شخصیات

شیخ عبدالقادر جیلانی:شخصیت وسوانح

اللہ تعالیٰ کے نیک اورمحبوب بندوں میں ایک اہم نام محبوب سبحانی محی الدین سیدناشیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ کا ہے جو اپنے عہد کے بلندپایہ صوفی بزرگ اور برگزیدہ ولی تھے۔ علم وفضل،زہدو ورع اور تقوی وطہارت میں آپ کے جوڑکا کوئی نہ تھا۔ بڑے بڑے اولیا اورصالحین آپ کی شان و عظمت کے آگے اپنااپنا سرجھکائے نظر آتے ہیں،مثلاً:
ایک بار مجلس میں تقریباًدوسوعلماحاضرتھے،جن میں شیخ حماد، شیخ علی ہیتی،خواجہ یوسف ہمدانی،شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی،شیخ احمدبن مبارک وغیرہ بھی تھے۔ درمیان خطبہ فرمایا:قَدَمِیْ ہٰذَا عَلٰی رَقْبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللّٰہِ۔ شیخ علی ہیتی منبرکے پاس آئے اور آپ کے قدم مبارک کو اپنی گردن پر رکھ لیا۔یہ دیکھ کر تمام اولیانے اپنی اپنی گردنیں جھکادیں۔
نام ونسب
عبدالقادرنام اورتاج العارفین،محی الدین، شیخ الشیوخ وغیرہ لقب ہے۔ آج جوسلسلہ قادریہ میں بیعت کی جاتی ہے وہ آپ ہی کی طرف منسوب ہے۔ آپ نجیب الطرفین حسنی وحسینی سید ہیں۔ سلسلہ نسب گیارہ واسطوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتاہے۔والدماجدکانام ابوصالح موسیٰ جنگی دوست ہے اور والدہ ماجدہ کا نام ام الخیر ہے۔ یہ مشہور صوفی بزرگ عبداللہ صومعی قدس سرہ کی بیٹی تھیں۔جس قدر آپ کے والد کریم نیک و پارسااور عابد وزاہد تھے اسی قدر والدہ کریمہ بھی نیک وپارسا اور عابدہ وزاہدہ تھیں۔
ولادت باسعادت:
محبوب سبحانی قدس سرہ کی پیدائش یکم رمضان المبارک بروز جمعہ 470 ہجری مطابق 1077عیسوی میں صوبہ گیلان(عراق)کے ایک گاوں ’’نیف ‘‘میں ہوئی۔ جو اس وقت بحر قزوین کے کنارے واقع ہے۔
عہد بچپن:
عام طورسے یہ دیکھاجاتاہے کہ جب بچہ والدین کی شفقت بھری گودسے نکلتاہے اورپاوں پاوں چلنے لگتا ہے تو فطرتًا وہ کھیل کودکی طرف مائل ہوتا ہے لیکن شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ کا حال کچھ الگ اورنرالا تھا۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ لکھتے ہیں:’’ بچوں کا کھیل کودمیں مصروف ہونا ایک فطری تقاضاہے لیکن شیخ پر توابتدا ہی سے حفاظت الٰہیہ کا پہرہ تھا،فرماتے ہیں:جب میں بچوں کے ساتھ کھیلنے کا ارادہ کرتاتومجھے یہ غیبی آواز سنائی دیتی کہ تَعَالِ اِلَیَّ یَا مُبَارَکُ۔ اے برکت والے میری طرف آ۔ تومیں بھاگ کر اپنی والدہ ماجدہ کی آغوش میں پناہ لیتا۔ آج بھی میں خلوت میں وہ آواز سنتا ہوں۔‘‘ (اخبارالاخیار)
اس طرح والدین کی رحمت بھری شفقتوں نے محبوب سبحانی کے بچپن کو صالح ماحول میں سجایاسنواراتو بزرگوں کی نورانی تربیت نے انھیں شعورکی منزلوں تک پہنچایا،مزید یہ کہ رحمت الٰہی کی پھوہار نے بالغ ہونے سے پہلے ہی شریعت کا علمبرداربنادیا۔
تعلیم کا آغاز
سیدناشیخ عبدالقادرجیلانی قدس سرہ جب پورے چارسال کے ہوگئے تو علاقے کے ایک مدرسے میں داخل ہوئے اور حصول تعلیم کا باضابطہ آغازکیااورمکمل دس سال تک اسی مدرسے میں تعلیم حاصل کی اوراٹھارہ سال کی عمرمیں آگے کی تعلیم کے لیے بغداد روانہ ہوئے ۔
