شخصیات

رونق انجمن گل تھا جو لالہ، نہ رہا

مولانا احمد محمود اصلاحی’کو ثر اعظمی‘ رحمہ اللہ

محمد علم اللہ

رونق انجمن گل تھا جو لالہ، نہ رہا

ناز تھا جس پہ وہ سروقد بالا نہ رہا

رہ گیا کٹ کے کلیجہ وہ لگی چوٹ کہ ہائے 

دینے والا تھا جو ایسے میں سنبھالا نہ رہا 

یہ اشعار مدرسۃ الاصلاح سرائے میر اعظم گڈھ کے سابق صدر المدرسین ، مولانا عبد المجید ندوی کی شہادت پر 1991 میں مولانا احمد محمود کوثر اعظمی نے کہے تھے ۔ کیا خبر تھی کہ ان کے ذریعے لکھا گیا مرثیہ انھیں پر منطبق ہوگا ، اور وہ خود ان کا مصداق ٹھہریں گے ۔ ’ کوثر اعظمی‘ کا انتقال  12 دسمبر 2018 کو سرائے میر اعظم گڈھ ، یوپی میں ہوا۔مولانا کے انتقال سے دبستان شبلی و فراہی سونی ہوگئی ۔

مولانا احمد محمود اصلاحی مدرسۃالاصلاح کے سابق نائب ناظم، شاعر، ادیب، افسانہ نگار اور کاروانِ ادبِ اسلامی کی مایہء  ناز شخصیت تھے ۔ ایک ایسے دور میں جب کہ اردو اپنے ہی دیار میں اجنبی ہوتی جا رہی ہے اور اس کے پڑھنے، لکھنے اور بولنے والوں کی تعداد میں دن بدن کمی آرہی ہے، ایسے فرد کااٹھ جانا جس  کے معیار واقدار کے لوگ خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں، صرف ادب ہی نہیں بلکہ ملت اسلامیہ ہند کے لئے بھی جاں گسل لمحہ ہے۔

مولانا احمد محمود اصلاحی مدرستہ الاصلاح(سرائے میر،اعظم گڈھ) کے پروردہ تھے۔ انھوں نے جن اساتذہ اور ماہرین فن سے استفادہ کیا تھاوہ اپنے میدان کے امام تسلیم کئے جاتے تھے۔ مولانا ابواللیث اصلاحی ،مولانا بد رالدین اصلاحی، مولانا اختر احسن اصلاحی، اورمولانا نجم الدین اصلاحی وغیرہم ان کے اساتذہ میں سے تھے، جنہیں سچے علم وادب کے شیدائی اور مجاہد کہا جا سکتا ہے۔ مولانا احمد محمود کی زندگی بھی ایسے ہی جلیل القدر ماہرین کا نمونہ تھی، جنہوں نے آخری دم تک اس چراغ کو جلانے کے جتن کئے  جسے عرب کے صحرا میں سولہ سو سال قبل محمد عربیﷺ نے روشن کیا تھا۔

مولانا احمد محمود اصلاحی کی زندگی کے کئی گوشے تھے۔ وہ بیک وقت بہت اچھے منتظم، استاذ، خطیب، انشا پرداز، شاعر ، سماجی کارکن اور قائدتھے۔  انہی خصوصیات کی وجہ سے ہر محفل میں انھیں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتاتھا۔

مدرستہ الاصلاح میں اپنے دور طالب علمی میں جب بھی ہم نے انھیں دیکھا قلم وقرطاس سے مربوط پایا۔ ان کے پاس ہمیشہ اساتذہ اور طلبہ کے علاوہ شاعروں، ادیبوں اور علم وادب کے شیدائیوں کا جھرمٹ لگا رہتا۔ مدرسے میں کوئی بھی ہنگامی صورت پیش آتی، انھیں یاد کیا جاتاتو وہ خود کو روک نہ پاتے تھے۔ حالاں کہ مدرسہ کی نظامت سے انہوں نے استعفیٰ بھی دے دیا تھا، لیکن جب کبھی مدرسہ نے یاد کیا انھوں نے انکار نہیں کیا۔

