شخصیاتطب

شفاء الملک حکیم عبد اللطیف فلسفیؒ

شفاء الملک کے مقالات اور تصنیفات اپنی جامعیت، فکر انگیزی اور تحقیقی کاوشوں کی وجہ سے طب میں تحقیق کرنے والوں کے یہاں حوالہ کے طور پر مستعمل ہیں۔

حکیم شمیم ارشاد اعظمی

شفاء الملک عبد اللطیف بن حکیم عبد الوحید خاندان عزیزی کے چشم و چراغ اورعلاج و معالجہ کی آبرو تھے۔ آپ کی شخصیت ہمہ گیر اور متنوع تھی۔ درس و تدریس کے ماہر، بلند پایہ مصنف، حاذق طبیب، ماہر اسلامیات کے علاوہ طبی تحریک و سیاست سے بھی آپ کو بہت لگاؤ تھا۔ 19اپریل 1900کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ والدمحترم نے اپنے مشہور عالم دوست مفتی عبد اللطیف کے نام پر آپ کا نام عبد اللطیف رکھا۔ دو ہی سال کی عمر میں سایۂ پدر ی سے محروم ہوگئے۔ تعلیم وتربیت کی ساری ذمہ داری چچامحترم حکیم عبد العزیز نے اپنے ذمہ لے لی۔ شفاء الملک نے فلسفہ کی تعلیم مشہور فلسفی مولانا فضل حق رام پوری سے حاصل کی۔ شمس العلما مولانا عبد المجید فرنگی محلی، مولانا عبد الکریم اور مولانا عبد الشکور جیسے جید علما ء سے عربی درسیات کی تکمیل کی۔ 1917 میں طب کی تعلیم کے لئے تکمیل الطب کالج میں داخلہ لیا اور1921 میں سند فراغت حاصل کی۔ طب سے فراغت کے بعد مادر علمی تکمیل الطب میں درس وتدریس کے فرائض انجام دینے لگے، یہ سلسلہ 1927 تک جاری رہا۔ تکمیل الطب کے اساتذہ و مربین میں حکیم عبد العزیز ’بانی تکمیل الطب کالج‘،  شفاء الملک عبد الحمید، شفاء الملک حکیم عبد المعید اور حکیم عبد المجید جیسے یگانہ عصر حاذق اطبا اور ماہر فن کے نام شامل ہیں ۔ طب کے علاوہ آپ کوخطاطی، موسیقی اور مصوری سے بھی پوری طرح واقفیت حاصل تھی۔ موسیقی تفریح طبع کے لیے نہیں بلکہ نبض موسیقاری کو سمجھنے کے لیئے حاصل کیا تھا۔ نبض موسیقاری کے لئے قانون اور شرح آملی کا مطالعہ کیاجس میں بہت سی مصطلحات موسیقی پائیں ۔ خیال ہوا کہ یہ فن سیکھے بغیر مسئلہ واضح نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ علی گڑھ میں استاد مولا بخش شاگرد رشید ظہور حسین نائک خورجہ سے دو سال تک اس فن کو حاصل کیا۔ نبض سے آپ کو کافی دلچسپی تھی یہی دلچسپی بعد میں ’ کتاب النبض‘ کی بھی بنیاد بنی۔

13اکتوبر 1927 کوشفاء الملک بحیثیت لکچرر طبیہ کالج، علیگڈھ سے وابستہ ہوئے۔ اس سلیکشن کمیٹی میں حاذق فن مسیح الملک حکیم اجمل خاں کے علاوہ حکیم غلام کبریا خاں ، شفاء الملک حکیم عبد الحمید اور شفاء الملک حکیم عبد الحسیب دریابادی  بھی شامل تھے۔ شفاء الملک کی صلاحیت و قابلیت نے لوگوں کو متاثر کیا۔ کچھ ہی عرصہ کے بعد آپ کو اجمل خاں طبیہ کالج کا وائس پرنسپل اورپھر ۱۹۴۹ء میں ڈاکٹر عطاء اللہ بٹ کی سبکدوشی کے بعدکالج کا پرنسپل مقرر کیا گیا۔ شفاء الملک کے زمانہ پرنسپلی میں کالج کے اندر تعمیر و ترقی کے کئی اہم اقدامات کئے گئے۔ کالج کے اندر تعلیمی معیار کو بلند کیا گیا۔ ڈاکٹرعطاء اللہ بٹ کی وجہ سے نصاب میں طب کے جدید مضامین کا غلبہ تھا شفاء الملک نے نصاب تعلیم میں تبدیلی پیدا کر کے یونانی مضامین کو اولیت دی اور ایک مناسب نصاب تعلیم پیش کیا جسے پورے ہندستان میں کافی سراہا گیا۔ طب کاموجودہ نصاب انہی خطوط پر تیار کیا گیاہے۔ شفا ء الملک حکیم عبد اللطیف فلسفی صاحب کی کوششوں سے ہندستان میں سب سے پہلے اجمل خان طبیہ کالج، علیگڈھ کے اندر بی۔ یو۔ ایم۔ ایس (B.U.M.S) نام کی ڈگری کا ۱۹۵۴ء میں رواج ہوا۔ طلباء میں تصنیف و تالیف اور مطالعہ کا ذوق پیدا کر نے  کے لئے’ طبیہ کالج میگزین، کا اجرا عمل میں آیا۔ شفاء الملک کی کوششوں سے کالج لائبریری کے لئے نادرو نایاب مطبوعہ و غیر مطبوعہ کتابوں کا ذخیرہ کیا گیامگر افسوس کی آج یہ کتابیں اپنے وجود پرماتم کناں ہیں ۔ اب نہ تو کوئی انہیں پڑھنے والا ہے اور نہ ہی مطالعہ کر نے والا۔ طلبا ء زیادہ تر نصابی کتابوں کے پڑھنے پر زور دیتے ہیں اور وہ کتابیں جنھیں مصدر و مرجع کی حیثیت حا صل ہے  الماریوں میں بنددھول چاٹ رہی ہیں ۔ شفاء الملک کی کوششوں سے طبیہ کالج میں شعبہ نشر و اشاعت کا قیام عمل میں آیا۔ اس ادارہ کامقصد طبی سر مایہ کی نشر و اشاعت تھا۔ اس ادارہ کے اہتمام سے کئی اہم اور مفید کتابیں شائع ہوئیں ہیں ۔ شفاء الملک کی کتاب االادویہ و القلبیہ اور مختصر تاریخ  قدیم تشریح، منافع الاعضاء، علم لجراحت کے علاوہ سید محمد کمال الدین حسین ہمدانی کی حکمائے قدیم کے تشریحی کارنامے اور حکیم طیب کی علم العین اور اطباء قدیم شائع ہوئی ہیں۔