488 ہجری مطابق 1095عیسوی میں بغدادپہنچنے کے بعدآپ نے بڑی جدوجہد کی اوربڑے بڑے علماوفقہاسے استفادہ کرکے مختلف علوم وفنون میں کمال حاصل کیا،مثلاً:علم فقہ مشہورفقہاشیخ ابوالوفا علی، شیخ ابوالخطاب محفوظ ،شیخ ابوالحسن بن قاضی وغیرہ سے حاصل کیا اورعلم حدیث معروف محدثین شیخ محمدبن حسن باقلانی،شیخ ابوسعید محمدبن عبدالکریم،شیخ ابوالبرکات ہبۃ اللہ ابن مبارک وغیرہ سے ، جب کہ علم ادب شیخ ابوزکریا یحیٰ بن علی تبریزی سے اور علم تصوف کی تحصیل شیخ حماد بن مسلم دباس اورشیخ ابومحمد جعفر بن احمد سراج سے کی۔
بیعت وخلافت
شیخ جیلانی قدس سرہ نے متعددصوفیا سے ملاقات کی اور ان سے فیض پایا لیکن بیعت،خلافت واجازت اورخرقہ تصوف قاضی ابوسعیدمبارک مخزومی سے حاصل کی اور مجاہدہ وریاضـت سے درجہ کمال کو پہنچے۔
سراپا وحلیہ
شیخ عبدالقادرجیلانی قدس سرہ نہایت بارعب شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے کلام کی تیزی اور آواز کی بلندی سامنے والوں پر ایک ہیبت طاری کردیتی تھی۔ درمیانہ قد، چوڑاسینہ،لمبی گھنی داڑھی ،رنگ گندمی اوردونوں ابرو ایک دوسرے سے ملی ہوئی تھیں۔
ازدواجی زندگی
شیخ سہروردی کے مطابق آپ کی چار شادیاں ہوئیں۔ ان میں ہر ایک خوشحال خاندانوں سے تھیں یا پھر مختلف پیشہ جانتی تھیں۔ لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ سب سے پہلی اہلیہ کون ہیں۔
اولادامجاد
آپ کی متعدد اولادبھی ہوئیں،ان میں دس مشہور کے نام یہ ہیں:شیخ عبد الوہاب، شیخ عیسیٰ،شیخ عبد العزیز، شیخ عبد الجبار، شیخ عبد الرزاق، شیخ ابراہیم،شیخ یحیٰ،شیخ موسیٰ، شیخ محمد اسد، شیخ صالح قدست اسرارہم وغیرہ۔ یہ سب کے سب جلیل القدر عالم دین اور عظیم محدثین تھے۔
شخصیت و کمالات
شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ چوں کہ طالب علمی کے زمانے ہی سے انتہائی علمی ذوق وشوق رکھتے تھے۔ مزید جان توڑ محنت، بزرگوں کی روحانیت اورمہربان اساتذہ کی نورانی تربیت بھی آپ کے ساتھ تھی، اس لیے جن علوم وفنون کے میدان میں قدم رکھا اس میں ماہرہو گئے اورمختلف علوم وفنون پرماہرانہ دسترس حاصل کرلی۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں:‘‘حضرت غوث الاغیاث قدس سرہ تیرہ علوم وفنون میں تقریر فرمایاکرتے تھے۔’’(اخبارالاخیار)
تقی الدین ابن تیمیہ نے لکھاہے:‘‘ شیخ جیلانی قدس سرہ اپنے زمانے کے عظیم مشائخ میں تھے۔ انھوں نے شریعت کی پابندی کے ساتھ بڑی سختی سے نفسانی خواہشات سے بچنے کی تلقین فرمائی اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر پر عمل کیا۔’’
اخلاقی خوبیاں
محبوب سبحانی قدس سرہ نہ صرف ولایت کے عظیم مقام پرفائز تھے بلکہ قاسم ولایت ہونے کے ساتھ ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکمل مظہر تھے۔ ابومعمرعلیہ الرحمہ کا بیان ہے :‘‘ میری آنکھوں نے شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ سے بڑھ کر کسی کو عمدہ اخلاق والا، بڑاوسیع سینہ والا،کریم النفس، مہربان دل اور عہدو محبت کا محافظ نہیں دیکھا۔ شیخ قدس سرہ عظیم ہونے کے باوجود حد درجہ چھوٹوں پر رحمت و شفقت اوربڑوں کی عزت وتعظیم کیاکرتے تھے۔ یہاں تک کہ خود بڑھ کر سلام کرتے، ضعیفوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور فقرا کے ساتھ بڑی انکساری اور تواضع سے پیش آتے تھے۔’’ (بہجۃ الاسرار)
