شخصیات

سلطان العلماء کے خاندانی اور شخصی حالات و واقعات

حکیم فخر عالم

 مولانا سلطان احمد اصلاحیؒ کی ہر اَدا سے سلطانی وجاہت عیاں تھی۔ دستارِ سلطانی تو ان کی شناخت ہی تھی۔ قلم کے وہ بادشاہ تھے۔ سلطان العلماء کا خطاب دنیائے علم و ادب نے انہیں دیا تھا۔ گو را چٹا با ریش چہرہ بھی کسی سلطان کا معلوم ہوتا تھا، مزاج بھی کچھ اسی قسم کا پایا تھا اور خاندانی پسِ منظر بھی وہ کچھ ایسا ہی رکھتے تھے۔ مختصر یہ کہ ان کی شخصیت اسمِ با مسمیّٰ تھی۔

 فکری جمود کی ہولناکی اِس وقت عالمِ اسلام کا سب سے بڑا المیہ ہے، تیرگی کے اِس ماحول میں سلطان العلماء ان معدودے چند چہروں میں تھے جو منبع بصیرت کہے جاسکتے ہیں ۔ ۲۸،۲۹ مئی ۲۰۱۶ء کی درمیانی شب میں یہ چراغ بھی گُل ہوگیا (اِنَّا ﷲِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ)، مگر وہ اپنے پیچھے فکر و نظر کی ایک ایسی شفق چھوڑ گیا ہے جو مدتِ مدید تک اس کی یاد دلاتی رہے گی۔

 مولانا سلطان احمد اصلاحی مرحوم کی شخصیت دینی تفقہ، فقہی بصیرت، اسلامی دانشوری اور عبقریت سے عبارت تھی اور علماء کی اُس جنسِ کم یاب کا ایک نادر حصہ تھی، جو مجتہدانہ فکر سے متصف تصور کی جارہی تھی۔ اِن اوصاف کی بنیاد پر اُن کی ذات میں ابن تیمیہ اور شاہ ولی اللہ رحمہما اﷲ کا پَرتو محسوس کیا جارہا تھا۔

مولانا کی شخصیت کا سب سے اہم تفرد ان کا وسیع فکری کینوس تھا۔ ان کے مزاج میں اصلاحیت نہایت جامع تعبیر کے ساتھ موجود تھی، اسی لیے وہ تقلیدِ محض کاقلادہ کبھی اپنی گردن میں نہیں ڈال سکے اور نہ روایت پرستی سے مصالحت کرسکے، بلکہ ان کا مزاج ہمیشہ جامد ریوں سے منحرف اور متصادم رہا۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا کا طرزِ فکر محدود اذہان کے بہت سے معاصر علماء کے لیے ناقابلِ فہم تھا۔

تحریکوں اور جماعتوں سے وابستگی لازمی طور پر کچھ حدود و قیود اور بندشیں عائد کرتی ہے، اس لیے کہ جماعتیں اور تحریکیں مخصوص فکر اور سوچ پر بھی مبنی ہوتی ہیں ، چنانچہ اُن کا دائرۂ فکر و عمل متعین ہوتا ہے اور اُن سے منسلک افراد کو بہت سی پابندیوں کا التزام کرنا پڑتا ہے۔ گویا جماعتی اور تحریکی وابستگی کسی نہ کسی سطح پر ذہن و فکر کو محدود ضرور کرتی ہے۔ وسیع الفکر ذہنوں کے لیے اکثر یہ پابندیاں بار بن جاتی ہیں ، نتیجۂ کار اُن کی وسعتِ فکر تنظیم یا ادارہ کے ضابطوں کی محدودیت میں گھُٹن محسوس کرنے لگتی ہے۔

 مولانا جماعت ِاسلامی کے ارکان میں تھے، اُس کے دستور کا بے حد احترام کرنے کے باوجود کچھ معاملات میں نظریاتی اختلاف بھی رکھتے تھے اور بڑی جرأت سے اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے۔یہ مولانا کی نظریاتی اور فکری وسیع المشربی کا بیّن ثبوت ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جماعتی اورتنظیمی سطح پر ایسے چہرے دستور کی صلیب پر مصلوب ہوجاتے ہیں ، اس کرب سے مولانا کو بھی دو چار ہونا پڑا تھا۔