شفاء الملک کالج کے پرنسپل کے علاوہ معالجات کے پروفیسر، ڈین فیکلٹی آف میڈیسن اور ڈائریکٹرآف ریسرچ ان یو نانی میڈیسن، علیگڈھ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی ہیں ۔ 3ستمبر1961 کو اجمل خاں طبیہ کالج سے سبکدوش ہوئے۔ حکیم صاحب نے علیگڈھ میں کم وبیش 34 سال گذارے ہیں ۔ شفاء الملک جہاں بھی رہے چراغ محفل بنے رہے۔ آپ کی علمیت، صلاحیت اور اخلاص نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا رکھا تھا۔ شفاء الملک کی ہمہ گیرو ہمہ جہت شخصیت کا جائزہ حکیم سید ظل الرحمن نے ان الفاظ میں پیش کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’شفاء الملک کی شخصیت کے جائزہ میں ان کے علمی،  تصنیفی اور معالجاتی پہلوؤں کے ساتھ طبی تحریک وسیاست میں ان کا جو گہرا اثر ہے، اس کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ اور یہ ان کی شخصیت کا ایک اہم عنوان ہے۔ ان کے معاصرین میں کامیاب مصنف، حاذق معالج اورصاحب درس وافاد ہ اطباء کے نام نظر آتے ہیں ۔ لیکن ان میں ہر ایک کا امتیازکسی ایک وصف خاص میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ حکیم عبد اللطیف کی ذات صحیح معنیٰ میں مجمع الصفا ت تھی۔ وہ ایک طرف حاذق معالج کی حیثیت سے اس قدر مشہور ہوئے، کہ آج بھی ان کے علاجی واقعات علی گڑھ،  لکھنؤ اور ہندوستان کے دوسرے شہروں میں بکثرت سننے کو ملتے ہیں ۔ ان کے درس کے فیضان کا عالم یہ ہے کہ ملک کی تقریبا تمام طبی درسگاہیں ان کے تلامذہ کے نور علم سے منور ہیں ۔ ان کے شاگردوں کو تصنیف و تالیف کا جو ذوق ملا اور جس بڑی تعداد میں ان سے تصنیفی کام انجام پایا، ان کے معاصر اساتذہ طب میں کسی کو شاگردوں کا ایسا حلقہ میسر نہیں آسکا۔   شفاء الملک کے مقالات اور تصنیفات اپنی جامعیت، فکر انگیزی اور تحقیقی کاوشوں کی وجہ سے طب میں تحقیق کرنے والوں کے یہاں حوالہ کے طور پر مستعمل ہیں۔ طبی نصاب تعلیم اور طبی سیاست میں ان کے اثرات خود تحقیق کا ایک موضوع بنے ہوئے ہیں ۔ ‘‘

درس وتدریس

شفاء الملک کا طریقہ درس بڑادلکش تھا۔ نفس مضمون پر گہری نظر تھی۔ کلیات و معالجات آپ کے پسندیدہ مضامین تھے۔ لکچر میں رنگ فلسفہ جھلکتا تھا۔ حکیم سید ظل الرحمن لکھتے ہیں :’’حکیم صاحب اطباء قدیم کی روایات اور فنی عظمت کا بے مثل نمونہ تھے۔ ان کی ماہرانہ دسترس،  حکیمانہ بصیرت اور فنی عرفان سے طبی مسائل کے حل میں مدد ملتی تھی۔ ان کی نظر قدیم طبی کتابوں پر ہی بہت گہری نہیں تھی، طب کے بنیادی علوم منطق، فلسفہ،  ہیئت،  موسیقی، اور قدیم سائنسی موضوعات پر ان کا مطالعہ بہت بڑھا ہوا تھا۔ اسی لئے جہاں حسن معالجہ، حذاقت فن اور دست شفا کی وجہ سے انہیں شہرت و امتیاز حاصل تھا، وہاں نظریات و فلسفۂ طب کاان سے زیادہ رمز آشنا اور صاحب معرفت دوسرا نہیں تھا۔ کلیات طب کے دقیق و مشکل مقامات اور فلسفیانہ مباحث پر جس وقت وہ اظہار خیال کرتے تھے تو ان کا انداز اس قدر دلنشین اور قابل فہم ہوتا تھاکہ بعد میں اس مسئلہ کی دقت اور دشواری پر شبہہ ہونے لگتا تھا۔ ‘‘

حکیم شجاع الدین حسین ہمدانی ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔ ’’ شفاء الملک حکیم عبد اللطیف فلسفی سے شرف تلمذ اس وقت حاصل ہوا جب کہ جب کہ میرے تعلیمی دور کا تیسرا سال شروع ہوا۔ اس وقت و ہ امراض راس و صدر وریہ کی تعلیم دے رہے تھے۔، وہ ایک اعلیٰ درجہ کے طبیباور درسیات میں ماہر تصور کئے جاتے تھے، کلیات و معالجات قانون پر ان کو عبور حاصل تھا، خطابت کا بھی انداز جداگانہ، مضمون میں کوئی ایک عنوان منتخب فر مالیتے اور پھر کئی دن اس پر تقریر فرماتے، مضمون کی گہرائی و گیرائی اور عنوان تک پہونچ جاناان ہی کا کام تھاان کی تقاریر اگر چہ فلسفہ و منطق سے مملو رہا کرتی تھیں ، مگر انداز تفہیم اس قدر آسان ہوتا تھا کہ معمولی ذہن کا طالب علم بھی بآسانی سمجھ لیتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دوراندرکلاس میں سناٹا چھایا رہتا اور طالب علم ہمہ تن گوش آپ کالکچر سنتے تھے۔ اسی دوران اگر کوئی طالب علم ان سے کوئی سوال کر لیتا تو نہایت خندہ پیشانی سے جواب دے کر اسے مطمئن فر ماتے اور تقریر جاری رہتے، ایسا معلوم ہوتا کہ علم کا ایک دریاہے جو بہ رہا ہے اور جس کی کوئی حد ہے نہ چھور۔ ‘‘

اجمل کاں طبیہ کالج مسلم یونیورسٹی سے سبکدوشی کے بعد حکیم عبد الحمید نے شفاء الملک کو دہلی آنے کے لئے شدید اصرار کیا ساتھ ہی شفاء الملک کے شایان شان بہت سی مراعات کی پیش کش کی۔ شفاء الملک نے اس سلسلہ میں ذاکر حسین صاحب( اس وقت نائب صدر جمہوریہ تھے) سے مشورہ کیا، ذاکر صاحب نے پیش کش کو قبول کر نے کے حق میں اپنی رائے دی۔ چنانچہ  اگست1963 میں شفا ء الملک دہلی چلے گئے۔ اور  جامعہ طبیہ(ہمدرد طبی کالج) دہلی میں دسمبر 1964 تک پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔ یہیں پر پہلی بار1964  میں آپ کودل کا دورہ پڑا۔ چنانچہ ناسازی طبع کے باعث آپ یہاں سے مستعفی ہوکر مستقل طور سے اپنے وطن لکھنؤ آگئے اور ’’ دار المجربات ‘‘ کے نام سے شاندار مطب کا آغاز کیا۔ حکیم احتشام الحق قریشی نے شفاء الملک کے ساتھ دار المجربات میں ہی علاج و معالجہ کے اسرار و رموز سیکھے، آج آپ کالکھنؤ کے نامور اطبا ء میں شمار ہوتا ہے۔ شفاء الملک کو یکے بعد دیگرے قلب کے دورہ پڑے۔ افسوس کہ 13 اور14نومبر1970 کی شب 2بجے طب کامرد مجاہدابدی نیند سو گیا۔

علیگڈھ میں شفاء الملک کا حلقہ بڑا وسیع تھا۔ یونیورسٹی کے ارباب فکر و نظر ہوں یا عمائدین شہر شفاء الملک کو بڑی قدرکی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ آپ کے مصاحبین میں ڈاکٹر ذاکر حسین (سابق شیخ الجامعہ اے۔ ایم۔ یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ)، ڈاکٹر عبدالعلیم (سابق شیخ الجامعہ اے۔ ایم۔ یو)، کرنل بشیر حسین زیدی (سابق شیخ الجامعہ اے۔ ایم۔ یو) پروفیسر رشید احمد صدیقی، عبد المجید قریشی،  اکرام ا للہ خاں ندوی، مولانا سلیمان اشرف، مفتی شفیع فرنگی محلی، حمید الدین خاں ، محمد حاذق، پروفیسر عمرالدین، پروفیسر حفیظ الرحمن، پروفیسر عبد البصیر خاں  کے نام شامل ہیں ۔