مجھےیاد آتا ہے کہ ہمارے زمانے میں مدرسہ میں اسٹرائک ہوئی۔ طلبہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے بضد تھے، جس کی وجہ سے پورا تعلیمی نظام ٹھپ پڑگیا تھا، جب مولانا کو یاد کیا گیا تو وہ آئے اور بڑے ہی دردمندانہ انداز میں تقریر کی،  جس کا طلبہ پر کافی اثر ہوا اور اسٹرائک کو ختم کرانے میں ان کی تقریر معاون ثابت ہوئی ۔

مولانا احمد محمود  کی پیدائش 7 جنوری 1929ء کو اعظم گڈھ کے ایک گاؤں (بکھرا) میں ہوئی تھی۔ تحریک آزادی کے تناظر میں اٹھنے والی تحریکات اور شخصیات خصوصاً مولانا ابو الکلام آزاد،سید سلیمان ندوی اور مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی وغیرہ کو چونکہ انھوں نے بہت قریب سے دیکھا اور ان کے کارناموں سے اچھی طرح واقف تھے، انہی وجوہ سے ان کی زندگی بھی مجسم تحریک بن گئی تھی۔ جس وقت ہندوستان کو آزادی کا پروانہ ملا اس وقت مولانا کی عمر تقریبا اٹھارہ سال تھی۔ اس لیے اس وقت کی اتھل پتھل، ادبی و صحافتی رجحان و منظرنامہ کا اثر اورپرتو ان کی زندگی پر پڑنا لازمی تھا۔ اس سے متاثر ہو کر جہاں انھوں نے اپنی پوری زندگی جماعت اسلامی ہندسے وابستہ ہوکر خود کو دینی وتحریکی کا موں کیلئے وقف کر دی، وہیں اس کے لئے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ ایمرجنسی کے موقع پر جماعت اسلامی سے منسلک جن شخصیتوں کو گرفتار کیا گیا،ان میں مولانا بھی شامل تھے۔

مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے وہ ہمیشہ کوشاں رہے ۔ وہ  تقریباً اپنی ہر تقریر میں اس کا ذکر کیاکرتے تھے۔یہی وہ احساس تھا جس نے انھیں 1960 میں مدرسہ محبوبیہ اسلامیہ(طویٰ) کے نام سے ایک اسکو ل اور لڑکیوں کی تعلیم کیلئے 6 فروری 1989کو جامعۃ الطیبات کے نام سے ایک ادارےکی بنیاد ڈالنے پر آمادہ کیا۔

جب تک ان کے قویٰ مضمحل نہیں ہو گئے، وہ ہر طرح کے تحریکی او ر سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ،اعظم گڈھ اور گرد و نواح  میں  ’انجمن اصلاح المسلمین‘ کے تحت اصلاح معاشرہ کےلیے ہونے والے جلسوں اور پروگراموں کے میں بھی دیکھے جاتے۔ان کی گفتگو کاانداز بہت پیارا اور من موہنا تھا۔