مولانا سلطان اصلاحی مرحوم کا تعلق موضع بھورمئو، ضلع اعظم گڑھ سے تھا، یہ قریہ قصبہ پھول پور سے تین چار کلومیٹر کی مسافت پر مغلن سکرور سے کچھ پہلے مارٹین گنج جانے والی سڑک کے کنارے واقع ہے۔ ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق ۳۲۴۴؍ افراد پر مشتمل یہاں ۴۷۲ خاندان رہتے ہیں ، ملک اور صوبہ کی صورت حال کے برعکس یہاں فیمیل پاپولیشن زیادہ ہے۔ اس گائوں کا یہ قابل ذکر امتیاز ہے کہ یہاں تعلیم کی مجموعی شرح 70.52%ہے، جبکہ صوبۂ  اترپردیش میں تعلیم کا تناسب 67.68%ہے۔ اس گائوں کو یہ امتیاز عطا کرنے میں مولانا سلطان احمد اصلاحی مرحوم کے خاندان کا گراں قدر حصہ ہے۔

 مولانا سلطان احمد اصلاحیؒ شخصی وجاہت کی طرح خاندانی نجابت کا پس منظربھی رکھتے تھے، مولانا کے اجداد نے دہلی سے متصل مغربی یوپی کے کسی مقام سے آکر موجودہ قریہ موضع بھورمئو میں سکونت اختیار کی تھی۔ مولانا کے مورثِ اعلیٰ محمدی شاہ محمدی اب سے تقریباً چودہ پشت پہلے یہاں آئے تھے۔ ایک پشت کا عرصہ کم و بیش پچیس برسوں پرمحیط ہوتا ہے، اس طرح بھورمئو میں مولانا کے مورثِ اعلیٰ کی آمد کا زمانہ ساڑھے تین سَو برس کے آس پاس طے پاتا ہے، جو دلّی میں مغلوں کی حکومت کاعہد ہے۔ محمدی شاہ محمدی مغلیہ فوج سے وابستہ تھے۔ نواحِ دلّی سے اُن کی ہجرت کا سبب یہ ہوا کہ ایک فرقہ وارانہ فساد میں ان کا پورا خاندان شہید کردیا گیا۔ بلوائیوں نے بچوں ، عورتوں اور بزرگوں تک کو نہ بخشا۔ حتیٰ کہ  فصلوں اور باغات تک کو تباہ کردیا تھا۔ محمدی شاہ اس وقت ایک فوجی مہم پر تھے۔ حادثہ کی اطلاع ملنے اور وہاں سے اُنہیں آنے میں دس پندرہ دن لگ گئے۔ جب پہنچے تو دیکھنے کو کچھ بھی نہیں بچا تھا، بس ہر سو تباہیوں کے نشان تھے۔گھر کے دروازے تک اکھڑے ہوئے تھے۔ لاشعوری طور پر ان کے قدم اجڑے گھر کی چہار دیواری میں داخل ہوگئے، یہاں انہیں تہ خانہ سے کوئی آواز آتی محسوس ہوئی، اس کی طرف لپکے تو دیکھا کہ ایک گوشے میں کوئی عورت نیم مردہ حالت میں پڑی ہے۔ یہ ان کی اہلیہ تھیں ۔ انھیں سہارا دے کر بٹھایا، بھوک پیاس سے چپکے ہونٹوں کو کھول کر پانی کے قطرے ٹپکائے۔ علاج معالجہ کے بعد جب وہ صحت یاب ہوئیں تو دونوں نے وطن چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا۔ اب یہاں کیوں رہتے اور کس کے لیے رہتے اور شاید یہاں رہ کر گزرے حادثے کو بھلابھی نہیں پاتے۔ ایسے جانکاہ حادثوں کے بعد دنیا اور اس کا مُوہ کہاں رہ جاتا ہے، چنانچہ بچے کھچے سامان کا گٹھّر بنایا اور دو اونٹوں پر لاد کر دو گھوڑوں پر خود سوار ہوئے اور بے نام و نشان نکل پڑے۔ راستے میں کچھ دنوں مکن پور میں قیام رہا، یہاں سید بدیع الدین قطب المدار کے آستانۂ فیض سے بہرہ ور ہوئے۔ پھر یہاں سے کوچ کر گئے۔ ایک روز چلتے چلتے اُس جگہ آن پہنچے جہاں موجودہ موضع بھور مئو ہے۔ یہاں ان کا ورود بھور میں ہوا تھا، روایت کے مطابق اِسی نسبت سے یہ جگہ بھورمئو کے نام سے موسوم ہوئی۔ یہاں وہ اپنے سفر کے پڑائو کے طو ر پر رُکے تھے۔ مگر یہاں کے راجہ کی درخواست پر مستقل سکونت اختیار کرلی۔ یہ ایک غیر آباد جگہ تھی، درختوں اور پیڑوں کی کثرت سے جنگل معلوم ہوتی تھی۔ اس وقت یہ مقام ریاست جون پور کی ماتحتی میں تھا۔ اس کے نظم و نسق کی ذمہ داری ایک ہندو راجا کو تفویض تھی۔ محمدی شاہ محمدی جس جگہ فروکش ہوئے تھے، وہاں سے راجہ کی رہائش تقریباً ایک کلومیٹر کی مسافت پر تھی۔ اس کے آثار کسی قدر آج بھی باقی ہیں ۔