علمی آثار

شفاء الملک کو تصنیف و تالیف کا بہت اچھا ذوق تھا۔ 19برس کی معمولی عمر سے لکھنا شروع کیا اور زندگی بھر لکھتے رہے۔ آپ کے رشحات قلم سے بہت ہی اہم طبی جواہر پارے وجود میں آئے۔ آ پ کے مضامین خادم الاطباء ( لکھنؤ)، طبیہ کالج میگزین (علیگڈھ)، ہمدرد صحت (دہلی) اور ماہنامہ الحکمت (دہلی) میں شائع ہوتے تھے۔ آپ کا پہلا مضمون ’سوء مزاج جگر‘ کے عنوان سے 19برس کی عمر میں جون 1919 میں ماہنامہ خادم الاطبا میں شائع ہوا۔ آپ کے مضامین کا تعلق طب اور اسلامیات دونوں سے ہے لیکن زیادہ تر آپ نے طب پر قلم اٹھایا ہے۔ شفاء الملک نے تقریباً طب کے تما م موضوعات جیسے تاریخ طب، کلیات طب، علم الادویہ، تشخیص و تجویز، علم الولادت، معالجات، نساب تعلیم اور ریسرچ پر قلم اٹھایا ہے۔ شفاء الملک کی تحریروں میں تحقیق کی شان پائی جاتی ہے۔ طب کے قدیم سر مایہ پر آپ کی نظر بڑی گہری تھی۔ غلط نظریات سے اختلاف بھی کیا اور برملا ان کی تردید بھی کی ہے۔ دقیق اور مبہم مسائل کی تفسیر، توضیح  اور تنقیح فرماکر صحیح نقطہ نظر کوا جاگر کر نے کی کوششیں کی ہیں ۔ بحیثیت محقق، مصنف اور مترجم آپ کا مقام نہایت بلند ہے۔ آپ کے علمی مفاخر میں ایک درجن کتابیں شامل ہیں ، مضامین کی تعداد کافی طویل ہے۔ طبی مضامین میں ’ طب کا علمی خزانہ، فلسفہ طب اور اس کی ترقی، فلسفہ ادویہ، قوت اور ضعف، اطبائے جھوائی ٹولہ کا مطب، تحقیقات طبیہ، طبی نصاب تعلیم، طبی تعلیم اور شدھ اشدھ، حمیٰ دقیہ کے مادی ہونے کا ثبوت، یونانی نسخوں میں شربتوں کاراز، کیا ہندستان کی جانیں صرف بدیسی  طرقہ علاج بچا سکتا ہے بالخصوص قابل ذکر ہیں ۔ آپ کے مضامین کے انگریزی زبان میں ترجمہ بھی کئے گئے ہیں جس میں ریسرچ، اپ لفٹ آف انڈیجنس سسٹم آف میڈیسن، بیسک پرنسپل آف یو نانی میڈیسن، ریسرچ اینڈ ڈسکوریز وغیرہ۔ آپ کے مضامین کے دو مجموعے تجد طب (1972) اور مقالات شفاء الملک( 2002) کوپروفیسر حکیم سید ظل الرحمن نے ترتیب دے کر علیگڈھ مسلم یونیورسٹی سے شائع کرایا ہے۔

کتابوں کی فہرست درج ذیل ہے:

1- التحقیق المطلوب فی الماء المشروب (1923)

2- تحقیق المقال فی تعریف الاعتدال (1925)

3- تاریخ طب (1925)

4- ہماری سائنٹفک طب یونانی (1926)

5- ہماری طب میں ہندؤں کا ساجھا  (1948)

6- طب اور سائنس (1954)

7- مختصر تاریخ تشریح و منافع و جراحت (1955)

8- کتاب النبض

9- ترجمہ کتاب الادویہ القلبیہ(1956)

10- تجدید طب )1972(

11- مقالات شفاء الملک  )2002(

اوّل الذکر دونوں کتابیں عربی زبان میں لکھی گئی ہیں ۔ طبی کتب کے علاوہ اسلامیات پر درج ذیل کتابیں لکھی ہیں:

1- فلسفہ نبوّت               (1925)

2- مذہب اور لا مذہبیت      (1925)

3- راضیۃ مرضیۃ            (1967)

  ان کے علاوہ شفاء الملک نے مولانا فضل حق خیرابادی کی کتاب ’ الروض المجودفی تحقیق الوجود‘کا اردو ترجمہ کیا تھا جسے وہ شعبہ اسلامیات علیگڈھ مسلم یونیورسٹی سے شائع کرانا چاہتے تھے۔ اس کتاب کی اشاعت کے لئے آپ بہت فکر مند تھے ایک بار اپنے شاگرد عزیز حکیم محمد اسلم صدیقی کو ایک خط میں لکھا کہ  ’’ مولانا فضل حق خیرآبادی کے رسالہ وحدۃ الوجود جس میں دلائل عقلیہ منطقیہ سے اس مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہے میں نے  ترجمہ اردو میں کیا ہے طباعت کا ارادہ کیا ہے۔ اگر یہ رسالہ علوم اسلامیہ کی جانب سے ڈاکٹر عبد العلیم صاحب شائع کرادیں تویک کرشمہ بدوکار ہوجائے گااور پھر میں پورے فلسفہ ٔ خیرآبادی کا اردو ترجمہ کرڈالوں گا تاکہ ادارہ کی جانب سے ایک معرکۃ الآراکام ہوجائے، ممدوح سے استمزاج لیکر مطلع فر مائیے ورنہ میں خود طبع کرادونگا۔ ‘‘ افسوس کہ شفاء الملک کے زمانہ حیات میں ان کا یہ عظیم کام اشاعت کی تکمیل کو نہیں پہونچ سکا۔ اس کا قلمی نسخہ ابن سینا اکیڈمی، علیگڈھ کی زینت ہے۔ حکیم محمود احمد برکاتی نے اس ترجمہ کو کراچی سے شائع کرادیا ہے۔

شفاء الملک جس طرح خود تحریر و تقریر کے دھنی تھے اسی طرح وہ طلبا و اساتذہ کے اندر بھی یہ خوبیاں دیکھنا چاہتے تھے۔ شفاء الملک کی تحریک اور  مسلسل کو ششوں سے طلبا کے اندر تصنیف و تالیف کا ذوق پروان پایا۔ شفاء الملک طلبا ء کے ذوق اور رجحان کے لحاظ سے عنوان منتخب فرماتے اور مآخذ و مصادر کی طرف رہنمائی بھی فرماتے۔ یہ شفاء الملک کی جد و جہد کا ہی نتیجہ ہے کہ اجمل خاں طبیہ کالج کے فارغین اور اساتذہ کی طرف سے سیکڑوں کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور آج بھی تصنیف و تالیف کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ حکیم سید ظل الرحمن لکھتے ہیں ۔ ’’ علی گڑھ میں طبیہ کالج کے قیام کے پانچ برس بعد سر راس مسعود کی وائس چانسلری کے زمانہ میں اپریل ۱۹۳۲ء سے سہ ماہی مجلہ ’’ طبیہ کالج میگزین‘‘ نکلنا شروع ہوا۔ شفاء الملک اس کی مجلس ادارت میں شریک تھے۔ ان کی یہ شرکت برائے نام نہ تھی، رسالہ کے اجراء اور اس کو اعلیٰ معیار عطاکرنے میں ان کا حصہ سب سے زیادہ تھا۔ اس رسالہ کے ذریعہ انہوں نے طلبہ میں علمی ذوق ابھارا، اور انہیں مطالعہ و تحقیق میں مصرو ف کیا۔ ان کی یہ کوشش کامیاب رہی اور طلبہ نے محنت اور دیدہ ریزی سے قابل قدر مضامین پیش کئے۔ جب تک یہ رسالہ جاری رہا، طلبہ میں مطالعہ اور مضمون نویسی کا شوق نشو و نما پاتا رہا۔ حکیم صاحب نے اس زمانہ میں طلبہ پر بڑی محنت کی۔ وہ انہیں مختلف موضوعات دیتے، حوالے کے لئے کتابوں کی نشاندہی کرتے، اور مواد کی فراہمی میں ان کی ضروری رہنمائی فرماتے۔ ان کی مسلسل ہمت افزائی نے طلبہ میں بالغ نظری پیدا کی۔ طلبہ کی فنی تربیت کے ساتھ ہی اس رسالہ میں خودان کے فاضلانہ مضامین شائع ہوئے۔ ‘‘

