شخصیات

سر سیّد احمد خاں : تعلیمی مشن کے علم بردار

ڈاکٹر سیّد احمد قادری

سر سید نے ایک بڑی اور معیاری یونیورسٹی کا جو خواب کبھی دیکھا تھا، اس خواب کی تعبیر بلا شبہ ہمارے سامنے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل موجود  ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ بدلتے  وقت اور حالات یا یوں صاف صاف کہا جائے کہ بعض متعصب سیاست دانوں کے باعث عہد حاضر میں اسے وہ وسعت اور فروغ حاصل نہیں ہو پا رہا ہے جو مسلمانوں کی آبادی کے تناسب میں ہونا چاہئے تھا۔ یہی وجہ ہے آج افسوس کرتے ہوئے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ کاش مغل حکمراں،  اس ملک کے اندر بڑی بڑی تاریخی عمارتوں کی بجائے اپنے عہد میں سر سید کی طرح مدارس، درس گاہ یا دانش گاہوں کی تعمیر کراتے، تو اس وقت یہاں کے مسلمان جس طرح تعلیم کے معاملے بہت پیچھے چھوٹتے جا رہے ہیں، شائد ایسا نہ ہوتا۔  ایسے حالات میں سر سید کی ایسی شاندار کوششوں کی جتنی تعریف کی جائے اورجس قدر شکر گزار ہوا جائے، وہ کم ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سر سید احمد خاں نے بھارت کے مسلمانوں کو بہتر تعلیم کی جا نب متو جہ کرانے کی ہر ممکن کوشش کی اور پوری طرح کامیاب رہے۔ اس اہم مقصد کے حصول کے لئے وہ تحریر و تقریر کے ساتھ ساتھ عملی میدان میں  ایک بڑی تعلیمی تحریک لے کر اترے اور تمام تر مخالفتوں کے باوجود سخت جد و جہد سے ایسے کارہائے نمایاں انجام دئے، جن کی بدولت ملک کے مسلمانوں میں تعلیم کا رجحان بڑھا اور وہ نہ صرف باوقار زندگی گزارنے کے لائق ہوئے بلکہ  اپنے تشخص اور پہچان بنانے میں بھی کامیاب ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ سر سید احمد خاں کی اس عظیم دانش گاہ سے کیسی کیسی اہم اور معتبر شخصیات نے سیاسی، سماجی، سائنسی، صحافتی، ادبی، کھیل کود اور فلموں  کے میدان میں قابلیت و صلاحیت سے شناخت قائم کی، ایسی شخصیات کی بہت لمبی فہرست  مرتب کی جا سکتی ہے ۔

سر سید کا قائم کردہ ایک سؤ چالیس سالہ اس قدیم تعلیمی ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اپنی ایک شاندار تاریخ ہے۔ اس کے ماضی کے اوراق کو پلٹیں تو ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ مغل حکومت کا خاتمہ، ان کی پسپائی، انگریزوں کا بڑھتا تسلط اور ان  انگریزوں کا، خاص طور پر ملک کے مسلمانوں پر جبر واستبداد، اس دور کے لئے لمحۂ فکریہ تھا۔ یہاں کے مسلمانوں کے حوصلہ، جرأت، ہمّت، وقعت اور عزت وناموس کو انگریزوں نے پارہ پارہ کر دیا تھا۔ ایسے حوصلہ شکن اور ناگفتہ بہ حالات کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔ ان کا تدارک کن نہج پر ہو۔ ان امور پر امت مسلہ کے لئے درد رکھنے اور فکر کرنے والے دانشور، مدبر اور محب وطن پریشان تھے اور وہ اپنے اپنے افکار وخیالات کے ساتھ ساتھ سامنے آئے۔ ان میں سر سید احمد خاں کا نام نمایاں تھا۔ ان کے دل ودماغ میں انسانی درد اور فلاح امّت مسلمہ کا جزبہ بھرا  ہواتھا اور وہ ملک کے مسلمانوں کے مستقبل کے لئے  بے حدفکر مند تھے ۔ بھارت کے مسلمانوں کے بہتر اور شاندار مستقبل کے لئے کچھ کر گزرنے کے لئے وہ بے چین تھے۔ سر سید کی دور اندیش نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ اگر یہی نا مساعد حالات رہے تو یہاں کے مسلمانوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ اس فکرکے تحت وہ مسلمانوں کے لئے عصری تعلیمی مشن کو لے کرعملی میدان میں کود پڑے اور بہت ساری مخالفتوں کے باوجود وہ اپنے تعلیمی مشن کو لے کر آگے بڑھتے گئے۔ لیکن جس طرح سے اس زمانے میں ان کے اس تعلیمی مشن کی مخالفت ہو رہی تھی اس وقت سر سید کے ذہن میں یہ خیال ابھرا کہ عوام تک اپنے اس تعلیمی مشن کے افکار و خیالات کی دور تک رسائی کے لئے بہترین ذریعہ صحافت ہو سکتی ہے۔ چنانچہ انھوں نے اپنے خواب کو شرمندئہ تعبیر کرنے کے لئے خاردار اور پر خطر راستے کا انتخاب اپنے ابتدائی دور میں ہی کیا اور بھارت کے مسلمانوں کو تعلیمی، معاشرتی اور تہذیبی طور پر ایک مکمل اور بہتر طرز زندگی کی جانب راغب کرانے کے اور ان کی معاشی بدحالی دور کرنے، سیاسی و سماجی شعور پیدا کرنے اور سماجی پسماندگی ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے کھوئے ہوئے وقار وعظمت کو بحال کرنے کے مقصد کے تحت انھوں نے اپنے مشن کو کامیاب  بنانے کے لئے صحافت کا  بھی سہارا  لیا۔