مادر علمی مدرسۃ الاصلاح سے انھیں بے حد لگاؤ تھا ،یہی وجہ ہے کہ جب انھیں نائب ناظم کی ذمہ داری دی گئی تواسے بھی بطرز احسن نبھایا۔ 15 مئی 1978 سے 9 نومبر 1991 تک  وہ مدرسۃ الإصلاح کے نائب ناظم رہے۔ مدرسہ  میں درسی کتابوں کی اشاعت کے لئے ’مکتبہ الاصلاح‘ کے قیام کا سہرا بھی انھیں کے سر جاتا ہے، انھوں نے مولانا وحید الدین خان کے ساتھ مل کر دینی، دعوتی اور اشاعتی کاموں کے لئے ’اسلامک پبلشنگ ہاؤس‘ کے نام سے ایک ادارے کی بھی بنیاد ڈالی، جس کا تجربہ بہت تلخ رہا، مولاناوحید الدین خان سے اس معاملہ میں انھیں بڑی شکایتیں تھیں۔ ان کا انکشاف  انھوں  نے مدرسۃ الاصلاح کے سالانہ مجلہ2007 میں زبیر عالم نیپالی اور اکرام الحق بنارسی  کو دئے گئے ایک انٹرویو میں کیا ہے ، جو پڑھنے کی چیز ہے۔ اس انٹرویو سے بہت حد تک مولانا کے فکر و فلسفہ اوران کے علمی و ادبی منظر نامہ  کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔

مجھے مولانا سے باضابطہ استفادہ کا موقع تو نہیں ملا، لیکن جن اساتذہ سے میں نے نظم ونثر میں اصلاح لی ان میں ایک مولانا احمد محمود اصلاحی بھی تھے۔ میں نے اپنے چند مضامین اور کچھ کلام میں ان سے اصلاح لی تھی۔ شاعری سے انھوں نے مجھے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ تب سے میں نے سوائے چند ایک غزلوں یا نظموں کے کچھ بھی نہیں کہا۔ اصلاح کا ان کا طریقہ بالکل جداگانہ تھا۔ وہ بسااوقات پوری پوری عبارت قلم زد کر کے، نیا لکھ دیتے۔ اس طرح مس خام کو کندن بنا نے کا ہنر انہیں خوب آتا تھا۔ ایسے جواہرات وہ بہت فیاضی سے تقسیم کیا کرتے تھے، اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ بہت سے کم علم بھی ان کی اصلاح کی بدولت قلم کار اور مصنف بن گئے۔ ایسے کئی لوگوں کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جومولانا سے پوری پوری نظمیں، غزلیں اور افسانے لکھوا کر بزعم خویش ادیب وشاعر بنے پھرتے ہیں۔ انہی کے بل بوتے پر کئی  لوگوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگریاں اور متعدد علمی وادبی اعزازات بھی حاصل کئے، لیکن مولانا نے کبھی  ان سے صلے کی تمنا نہیں کی۔

ہندوستان میں 1942 کے آس پاس تحریک اسلامی کے ذریعے ادب میں اسلامی تصو ر کا نظریہ پیش کئے جانے کے بعد جو لوگ اس سے وابستہ ہوئے ان میں نوجوان ادیب اور شاعر احمد محمود کا نام بھی شامل تھا جواس کے علم کو بلند کرنے اور اٹھانے والوں میں نمایاں تھے۔ ادب اسلامی کی تاریخ میں موصوف ماہر القادری، نعیم صدیقی، سید اسعد گیلانی، سید احمدعروج قادری، ابوالمجاہد زاہد، ابن فرید وغیرہ کے ہم پلہ رہے ہیں۔ آزادی کے بعد شائع ہونے والے معتبر علمی جریدوں میں ان کی تخلیقات اوران کی علمی وادبی خدمات سے آگاہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ،چراغ راہ ، دانش، معیار، انوار، پیش رفت، سلسبیل اور نئی نسلیں وغیرہ جیسے رسائل و جرائد کی پرانی فائلیں اس کی گواہ ہیں۔

ان رسائل میں وہ ضرار محمود ، ابن مختار ، ابن محمود اور کوثر اعظمی کے نام سے لکھا کرتے تھے ۔ انھوں نے بچوں کے لئے بھی کئی کتابیں لکھیں جن میں ’خونی بھوت ‘،’چھومنتر‘،’غریب مچھیرا‘ قابل ذکر ہیں ، جنھیں کوہِ نور پریس، لال کنواں دہلی نے شائع کیا۔ ان سب کے علاوہ بچوں کے رسالہ ’ہلال‘ اور ’نور‘ میں بھی ان کی کہانیاں اور نظمیں  شائع ہوتی تھیں جو بچوں میں کافی مقبول تھیں۔