التحقیق المطلوب فی الماء المشروب

یہ درا صل ایک تحقیقی اور تنقیدی رسالہ ہے جس میں شفاء الملک نے مسیح الملک حکیم اجمل خان کے رسالہ ’ القول المرغوب فی الماء المشروب ‘  کے پانی سے متعلق خیالات سے اختلاف فرمایا ہے۔ میں مسیح الملک حکیم اجمل خاں کا خیال تھا کہ پانی تغذیہ بخش نہیں ہے۔ شفاء الملک نے اس خیال کی ترید میں یہ رسالہ سپرد قلم کیا جس میں دلیل و براہین سے یہ ثابت کیا کہ پانی تغذیہ بخش ہے۔ اس رسالہ کے لکھنے کی غرض و غایت کے بارے میں شفاء الملک لکھتے ہیں ۔ ’’ایک مرتبہ مجھے شفاء الملک، حاذق الزماں حکیم محمد اجمل خاں کی کتاب ’ القول المرغوب فی الماء المشروب ‘  کا مطالعہ کر نے کا اتفاق ہوا۔ دوران مطالعہ بفضل الہی میرے ذہن میں ایک عجیب و غریب تحقیق آئی جو مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی ہے، اسے ملاحظہ کر نے کے بعد کوئی خلجان اور اضطراب باقی نہیں رہتا اور اس سے وہ گتھیاں سلجھ جاتی ہیں جن کے حل کر نے سے بڑے بڑے لوگ عاجز رہ گئے اور اس کی روشنی میں بعض و ہ نظریات صحیح قرار پاتے ہیں جنھیں لوگ دشوار سمجھتے ہیں ۔ ‘‘اس رسالہ مین شفاء الملک نے پانی سے متعلق بعض اطباء کے خیالات  (بالخصوص حکیم اجمل خاں )سے اختلاف کرتے ہوئے غلط نظریات کی تردیدفرمائی ہے۔ 16صفحات پر مشتمل یہ رسالہ مطبع نامی لکھنؤ سے 1923 سے شائع ہوا ہے۔

کتاب الادویہ القلبیہ

شفاء الملک کا ایک اور اہم کارنامہ شیخ الرئیس بو علی سینا کی مایہ ناز کتاب ’’ کتاب الادویہ القلبیہ‘‘ کی تدوین اردو ترجمہ بھی ہے۔ اس کتاب کے بارے میں شفا ء الملک کا کہنا ہے کہ یہ بو علی سینا کا اوریجنل ریسرچ ورک ہے۔ یہ اپنے موضوع پر منفرد کتاب ہے جسے بو علی سینا نے تحریر فرما یا ہے۔ اس کتاب کی تدوین اور ترجمہ کے بارے میں ایک اشتباہ کو دور کرتا چلوں کہ حکیم سید محمد کمال الدین حسین ہمدانی نے اس کتاب کو کئی مقام پر اپنے علمی مفاخر میں بیان کیا ہے۔ مطب لطیف میں لکھتے ہیں ۔ ’’  شفاء الملک نے برٹش میوزیم لندن، پٹنہ اور رام پور سے ادویہ قلبیہ کے نسخے حاصل فر مائے اور ان کو باہم مقابلہ کر نے کی خدمت احقر (ہمدانی) کے سپرد کی جسے احقر نے پوری توجہ اور دلچسپی کے ساتھ انجام دیا۔ ‘‘ سب سے پہلے یہ عرض کرتا چلوں کی شفاء الملک نے ادویہ قلبیہ کی تدوین و ترجمہ کے لئے صرف بڑٹش میوزیم لندن  اور پٹنہ و رام پور کے نسخوں پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اصلاح و تصحیح کی غرض سے جامعہ ملیہ اسلامیہ(دہلی) رضا لائبریری (رامپور)، ذخیرہ شفاء الملک حکیم مظاہر حسن (پٹنہ) اوربرٹش میوزیم کے قلمی نسخے نیز استنبول کے مطبوعہ نسخہ کی مدد سے اختلاف نسخ کوختم کر کے مدون کیااور اردو زبان میں ترجمہ کیا۔ یہ کام شفاء الملک نے بنفس نفیس انجام دیا البتہ اس کام میں ان کے شاگردوں کا جزوی تعاون شامل رہا۔ اس کا اظہار شفاء الملک نے کتاب کے تعارف میں کیا ہے۔ شفاء الملک لکھتے ہیں ۔ ’’وقتاً فوقتاً ترجمہ کا کام جاری رہا جس میں میرے تین شاگرد اور رفیق دوست حکیم ظہیر الدین خاں صاحب لکچرار طبیہ کالج مسلم یونیورسٹی علیگڈھ، حکیم نور العین صاحب لکچرار طبیہ کالج مسلم یونیورسٹی علیگڈھ اور حکیم سید کمال الدین حسین ہمدانی صاحب لکچرار ان اناٹمی طبیہ کالج مسلم یونیورسٹی علیگڈھ نے بہت امداد کی۔ ‘‘اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اس کام میں حکیم سید کمال الدین حسین ہمدانی تنہا نہیں تھے بلکہ حکیم ظہیر الدین خاں اور حکیم نور العین بھی شامل تھے۔ شفاء الملک نے ادویہ قلبیہ کی تدوین کے وقت تمام نسخہ جات کا  باریک بینی سے موازنہ ومقابلہ کیا اور اختلاف نسخ کو دور کیا۔ نسخہ رام پور کے مقابلہ کے لئے رضا لائبریری رامپور اور پٹنہ کا سفر کیا اور وہاں رہ کر اس کا م کو انجام دیا۔ اس کے علاوہ برٹش میوزیم  کے نسخے اور استنبول کی اشاعت سے بھی مقابلہ و موازنہ کا کام انجام دیا گیا۔ شفاء الملک لکھتے ہیں ۔ ’’ کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ رام پور کے کتب خانہ میں بھی اس کا ایک نسخہ موجود ہے، بہمراہی اپنے ایک رفیق اور شاگردحکیم ظہیر الدین خاں صاحب لکچرار طبیہ کالج، رامپور کا سفر اختیار کیااور چند دن وہاں تمام کرکے اس رسالہ کی تصحیح اور اختلاف عبارت نوٹ کیا۔ اسی عرصہ میں گورنمنٹ طبیہ کالج پٹنہ کی ایک میٹنگ کے سلسلہ میں پٹنہ جانے کا اتفاق ہوا وہاں شفاء الملک حکیم مظاہرحسن صاحب  سے اس کے متعلق تذکرہ آیا اور معلوم ہوا کہ اس کا ایک نسخہ موصوف کے پاس موجود ہے میں ان محترم سے اس نسخہ کی درخواست کی موصوف نے وہ نسخہ مجھکو عنایت فرمایا اور میں نے اس سے بھی مقابلہ کر کے اختلاف عبارت کو قلمبند کیا۔ اسی اثنا میں برٹش میوزیم سے خط و کتاب کی گئی اور معلوم ہو اکہ وہاں اس کتاب کے دو نسخے موجود ہیں ان دونوں نسخوں کا فوٹو حاصل کیا گیا اور اس سے بھی اس کتاب کا مقابلہ کیا گیا آخر میں جبکہ ترجمہ کا مسودہ صاف کیا جارہا تھا استنبول کا ایک مطبوعہ نسخہ دستیاب ہوا جو ایک تازہ اشاعت ہے اس نسخہ سے بھی مکمل موازنہ و مقابلہ کیا گیا ہے۔ ‘‘