شیخ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں:‘‘ سیدنا عبدالقادر جیلانی قدس سرہ سلام کرنے میں پہل کرتے ،طالب علموں اور مہمانوں کی خوب خاطر داری کرتے بلکہ ان کی غلطیوں اور گستاخیوں کو بھی معاف کردیتے تھے۔ غرض کہ مشائخ وقت میں سے کوئی بھی حسن خلق، وسعت قلب، کریم النفس،مہربانی، وعدہ پوراکرنے میں آپ کی برابری نہیں کرسکتاتھا۔’’ (اخبارالاخیار)
عبادت وریاضت
محبوب سبحانی شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ خود فرماتے ہیں کہ پچیس سال تک دنیا سے کنارہ کش اورالگ تھلگ ہوکرعراق کے صحراوں اور ویرانوں میں رہا اور اس میں اس طرح چکرکاٹتارہا کہ نہ میں کسی کو پہچانتاتھا اور نہ کوئی مجھے پہچانتا تھا۔ ایسے عالم میں رجال الغیب اور جنات میرے پاس آتے اورمیں انھیں ہدایت کی تعلیم دیتاتھا۔
اور فرماتے ہیں:‘‘ عبادت و ریاضت اور مجاہدہ کا کوئی ایسا طریقہ نہیں جس کومیں نے اپنے نفس کے لیے نہیں اپنایا اور اس پر قائم نہیں رہا ۔ایک سال تک میں نے ساگ، گھاس اور اس جیسی دوسری چیزوں پر اپنا گزارا کیااور پانی بالکل نہ پیا پھر ایک سال تک نہ تو کچھ کھایا، نہ تو کچھ پیااورنہ ہی کبھی سویا۔’’
شیخ ابوالفتح ہروی علیہ الرحمہ کا بیان ہے:‘‘ میں سیدنا عبدالقادر جیلانی قدس سرہ کی بارگاہ میں چالیس سال تک رہا اور اس مدت میں ہمیشہ میں نے آپ کو عشا کے وضوسے فجرکی نماز اداکرتے دیکھاہے۔ سیدنا عبدالقادر جیلانی قدس سرہ پندرہ سال تک ایک رات میں پورے قرآن کریم کی تلاوت کر لیاکرتے تھے۔’’ (طبقات شعرانی،اخبارالاخیار)
خدمات وکارنامے
شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ کے دورمیں حالات نہایت خراب تھے۔ دینی و اخلاقی حالت کافی خستہ ہوچکی تھی۔ بدکاری اور شراب نوشی عام تھی۔ عوام کا ذکر کیا علما تک جاہ پرستی اور دنیاطلبی وعیش کوشی کا شکارتھے۔ ایسے نازک دور میں آپ نے مذہبی،اخلاقی، سماجی اورسیاسی برائیوں کا خاتمہ کیا۔ باطل کے عقیدوں کی تابوت کو اپنی روحانی فکری شراروں سے بھسم کر ڈالا اورعلما ومشائخ کے ساتھ عوام الناس کی بھی حفاظت فرمائی اورایک طرف ان کے ظاہروباطن کی اصلاح کی تودوسری طرف وعظ ونصیحت اورتصنیف وتالیف سے تزکیہ اورتطہیر کاکام لیا ۔
درس وتدریس
شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ اپنے مرشد شیخ ابوسعید مخزومی قدس سرہ کے قائم کردہ مدرسہ میں (جوباب الازج کے پاس واقع تھا) مقرر ہوئے اورو ہاں لمبے عرصے تک تعلیم و تدریس کی خدمات انجام دیتے رہے۔ پہلے توطلبا کی تعدادمختصرر ہی مگر جب آپ کی علمی لیاقت اور تدریسی ہنرمندی کا شہرہ عام ہوا تو طلبا کی تعداد بڑھنے لگی اور مدرسہ اپنی وسعت کے باوجود تنگ پڑگیا۔ چناں چہ کچھ اہل خیر مدرسہ کی تعمیروتوسیع کے لیے آگے آئے اور ہجری مطابق عیسوی میںنئی تعمیرو توسیع مکمل کرنے کے بعدشیخ عبدالقادرجیلانی قدس سرہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے اس کا نام مدرسہ قادریہ رکھا۔
فتوی نویسی
