شخصیات

سرسید احمد خاں کی ادبی خدمات

(۱۸۱۷ء۔ ۱۸۹۸ء)

جاوید اختر

(کمھرولی، کمتول، دربھنگہ بہار)

سرسید احمد خاں ایک مختلف الحیثیات شخص تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں سیاسی، تعلیمی، ادبی، تحقیقی اورمذہبی غرض ہر قسم کے علمی اور قومی مشاغل میں حصہ لیا۔ انہوں نے نہ صرف علمی میدان میں اپنا گہرا نقش بٹھایا بلکہ ہر جگہ دیرپا اثرات چھوڑے۔

جہاں تک اردو زبان و ادب کا سوال ہے تو وہ اردو کے اولین معماروں میں تھے۔ تعلمی معاملات میں ان کے خاص نظریات نے علی گڑھ تحریک کی صورت اخیات کی اور دینیات میں بھی انہوں نے فکر وتصور کے نئے راستے دریافت کئے۔ غرض علم و عمل کے تقریباً ہر شعبے میں ان کی عظیم شخصیت نے مستقل یادگار چھوڑی ہیں۔

سرسید کے کارناموں کی فہرست لمبی ہے۔ اردو زبان وادب سے ان کی دلچسپی سب سے زیادہ رہی ہے۔ انہوں نے نہ صرف اردو زبان کی حفاظت کی بلکہ اسے غیر معمولی ترقی دے کر اردو ادب کے نشو و نما و ارتقاء میں نمایاں حصہ لیا۔ انہوں نے اردو نثر کو اجتماعی مقاصد سے روشاس کرایا اور اسے عام فہم ، آسان اور سلیس بناکر عام اجتماعی زندگی کا ترجمان بنایا۔ ان سے پہلے نثر میں عام طور پر مضمون و معنی کو ثانوی اور طرز بیان کو اولین اہمیت دی جاتی تھی۔ مگر انہوں نے مضمون کو اولیت عطا کی۔ تکلف اور تصنع ، بوجھل الفاظ اور عبارات آرائی کے خلاف ریزوں سے مالا مال کردیا۔

سرسید احمد خاں کی تصانیف کو تاریخی ترتیب کی روشنی میں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہایت اثر پذیر شخص تھے۔ وہ جس ماحول میں رہے اس کا اثر قبول کیا۔ ان کے رجحانات اور مذاق تصنیف کی پیہم تبدیلیاں یہ بھی ثابت کرتی ہیں کہ ان میں جلد جلد بدلی جانے کی بے حد صلاحیت تھی۔ ان کی تصانیف مضامین اور اسلوب بیان دونوں ارتقا اور تغیر کا عجیب و غریب نقشہ پیش کرتی ہیں۔ ان کی زندگی کا ابتدائی اور خاندانی روایات میں ڈوبا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بعد جب انہوں نے ملازمت شروع کر دی تو پرانی ڈگر سے ہٹ کر وہ مستقرین یوروپ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرنے لگے۔ لیکن پہلی جنگ آزادی جسے غدر کا نام دیا گیا کے بعد ان کا ذہن زندگی کے جدید تر ااور عجیب تر مسائل سے دوچار ہوجاتاہے۔ ان کی زندگی میں مغربی خیالات و رحجانات کو فروغ اس وقت ملتا ہے۔ جب وہ انگلستان کا سفر کرتے ہیں۔ انگلستان کے سفر کے بعد جو رنگ ان پر چڑھتا ہے وہ اخیر وقت تک ان کے ساتھ رہتا ہے۔ اور یہی رنگ انہیں اس صدی کے دوسرے ارباب فکر کے مقابلہ میں خاص امتیاز بخشتا ہے۔ ایک ایسا امتیاز جو زندگی کے نئے رنگ یعنی جدید نظریہ حیات کے پہلے بڑے نمائندہ و شارح تھے۔ دوسرے بہت سے لوگوں نے نہ صرف ان سے اثر قبول کیا بلکہ ان کی پیروی کی۔