کتاب الادویہ القلبیہ طبی ترجمہ نگاری کی ایک درخشاں مثال ہے۔ اس سے پہلے ترجمہ نگاری کے لئے دیگر نسخہ جات کا مقابہ اس کثرت سے نہیں کیا گیا۔ شفاء الملک نے ابن سینا اور کتاب الادویہ القلبیہ کا تفصیلی تعارف تحریر فر مایا ہے، جس میں ترجمہ نگاری اور تحقیق و تدوین کے مسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ 122صفحات کی یہ کتاب بہ نگرانی حکیم سید مختار احمد صاحب کامل، انچارج شعبہ تصنیف و تالیف طبیہ کالج مسلم یونیورسٹی علیگڈھ اور نیشنل پرنٹرس کمپنی علیگڈھ  کے زیر اہتمام 1956 میں شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کے جملہ حقوق بحق ایران سو سائٹی کلکتہ محفوظ ہیں ۔

مقالات شفاء الملک

یہ کتاب شفاء الملک حکیم عبد الطیف فلسفی ؒ کے مقالات کامجموعہ ہے جسے ان کے شاگرد رشید حکیم سید ظلالرحمن نے نہایت اہتمام کے ساتھ مرتب کیا ہے۔ یہ کتاب پبلی کیشن ڈویزن، علیگڈھ مسلم یونیورسٹی سے2002 میں شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب کلیات، تشخیص و معالجات، علم الولادت، تعارف کتب قدیم اور متفرقات جیسے مرکزی عناوین پر مشتمل ہے۔ کلیات ادویہ سے متعلق ابن رشد اندلسی اور درجات ادویہ، مقدار ادویہ کابدن پر اثر، ادویہ کی تاثیر اور مقدار کا مسئلہ جیسے اہم مضامین شامل کتاب ہیں ۔ تعارف کتب میں فصول بقراط، ارسطاطالیس کارسالہ دقائق الحکمۃ، الکناش الطبری المعروف بہ معالجات بقراطیہ، کتاب التیسیر قابل ذکر ہیں ۔ معالجات بقراطیہ کے مخطوطہ کو حاصل کر نے کے لئے شفا ء الملک نے کالج کی لائبریری کے لئے حکیم ضیاء الحسن، بھوپال کا پورا کتب خانہ خرید لیا تھا۔ یہ واقعہ شفاء الملک کے مخطوطات سے دلچسپی کا ایک بین ثبوت ہے۔ تشخیص و معالجات کے تحت بول، ، سوء مزاج جگر، درد، گردن توڑ بخار اور طب قدیم، اعادۂ شباب، مجربات و مختارات ابن سینا، نفسیاتی حالات سے علاج جیسے گرانقدر مقالات کتاب کی زینت ہیں ۔ علم الولادت میں بہت ہی تحقیقی بحث کی ہے جن کا اظہار جنین کا جنسی اختلاف اور والدین سے اس کی مشابہت اور وضع حمل ساتویں اور آٹھویں مہینہ سے ہوتا ہے۔ متفرقات کے عنوان کے تحت ریسرچ اور ریسرچ کی بیماری جیسے مضامین شامل ہیں ۔

مطب

شفاء الملک حکیم عبد اللطیف فلسفی علاج و معالجہ میں اجتہادی شان رکھتے تھے۔ بیاضی نسخہ جات کو زیادہ پسند نہیں فر ماتے تھے۔ امراض کے علاج میں اصول علاج کو مقدم فرما تے تھے۔ مفرد اور مرکب دونوں طریقوں سے علاج کرتے تھے مگر مفرد ادویہ کو ترجیح دیتے تھے۔ نسخے مختصر اور سہل الحصول ہوا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ صبح، دوپر، سہ پہر اور شام دوائیں اس حالت میں استعمال کرائی جاتی ہیں جب مرض کی تشخیص نہی ہوپاتی ہے۔ شفاء الملک خالص خدمت خلق کی غرض سے مطب فرماتے تھے۔ نادار اور پریشان حال مریضوں کا علاج مفت کرتے تھے یہی وجہ تھی کہ مطب کے علاوہ کوٹھی پر بھی مریضوں کاہجوم رہا کرتا تھا۔ دور دراز سے مریض شفاء الملک کی خد مت میں حاضر ہوتے اور بحمد اللہ شفا یاب ہوتے تھے۔ شفاء الملک کے نسخے عام اطبا ء سے بالکل مختلف ہوا کرتے تھے۔ وجع المفاصل میں گرم ادویات کا استعمال عام اطبا ء کا معمول ہے لیکن شفاء الملک کا خیال تھا کہ مفصل کی غشاء میں خالص بلغم ورم نہیں پیدا کر سکتا ہے بلغم کے ساتھ صفراء کی آمیزش کثیر مقدار میں ضروری ہے چنانچہ شفاء الملک کے معمول میں برگ شاہترہ، سورنجان، آلو بخارا، مکو خشک، تخم کاسنی، تخم خیارین، تمر ہندی کار خسک برگ سداب جیسے اجزاء حسب ضرورت اضافات کے ساتھ ہوا کرتے تھے۔ گھٹنے کے ورم میں عام معمول کے مخالف مرمکی، چاء خطائی، گل کھریا، گل ارمنی، برگ حناسبز میں پسوا کر ضماد کرواتے تھے۔ جریان منی اور کثرت احتلام میں مغلظات اور حابسات کی تسبیح پڑھنے کے بجائے اصلاح ہضم پر زیادہ زور دیا کرتے تھے۔ لبوب اور معجون ثعلب کا استعمال شدت مرض میں کرتے تھے۔ اسی طرح کثرت حیض کی مریضہ کو ہلکے مفتحات کے سا تھ مدر حیض ادویہ تجویز فرماتے تھے۔ شفاء الملک قبض اور سوء ہضم کو بہت اہمیت دیا کرتے تھے۔ ایسے مریض جو ریاح کی کثرت، کبھی دست کبھی قبض، ماحول سے بیزاری، مالیخولیائی کیفیت، شکم میں جگہ جگہ درد کا ذکر کرتے شفاء الملک ایسے حالات کے مریض کی تشخیص ریح البواسیر کرتے تھے۔ اس کے لئے حکیم صاحب برگ سداب، صعتر فارسی، بادیان، کشنیز خشک، آلو بخارا کے جو شاندہ میں شربت آلو بالو اور ورد مکرر کے اضافہ کے ساتھ استعمال کراتے تھے اور سوتے وقت مقل، رسوت اور ست پودینہ کی گولیاں کھلاتے تھے۔ یہ نسخہ ریح البواسیر کے لئے نہایت کار گر تھا۔

حکیم محمد اسلم صدیقی نے شفاء الملک کے مطب کا اس طرح نقشہ کھینچا ہے۔ لکھتے ہیں ۔ ’’بیک وقت کئی کئی مریضوں کو دیکھتے، ان کے احوال سنتے اور اسی کے ساتھ طلبا کو کئی کئی مریضو ں کے ایک ساتھ نسخے لکھواتے جاتے تھے۔ طلبہ نسخے لکھ کر پیش کرتے، موصوف جہت نسخہ، ترکیب استعمال اور پرہیز وغیرہ پر ایک نظر ڈال کر واپس کر دیتے۔ یہ مشغولیت مسلسل کئی گھنٹے جاری رہتی اس درمیان غلطی کرنے والوں کی گرفت، فنی سوالات، اور علمی بحث بھی جاری رہتی جس سے بہت اہم فنی اور معالجاتی نکات حل ہوہتے رہتے تھے۔ مطب کی یہ تعلیم و تربیت اور مشق بے انتہا فوائد پر مشتمل تھی۔ ‘‘