آپ فقہ وافتامیں بھی منفرد اورممتازمقام رکھتے تھے بلکہ اس فن کے امام تھے۔تقریباًزندگی کے تمام شعبوں سے فتویٰ طلب کیا جاتااور ہر ایک کا بڑی تشفی بخش جواب عنایت فرماتے تھے۔ فتویٰ نویسی میں اس قدر مہارت حاصل تھی کہ سخت پیچیدہ مسائل بھی پل بھر میں حل فرمادیا کرتے تھے۔ آپ کی فقہی بصیرت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ ہزارہافتاوے دینے کے باوجود کبھی کسی بڑے سے بڑے مفتی اورفقیہ کو قیل وقال کرنے کی گنجائش ملی اور نہ ہی کبھی رجوع کرنے کی نوبت ہی آئی۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:‘‘ شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ تمام عراقی علماکے مرجع تھے بلکہ دنیابھرکے طالبان علم کے مرکزعقیدت تھے۔ دنیاکے گوشے گوشے سے آپ کے پاس فتاوے آتے اورمطالعہ کے بغیران فتاوے کا فوراًصحیح جواب لکھ دیتے تھے۔ بڑے سے بڑے عالم کو بھی آپ کے فتاوے کی صحت کے خلاف کچھ لکھنے یا بولنے کی مجال نہ تھی ۔’’
ایک بارکسی فتویٰ کا جواب دینے سے عجم کے علما عاجز آگئے تووہ سوال آپ کے پاس آیا:‘‘ ایک شخص نے یہ قسم کھائی کہ اگر وہ اللہ کی ایسی عبادت نہ کرے جس میں کوئی بھی کسی بھی جگہ اس کے ساتھ شریک نہ ہوتو اس کی بیوی پر تین طلاقیں۔’’
اب وہ کون سی عبادت کرے جس سے اس کی قسم نہ ٹوٹنے پائے۔ آپ نے برجستہ فرمایا:‘‘ اس کے لیے خانہ کعبہ خالی کرائے اور تن تنہا کعبہ کا سات طواف کرے تو اس کی قسم نہ ٹوٹے گی،کیوں کہ ایسی صورت میں اس عبادت میں اس کاکوئی شریک نہ ہوگا۔ــ’’ (اخبارالاخیار)
تصنیفات وتالیفات
جن تصانیف کی نسبت آپ کی طرف کی گئی ہے وہ یہ ہیں:
1۔ فتوح الغیب
2۔الفتح الربانی
3۔خلاء الخواطر
4۔مکتوبات سبحانی
6۔رسالہ غوثیہ
7۔غنیۃالطالبین
اس طرح محبوب سبحانی شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہٗ نے اپنی پوری زندگی دین حق کی خدمت اور مسلمانوں کی اصلاح ورہنمائی میں گزاردی ۔
وصال مبارک
شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ جب آپ پر وصال کے آثارظاہرہوئے تو فرمایا:‘‘ میرے اور تمہارے درمیان کوئی نسبت نہیں۔ میرے اورمخلوق کے درمیان زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ مجھے کسی پراور کسی کو مجھ پر قیاس مت کرنا۔ میری تخلیق تمام امورسے بالاترہے اورمیں لوگوں کی عقل سے ماوراہوں۔ اے دنیامیں رہنے والو،سنو!اللہ کا ارشاد ہے:اِنِّی اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ۔(بقرہ:30)میں ان میں سے ہوں جنھیں اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے ۔’’ (اخبارالاخیار)
پھر وصال سے کچھ دیرپہلے تازہ پانی سے غسل فرمایا اور عشاکی نماز اداکی اور دیر تک بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہوکرتمام امت محمدیہ کے لیے دعا ئے خیرفرمائی۔ اس کے بعد آپ پر سکرات کا عالم طاری ہوگیا اورتین باراللہ،اللہ اللہ فرمایا۔ اسی کے ساتھ آواز پست ہوتی گئی اور اکیانوے سال کی عمرپاکر ربیع الآخر(بعض کے نزدیک ربیع الآخر) ہجری میں اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ جنازے کی نماز آپ کے بیٹے شیخ عبدالوہاب قدس سرہ نے پڑھائی۔ (مدیرماہنامہ خضرراہ،الہ آباد)

مزید دکھائیں

جہاں گیر حسن مصباحی

ڈاکٹریٹ جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی۔ مدیرمسئول: ماہنامہ’’خضرراہ‘‘ الہ آباد۔ استاذ:جامعہ عارفیہ، سیدسراواں، الہ آباد۔ متعدد اسلامی سماجی سیاسی اور ادبی مقالات ومضامین اشاعت پذیر۔

متعلقہ

Back to top button
Close