ایک روز راجہ کے کارندوں نے انھیں اطلاع دی کہ علاقہ میں کوئی شخص چند روز سے مقیم ہے۔ راجہ نے احوال و کوائف دریافت کیے تو بتایا کہ کوئی درویش بزرگ معلوم ہوتے ہیں ۔ راجہ نے طلبی کا فرمان جاری کیا کہ انھیں دربار میں پیش کیا جائے۔ جب قاصد یہ حکم لے کر محمدی شاہ کے پاس پہنچا تو انھوں نے راجہ کی خدمت میں حاضر ہونے سے منع کردیا اور کہلا بھیجا کہ اگر میرا قیام بار خاطر ہورہا ہے تو میں یہاں سے چلا جاتا ہوں ۔ جب کارندوں نے راجہ سے یہ روداد بیان کی تو وہ متحیر ہوا، کہ یہ کون ہے؟ جسے مجالِ انکار ہوئی، چنانچہ وہ ان کے پاس خود آیا اور ملاقات کے بعد درخواست کی کہ آپ یہیں رہیں گے اور کہیں نہیں جائیں گے اور یہاں رہائش کے لیے آپ کو جتنی زمینوں کی ضرورت ہو وہ آپ لے سکتے ہیں ۔ راجہ کو دعائیں دیتے ہوئے محمدی شاہ نے اُس سے کچھ بھی لینے سے منع کردیا، مگر راجہ کے اصرار پر اپنے اونٹوں اور گھوڑوں کی چراگاہ کے طور پر زمین کا ایک معمولی ٹکڑا لینے پر کسی طرح آمادہ ہوئے۔ راجہ کی خواہش پر محمدی شاہ نے اپنی لاٹھی پھینک کر بتایا کہ بس اِتنی زمین کافی ہوگی۔ راجہ نے ذاتی صرفہ سے اس ۴۵؍ بیگھے زمین کی حد بندی کروادی۔ کھانوا کی شکل میں اس کے آثار کسی قدر آج بھی محفوظ ہیں ۔

محمدی شاہ، سید بدیع الدین قطب المدار کے مریدوں میں تھے اور صاحبِ کشف و کرامات بزرگ تھے۔ ان کے کئی کراماتی واقعات ہمارے خاندان میں زبان زَد ہیں ۔ ان کا مشہور واقعہ ہے کہ بھور مئو میں فروکش ہونے کے بعد کچھ دنوں کے لیے وہ یہاں سے چلے گئے، پھر مہینوں بعد اُن کی واپسی ہوئی۔ وہ حقّے کا شوق رکھتے تھے۔ جب اس کی طلب ہوئی تو گرد و پیش میں آگ کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ اُنہیں یاد آیا کہ یہاں سے جاتے وقت آگ کا ایک ٹکڑا زمین میں دفن کردیا تھا، جب وہاں دیکھا تو وہ اسی حالت میں جل رہا تھا۔ حالاں کہ سائنس اسے بعید  از قیاس کہے گی، لیکن کشف و کرامات کے واقعات خرقِ عادت ہوتے ہیں ، عقلی میزان پر ان کو نہیں پرکھا جاسکتا، یہ واقعہ خاندان کے بزرگوں سے بارہا سنا ہے۔ موضع بھور مئو (تکیہ) میں محمدی شاہ کے ایک کراماتی واقعہ کا مشاہدہ آج بھی ہوتا ہے۔ ۴۵ بیگھے کی وہ چوحدی جو ہندو راجہ نے محمدی شاہ کی خدمت میں پیش کی تھی، اس میں کبھی خنزیر داخل نہیں ہوتا ہے۔ اگر اتفاقاً کبھی ایسا ہو بھی گیا تو وہ اندھا ہوکر دیوانہ وار اِدھر اُدھر بھاگتا ہے، تا وقتیکہ اس حد سے باہر نکل جائے۔ میں خود اس گائوں میں پلا بڑھا ہوں ، کبھی میں نے اس چوحدی میں خنزیر داخل ہوتے نہیں دیکھا۔