شفاء الملک حکیم عبد اللطیف فلسفیؒ صدر جمہوریہ ہند ذاکر حسین خاں (1967 -1969 ) اور وی۔ وی۔ گری(1969-1974 ) کے اعزازی طبیب بھی ر ہے۔

حکیم سید ظل الرحمن نے اپنی کتاب تذکرہ خاندان عزیزی میں شفاء الملک کے علاج و معالجہ سے متعلق کچھ واقعات نقل کئے ہیں جنھیں افادۂ عام کی غرض سے لکھا جارہا ہے۔

کراچی میں ایک وکیل صاحب کے غدد لوزتین کافی بڑھ گئے تھے اور تمام علاج ہو چکے تھے۔ آپریشن کے علاوہ اور کوئی چارۂ کار نہیں رہا تھا۔ حکیم صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے آپریشن کی شدید مخالفت کی اور مغز املتاس چھ گرام ڈھائی سو ملی لیٹردودھ میں جوش دے کر صاف کر کے صبح و شام پلانے کی ہدایت فرمائی۔ ایک ماہ کے مسلسل استعمال سے تکلیف جاتی رہی اورپندرہ سال سے زیادہ ہوگئے ہیں دوبارہ تکلیف نہیں ہوئی۔

حکیم نثار احمد علوی(کراچی) کا بیان ہے کہ لکھنؤ کے ایک تعلقہ دار کے صاحبزادے ہیضہ میں مبتلا ہوئے۔ اطبائے لکھنؤ اور ممتاز ڈاکٹر جمع تھے۔ کوئی تدبیر کارگر نہ ہوتی تھی۔ شفاء الملک مرحوم نے لیموں کی آئس کریم جموا کر قدرے قدرے دینے کی ہدایت کی۔ ایک گھنٹہ کے اندر ہی افاقہ شروع ہوگیا۔ اور چار گھنٹہ بعد مرض دور ہوگیا۔

ایک بچہ بعمر چار برس مطب طبیہ کالج علی گڑھ میں لایا گیا۔ چاردن سے چیچک میں مبتلا تھا۔ خاکسی والا مشہور نسخہ دیا جارہا تھا۔ ضعف قلب بڑھ رہا تھا۔ حکیم صاحب نے انجیر کا اضافہ کیا۔ مطب میں حاضر طلبہ نے کہا کہ انجیر کے استعمال سے اسہال شروع ہوجانے کا خطرہ ہے۔ حکیم صاحب نے صورت حال کی مفصل وضاحت کرتے ہوئے فرمایا، ضعفِ قلب پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ اگر قلب کے نظم میں زیادہ خلل ہوتا گیا تو اسے سنبھالنا مشکل ہوتا ہے۔ اسہال کا تدارک آسان ہے۔

نمو نہ مطب

قلاع:   زر ِورد کات سفید دانہ ہیل خرد کباب چینی باریک پیس کر منہ میں چھڑکیں ۔

درد دندا ں :  عاقر قرحا فلفل سیاہ خردل قرنفل نمک طعام باریک کر کے بطور منجن استعمال کریں ۔

لثہ دامیہ:  مصطگی جفت بلوط ہیرا کسیس اقا قیا کندر مازو ہموزن باریک پیس کر دانتوں پر ملیں ۔

خفقان:  زہر مہرہ طباشیر انار دانہ سماق جدوار زرِ ورد کہرباء شمعی یشب سبز ہموزن باریک کر کے ۳گرام، خمیرہ گائوزباں عنبری جواہر والا ۳گرام کے ساتھ کھائیں۔

دواخانہ طبیہ کالج کا قیام

دواخانہ طبیہ کالج مسلم یونیورسٹی علیگڈھ، شفا ء الملک حکیم عبد اللطیف فلسفی کی مساعی جمیلہ اور ذاکر حسین(سابق شیخ الجامعہ علیگڈھ مسلم یونیورسٹی) کی دلچسپی کا نتیجہ ہے۔ شفاء الملک حکیم عبد اللطیف فلسفی ؒ نے1950میں اس دواخانہ کی بنیاد رکھی تھی۔ شروع شروع میں سو سائٹی بلڈنگ سے دوا خانہ کی شروعات ہوئی کیونکہ اس وقت تک دواخانہ کی اپنی کوئی عمارت نہ تھی، مسائل زیادہ اور وسائل نہ کے برابر تھے۔ چنانچہ یونیورسٹی سے پانچ ہزار روپیہ اکزیٹیو کونسل کی منظوری کے بعد بشرح پانچ فیصدسود پر قرض حاصل کیا گیا۔ شفاء الملک نے دواخانہ کی ترقی اور استحکام کے لیے اپنے اور خاندان کے بیشتر مجربات دواخانہ کو عنایت کردیئے۔ دماغین،  فواکہین، ذہبی، عنبری، حب مقل جدید، خون صفا ، نسوانی اور بہارنو جیسی مشہور دواؤں کے نسخے حکیم صاحب کی فراخ دلی اورطب سے حقیقی تعلق کا نتیجہ ہیں ۔ دواخانہ طبیہ کالج بہت جلد ترقی کی منازل طے کرنے لگا اور بہت جلد دواخانہ نے ہندوستان کی دواساز کمپنیوں میں اپنا نام پیدا کر لیا۔ شفاء الملک نے دواخانہ کو بڑے پیمانے پر ترقی دینے کے لیے حکیم محمد اسلم صدیقی (2010 – 1915) کی خد مات حاصل کیں ۔ حکیم محمد اسلم صدیقی اسی کالج کے فارغ اور حکیم فلسفی کے خاص شاگردوں میں سے تھے۔ حکیم محمد اسلم صدیقی 15مارچ 1951 کو حکیم سید نور الحسن سے مستقل طور سے منیجر دواخانہ کی شکل میں چارج لیا۔ اس دواخانہ کے قیام کا مقصد کالج کو مالی استحکام بخشنا اور طلبہ کی ضروریات کو پورا کر نا تھا۔ ڈاکٹر ذاکر حسین (شیخ الجامعہ) دواخانہ کو ایک معیاری شکل میں دیکھنا چاہتے تھے۔ ایک موقع پر ذاکر حسین نے فر مایا کہ مصنوعات مکمل اور اصلی اجزا ء سے تیار کیے جائیں ۔ دوسرے دواخانوں کی نقل نہ کی جائے ورنہ یو نیورسٹی کی بد نامی ہو گی۔ آج دواخانہ مسلم یونیورسٹی یو نانی کی سبھی مشہور و معروف دوائیں تیار کر تا ہے جس میں دماغین ، نسوانی، انگوری اور شربت فولاد دواسازی کی دنیا میں بے حد مقبول ہیں جن کا کوئی متبادل نہیں۔

شفاء الملک نے دواؤں کی تیاری میں جدید آلات اور دواسازی کے معیار کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ جدید دواساز کمپنیوں سے رابطہ کر کے دواسازی کے معیار کو بلند سے بلند کر نے کی کوششیں کیں ۔ شفاء الملک نے حکیم محمد اسلم صدیقی منیجر دواکانہ کو ’ سپلا‘ جیسی مشہور دواساز کمپنی کے ساتھ دیگر دواساز کمپنیوں کو دیکھنے کے لئے ممبئی بھیجا تاکہ ان کی ٹکنک اور طریقہ کار سے فائڈہ اٹھایا جا سکے۔ سپلا کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر خواجہ عبد الحمید نے نہایت خوشدلی سے کمپنی کا معائنہ کرایا اور یہ بھی بتایا کہ سپلا کا مشہور پروڈکٹ ’ چسٹون‘  شفاء الملک حکیم عبد اللطیف فلسفی صاحب کا عطیہ ہے۔ خواجہ صاحب سے شفاء الملک کے بڑے قریبی مراسم تھے۔