مولانا کی تحریر کا انداز کافی اچھوتا تھا، اس میں علامہ  شبلی کی روا نی، مولانا آزاد کی ثقالت، مولانا مودودی کی شگفتگی اور مولانا  امین احسن کی انشا پردازی شامل تھی۔ ان کے جملے چھوٹے،  مگر طویل اور فلسفہ، منطق،  دلیل اور دلکش الفاظ کا مجموعہ ہوتے۔ مولانا اپنی تحریروں میں عربی وفارسی تراکیب  استعمال کرتے ،جو  نغمگی اور شعریت کے سبب کلاسیکیت سے پُر ہوتی تھیں، ان کی تحریر قاری کوبیزار نہیں کرتی؛ بلکہ لطف دیتی تھی۔ وہ بات سے بات پیدا کرنے کا ہنر جانتے تھے۔ اپنے دوست انور اعظمی کے انتقال کے بعد ان کے شعری مجموعے’’اذان سحر‘‘ میں ’وہ قافلے کی متاع گراں بہا انور‘ کے عنوان سے جو وقیع مقالہ انھوں نے سپرد قرطاس کیا ہے وہ مطالعہ کے لایق ہے، اس سے نہ صرف انور اعظمی کی شخصیت کی ایک جھلک سامنے آتی ہے ،بلکہ صاحب تحریر کی علمی و ادبی صلاحیت اور فنی مہارت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ یہ کتاب1967میں مطبع کوہ نور، لال کنواں (دہلی) سے شائع ہوئی تھی، جو اردو کی معروف ویب سائٹ ریختہ پر موجود ہے۔انور اعظمی کے علاوہ شہباز  اصلاحی (سابق استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء، جو ادبی حلقوں میں شہباز ہندی کے نام سے معروف تھے ) مولانا کے دوستوں میں سے تھے ۔

مدرستہ الاصلاح میں علم وادب کی جوت جگانے اور اساتذہ وطلبہ کے درمیان لکھنے پڑھنے کا ذوق بیدار کرنے میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ مدرسہ کے طلبہ کا ترجمان سالانہ ’مجلہ‘ کو معیاری بنانے میں ان کا معتدبہ حصہ ہے ، جو آج بھی بلا انقطاع تقریبا دہائیوں  سے جاری ہے۔ اردو کے نئے لکھنے والے اصلاحی فضلاء کے قلم کو صیقل کرنے اور ان کے اندر تحریری صلاحیت کو پروان چڑھانے میں اس مجلہ نے جو کردار  انجام دیا ہے اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔

پتہ نہیں کیوں، مولانا اپنی تحریروں کے اشاعت کے معاملے میں بعد کے دنوں میں بہت زیادہ کسر نفسی سے کام لیتے تھے ، ان کی اسی شان بے نیازی کی وجہ سے ان کے تخلیقات کا بڑا خزانہ منظر عام پر نہ آسکا ،  یقینا اب وہ  ان کے ورثاء کے پاس موجود ہوگا ۔میں نہیں کہہ سکتا کہ اس سرمائے کا کیا ہوگا لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اگر اس کی اشاعت عمل میں آتی ہے تو ادب میں ایک بڑا اضافہ ضرور ہوگا ۔

