دل جیتا اور انھیں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ بنایا۔ ان کے پیغامات صرف زبانی نہیں تھے بلکہ کردار و عمل کے ذریعے بھی انھوں نے وہی درس دیئے جو اقوال وگفتار سے دیئے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمة اللہ علیہ کے نزدیک خدمت ِخلق کی کیا اہمیت ہے اس کا اندازہ ان کے ایک قول سے ہوتا ہے۔سیرالاولیاء( صفحہ128،از امیر خورد)میں ان کا قول درج ہے :
”جس میں یہ تین خصلتیں ہونگی، وہ اس حقیقت کو جان لے کہ خدائے تعالیٰ اس کو دوست رکھتا ہے۔ اول سخاوت دریا کی طرح۔ دوسرے شفقت،آسمان کی طرح۔ تیسرے خاکساری زمین کی طرح۔ فرمایا ، جس کسی نے نعمت پائی ، سخاوت سے پائی اور جو تقدم حاصل کرتا ہے، صفائے باطن سے حاصل کرتا ہے۔“
نماز، روزہ ، حج وزکوٰة کا حکم اللہ کی طرف سے دیا گیا ہے اور ان کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے مگر خدمت خلق کی اپنی فضیلت ہے اور آج کے دور میں اسی کی کمی ہے۔ مسجدوں میں نمازیوں کی بھیڑ نظر آتی ہے ، رمضان میں روزہ رکھنے والے بھی کم نہیں ہیں اور حج کے وقت حاجیوں کی کثرت بھی دکھائی دیتی ہے مگر آج کے معاشرے میں اگر کمی نظر آتی ہے تو خدمت خلق کرنے والوں کی، اللہ کے بندوں کی غمگساری کرنے والوں کی اور اللہ کی مخلوقات سے اس کی رضا کے لئے بے لوث محبت کرنے والوں کی۔
اللہ کے بندوںکی خدمت کرنا ، ان کے دکھ درد میں کام آنا، بھوکوں کو کھانا کھلانا، ضرورتمندوں کی ضرورتیں پوری کرنا اور پریشان حال لوگوں کی پریشانی کو دور کرنا خواجہ غریب نواز کی زندگی کا مقصد تھا۔اسے آپ نے اللہ کی رضا کا ذریعہ سمجھا۔ خود قرآن کریم اور سیرت نبوی میں بھی اسی کا حکم ملتا ہے مگر کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آج نمازی ملتے ہیں، حاجی ملتے ہیں، حج وزکوٰة ادا کرنے والے بھی ملتے ہیں مگر خدمت خلق کرنے والوں کی کمی ہے۔ خواجہ صاحب کے بعد جو لوگ آپ کے نقش قدم پر چلنے والے تھے، انھوں نے بھی آپ کے سبق کو یاد رکھا اور حاجت مندوں کی حاجت روائی کرتے رہے۔ اسی مقصد سے ان کے روحانی جانشینوں نے ملک بھر میں خانقاہیں قائم کیں اور خود کو پوری طرح خدمت خلق کے لئے وقف کردیا۔ خواجہ غریب نواز نے خدمت خلق کا جو کام شروع کیا تھا وہ بعد کے دور میں بھی جاری رہا اور آپ کے مشن کو آگے بڑھانے والے اس پر عامل رہے۔صوفیہ کے تذکرے بتاتے ہیں کہ آپ کے مریدین اور خلفاءنے ملک بھر میں خانقاہیں قائم کیں، لنگر شروع کئے اور عوام الناس کی فلاح کے کام کئے۔ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی،حضرت حمیدالدین ناگوری، بابا فرید الدین مسعود گنج شکر،محبوب الٰہی نظام الدین اولیاءاور ان کے خلفاءومریدین نے عوامی فلاح کے جو کام کئے وہ اپنی مثال آپ ہیں اور عین خواجہ غریب نواز کی تعلیمات کے مطابق ہیں۔حضرت نظام الدین اولیاءرحمة اللہ علیہ نے تو اپنے خلفاءکو خاص اسی کام کے لئے بنگال، دکن، گجرات اور مدھیہ پردیش وغیرہ کے علاقوں میں بھیجا تھا جہاں ان بزرگوں نے اس مشن کو آگے بڑھایا جس کے لئے خواجہ عثمان ہارونی، خواجہ معین الدین چشتی اور دیگر صوفیہ کوشاں رہے تھے۔ آج خانقاہی نظام مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے اور جو ہے وہ محض رسمی ہے مگر جن کاموں کی شروعات پہلے ہوچکی تھی اس کی جھلک آج بھی دیکھنے کو مل جاتی ہے۔ آج بھی خانقاہوں میں لنگر کا اہتمام کیا جاتا ہے جو اسی لنگر کی یاد ہے جو صوفیہ کی خانقاہوں میں چلا کرتا تھا۔