شفاء الملک اور طبی نصاب

شفاء الملک عبد اللطیف فلسفی کا شمار طبی ماہرین تعلیم میں بھی ہوتا ہے۔ آپ کا شروع سے ہی یہ موقف رہا ہے کہ طب یو نانی کی درسگاہوں میں جدید طبی مضامین کو زیادہ جگہ نہ دی جائے۔ شفاء الملک مخلوط نظام تعلیم کو طب یو نانی کے لیے بہت ہی نقصان دہ بتاتے تھے۔ شفاء الملک نے آج سے56 سال قبل طب یو نانی میں جدید طب کے مضامین کے داخل نہ کر نے کے بارے میں جن شکوک کا اظہار کیا تھا وہ آج سچ ہوتے نظر آرہے ہیں ۔ ان کا خیال تھا کہ جب تک طبی درسگاہوں میں مخلوط نظام تعلیم رائج رہے گا طب یو نانی کو ترقی نہیں مل پائے گی۔ انھوں اس بات کا تجزیہ کیا تھا کہ طبیہ کالجوں کے فارغین کاایلوپیتھی سے دلچسپی اور یونانی سے بیزاری کاثبوت مخلوط نصاب تعلیم ہے۔ چنانچہ1954میں حکیم صاحب نے ذاکر حسین صاحب کے دور وائس چانسلری میں طبی نصاب تعلیم میں بھاری تبدیلی فرمائی۔ 1958میں آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کی طرف سے قائم کردہ نصاب کمیٹی کے کنوینر بنائے گئے اور طب کا ایک جامع نصاب تیار کیاجو آج بھی کسی نہ کسی شکل میں طبیہ کالجوں کے اندر رائج ہے۔ آپ مر کزی وزارت صحت کی طرف سے نصاب کے سلسلہ میں کی جانے والی کوششوں میں بھی شریک رہے۔ اس سلسلہ میں شفاء الملک حکیم عبد اللطیف فلسفی اپنے عزیز شاگرد حکیم محمد اسلم صدیقی کو کئی خطوط لکھے ہیں ۔ ایک خط میں لکھتے ہیں ۔ ’’سیلبس کمیٹی کی بھی عجلت کر رہاہوں ابھی تک گورنمنٹ سے منظوری نہیں آئی ہے، یاد دہانی کرارہاہوں ۔ اخلا ق الرحمن قدوئی بھی اس کے ممبر ہیں ۔ صدر ڈاکٹر چوپڑا ہیں ۔ سکریٹری ڈاکٹر دوارکا ناتھ ایڈوائزرانڈیجنس میڈیسن ہیں ۔ ‘‘ اسی طرح ایک اور جگہ لکھتے ہیں ۔ ’’ شائد صدر صاحب اس کمیٹی سے استعفا دینے پر آمادہ ہیں کیونکہ ٹرمس آف ریفرنس میں حکومت نے توضیح کر دی ہے کہ نصاب میں کوئی جدید مضمون شامل نہ کیاجائے۔ ۱۰؍مئی ۶۴ کو ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ اس مسئلہ کے متعلق ہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سیلبس کمیٹی کے سلسلہ میں ممکن ہے کہ مجھ سے اور حکیم عبد الحمید صاحب سے اختلاف ہوجائے کیونکہ میں اپنے بنیادی موقف سے نہیں ٹل سکتا۔ واضح رہے کہ شفا ء الملک’’ شدھ سیلبس‘‘ یعنی خالص طبی مضمون کے قائل ہی نہیں زبردست مؤید بھی تھے جبکہ حکیم عبد الحمید صاحب کایہ خیال تھا کہ نصاب میں جدید مضامین کو بھی شامل کیا جائے۔ حکیم عبد الحمیدصاحب نے ان خیالات کا اظہاراپنے خطبات میں جا بجافر مایا ہے۔ ایک خط میں شفا ء الملک نے لکھا ہے کہ ’’ میں ۱۲؍جولائی ۶۴ کو دہلی آگیا تھاگورنمنٹ کی سیلبس کمیٹی میں مصروف تھاکل فراغت ہوگئی۔ شدھ کا کورس تیار ہوگیااور اسی سال سے کالجوں میں گورنمنٹ کا آرڈر جاری ہوجائے گا۔ ‘‘

جس طرح شفاء الملک طبیہ کالجوں میں مخلوط نظام تعلیم کے شدید مخالف تھے۔ اسی طرح کسی طبیہ کالج کے پرنسپل شپ کے لئے طبیب ہونا ضروری سمجھتے تھے۔ جدید مضامین کی تدریس کے لئے اطبا ء کی تقرری ضروری خیال کرتے تھے۔ چنانچہ حکیم کمال الدین حسین ہمدانی کاتقرر اناٹمی میں کیا، حکیم سید علی حیدر جعفری کا تقرر فزیالوجی، حکیم فخر الدین کا تقرر پیتھالوجی اور حکیم سمیع الرحمن کا تقرر جراحت میں کیا۔

شفاء الملک اور آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس

آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس سے آپ کاتعلق بہت گہرا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد جب وید وں نے حکیموں کا ساتھ چھوڑ کر اپنی الگ تنظیم بنالی تو 1948 میں اطبا نے بھی آل انڈیا یو نانی طبی کانفرنس کے نام سے علاحدہ تنظیم بنا لی۔ آپ نے اس تنظیم کی تشکیل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ شروع سے آخرتک آپ اس کانفرنس کے سینیئر نائب صدر رہے۔ ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ ہو یا کانفرنس کے سالانہ اجلاس و اجتماعات بڑی پابندی سے شریک ہوتے تھے۔ آپ نے کانفرنس کے اجلاس کے انعقاد میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ دسمبر ۱۹۵۵ء میں کرنول آندھرا پردیش میں آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کا دوسرے اجلاس کے انعقاد میں شفاء الملک نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس جلسہ میں دواخانہ طبیہ کالج کے پروڈکٹ کی نمائش کرائی، مریضوں کی ایک لمبی قطار جو دور دراز علاقوں سے آئے تھے شفاء الملک نے انہیں دیکھا اور علاج کیا۔ پروگرام کے منتظم اور روح رواں ڈاکٹر عبد الحق (سابق پرو وائس چانسلر علیگڈھ مسلم یونیورسٹی علیگڈھ)شفاء الملک حکیم عبد اللطیف فلسفی صاحب سے فرماتے تھے کہ میں نے آپ کو علیگڈھ سے مدعو کر کے آپ کے اعتماد پر پریشان مریضوں کے معالجہ کے لئے دوردراز اطلاع کرائی تھی کہ ان تمام کانفرنسوں کا ماحصل صرف یہی ایک خدمت خلق ہے جو پوری ہورہی ہے۔ اسی طرح کشمیر میں طبیہ کالج کا مسئلہ کے حل کے لئے آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کی صوبائی شاخ نے ایک جلسہ منعقد کیا اور اس کی صدارت کے لئے شفاء الملک کو دعوت دی گئی۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ بخشی غلام محمد نے کشمیر کے اندر طبیہ کالج کے قیام کے سلسلہ میں تبادلۂ خیال کے لئے حکیم صاحب اننت ناگ میں کھانے پر مدعو کیا۔ گفتگو کامیاب رہی اور اس طرح شفاء الملک کی کوششوں سے کشمیر میں طبیہ کالج کے قیام عمل میں آیا۔ اسی طرح شفاء الملک کی دعوت اور کوششوں سے علیگڈھ میں بھی آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کا ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔ حکیم سید ظل الرحمن جو بذات خود اس جلسہ میں شریک تھے، ایک جگہ لکھتے ہیں ۔ ’’ شفاء الملک کی دعوت پر ۶؍۷؍۸  اکتوبر ۱۹۵۹ء کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں کانفرنس کا چوتھا اجلاس منعقد ہوا۔ کانفرنس کی تاریخ میں یہ ہر لحاظ سے بہت کامیاب اجلاس سمجھا جاتا ہے۔ نہ صرف شاندار انتظامات اور یونیورسٹی کی اعلیٰ روایتی مہمان نوازی کی بنا پر بلکہ شرکاء کی غیر معمولی تعداد اور اہم قرار دادوں کی وجہ سے تحریک طب کی تاریخ میں اسے ایک سنگ میل کا درجہ حاصل ہے۔ اس اجلاس میں پورے ملک میں طبی تعلیم میں یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے ایک معیار داخلہ، ایک نصاب تعلیم اور ایک ڈگری کا مطالبہ کیا گیا۔ ‘‘   طب کے مسائل میں آپ کی رائے کو پسند کیا جاتا تھا اور اس پر عمل بھی کیا جاتا تھا۔ آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کے پلیٹ فارم سے شفاء الملک نے کئی اہم کام انجام دیئے ہیں ۔ آپ نے بڑی شد ومد کے ساتھ اس بات کی وکالت کی کہ کسی طبیہ کالج میں غیر طبی شخص کو پرنسپل نہ بنایا جائے۔ اسی طرح تمام طبی مضامین کی تدریس کے لئے طبی فارغین مقرر کئے جائیں ۔ قومی اور صوبائی سطح پر  کانفرنس کے کئی اجلاس کی آپ نے صدارت بھی فر مائی ہے۔ یوپی کے متعدد جلسوں کی صدارت کے علاوہ ۱۳؍ ۱۴ فروری ۱۹۶۰ء کو یونانی طبی کانفرنس آندھراپردیش کے اجلاس حیدر آباد، ۱۳ -۱۴مئی ۱۹۶۰ء کو آل پنجاب یونانی طبی کانفرنس کے اجلاس منعقدہ پھگواڑہ،   اور اسی سال ۳۱  اگست ۱۹۶۰ء کو آل کشمیر طبی کانفرنس  کے جلسوں کیآپ نے صدارت فرمائی۔