 ہم اس تلخ حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ کوئی بھی شخص جب کوئی بڑے منصوبہ اور مقصد کو عملی جامہ پہنانے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے بہت سارے مسائل سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ اپنے ان خاص مقاصد کے حصول کے لئے سر سید نے جنوری 1864 ء میں ’’سائنٹفک سوسائیٹی‘‘ غازی پور میں قائم کی۔ پورے دو سال تک اپنی سرگرمیوں کا بڑھانے کے بعد 1866 ء میں اسی نام سے ایک اخبار علی گڑھ سے جاری کیا۔ چونکہ سر سید کو انگریزی اور اردو کو ساتھ لے کر چلنا تھا اور دونوں ہی زبان کے لوگوں کو مخاطب کرنا تھا، اسی لئے اس کا دوسرا نام’’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ‘‘ رکھا۔ اس میں ایک کالم اردو اور دوسرا انگریزی میں ہوتا تھا ابتدأ میں یہ ہفتہ وار تھا، لیکن بعد میں یہ سہ روزہ ہو گیا۔

     اس طرح اب ہم یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ سر سید نے تعلیمی، سماجی، اور معاشرتی تبدیلی کا سفر صحافت سے کیا اور ایک طرف جہاں انھوں نے اپنے گہرے مطالعہ ومشاہدہ اور تجربہ سے اردو صحافت میں گرانقدر اضافے کئے، وہیں دوسری جانب سر سید کو اردو صحافت نے ان کے مقاصد کے حصول اور ان کے افکار ونظریات کی تبلیغ وترسیل کے لئے راہ ہموار کیا۔ سر سیدنے اپنے دونوں اخبارات میں ہمیشہ تعلیمی مسئلے کو فوقیت دی۔ جس کے بین ثبوت ان کے وہ ادارئے ہیں۔ جن میں انھوں نے  بڑے خوبصورت اور سلیس انداز میں  اپنی باتوں کو پیش کرتے ہوئے لوگوں کے دل و دماغ تک پہنچنے کی کامیاب کوشش کی۔ اس کی چند مثالیں دیکھئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    ’’  افسوس ہے کہ بنگالہ کے مسلمانوں نے جو تدبیر مسلمانوں کی ترقی کی اختیار کی ہے۔ اس سے ہم کو اختلاف کلی ہے۔ ان کی تدبیر، جس پر وہ مختلف طریقوں سے زور دے رہے ہیں۔ یہ ہے کہ گورنمنٹ کی مسلمانوں کے لئے خاص رعایت مبذول ہو۔ سابق میں بھی اس مطلب سے انھوں نے بہت زبردست درخواست پیش کی تھی، اور حال میں نواکھالی کے مسلمانوں نے اس قسم کی درخواست پیش کی ہے۔ ہم اس تدبیر کو پسند نہیں کرتے۔ ۔ ۔ ہمارا اصول‘‘سلف ہیلپ‘‘ پر مبنی ہے۔ ہم چاہتے ہیں مسلمان خود اپنی ترقی کے لئے آپ کوشش کریں ‘‘۔  (Eminent Mussalmans page-15)

   ’’ میری یہ سمجھ ہے کہ ہندوستان میں دو قومیں ہندو اور مسلمان ہیں اگر ایک قوم نے ترقی کی اور دوسری نے نہ کی تو ہندوستان کا حال کچھ اچھا نہیں ہونے کا۔ بلکہ اس کی مثال ایک کانڑے آدمی کی سی ہوگی۔ لیکن اگر دونوں قومیں برابر ترقی کرتی جاویں تو ہندوستان کے نام کو بھی عزت ہوگی اور بجائے اس کے کہ وہ ایک کانڑی اور بڈھی بال بکھری، دانت ٹوٹی ہوئی بیوہ کہلاوے، ایک نہایت خوبصورت، پیاری دلہن بن جاوے گی‘‘۔ (اخبار ’سائنٹفک سوسائٹی، علی گڑھ، 3  ؍جون1873ء )