افسوس کہ میرے پاس مولانا کی چند غزلوں اور نظموں کے علاوہ ، جو ان کے چاہنے والوں نے فیس بک اور سوشل میڈیا پر شیئر کر رکھی ہیں، کچھ بھی نہیں ہے، ورنہ قارئین کی خدمت میں اسے پیش کیا جا سکتا تھا، ہم جب مدرسہ میں تھے تو پرانے رسائل و جرائد کی ورق گردانی کے دوران  وافر مقدار میں ان کا کلام نظر سے گذرا۔ اس جانب اگر کوئی توجہ دے تو مستقل کام کیا جا سکتا ہے ۔کیوں کہ ان کی شاعری محض شاعری نہیں، بلکہ ایک تہذیب کی نشانی تھی ، ایک ایسی تہذیب جہاں زندگی اور تحریکیت دھڑکتی اور سانس لیتی ہوئی  محسوس ہوتی ہے ۔ان کی شاعری میں متانت کی لو ، شرافت کی ضیاء ، شائستہ آمیز شگفتگی کی تابندگی ، وضع دارنہ روایت کی پاسداری ، اصلاح کے جذبے اور درد سے مملو طنز کی چبھن ہے ، جہاں خوش ذوقی  وخوش گفتاری ، محبت  و  صداقت   اور اساتذہ سخن کی جھلک دکھائی دیتی ہے ۔وہ صورتا بھی اس کے عکاس تھے ، دبلے ، پتلے ، لمبے مخملی ٹوپی اور شیروانی  زیب تن کئے ہوئے چلتے تو پرانے زمانے کے اساتذہ ، جن کے بارے میں کتابوں میں پڑھا یا اساتذہ سے کہانیوں کی صورت سنا، یاد آ جاتے۔

تلبیۃ الشوق کے عنوان سے ان کی  ایک طویل نظم  ہے ، اس کا آخری حصہ ملا حظہ فرمائیں :

حضور( ﷺ)!آیا میں دامانِ تار تار لئے 

خزاں گزیدہ ، بخم عہد نو بہار لئے 

دلِ خجستہ لئے ، چشم اشکبار لئے 

جہانِ شوق لئے ، جانِ بے قرار لئے 

دراز دامن رحمت کا دیکھ کر سایہ 

حضور( ﷺ)!

آیا میں آیا

حضور( ﷺ)!

میں آیا

حضور (ﷺ)!مجھ سا تہی دست و سوختہ ساماں

اسیر حلقہ ء زنجیر صد غم ِدوراں

رہین شوق فراوان و کشتہ  ء ہجراں

نہ سیم و زر نہ بہائے گہر نہ لعل گراں

بنام نذر دل زار و چشم ِتر لایا

حضور( ﷺ)!

آیا میں آیا

حضور( ﷺ)!

میں آیا

مولانا کی ایک غزل سے دو شعر:

اہتمام بزم کرنا تھا ہمیں ہم کر چلے

ہم سے کیا اب جب لنڈھے خم ، دور میں ساغر چلے

تب کہیں ہوتی ہے جاکر عشق میں معراج غم 

سانس کہتے ہیں جسے، جب صورت نشتر چلے 

ایک اور غزل سے چند اشعار :

نام لیا ہے ان کا ، لیں گے ، ہونٹ ہمارے سلوا دو 

ہم مجرم ہیں جرم وفا کے ، دیواروں میں چنوا دو 

کس میں کتنا ظرف ہے ظالم یہ بھی کچھ معلوم تو ہو 

ہاتھ بڑھاتے ہیں ہم اپنے ، ہتھکڑیاں تم لگوا دو 

نا ممکن ہے راہ وفا میں پاوں بڑھا کر واپس  لیں 

خواہ زن و فرزند ہمارے کولہو میں تم پلوا دو 

جب میں مدرسہ میں تھا تو کئی اساتذہ کی زبانی سناکرتا تھا کہ ایمرجنسی کے دوران پیدا شدہ حالات اور قید و بند کی نثری روداد بہت سے لوگوں نے مرتب کی تھی، مولانا کوثر اعظمی نے بھی ایمرجنسی کی پوری روداد منظوم لکھی تھی، جو  نثر کے مقابلے بہت زیادہ مقبول ہوسکتی تھی، لیکن مولانا نے اسے بھی بے اعتنائی کی بھینٹ چڑھا دیا اور وہ شائع نہ ہو سکی ، اگر ان کی منظوم روداد منظرعام پر آگئی ہوتی تو یقیناً ایک شہ پارہ قرار پاتی ۔