امراض قلب پر تحقیق

حکیم عبد اللطیف فلسفی ؒ نے ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب کے دور وائس چانسلری میں امراض قلب پر تحقیقی کام کر نے کے لیے ایک شعبہ قائم کیا۔ اس شعبہ کے ڈائریکٹر حکیم عبد اللطیف فلسفیؒ تھے۔ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی (سابق گورنر بہار ) بھی اس کام میں آپ کے شریک کار تھے۔ اجمل خاں طبیہ کالج  ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں یہ پہلا مو قع تھا جب کسی یونانی دوا پر پہلی بارتحقیقی کام شروع کیا گیا۔ شفاء الملک کو ریسرچ سے بڑی دلچسپی تھی۔ طب کی ادویات اور نظریات کو تحقیقی منہاج عطا کیا۔ اس کے لئے آپ نے مضامین لکھے۔ 1972میں شعبہ علم الادویہ کے اندر پوسٹ گریجوٹ کی تعلیم در اصل شفاء الملک کے خواب کی تعبیر ہے۔

شفاء الملک آخری سانس تک طب کے فروغ اور ترقی کے لئے کوشاں رہے۔ ملک کی اکثر طبی درسگاہوں اور اداروں سے آپ کا تعلق تھا۔ شفا ء الملک کا دائرہ کار بڑا وسیع رہا ہے۔ آپ تکمیل الطب کالج لکھنؤ کی منیجنگ کمیٹی کے ممبر، بعد میں سکریٹری اور آخر میں صدر  ہوئے۔ آیورویدک اینڈ یونانی طبی کالج قرول باغ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے ممبر،  پٹنہ طبی کالج کی ایڈوائزری کمیٹی کے ممبراورجامعہ طبیہ دیوبند کی مجلس طبی کے صدر بھی رہے۔ نظامیہ طبیہ کالج حیدر آبادکے سلسلہ میں حکومت کی قائم کردہ ملکوٹے کمیٹی کے ممبر تھے۔ اسی طرح سری نگر طبیہ کالج کے قیام میں آپ کی کوششوں کا بڑا دخل رہا ہے۔ مرکزی وزارت صحت، نئی دہلی کی تمام اہم کمیٹیوں سے آپ کا تعلق رہا ہے۔ یونانی ایڈوائزری کمیٹی، پلاننگ کمیٹی، یونانی ایجوکیشن کمیٹی، فارماکوپیا کمیٹی، سنٹرل کونسل آف انڈین میڈیسن،  اور دوسری سرکاری کمیٹیوں کے ممبر رہے۔ سینٹرل کونسل فار ریسرچ ان انڈین میڈیسن اینڈ ہومیوپیتھی کی گورننگ باڈی، اکزیکیٹو کمیٹی، اور جنرل کونسل کے ممبر اور اس کی یونانی ایڈوائزری کمیٹی کے چیرمین تھے۔ اس کے علاوہ آپ بورڈ آف انڈین میڈیسن یوپی اور اس کی فیکلٹی کے ممبر، آیورویدک اینڈ طبی اکاڈمی یوپی کے ممبر، کشمیر، یو پی اور دوسرے ریاستی اور یونین پبلک سروس کمیشن کی تقرراتی کمیٹی کے ممبررہے۔ آپ مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے جوائنٹ سکریٹری کے علاوہ جامعہ اردو علی گڑھ کے ٹریژرر اور علی گڑھ نمائش کمیٹی کے برسوں ممبر رہے۔

حکیم عبد اللطیف فلسفی ؒکی مجموعی طبی خدمات کے اعتراف کے طور پر برطانوی حکومت نے1940میں شفاء الملک کا خطاب سے نوازا تھا۔ بعد میں یہ خطاب آپ کے نام کا لاحقہ بن گیا۔

مآخذ

اطبا اور ان کی مسیحائی ، حکیم محمد مختار اصلاحی، بھاوے پرائیوٹ لمیٹیڈ، بمبئی، 1987

تذکرہ اطبا عصر، حکیم سید ظل الرحمن، ابن سینا اکیڈمی، علیگڈھ،  2010

تذکرہ خاندان عزیزی، حکیم سید ظل الرحمن،  ابن سینا اکیڈمی، علیگڈھ،  2009

خطبات حمید، خاور ہاشمی، آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس، دہلی، 1995

شفاء الملک حکیم عبد الطیف :نقوش و تاثرات، حکیم محمد اسلم صدیقی، سرسید نگر علیگڈھ، 1985

کتاب الادویہ القلبیہ، ابن سینا/شفاء الملک حکیم عبد اللطیف فلسفی، ایران سو سائٹی کلکتہ، 1956

مطب لطیف، حکیم سید کمال الدین حسین ہمدانی، مسلم یونیورسٹی پریس، علیگڈھ، 1976

مقالات شفاء الملک، حکیم سید ظل الرحمن، پبلی کیشن ڈویزن، علیگڈھ مسلم یونیورسٹی، علیگڈھ، 2002

رسائل

آئینہ طب، شمیم ارشاد اعظمی، اجمل خاں طبیہ کالج، مسلم یو نیورسٹی علیگڈھ، 2004

جہان طب، حکیم محمد خالد صدیقی، جلد، 4، شمارہ1-2، جولائی -دسمبر  2002،  سنٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن، دہلی

جہان طب، حکیم محمد خالد صدیقی، جلد، 4، شمارہ1-2، جولائی -دسمبر  2003،  سنٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن، دہلی

مزید دکھائیں

شمیم ارشاد اعظمی

مضمون نگار الہ آباد میں اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج کے شعبہ علم الادویہ میں ریڈر ہیں۔ طب کی نو کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کے درجنوں وقیع تحقیقی و علمی مضامین قومی اور بین الاقوامی طبی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ آپ کو طب میں مختلف ایوارڈوں سے بھی سرفراز کیا جاچکا ہے۔

متعلقہ

Close