پہلی جنگ آزادی (غدر) سے پہلے ان کے اندر دو رجحانات نظر آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ پرانے رنگ میں ڈوبے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور دوسرا یہ کہ انگریزوں سے میل جول کی بناپر ان کے اندر مغربی طرز زندگی اور جدید خیالات کا کچھ نہ کچھ اثر دکھائی دیتا ہے۔ ریاضی، تاریخ اور تصوف کے علاوہ ان کی تصنیفی زندگی کے دور اول میں ان کی تحریروں میں مناظرہ و تقابل مذہب کا رجحان غالب ہے۔ اس دور میں ان کا نقطۂ  نظر علمی اور دینی تھا۔ اس کے علاوہ اس دور میں وہ آثار قدیمہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس دور کی خاص خاص تصانیف ’’جام جم‘‘ (فارسی) ۱۸۳۹ء، ’’انتخاب الاخوین‘‘ ،’’جلاء القلوب بذکر المحبوب‘‘ ، ’’تحفۃ حسن‘‘، ’’آثار الصنادید‘‘، ’’فوائد الافکار‘‘، ’’کلمۃ الحق‘‘ ، ’’راہ سنت و رد بدعت‘‘، ’’ضیقہ‘‘ ، ’’کیمیائے سعادت‘‘، ’’تاریخ ضلع بجنور‘‘ اورآئین اکبر کی تصحیح‘‘وغیرہ ہیں۔

پہلی جنگ آزادی کے بعد ان کا تبادلہ بجنور سے مراد آباد ہوگیا۔ اس دور میں وہ مسلمانوں کو غدر میں شرکت کے الزام سے بچانے کی کوشش میں لگ گئے۔ اس الزام سے بچانے کے لئے انہوں نے کئی کتابیں لکھیں جن میں ’’تاریخ سرکش بجنور‘‘، ’’اسباب بغاوت ہند‘‘ اور ’’رسالہ لائل محمڈنز آف انڈیا‘‘ وغیرہ اہم ہیں۔ اس دور میں انہوں نے ’’تاریخ فیرزو شاہی‘‘ ’’تبین الکلام‘‘ ، ’’سائنسٹی فک سوسائٹی اخبار‘‘ (جو بعد میں ’’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘‘ ہوگیا) اور ’’رسالہ احکام طعام اہل کتاب‘‘ وغیرہ بھی لکھیں۔

تیسرے دور میں ان کے مصلحانہ خیالات میں بڑی شدت پیدا ہوگئی تھی۔ اب وہ اپنے اظہار خیال میں نڈر اور بے خوف ہوگئے تھے اور پبلک کی مخالفت کو کچھ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ ان کے ذہن پر جدید انداز فکر نے غلبہ پالیا تھا۔ انگریزوں کی صحبت و رفاقت نے جو رنگ ان پر چڑھایا تھا وہ تیز تر اور شوخ ہوگیا تھا۔ اس رجحانات کو ان کی اس دور کی تصانیف میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس دور کی اہم تصانیف اس طرح ہیں۔ ’’سفرنامہ لندن‘‘، ’’خطبات احمدیہ‘‘ ، ’’تہذیب الاخلاق‘‘ ڈاکٹر ہنٹر کی کتاب پر ریویو‘‘ وغیرہ۔

اس طرح سرسید کے فکر وعمل کے دو ہی اہم میدان تھے ایک مذہب دوسرا سیاست لیکن ان کی ادبی حیثیت بھی ہر لحاظ سے مسلم ہے۔

ان کے نزدیک علم و ادب صرف تفریحی مشغلہ نہ تھا بلکہ ان کے لیے یہ چند مخصوص خیالات و عقائد کے اظہار کا وسیلہ تھا۔ وہ ادب کو مقاصد زندگی کا آلۂ کار سمجھتے تھے۔

سرسید احمد کا محبوب مشغلہ تصنیف و تالیف اور مطالعہ تھا پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ شعر وادب کی ترقی کے لیے کوشش نہ کرتے۔ اردو نثر نظم کی خامیوں سے وہ پوری طرح واقف تھے۔ اردو زبان وادب کے فروغ کے لیے انہوں نے اہل قلم کو بہت سے مفید مشورے بھی دیئے۔ نورالحسن نقوی لکھتے ہیں :

’’وہ ادب کی معصومیت و افادیت کے علمبردار تھے۔ وہ قصے کہانیاں جو محض وقت گزاری کا ذریعہ ہوں اور وہ شاعری جس کا مقصد صرف لطف اندوزی ہو ان کے لیے قابل تفریح تھے۔ وہ سلادینے والے نہیں ، بیدار کرنے والے شعر وادب کے قائل تھے۔ ‘‘

(سرسیدا ور ان کے کارنامے، نورالحسن نقوی، ایجوکیشنل بک ہائوس علی گڑھ، دوسرا ایڈیشن، ۲۰۱۵ء، ص:۷۶)

اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ سرسید احمد خاں کے کارناموں میں ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ ان کا ادبی سرمایہ خالص ادبی معیار سے قابل ذکر ادب میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ ان کی انشا پردازی، طرز بیان، ان کی نثر اور ان کی مقالہ نگاری، غرض ان کاکل سرمایہ تحریر اردو زبان وادب کا قیمتی سرمایہ ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close