بھور مئو میں سکونت کے بعد محمدی شاہ کا نسبی سلسلہ اکلوتی اولاد نرینہ عبدالغفار شاہ سے دراز ہوا۔ یہ سلسلہ چار پشتوں تک رہا ہے کہ خاندان میں تنہا اولاد نرینہ ہی رہی۔ عبدالغفار شاہ کے بعد عبدالغفور شاہ، پھر خدا بخش، پھر الٰہی بخش یکہ و تنہا محمدی شاہ کے وارث ہوئے۔ الٰہی بخش محمدی شاہ کے نسبی سلسلے کی پانچویں کڑی ہیں ، انہیں کوئی اولاد نرینہ نہیں تھی۔ بڑی دعائوں کے بعد ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی، وہ بڑی منتوں کی تھیں ، اس لیے نِرہی کہی جاتی تھیں ، پھر نرہی بیگم ان کا نام پڑ گیا۔ آگے کا نسبی سلسلہ انہیں سے بڑھتا ہے۔ ان کے تین لڑکے اور دو لڑکیاں تھیں ، لڑکیوں کے نام معلوم نہیں ہوسکے۔ لڑکوں میں بالترتیب اصغر شاہ، افضل شاہ اور اکبر شاہ ہوئے۔ پھر افضل شاہ کے یہاں دو لڑکیاں اور تین لڑکے ہوئے۔ بڑی بیٹی عائشہ اور چھوٹی بیٹی نبیہ تھیں ۔ لڑکوں میں عبدالغفور شاہ،عبدالشکور شاہ (راقم کے پردادا) اور عبدالستار شاہ ہوئے۔ عبدالستار شاہ کے تین بیٹوں میں سب سے چھوٹے مولانا سلطان احمد اصلاحیؒ تھے۔

  مولاناسلطان اصلاحیؒ کا نسبی سلسلہ محمدی شاہ تک اس طرح ہے۔ مولانا سلطان احمد اصلاحی بن عبدالستار شاہ بن  افضل شاہ بن نرہی بیگم بن الٰہی بخش بن خدا بخش بن عبدالغفور شاہ بن عبدالغفار شاہ بن محمدی شاہ محمدی۔

 مولانا سلطان احمد صاحبؒ کے والد عبدالستار شاہ کا شمار اپنے گائوں کے سربرآوردہ لوگوں میں تھا۔وہ نہایت ذہین و فطین تھے۔ مزاج میں بلندی اور رعب و دبدبہ تھا۔ ان کی تعلیم جگدیش پور (پھولپور)کے سرکاری اسکول میں ہوئی تھی۔ پیمائشی امور میں وہ بڑی مہارت رکھتے تھے،  انھوں نے امینی کاباقاعدہ امتحان پاس کیا تھا، تلاشِ معاش کے سلسلے میں برما اور ملیشیا میں اُن کا قیام رہا۔ برما کے زمانۂ قیام میں وہ پیمائشی امور سے وابستہ رہے تھے۔ ۱۹۳۸ء میں آخری بار ملیشیا گئے، وہاں پہنچنے کے کچھ ہی دنوں بعد جنگ عظیم ثانی شروع ہوگئی تھی۔ آمد و رفت کے سارے راستے مسدود ہوگئے تھے۔ اس لیے ۹؍برس تک گھر نہیں آسکے تھے۔ کسی طرح ۱۹۴۷ء میں واپسی ہوئی۔ اثنائے سفر جاپانی فوج کے ہاتھوں زخمی ہوگئے تھے، اس لیے ۲۳؍ ستمبر ۱۹۶۳ء کو وفات تک گھر ہی پر رہے۔