 ’’ جو تعصبات کہ آپس کی محبت اور ارتباط کے مخل ہوتے ہیں ان کو دور کرے اوران کے دلوں میں ایسا عمدہ کرے کہ وہ تمام قوم جسمانی بلکہ روحانی بھلائی و بہبودی کے بڑے بڑے کاموں میں اپنے آپ کو بھائی بھائی سمجھیں ‘‘۔   ( سائنٹفک سو سائیٹی، علی گڑھ، 19؍  اپریل ٗ1867 ء )

 ان اداریوں کے یہ اقتباسات سر سید کی ذہانت، دانشوری، دوراندیشی اور ان کے نظریات و خیالات کے مظہر ہیں اور ہر اداریہ ایک طویل تشریح و تفسیر کا متقاضی ہے۔ سر سید نے بھارت کے مسلمانوں کوکامل درجہ کی تہذیب اختیار کرنے، ان کا شمار دنیا کی معزز اور مہذب قوموں میں کرانے  کے خاص مقصد کے تحت24 ؍  دسمبر 1875 ء سے ایک رسالہ بھی نکالا تھا۔ اس کے بھی دو نام تھے، اردو میں ’’تہذیب الاخلاق‘‘ اور انگریزی میں ’’دی محمڈن سوشلریفارمر‘‘۔ ان  رسالوں کے مختلف شماروں میں ایسے ایسے اہم، بامقصد اور مؤثر مضامین شائع ہوئے کہ بعض ناعاقبت اندیشوں کی نیندیں حرام ہونے لگیں اور ’’تہذیب الا خلاق‘‘ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور کامیابی کی جانب بڑھتے ہوئے سر سید کے قدم نے قدامت پسند لوگوں اور سر سید کے مخالفوں کو بے چین کر دیا او رسر سید کی  رہنمائی میں بڑھتے کارواں کے سامنے انھیں اپنا وجود خطرہ میں نظر آنے لگا تھا۔ لیکن الطاف حسین حالی جیسی جید شخصیت، جوسر سید کی تحریر و تحریک کی بڑی مداح تھی۔ ’  انھوں نے ’تہذیب الا خلاق ‘‘ کی اشاعت کے بعد اس کی بڑھتی مقبولیت اور مخالفت کو دیکھتے ہوئے لکھا تھا کہ ’ اس کی اشاعت کا سب سے بڑا نتیجہ یہ ہے کہ ’’محمڈن اینگلو اورینٹل کالج‘‘ قائم ہو گیا، جو آج تعلیم کا سب سے بڑا مرکز بن کر ’  علی گڑھ مسلم یونیورسٹی‘ کے نام سے ہمارے سامنے ہے ‘۔

 اس مختصر جائزہ کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سر سید نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قائم کر بھارت کے مسلمانوں کے اندر تعلیمی صلاحیت اور لیاقت پیدا کر، نہ صرف تعلیمی میدان میں کامیاب ہونے بلکہ سماجی، سیاسی اور معاشرتی و تہذیبی اقدار کو سمجھنے اور عمل کرنے کا رجحان بھی پیدا کیا ہے۔ یہ سر سید کی ہی دین ہے ملک کے کئی گوشوں میں سیر سید کی طرز پر تعلیمی مراکز کا قیام عمل میں لا کر مسلمانوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر، ان کے اندر خود اعتمادی اور زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیابی حاصل کرنے کا حوصلہ پیدا کیا جا رہا ہے۔ جو دِل یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔ سر سید کی قائم کردہ یونیورسٹی نے جس طرح یہاں کے مسلمانوں کو تعلیمی، سماجی، معاشرتی اور سیاسی شعور اور فہم و ادراک پیدا کر باوقار زندگی گزارنے کا جو حوصلہ دیا ہے۔ اس سے بعض متعصب او رفرقہ پرست لوگوں کی پریشانیاں بڑھی ہوئی ہیں۔  اس یونیورسٹی کی مخالفت وہی لوگ زیادہ کر رہے ہیں، جو منظم اور منصوبہ بند سازش کے تحت یہاں کے مسلمانوں کو حاشیہ پر ڈال کر انھیں تعلیمی، سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر بے وقعت اوربے دست و پا کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ سر سید کاتعلیمی مشن کبھی ختم نہیں ہوگا اور سر سید کے تعلیمی مشعل کی روشنی دور بہت دور تک نسل در نسل پہنچتی رہے گی، جن سے امت مسلمہ ہمیشہ فیضیاب ہوتے رہینگے اور سر سید  کے دیکھے ہوئے خواب کی نئی نئی تعبیر یں سامنے آتی رہینگی۔

مزید دکھائیں

سیّد احمد قادری

ڈاکٹرسیّد احمد قادری معروف کالم نویس ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close