مولانا جس قدر ذہین تھے، ان کا قلم بھی اتناہی رواں اور شستہ تھا۔  وہ بہت کم وقت میں قلم برداشتہ طویل افسانے اور کہانیوں کے علاوہ نظمیں اور غزلیں کہنے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔ انھیں اردو اور فارسی زبانوں پر عبور حاصل تھا اور وہ ان میں نثر ونظم کی صلاحیت رکھتے تھے ۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ ان کا قلم نہ کبھی رک سکتا ہے ، نہ تھک سکتا ہے۔  وہ جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے اس کے مالہ و ماعلیہ کا احاطہ کر لیتےتھے، ان کی معمولی رپورٹ بھی رپورتاژ کی شکل اختیار کر لیتی، مدرسۃ الاصلاح میں اسٹرائک کے بعد جو فیکٹ فائڈنگ کمیٹی بنائی گئی؛تو اس کے ذمہ دار بھی مولانا ہی تھے، معروف تھا کہ مولانا نے جو رپورٹ پیش کی تھی وہ اپنے آپ میں ایک کتاب تھی۔

چند سال قبل مدرستہ الاصلاح میں تشویش ناک حد تک داخلہ کی شرح میں کمی کے بعد اس کی وجوہ جاننے اور اصلاح نصاب کے حوالے سے سفارشات  تیار کرنے کے لئے منتظمین نے جو کمیٹی تشکیل دی تھی، مولانا اس کے چئیرمین مقرر کیے  گئے تھے، ارکان میں ڈاکٹر علاء الدین اصلاحی سمیت، علی گڑہ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلی بھی شامل تھے۔کمیٹی نے طلبہء قدیم کے نام ایک خط ارسال کیا تھا، جس میں ان سے ذاتی تجربات کی روشنی میں رائے اور مشورے طلب کئے گئے تھے۔  میں نے بھی مولانا کوایک تفصیلی خط ارسال کیا تھا ، جسے پڑھ کر انہوں نے خوشی کا اظہار کیا تھا۔ یہ بات مجھے ڈاکٹر  علاء الدین اصلاحی صاحب کے ذریعہ معلوم ہوئی۔ بعد میں پتہ چلاکہ پوری دنیا سے متعدد فاضلین نے اپنی  تجاویز اور مشورے ارسال کئے تھے ، میری گذارش پر مدرسۃ الاصلاح کے فاضل اور شاعر جناب ضیاء الرحمان اعظمی، جو میرے سینئر اور بہت مخلص دوست ہیں، انھوں نے بھی ایک طویل خط لکھا تھا ،جس کی ایک کاپی میرے پاس بھی محفوظ ہے ، بہر حال ان تمام مکاتیب، اساتذہ و طلباء سے انٹرویو اور جائزے کی روشنی میں کمیٹی نے سفارشات انتظامیہ کو پیش کردیں۔  مجھے معلوم ہوا کہ اس میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے مولانا نے کافی محنت کی تھی، جس کیرپورٹ بھی کافی ضخیم تھی، لیکن اسے بدنصیبی سے ہی کہا  جائے گا کہ انتظامیہ نے اب تک اس کو  نافذ نہیں کیا۔ حالاں کہ اگر وہ سفارشات نافذ ہو جاتیں تو مدرسہ کی حالت میں یقیناً تبدیلی آتی اور اسکے مثبت اثرات مرتب ہوتے۔