عبدالستار شاہ کی پہلی منکوحہ سے اقبال احمد شاہ (ولادت یکم اکتوبر ۱۹۲۰ء ہے، دفتری ریکارڈ میں ۱۵؍ اپریل ۱۹۲۱ء لکھا ہے)اور ایک بیٹی ہوئیں ۔ اقبال احمد محکمۂ مواصلات سے وابستہ تھے۔ یہاں سے وہ سب ڈویژنل پوسٹ ماسٹر کے عہدہ سے ۳۱؍ اپریل ۱۹۷۹ء کو سبک دوش ہوئے۔ ۱۹۶۳ء میں والد کے انتقال کے بعد بھائی بہنوں کی سرپرستی خصوصاً مولانا سطان احمد اصلاحیؒ کی تعلیم و تربیت میں ان کا کردار بڑا کلیدی رہا ہے۔ ۴؍ فروری ۱۹۹۶ء کو۷۶ برس کی عمر میں وفات پائی۔ وہ نہایت وجیہ اور بڑی بارعب شخصیت کے مالک تھے۔ ابوالکلام صاحب (ساکن کوہنڈہ ، رکن اسمبلی) سے اُن کے گہرے دوستانہ مراسم تھے۔ ڈاکٹر مظفر احسن اصلاحی اُن کے بڑے مداح ہیں اور بڑے بھائی کے طور پر اُن کا ذکر خیر کرتے ہیں ۔

عبدالستار شاہ نے پہلی بیوی کی وفات کے بعد انہیں کے چھوٹی ہمشیرہ سے عقد ثانی کیا۔ ان سے ایک بیٹی خطیب النساء (میری دادی صاحبہ) کی ولادت ہوئی۔ بحمدا ِﷲ وہ ابھی حیات ہیں ۔ َنسیان کے عارضہ کے علاوہ جسمانی طور پر بالکل صحت مند ہیں ۔ اللہ ان کی عمر دراز کرے۔ ان کے بعد ۱۹۳۸ء میں افتخار احمد صاحب کا تولد ہوا، ابھی بقید حیات ہیں ۔ وہ محکمۂ ڈاک میں ملازم تھے۔ مولانا سلطان احمد اصلاحیؒ بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ۱۹۵۱ء میں ان کی ولادت ہوئی تھی۔ حالانکہ الاصلاح کے ریکارڈ میں یکم اپریل ۱۹۵۳ء اور جامعہ اردو علی گڑھ کے دفتری ریکارڈ میں ۸؍ فروری ۱۹۵۲ء مرقوم ہے۔ مگر اس سلسلے میں اول الذکر سنِ پیدائش زیادہ قرینِ قیاس ہے۔ یہ راقم کے والد محترم (جناب بدرالدین صاحب) نے بتائی ہے، جو مولانا کے سگے بھانجے ہیں ۔ مگر عمر میں ان سے چار برس بڑے ہیں ۔ اصلاح پر دونوں ہم سبق تھے۔ والد محترم بتاتے ہیں کہ ماموں مرحوم بچپن میں بہت خاموش طبع تھے اور اُن میں ذہانت کا ملکہ بلا کا تھا، وہ گھنٹوں کے اسباق منٹوں میں یاد کرلیا کرتے تھے۔ ۱۹۶۲ء میں والد محترم اور مولانا سلطان احمد اصلاحیؒ مدرسۃ الاصلاح میں درجہ سوم میں داخل ہوئے تھے۔ منشی رضا صاحب رسول آبادی  دونوں کو لے کر داخلہ کے لیے خود ہی مدرسہ پر گئے تھے۔ منشی رضا صاحب ہمارے خاندان سے بڑا اُنس رکھتے تھے۔ ہمارے گائوں سے جب بھی اُن کا گزر ہوتا وہ گھر پر ضرور تشریف لاتے، انھوں نے راقم سے کئی بار مولانا مرحوم کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’سلطان ہی میری آخرت کا سامان ہے، روزِ حشر جب پوچھا جائے گا کہ رضا، دنیا سے کیا لائے ہو! تو میں سلطان کی انگلیاں پکڑ کر اللہ کے حضور میں پیش کردوں گا۔‘‘

ذہانت ا ور وجاہت مولانا کے خاندان کا ایک عام وصف ہے۔ ان دونوں صفات کی مظہر خود مولانا کی ذات بھی تھی۔ ان کے تمام بھائی بہنوں نے شکل و صورت کی ایسی وجاہت پائی تھی کہ ایسے چہرے اعظم گڑھ میں خال خال نظر آتے ہیں ۔