چشتی سلسلے کے بزرگوں کے ملفوظات، مکتوبات اور تذکروں میں خدمت خلق کا درس ہر دور میں رہا ہے اورخواجہ غریب نواز رحمة اللہ علیہ اپنی مجلسوں میں اس کو بار بار دہراتے رہتے تھے۔ آپ نے جو اپنے مرشد خواجہ عثمان ہارونی رحمة اللہ علیہ کے ملفوظات جمع کئے ہیں، ان میں مرشد کے حوالے سے حضرت خواجہ حسن بصری کی کتاب آثار الاولیاءکا ایک حصہ نقل کیا ہے :
”صدقہ ایک نور ہے ،صدقہ جنت کی حوروں کا زیور ہے اور صدقہ ۰۸ ہزار رکعت نماز سے بہتر ہے جو پڑھی جائے۔ صدقہ دینے والے روزِ حشر عرش کے سائے میں ہونگے ۔ جس نے موت سے قبل صدقہ دیا ہوگا وہ اللہ کی رحمت سے دور نہ ہوگا۔پھر فرمایا صدقہ جنت کی راہ ہے ،جو صدقہ دیتا ہے وہ اللہ سے قریب ہوتا ہے۔
حضرت خواجہ شریف زندنی رحمة اللہ علیہ کا لنگر صبح سے رات گئے تک جاری رہتا ، جوکوئی آتا کھا نا کھا کر جاتا ۔ آپ فرمایا کرتے تھے اگر لنگر میں کچھ نہ ہوتو پانی سے تواضع کروکوئی خالی نہ جائے ۔
پھر فرمایا زمین بھی سخی آدمی پر فخر کرتی ہے ،جب وہ چلتا ہے تو نیکیاں اس کے نامہ¿ اعمال میں لکھی جاتی ہیں۔،،
انیس الارواح (ملفوظات خواجہ عثمان ہارونی،مرتبہ خواجہ معین الدین چشتی)
صدقہ، خدمت خلق کا ذریعہ ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں اس کی خاص اہمیت رہی ہے۔ صوفیہ نے اس سنت پر عمل جاری رکھا اور کم سے کم اثاثے پر زندگی گزارنا قبول کیا۔ یہ سبھی سلسلہ طریقت میں موجود ہے مگر چشتی سلسلہ جو برصغیر ہندوپاک میں زیادہ پھیلا اس میں خدمت خلق پر خصوصی زور دیا گیا جو صدقہ کی ہی ایک صورت تھی۔ اسی لئے خدمت خلق سلسلہ چشتیہ میں صدیوں تک جاری رہا اور جب تک اس سلسلے کے صوفیہ موجود رہے وہ خواجہ صاحب کے مشن کو آگے بڑھانے کا کام کرتے رہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کا حصہ تھا۔ خواجہ معین الدین چشتی نے اپنے مرشد کے کئی اقوال تحریر کئے ہیں جو خدمت خلق کے سلسلے میں ہیں۔ ایک مقام پر ہے:
”جب کوئی پیاسے کو پانی پلاتا ہے ، اس وقت اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ، وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسا ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو، اگر وہ مر جائے تو اس کا شمار شہداءمیں ہوگا ۔ پھر فرمایا جو شخص بھوکے کو کھانا کھلائے اللہ اسکی ہزار حاجتوں کو پورا کرتا ہے اور جہنم کی آگ سے اسے آزاد کرتا ہے ،اور جنت میں اس کے لئے ایک محل مخصوص کرتا ہے ۔ ،، (انیس الارواح،مجلس۔۰۱ )
ایک دوسری جگہ خواجہ عثمان ہارونی کا ہی قول درج ہے :
”میں نے خواجہ مودود چشتی کی زبانی سنا کہ اللہ تعالیٰ تین گروہوں کی طرف نظر رحمت فرماتا ہے ،پہلے وہ باہمت لوگ جو محنت کرکے اپنے کنبہ کو پالتے ہیں۔ دوسرے جو اپنے پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرتے ہیں اور وہ عورتیں جو اپنے شوہروں کا حکم مانتی ہیں ۔تیسرے وہ جو فقیروں اور عاجزوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔،،
انیس الارواح،مجلس۔۰۲
صوفیہ کا ماننا تھا کہ اللہ تعالیٰ، رحمٰن ورحیم ہے لہٰذا اس کی مخلوق کو بھی اس کی صفت رحمت کا مظہر ہونا چاہئے۔ وہ کریم ہے اور اپنے بندوں پر کرم فرماتا ہے۔ وہ محسن ہے اور اپنی مخلوقات پر احسان کرتا ہے ،وہ اپنی مخلوقات سے بے حد محبت کرتا ہے لہٰذا اس کی مخلوق کی خدمت کے ذریعے اس کی رضا کو پایا جاسکتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی خدمت سے خوش ہوتا ہے۔
کرومہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر

مزید دکھائیں

غوث سیوانی

غوث سیوانی دہلی کے معروف سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close