ان کے ایک قریبی رفیق, دوست  اور ہم درس ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی نے اپنی کتاب’ ذکر فراہی‘( صفحہ 938) میں  جس  کودار التذکیر اردو بازار لاہور نے 2002میں انتہائی اہتمام کے ساتھ شائع کیا  تھا ، اپنے دوست کے بارے میں جس جذبے کا اظہار کیا ہے وہ ان کی علمیت کے لئے ایک طرح سے حوالہ کا درجہ رکھتا ہے۔  اس  کتاب کو  دائرہ حمیدیہ (سرائے میراعظم گڈھ، ہندوستان)نے بھی 2001 ء میں چھَاپا ہے، لیکن ہندوستانی نسخہ کو مولانا نے دائرہ حمیدیہ کے ذمہ داران پر جاہلانہ تصرفات، کانٹ چھانٹ اور علمی بددیانتی کا الزام لگاتے ہوئے نامعتبر قرار دے کر رد کر دیا تھا۔ درج ذیل اقتباس میں نے پاکستانی نسخہ سے نقل کیاہے ، ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی نے’احمد محمود کوثر اعظمی‘ عنوان کے تحت لکھا ہے:

’’احمد محمود صاحب مدرستہ الاصلاح میں میرے ہم جماعت تھے۔ شاعر اور افسانہ نویس وہ بہت پرانے ہیں، زمانہ طالب علمی ہی سے انہیں ان چیزوں کا شوق تھا۔ اب ایک پریس لگا کر طابع بھی ہوگئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے ساتھ ان کی وابستگی بھی زمانہ طالب علمی ہی سے قائم ہے۔ کسی زمانہ میں ضلع کے ناظم بھی تھے، اب صرف رکن ہیں۔ مدرستہ الاصلاح کے نائب ناظم جب سے ہوئے ہیں، ان پر ذمہ داریوں کابوجھ بڑھ گیا ہے۔ یہ خدمات وہ بلا معاوضہ انجام دیتے ہیں۔ معاش کیلئے اپنے چھوٹے سے پریس کی تھوڑی بہت آمدنی پر قناعت کرتے ہیں۔ اس دور میں ان کا یہ جذبہ قابل ستایش ہے۔ انہیں جب صلے کی پروا نہیں توستایش کی پروا کیا ہوگی۔ مدرستہ الاصلاح اور فکر فراہی سے قریبی تعلق کے علاوہ حکیم یوسف صاحب ساکن بندول کے عزیز بھی ہیں۔ حکیم صاحب نے مولانا فراہی کی صحبت میں وقت گزارا ہے۔ احمد محمود صاحب کی بیوی حکیم صاحب کی نواسی ہیں، کئی زبانی رویات انہی کے واسطے سے مجھ تک پہنچیں۔ مولانا فراہی کے بعض خطوط بھی انہوں نے ڈھونڈ نکالے؛ جن کی نقلیں مجھے فراہم کیں۔ ان کا وطن سرائے میر کے قریب ایک گاؤں موضع طویٰ ہے جو ضلع کی مشہور مسلمان بستیوں میں سے ہے۔ سیدھے سادے قسم کے مسلمان ہیں۔ ان کو بر سرکار دیکھ کر ’’الکاسب حبیب اللہ‘‘ کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔ 79ء اور 80 ء کے سفر میں ان کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ رہا۔ اکثر انہیں کمپوزنگ ریک پر کھڑے ہینڈ کمپوزنگ میں مصروف پایا۔ چھوٹے بھائی کے ساتھ ہاتھ سے چھاپے کی مشین چلاتے دیکھا‘‘۔

ایسے جملہ حسنات و صفات اور  خوبیوں والے شخص کا چلے جانا یقیناًافسوس ناک ہے، اللہ انھیں جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔ مولانا ہی کے چند اشعار سے میں اپنی تحریر کو ختم کرتا ہوں۔

بن پڑا جو، کیا وہ کام، چلا

ہو گئی زندگی کی شام، چلا

مے کشو! مے  کدہ سلامت باش

مزید دکھائیں

محمد علم اللہ

مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میڈیا کنسلٹنٹ ہیں

متعلقہ

Back to top button
Close