 مولانا سلطان ا حمد اصلاحیؒ ۱۹۶۳ء سے ۱۹۷۱ء تک مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر، اعظم گڑھ) میں زیرِ تعلیم رہے۔ یہاں ان کا شمار نمایاں طلبہ میں تھا، وہ مدرسہ پر طلبہ کی انجمن کے سکریٹری ا ور دارالمعلومات کے انچارج رہے ہیں ۔ ان کے رفقائے درس میں مولانا اجمل ایوب اصلاحی کا نام بالخصوص قابل ذکر ہے۔ ان کے ا ساتذہ میں مولانا شبلی متکلم، مولانا بدرالدین اصلاحی، مولانا دائود اکبر، مولانا زین العابدین (استاد حدیث)، مولانا ابواللیث خیرآبادی قاسمی، مولانا اظہار احمد اصلاحی، مولانا مشتاق احمد اصلاحی اور مولانا ایوب اصلاحی وغیرہ کے اسماء خاص ہیں ۔ خصوصاً مولانا ایوب اصلاحی صاحب، مولانا سلطان احمد اصلاحیؒ کو بے حد عزیز رکھتے تھے اور مولانا کے اندر بھی ان کے تئیں خاص قدر و احترام کا جذبہ محسوس ہوتا تھا۔ ربطِ باہم کا اظہار دونوں طرف سے تھا۔ مولانا ایوب اصلاحی صاحب کے صاحبزادگان میں مولانا اجمل ایوب اصلاحی اور مولانا راشد اصلاحی صاحبان آج بھی مولانا سلطان احمد اصلاحیؒ کے اعزہ اور متعلقین سے محبت کا رشتہ رکھتے ہیں ۔ میرے چچا مولانا قیام الدین مدنی صاحب کی دعوت پر یہ دونوں صاحبان بھور مئو میں غریب خانہ پر تشریف لائے تھے۔ اس موقع پر مولانا اجمل ایوب اصلاحی نے بتایا کہ سلطان صاحب پر ابو ایک خاکہ لکھ رہے ہیں اور یہ تکمیل کے مرحلے میں ہے۔

۱۹۷۱ء میں مدرسۃ الاصلاح سے فراغت کے بعد مولانا سلطان احمد ا صلاحیؒ چند ماہ انباری (اعظم گڑھ) کے مکتب میں استاذ رہے۔ پھر علی گڑھ آگئے۔ یہاں بھی کچھ دنوں تدریسی مشاغل رہے۔ اَپرکورٹ علی گڑھ کے اسلامی نرسری اسکول میں وہ ا ستاذ رہے ہیں ۔ ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی کی رفاقت کے بعد وہ تصنیف و تالیف کے لیے جب یکسو ہوئے تو تادمِ آخر یہی سلسلہ اور مشغلہ رہا۔

 مولانا سلطان احمد اصلاحیؒ نے مدرسۃ الاصلاح سے فراغت (۱۹۷۱ء) کے علاوہ جامعہ اردو علی گڑھ سے (ادیب ۱۹۶۶ء) ، ادیب ماہر( ۱۹۶۷ء) اور ادیب کامل(۱۹۷۱ء) کے سرٹیفکیٹ حاصل کیے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بھی طالبِ علم رہے۔ یہاں سے انھوں نے ۱۹۶۹ء میں انگریزی مضمون میں ہائی اسکول، پھر پِری یونیورسٹی (۱۹۷۰ء) اور بی اے (۱۹۷۷ء)کیا ہے۔

علی گڑھ آنے کے فوراً بعد ہی نے مولانا نے یہاں کے علمی حلقے میں معتبر شناخت قائم کرلی تھی۔ چالیس پینتالیس برس کی عمر تک ان کی شہرت کا دائرہ ہند و پاک تک وسیع ہوگیا تھا اور ا نھوں نے اسلامی حلقے میں اعتبار و استناد کا درجہ حاصل کرلیا تھا۔ گویا عالمِ جوانی ہی میں وہ علمی بزرگی کے مرتبے پر فائز ہوگئے تھے۔

علی گڑھ میں مولانا کی آمد اس لحاظ سے ایک نیک اور بابرکت سلسلے کا آغاز کہی جاسکتی ہے کہ یہاں ان کے آنے کے بعد اس شہراور مسلم یونیورسٹی سے ان کے اعزہ اور اہلِ خاندان کا ایک رشتہ سا ہوگیا، جو بدستور قائم ہے۔ مولانا کی حیثیت ان سب کے لیے ایک مشفق بزرگ کی تھی۔ اب اس خلا کو مولانا قیام الدین مدنی حفظہٗ اللہ صاحب پُر کررہے ہیں ۔ جو ان کے حقیقی بھانجے ہیں ۔ مولانا کی سرپرستی سے سب سے زیادہ مستفید ہونے کا موقع انہیں کو ملا ہے۔ وہ الاصلاح سے فراغت (۱۹۷۷ء) کے بعد عمرآباد (۱۹۷۹ء) اور مدینہ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم رہے ہیں ۔ ۲۵؍ دسمبر ۱۹۸۷ء سے کسبِ معاش کے سلسلے میں قطر میں مقیم ہیں ۔

  مولانا کی روح کے لیے یہ امر باعثِ تسکین ہوگا کہ انھوں نے لائق، صالح اور تعلیم یافتہ اولادیں چھوڑی ہیں ، مولانا کی پہلی شادی ۱۹۷۱ء میں ہوئی تھی۔ پہلی منکوحہ سروری سلیمان سے مولانا عرفان احمد صباحی ہیں ، وہ بڑی لگن سے مولانا کے علمی آثار کو سامنے لارہے ہیں ۔ ۱۹۷۳ء میں پہلی بیوی کی وفات کے بعد مولانا نے محترمہ فرزانہ شاکر سے ۱۹۷۵ء میں عقدِ ثانی کیا۔ ان سے بالترتیب ڈاکٹر گلفام شاہین، محمد ارشد، محمد اسد، محمد عبداللہ، محمد احمد اور محمد عبدالرحمن پیدا ہوئے۔ ماشاء اللہ یہ سارے بچے کامیاب زندگی گزار رہے ہیں ۔ مولانا کے منجھلے صاحبزادے عزیزی محمد عبداللہ سے راقم کی چھوٹی بہن حنا منسوب ہے۔

 مولانا کی شخصیت پر ان کے خاندانی پس منظر کا گہرا عکس تھا۔ ظاہری بھی اور باطنی بھی۔ طبیعت میں استغنا اور مزاج میں بے نیازی کا عنصر اس قدر غالب تھا کہ کل کی ضرورت کے لیے کبھی انہیں فکر مند نہیں دیکھا۔ کشادہ دستی کا معاملہ یہ تھا کہ خاص ضرورت کی چیزیں بھی غرباء کو عطا کردیتے تھے۔ سردیوں کے موسم میں لحاف اور گرم کپڑے جو خود ان کے پاس بہت زیادہ نہیں ہوتے ، اس طرح سائلوں کو دے دیتے، جیسے ان کے پاس بڑی فراوانی ہو، تحلیل نفسی سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سلطانی کا خمیر قلندری سے گوندھا تھا۔

مولانا کی ضیافت اور مہمان نوازی بھی اپنی مثال آپ تھی۔ شاذ و نادر ایسا ہوتا ہے کہ ان کے گھر کوئی مہمان نہ ہوتا۔ ملاقاتیوں کا ذکر کیا، ایسے مہمانوں کی بھی کمی نہیں تھی جو بلا تکلف ہفتے عشرے کے لیے چلے آتے تھے۔ اکثر دیکھا کہ گھر آتے وقت کسی کو ساتھ لیے چلے آرہے ہیں اور بلا تکلف دسترخوان پر ماحضر پیش کردے رہے ہیں ۔ مغرب سے عشاء تک تو یہ معمول ہی تھا کہ کوئی اسکالر، کوئی دوست یاکوئی عزیز ان کے پاس بیٹھا رہتا۔

  مولانا سے ملنے کے لیے روز طرح طرح کے لوگ آتے تھے۔ وہ ہر ایک سے اُس کے ذوق و ذہن اور معیار و مرتبے کے مطابق گفتگو فرماتے۔ ان سے ملنے والا چند ساعت ہی میں ان سے گھُل مِل جاتا تھا، بچے تک بھی ان سے بور نہیں ہوتے تھے۔حالاں کہ اکثربچوں کو بزرگوں کی ہم نشینی سے محترز دیکھا گیا ہے۔

  نظافت اور نفاست جزء ایمانی کی طرح مولانا کی ذات میں تھی۔ ان کی ہر چیزمیں سلیقہ ا ور قرینہ نظر آتا تھا۔ نشست و برخاست اور خورد و نوش تک کی عام چیزوں میں وہ شائستگی برتتے تھے۔

مولانا کے شب و روز صرف تین چیزوں کے لیے مختص تھے۔ علمی و تحقیقی مشاغل، عبادت و ریاضت یا پھر کارِ انسانیت۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ اِنھیں کاموں کے لیے تھا۔ یہی معمول اُن کا آخری دن بھی تھا۔ ۲۸؍ مئی ۲۰۱۶ء کو انھوں نے حسب ِعادت اٹھ کر فجر کی نماز ادا کی، پھر تلاوت اور ذکر و اذکار کا سلسلہ رہا۔ چند بکسٹ لیے اور چائے نوش فرمائی۔ ہاکر اخبارات کا بنڈل لاچکا تھا۔ اس میں تین اردو، ایک ایک ہندی اور انگریزی کے اخبار تھے۔ پانچوں اخباروں پر نظر ڈالی۔ دلچسپی کی کچھ خبروں کو پڑھا۔ اُن میں سے بعض کو نشان زد کیا۔ پھر اُن کا تراشہ لے کر متعلقہ فائلوں میں چسپاں کیا۔ اخبار بینی سے فارغ ہو کر ناشتہ کیا۔ تھوڑی دیر استراحت کے بعد مصروفِ مطالعہ ہوگئے۔ اُس دن اُن کے مطالعہ میں ایک انگریزی کتاب Poisoned Breadتھی، اس میں مہاراشٹرا کے زمیندارانہ نظام میں دلتوں کی حالت ِ زارکا تذکرہ ہے۔

ا ِس سے فارغ ہو کر حسب معمول اپنے تصنیفی کامو ں میں لگ گئے۔ غالباً رسالۂ علم و ادب کا کوئی مضمون مکمل کررہے تھے۔ دو بجے ا ٹھے۔ ظہر ادا کی، پھر ظہرانہ لیا اور عادت کے مطابق قیلولہ کے لیے لیٹ گئے۔ شام کو اٹھ کر نمازِ عصر ادا کی،پھر ایک کپ چائے لے کر باقی ماندہ تصنیفی کاموں کو پورا کرنے کے لیے بیٹھ گئے۔ مغرب کے بعد ایک گھنٹہ تلاوت کی۔ حالاں کہ اس وقت کی تلاوت ان کے معمول میں نہیں تھی۔ وہ ایسا گاہے بہ گاہے کرتے تھے۔ پھر پڑھنے کے لیےPoisoned Bread اٹھالی ۔ آج وہ اسے پوری کرلینا چاہتے تھے۔ ابھی عشاء سے فارغ ہوئے تھے کہ رسالۂ علم و ادب کے کاتب غیاث الدین صاحب آگئے۔ انہیں کی معیت میں عشائیہ لیا۔ پھر غیاث صاحب اپنے کام میں لگ گئے۔ مولانا ؒان سے باتیں کرتے رہے۔ زیادہ تر باتیں Poisoned Bread سے متعلق تھیں ۔ تقریباً ساڑھے گیارہ بجے مولانا اپنے بیڈ روم میں آگئے۔ ابھی انہیں لیٹے ہوئے دس پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے کہ پیٹ میں کچھ تکلیف محسوس کی۔ اُن کے صاحبزادہ محمد احمد نے پیٹ کی عام تکلیف سمجھ کر تھوڑی ڈائجین پلادی۔ اس کے پیتے ہی چند ساعت کے لیے مکمل آرام ہوگیا۔ مگرتھوڑی ہی دیر میں پیٹ کا درد پھر شروع ہوگیا۔ مولانا کے اشارے پر اہل خانہ انھیں واش روم لے گئے۔ وہاں سے نکلے تو پسینے سے شرابور تھے، جسے پیٹ کا درد سمجھا جارہا تھا وہ دردِ دل تھا۔ مولانا کی کفیت دِگرگوں ہورہی تھی۔ آناً فاناً گاڑی کا نظم کرکے میڈیکل لے جانے کی تیار ی کی گئی۔ ابھی وہ جامعہ اردو کے پاس پہنچے ہوں گے کہ جسم و جاں کا رشتہ ٹوٹ گیا۔ اِنَّا ﷲِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

مولانا کے آخری سفر کی کہانی بمشکل گھنٹے سوا گھنٹے کی ہوگی۔ لیکن آخری دن کی جو روداد بیان کی گئی ہے کم و بیش زندگی بھر وہی ان کا معمول تھی۔ یعنی عبادت و ریاضت، تحقیقی و تصنیفی مشاغل یا پھر کارِ انسانیت۔ دوسرے دن تقریباً دس بجے سرسید نگر کی جامع مسجد کے احاطہ میں نماز جنازہ ہوئی اور سرسید نگر کی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔

 مولانا کے انتقال کے وقت ہی سے کبھی بوندا باندھی تو کبھی ہلکی بارش کا سلسلہ رہا۔ آج بارش کی بوندیں سوگوار آسمان کی آنکھوں سے نکلا آنسو معلوم ہورہی تھیں ، جیسے آسمان اور سارا عالَم رورہا ہو اور رونا بھی چاہیے۔ اس لیے کہ یہ کسی عام عالِم کی نہیں ، بلکہ سلطان العلماء کی وفات تھی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close